Together Forever (ہمیشہ ساتھ ساتھ – ایک خوشگوار ازدواجی زندگی کا حصول)

Transcription of Faiez Seyal’s Urdu best-seller Audio Program “Together Forever” from 1995

اس سے پہلے کہ میں موضوع کی طرف آئوں اس موضوع سے بہتر نتائج حاصل کرنے کیلئے کچھ ہدایات ضروری ہیں کہ دونوں یعنی کہ میاں بیوی یہ آڈیوپروگرام سنیں۔اگر یہ ممکن نہ ہو اور آپ کاBetter Half یعنی کہ جیون ساتھی آپ کے ساتھ تعاون نہ کرے تو پھر آپ اکیلے سن لیں اور اس پر جتنا عمل آپ کر سکتے ہیں وہ شروع کر دیں۔ ساتھ ہی ساتھ دوسرے کو بھی کوشش کریں کہ وہ اسے سنے۔اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو آپ میں مثبت تبدیلی دیکھ کر وہ خود آپ سے پوچھنے پر مجبور ہو جائے گا کہ آپ پہلے ایسی تو نہ تھیں یا تھے تو پھر آپ اس کو بتائیے گا اورآپ دوبارہ اس topic کو سن لیجئے۔

پچھلے 10سالوں سے میں marriage counselling سے indirectly وابستہ رہا ہوں اور کوئی پانچ سو سے زائد couples کی کونسلنگ کی۔مجھے ان میں سے اکثریت couples  کی زندگی میں ایک دوسرے کے خلاف شکایات’الزامات’نفرت’ناخوشی وغیرہ نظر آئی۔ان لوگوں میں ہر طرح اور ہر عمر کے couples موجود تھے۔نئے شادی شدہ جوڑوںسے لے کر ایسے لوگ بھی نظر آئے جن کی شادی کو پچیس سال سے بھی زائد ہو چکے تھے۔

یہ حالات دیکھ کر ١٩٩٧ئاور١٩٩٨ئمیں ہم نے ایک ریسرچ کی۔جس سے یہ معلوم ہوا کہ نوے فیصد لوگ اپنی شادیوں سے خوش نہیں ہیں۔ان میں سے نوے فیصد لوگوں نے یہ کہا کہ وہ صرف ساتھ دے رہے ہیںمجبوری کیلئے۔اگر اُن کے پاس Choice ہو تو وہ یہ رشتہ توڑ دیں۔اُن مجبوریوں میں حق مہر’جہیز’رسم و رواج’بچے’سوشل پریشر وغیرہ سرِ فہرست تھے۔

اس کی کیا وجہ ہے یہ اس موضوع کے دائرہء اختیار سے باہر ہے۔لیکن ہم اب اس مقدس رشتے کو برقرار رکھنے اور اس میں ایک نئی زندگی ڈالنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں۔ہم اس موضوع پر discuss کرینگے۔

اگر آپ بھی میری طرح observe کرتے رہتے ہیں تو آپ نے کبھی ٹریفک سگنل پر کھڑی گاڑیوں میں بیٹھے Couples کو دیکھا ہے۔ایک کا منہ دائیں طرف اور دوسرے کا بائیں۔ہوٹلز’ریسٹورنٹس یا پھر شاپنگ مال میں دیکھیں تو آپ آسانی سے بتا سکتے ہیں کہ اِن میں سے شادی شدہ کون ہیں اور کن کی شادی کو کچھ عرصہ گزر چکا ہے۔

مجھے بڑی حیرانی ہوتی تھی کہ ایسا کیوں ہے؟ کئی لوگوں نے تو یہ بھی بتایا کہ کتنی لڑائیوں’دُعائوں اور مشکلات کے بعد اُن کی شادی ہوئی اور شادی کے پہلے ہی سال میں اُن کی زندگی میں اتنے اختلافات آگئے کہ اب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے بھی قاصر ہیں۔

مرد حضرات سے پوچھیں تو وہ خواتین پر الزامات ڈالتے ہیں اور اگر خواتین سے پوچھا جائے تو وہ اس چیز کا الزام مرد حضرات پر ڈالتی ہیں۔ایک واقعہ یاد آیا جو کہ اس صورتحال کو بڑی ٹھیک طرح سے بیان کرتا ہے۔

دو دوست ایک دوسرے کو بڑی مدت کے بعد ملے تو ایک نے دوسرے کی جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اُس کی شان و شوکت دیکھ کر کہا کہ بھائی یہ سب کچھ کار’سوٹ’گھر وغیرہ کہاں سے آیا تو اُس نے کہا کہ میرے پاس سب کچھ جو ہے میری بیوی کی وجہ سے ہے۔کچھ عرصے کے بعد وہ دوبارہ ملے تو اُس کی حالت بہت ہی خستہ ہو چکی تھی۔تو پہلے نے پوچھا کہ کیا ہوا اُس نے کہا کہ پہلے کچھ سالوں میں جو تھا وہ بھی بیوی کی وجہ سے تھا اور اب بھی جو کچھ ہے وہ بھی اُسی بیوی کی وجہ سے ہے۔تو پہلے نے پوچھا کہ اب کیا ہے اُس نے کہا بیماریاں’قرضے’پریشانیاں اور خوف۔

سوال یہ ہے کہ ایسی feelings کیوں ہوتی ہیں۔آپ کو اس کا جواب تو مل ہی جائے گا۔لیکن اُس سے پہلے شادی کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں دورکریں :

1۔      پہلی غلط فہمی تو یہ ہے کہ شادی ایک سمجھوتے کا نام ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ شادی ایک سمجھوتے کا نام نہیں ہے اور اسلام کی روح سے نکاح کو ایک بہت ہی پسندیدہ عمل قرار دیا گیاہے۔قرآن پاک میں ارشاد ہے:

”اور تم اپنے بے شادی شدہ افراد کا نکاح کردو۔۔۔۔۔”  (النور: ٣٢)

حدیث شریف میں ہے:

 ” نکاح میری سنت ہے بس جو شخص میری سنت پر عمل نہیں کرتا اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

نکاح کی اسلامی حیثیت ایک معاہدہ ہے۔ جس کی روح سے ایک بالغ’سمجھدار مردایک بالغہ سمجھدار عورت سے اپنی خواہش اور خوشی سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

تو جناب یہ رشتہ خواہش اور خوشی سے ہو تو اُس میں سمجھوتے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

2۔      دوسری غلط فہمی ہے قربانی۔کہ قربانی یا Self-Sacrificeسے ہی یہ رشتہ برقرار رہ سکتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ کا یہ رشتہ صرف قربانی کے جذبے کی وجہ سے ہی برقرار ہے تو شاید یہ برقرار تو رہ سکے لیکن اس میں وہ سکون اور خوشی نہیں مل سکتی جو کہ اس رشتہ کی بنیاد ہے۔جیسا کہ قرآن پاک میں سورة الروم آیت ٢١میں آیا۔

”۔۔۔اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن کی طرف (مائل ہو کر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی۔جو لوگ غور کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے ان باتوں میں (بہت سی)نشانیاں ہیں۔  ”      (سورة الروم : ٢١)

3۔      تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ عورتوں سے اسلام نے زیادہ قربانی مانگی ہے اور عورت کو مرد کی خدمت کیلئے بنایا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن پاک میں آیا ہے:

”عورتوں کا حق(مردوں پر)ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق)عورتوں پر ہے”۔   (البقرہ  :  ٢٢٥)

تو انسانیت اور حقوق و فرائض کے مطابق مرداور خواتین برابر ہیں۔اسلام نے مرد کی برتری گھر میں گھر کے head کی طرح اس لیے قائم کی ہے کہ وہ اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔یعنی کہ اُن کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ اپنے بیوی بچوں کے اخراجات پورے کرنے کی وجہ سے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ایک گھر میںدو سربراہ تو نہیں ہو سکتے۔اس کے علاوہ ہر چیز میں دونوں برابر ہیں۔

حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ:

”  ہر کوئی جو گورنر ہے اُس سے اُس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ایک لیڈر اپنے لوگوں کا گورنر ہے۔اس سے اُن کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ایک آدمی اپنے گھر کے لوگوں پر گورنر ہے اُس سے اُن کے گھر کے لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ایک عورت اپنے خاوند کے گھر اور اُس کے بچوں کی گورنر ہے۔اُس سے اُس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔  ”

اس حدیث سے مرد اور خواتین دونوں کی ذمہ داریوں واضح ہو جاتی ہیں۔

4۔      چوتھی غلط فہمی تو یہ ہے کہ مسلمان عورت باقی مذاہب کی عورت کی نسبت مظلوم ہے۔بدقسمتی سے یہ بات کرنے والے اسلام کو جانتے ہی نہیں۔جو رتبہ اسلام نے عورت کو دیا ہے وہ آج سے پہلے کبھی کسی مذہب نے نہیں دیا تھا۔اسلام سے پہلے جو مظلوم لوگ تھے’جن میں عورتیں’غریب لوگ’غلام وغیرہ سرفہرست تھے۔اسلام تو آیا ہی اُن کو تحفظ دینے کیلئے تھا۔تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اسلام کی عورت مظلوم ہو۔اگر ریسرچ کی جائے تو معلوم ہو گا کہ مسلمان عورت دُنیا کے تمام مذاہب سے زیادہ محفوظ ہے’ Physically جسمانی’ Emotionally جذباتی’Mentallyدماغی اور Spiritually روحانی ہر طرح سے۔

1۔      Physicalیا جسمانی تحفظ

کچھ حقائق جو جسمانی طور پر عورت کو تحفظ فراہمکرتے ہیں:

1۔      عورت کی تمام ضروریات کی ذمہ داری پہلے اس کے باپ پر اور اُس کے بعد اُس کے خاوند پر ہے۔تاکہ اُسے روزی کمانے کیلئے دربدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔

2۔      سوائے اس کے کہ اُس کا کردار خراب ہو۔اُس کو مارنے سے منع کیا گیاہے اور وہ بھی ایسے کہ اُسے چوٹ نہ لگے۔

3۔      اُس سے نکاح کے بغیر زبردستی کرنے کو گناہِ کبیرہ قرار دیا اور اس شخص کی سزا موت مقرر کی۔

2۔      Emotional یا جذباتی تحفظ

جذباتی تحفظ فراہم کرنے کیلئے:

1۔      شادی اُس کی مرضی کے بغیر کرنے سے منع کیا۔

2۔      اُس کو جذباتی طور پر تحفظ فراہم کرنے کیلئے نکاح کے بغیر دوسری عورتوں سے نکاح کے بغیر Sex کرنے کو گناہِ کبیرہ قرار دیا۔چارشادیوں کی اجازت ایک limit قرار دی۔اس برائی کو روکنے کیلئے جس کی وجہ سے آج بھی یورپ’امریکہ میں بیوی ہونے کے باوجود دوسری عورتوں سے تعلقات بنائے جاتے ہیں۔ناصرف یہ بلکہ چارشادیوں کی اجازت بھی مرد کے فائدہ کیلئے نہیں بلکہ ضرورت مند عورتوں کے فائدہ کیلئے دی۔

3۔      طلاق کو مشکل بنایا اور ناپسندیدہ عمل قرار دیا۔

4۔      خاوند کو بیوی سے پیار و محبت سے برتائو کرنے کا حکم دیا۔

5۔      ماں کے رُتبے کو بلند کیا۔

6۔      عورت کو دیکھ کر آنکھیں نیچی کرنے کا حکم دیا۔

3۔      Mental یا ذہنی تحفظ

دماغی طور پرتحفظ فراہم کرنے کیلئے:

1۔      علم حاصل کرنا مومن عورت اور مرد دونوں پر یکساں فرض قرار دیا۔

2۔      علم حاصل کرنے کیلئے عورت کو وسائل مہیا کرنے کی ذمہ داری باپ یا خاوند کو سونپی۔

4۔      Spiritual یا روحانی تحفظ

روحانی تحفظ کیلئے:

1۔      اُس کو عبادت سے منع کرنے کو گناہ قرار دیا۔

تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جتنی چاہے عبادت کر سکے۔

شادی ایک بہت ہی نازک رشتے کا نام ہے اور یہ رشتہ برابری اور خوشی سے پانے’ اپنے فرائض پورے کرنے کا نام ہے۔اس رشتے کو قائم رکھنے کیلئے محبت ضروری ہے اور محبت قائم نہیں رہ سکتی اگر کسی ایک فریق کو بھی یہ لگے کہ اُسکے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔محبت ایک دوسرے کو جسمانی’جذباتی’دماغی اور روحانی طور پر develop کرنے سے ہی قائم رہ سکتی ہے۔کسی کو دبا کر نہیں قائم رہ سکتی۔ایک طرف تو یہ حقیقت ہے اور دوسری طرف کئی خواتین نے مجھے بتایا کہ بجائے اسکے کہ اُن کو اس رشتے کی وجہ’مقصد اور خوبصورتی بتائی جاتی اُن کے والدین نے اُن کو خاوند کو نیچے لگانے کے طریقے بتائے۔پیار کی بجائے ان کو چالاکی کی ترغیب دی۔دوسری طرف لڑکے کے گھر والے اپنے بیٹے کو یہ سب کچھ بتانے کی بجائے یہ بتاتے رہتے ہیں کہ یہ مت کرنا’رعب سے رہنا’بیوی کے نیچے نہ لگ جانا وغیرہ وغیرہ۔اور جب یہ دونوں شادی کے بعد اکٹھے ہوتے ہیں تو بجائے اس کے کہ دونوں مل کے ایک نئی زندگی کا آغاز کریں وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

یاد رکھیئے یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس سے آپ کسی کو ہرا کر نہیں جیت سکتے۔آپ کی جیت دوسرے کی جیت میں ہی ہے۔

ایک حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ:

” تم میں سے سب سے بہتر انسان وہ ہے جو کہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہو۔”   (متفق علیہ)

دوسری طرف آنحضرتۖ نے نیک عورتوںکی نشانی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ ہیں:

” تم میں جو شوہر کو خوش کر دے جب وہ اُس کو دیکھے اور اُس کی بات مانے جب وہ حکم دے اور اپنے نفس اور مال میں کسی ایسی حرکت سے اس کی مخالفت نہ کرے جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔”  (متفق علیہ)

لیکن یہ یاد رکھیئے کہ یہ باتیں اسلام کی حد کے اندر رہ کر ہی جائز ہیں۔کسی بیوی یا مرد کو دوسرے فریق کو خوش کرنے کیلئے اگر خلافِ شرع کچھ کرنے کو کہا جائے تو وہ اس پر جائز نہیں ہے۔

یہ تو کچھ غلط فہمیاں تھی جن کی وضاحت کر دینا بہت ضروری تھا۔اب دیکھیںکہ کونسی باتیں ہیں جن سے میاں بیوی ہمیشہ خوش و خرم اکٹھے رہ سکتے ہیں۔آپ سے گزارش یہ ہے کہ اس آڈیوپروگرام کو سننے کے دوران ہر بات میں یہ سوچئے کہ اس میں سے کتنی باتوں پر آپ عمل کرتے ہیں اور اگر نہیں کرتے تو اُس کو ساتھ ساتھ لکھتے جائیں۔یاد رکھیئے کہ میرا کام تو اپنے تجربے اور اُن لوگوں سے سیکھی ہوئی باتیں آپ کو بتانا تھا اس پر عمل کرنا آپ کا کام ہے۔

پہلا مسئلہ جو مجھے ان شادی شدہ جوڑوں میں نظرآیا جو خوش نہیں ہیں وہ یہ ہے کہ ان couples میں کوئی مشترکہمقصد نہیں ہے۔اب آپ خود سوچیں کہ زندگی کا ایک مقصد ہے۔اسی طرح کمپنیوں کا ایک مقصد ہوتا ہے جس کیلئے وہ کمپنی بنائی جاتی ہے۔اسی طرح اگردولوگ اکٹھے ہو رہے ہیں تو اُن کا کوئی مقصد تو ہونا چاہیے۔ اگر نہیں تو ایک دائیں جائے گا تو دوسرا بائیں جائے گا۔مرد اگر کام کرنا چاہتا ہے تو عورت سیروتفریح اور شاپنگ کرنے کیلئے جانا چاہتی ہے کیونکہ دونوں کے مقاصد فرق ہیں۔جب خاوند کام کرتا ہے تو بیوی کہتی ہے میرے لیے تو نہیں کرتا اپنے لیے کرتا ہے۔اسی طرح اگر بیوی کچھ کرے تو خاوند کا یہی جواب ہے۔اگر زندگی کا مشترک مقصد نہیں ہوگا تو پرابلمز تو آئیں گی ہی۔

ایک مثال سے آپ کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔اگر خاوند کا مقصد پیسے کمانا اور بیوی لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو اسکا مطلب تو یہ ہواکہ اختلاف تو ہو گا ہی۔خاوند اور بیوی کے مقاصد بالکل فرق ہیں۔

اب اگر خاوند سے پوچھا جائے کہ وہ کیوں پیسے کماتا ہے تو شاید وہ یہی کہے کہ اپنی بیوی’بچوں کو آرام دینے کیلئے۔ لیکن یہ یاد رکھیے کہ یہ مقصد اُس کی ذات تک ہی محدود رہے گا ۔کیونکہ اُس کی بیوی کی مرضی اور سوچ اس میں شامل نہیں ہے۔شادی سے سب سے پہلے تو ہمیں اپنی نئی فیملی کا مقصد بنانا چاہیے۔دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کو اپنی خواہشات کا بتائیںاور ایک دوسرے کی بات سنیں اور پھر مشترکہ فیصلہ کریں کہ ہماری اس نئی فیملی کا مقصد ایک دوسرے اور ہمارے بچوں کی زندگی کی کوالٹی کو بہتر بنانا ہے’ہر لحاظ سے اپنی جسمانی’جذباتی’دماغی اور روحانی طور پر۔اگر اس طرح مقصد بن جائے تو زندگی آسان ہو جائے گی۔

کیونکہ اس مقصد کے بعد ایک دوسرے سے پوچھ کر roles بانٹے جائیں گے کہ اب اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے کسی کو کیا کچھ کرنا پڑے گا اور اس کو دوسرا کس طرحsupport کرے گا۔اب دیکھیے کہ گھر کے افراد کی زندگی کی کوالٹی کو بہتر بنانے کیلئے کیا کچھ چاہیئے۔

1۔      صاف ستھرا گھر

2۔      اچھا پرُسکون ماحول

3۔      صاف کھانا

4۔      پیار محبت

5۔      ایک دوسرے کی بات کو سننا

6۔      مہمانوں کو اچھی طرح treat کرنا

7۔      ایک دوسرے کا خیال رکھنا

8۔      محنت کرنا’ کام کرنا

اس کے علاوہ ہزاروں چیزیں اور بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔مشترکہ مقصد بن گیا تو دونوں فریق ایک دوسرے کو تنگ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی مدد کریں گے اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے۔

ایک اہم مسئلہ جو مجھے ناخوش Couples میں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ سوچے سمجھے بغیر دُنیا وی بھاگ دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیںاور اُن دوسرے لوگوں کی نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ شاید وہاں جانا ہی نہ چاہتے جہاں یہ جانا چاہتے ہوں۔اُن کا شاید مقصد ہی فرق ہو ہمارے مقصدسے۔

تو آپ کیلئے سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ دونوں بیٹھ کر اپنے پیارے سے’ چھوٹے سے خاندان کا مقصد بنائیے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

ذرا سوچئے تو دو لوگ مختلف خاندانوں سے مختلف backgrounds کے جب آئیں گے تو اُن میں اختلافات تو ہونگے۔یاد رکھیئے کہ اختلافات ہی اس رشتے کو خوبصورت بناتے ہیں اگر ہم ایک جیسے ہوتے تو اس رشتے میں سے مزا ہی ختم ہو جاتا۔

سو یاد رکھیے کہ چھوٹے چھوٹے اختلافات تو ہونگے۔اب بجائے اس کے کہ ہم ان اختلافات کو ناخوشی کی بنیاد بنا لیں’ہمیں ان اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ہماری زندگی کا مقصد ایک دوسرے کی زندگی کی کوالٹی کو ہر لحاظ سے بہتر بنانا ہے اور یہ ہو ہی نہیں سکتا جب تک دونوں فریق سو فیصد committed اورwilling نہ ہوں۔اور بجائے اس کے relationshipسے فرار چاہیں اس کو ہرروز بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہوں۔

تو جناب جہاں پر دو مختلف لوگ ہونگے وہاں پر اختلاف تو ہونگے ہی۔امریکہ میں تو یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی relationship میں ہفتے میں ایک مرتبہ چھوٹی موٹی لڑائی یا اختلاف نہ ہو تو وہ relationship ‘ long term صحیح رہ ہی نہیں سکتا۔کیونکہ اس کی وجہ یہ ہوگی کہ دونوں میں سے ایک شخص عادتاً خاموش طبع یا کسی مجبوری کے تحت خاموش رہتا ہوگا۔

تو اس سے دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ایک تو یہ کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ اختلافات کم سے کم ہو ں اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر اختلافات ہو جائیں تو اس کو productive  طریقہ سے حل کر لیاجائے۔

اس وقت ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایسا کیا کیا جا سکتا ہے کہ اختلافات کم سے کم ہوں۔

میرے پاس جو لوگcounselling کیلئے آتے ہیں ان کی باتیں سن کر شروع میں تو مجھے حیرانگی ہوتی تھی۔لیکن اب عادی سا ہو گیا ہوں۔آپ خود بتائیے کہ پچھلے پانچ ‘دس یاپندرہ سالوں سے سمجھتے ہوئے یا شاید ناجانتے سمجھتے ہوئے اگر کوئی کسی کو تکلیف پہنچا رہا ہو تو وہ رشتہ کیا ٹھیک رہ سکتا ہے۔ایک دوسرے سے شکائتیں جو سننے میں آتی ہیں وہ کچھ ایسی ہیں:

1۔      یہ میری بے عزتی کرتا ہے یا کرتی ہے۔

2۔      یہ میرے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا یا کرتی۔

3۔      یہ میرے دوستوں کے سامنے میرا مذاق اُڑاتا ہے یا اُڑاتی ہے۔

4۔      اس کو معلوم ہے کہ مجھے گھر گندا دیکھ کر سخت بُرا لگتا ہے۔یہ اور اس کے گھر والے یا دوست سارے گھر کو گندا کرتے ہیں۔

5۔      یہ اپنے کپڑے’موزے’جوتے سارے گھر میں پھینکتا رہتا ہے۔

6۔      اس کو معلوم ہے کہ مجھے Indian فلمیں نہیں پسند پھر یہ اور اس کے بچے سارا دن فلمیں کیوں دیکھتے رہتے ہیں۔

7۔      یہ ناتوخود نماز پڑھتا ہے اور اس کی وجہ سے بچوں میں بھی عادت نہیں پڑ رہی۔

8۔      بچوں کے سامنے میری عزت نہیں کرتا یا کرتی۔

9۔      اس کو معلوم ہے کہ مجھے یہ کھانے میں پسند نہیں پھر یہ کیوں پکاتی ہے۔

10۔    یہ مجھ سے پوچھے بغیر میری گاڑی کیوں چلاتی ہے۔

11۔    میں گھرمیں موجود ہوں تو یہ مجھے چھوڑ کر اپنے پروگرام’ اپنے گھر والوں کے ساتھ یا اپنے دوستوں کے ساتھ کیوں بناتا ہے یا بناتی ہے۔

12۔    اس کے اونچا بولنے اور بدتمیزی کرنے کی وجہ سے تمام ملازم اور بچے بھی بدتمیزی سیکھ رہے ہیں۔

13۔    مجھے پڑھنا پسند ہے’مجھے پڑھانا پسند ہے۔یہ مجھے پڑھنے پڑھانے کیوں نہیں دیتا۔

14۔    مجھے پردہ کرنے سے کیوں روکتا ہے یا کہتا ہے’ جب کہ خود دوسری خواتین کو دیکھتا رہتا ہے۔

15۔    یہ جاہلوں کی طرح اپنے اگلے بٹن کیوں کھول کے رکھتا ہے۔مجھے شرم آتی ہے۔

16۔    اس کی حالت دیکھیں شادی کے بعد سے پچاس پائوند وزن زیادہ ہو گیا ہے اس کا۔مجھے اچھا نہیں لگتا یہ اپنا دھیان کیوں نہیں رکھتا یا رکھتی۔

17۔    مجھے اس کا سگریٹ پینا پسند نہیں۔اس کے دانت دیکھیں۔بچوں کی صحت بھی خراب ہے اس کو خیال ہی نہیں۔

18۔    میرا دل کرتا ہے کہ ہم اس سوسائٹی میں Ideal coupleلگیں ہر طرح سے Smart’ Educated’ پڑھے لکھے’مہذب’Well Dressed’Well-behaved’decent یہ کیوں میرا ساتھ نہیں دیتا یا دیتی۔

19۔    مجھے شرم آتی ہے جب یہ میرے دوستوں یا بچوں کے سامنے گالیاں نکالتا ہے۔

20۔    یہ میری بات غور سے نہیں سنتا یا سنتی۔

یہ اوراس طرح کی سینکڑوں باتیں ہر روز سننے میں آتی ہیں۔کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔لیکن یاد رکھیئے اُس کیلئے نہیں جس کو بری لگ رہی ہیں۔

مسئلہ تو یہ ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔اس کی وجہ صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کرتے۔ہم میں سے کتنے لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے جیون ساتھی کو سمجھنے کی باقاعدہ کوشش کی اور اس سے پوچھا کہ اُس کو کون سی باتیں پسند ہیں اور کونسی باتیں ناپسند۔

آج ہی ٹائم نکالیے اور اس وقت جب آپ لوگ بالکل اکیلے ہوں ایک دوسرے سے 10’10باتیں پوچھیئے جو کہ اس کو بہت پسند ہوں اور 10باتیں جو اس کو سخت ناپسند ہوں اور پھر ایک دوسرے سے وعدہ کیجئے کہ آج سے آپ وہ نہیں کرینگے یا کرنا شروع کردینگے۔

اس آڈیوپروگرام کے شروع میں ہم نے معیارِ زندگی کا ذکر کیا تھا۔جسمانی’جذباتی’دماغی اور روحانی۔اب ذرا اس پر اور بات ہو جائے۔یہ انسانی فطرت ہے اور ضرورت بھی کہ ہر شخص ہر لحاظ سے ہر روز پہلے سے بہتر ہونا چاہتا ہے۔کسی کو معلوم ہو یا نہیں یہ دوسری بات ہے۔اگر آپ انسان اور جانور کے بنیادی فرق پر غور کریں اور آپ کو یہ معلوم ہو گا کہ ایک بنیادی فرق Learning and Change یعنی سیکھنا اور بدلنا ہے۔خدا نے یہ ہماری فطرت میں ڈال دیا ہے اور جب فرشتوں سے حضرت آدم کو سجدے کا کہا گیا تو انھوں نے پوچھا کیوں۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کچھ چیزوں کے نام پوچھے۔فرشتوں نے جواب دیا’اے اللہ ہمیں نہیں معلوم سوائے اس کے جو تو نے ہمیں بتایا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے پوچھا تو اُنھوں نے ان چیزوں کے نام بتا دیئے تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں جانتا ہوجو تم نہیں جانتے۔اس سے معلوم ہوا کہ اسی سیکھنے کی صلاحیت کی بدولت انسان کو فرشتوں پر برتری بھی حاصل ہوئی تھی۔

سیکھنا اور بدلنا انسانی خصلت ہے۔ایک بچہ جب چلنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ گرتا ہے پھر کچھ سیکھ کر پھر کوشش کرتا ہے’پھر کچھ سیکھ کر پھر گرتا ہے اور آخر ایک دن وہ چل پڑتا ہے۔

اسی طرح آپ یہ سوچیں کہ اسی سوچنے اور بدلنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہی حضرت انسان کی زندگی میں کتنی تبدیلیاں آگئی ہیں۔جب کہ جانوروں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔اسی وجہ سے کہ اُنہوں نے سیکھنا نہیں سیکھا۔وہ آج بھی ویسے ہی رہتے ہیں جیسے کہ لاکھوں سال پہلے رہا کرتے تھے۔

—       نہ ہی اُن میں شادیاں ہوتی ہیں

—       نہ ہی وہ TV دیکھتے ہیں

—       نہ ہی وہ سکول و کالج جاتے ہیں

—       نہ ہی بسنت اور دوسرے تہوار مناتے ہیں

—       اور نہ ہی ہوٹل میں یا Mc’Donaldsاور KFCجاتے ہیں

ہر انسان کی ضرورت ہے سیکھنا ا اور بدلنا۔نا صرف یہ بلکہ زندگی کا مقصد بھی کچھ ایسا ہی ہے۔زندگی کے مقاصد میں یہی شامل ہے سیکھنا اور بدلنا۔زندگی کا مقصد

1۔      اپنے آپ کو P’E’M’S’جسمانی’جذباتی’دماغی اور روخانی عورت کو develop کرنا جس کی ابتدا اپنے آپ کو جاننے سے شروع ہوتی ہے۔

2۔      خدا کی بنائی کائنات میں چھپے خزانے اور رازوں کو معلوم کرنا۔

3۔      اور ان رازوں سے سیکھ کر لوگوں کی زندگی کی کوالٹی کو بہتر بنانا۔

یہی زندگی کا مقصدہے۔یہ مقصد سیکھنے اور جاننے کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔

ذرا خود سوچئے کہ بچہ ماں باپ کی اور جب سکول جانے لگتا ہے تو اپنے استاد کی عزت کرتا ہے کیونکہ وہ اس کو develop ہونے میں مدد کرتے ہیں۔اسی طرح اگر ہمارے گھروں میں اگر خاوند یہ سوچ کر ہی بیٹھے رہیں کہ وہ بہتر ہیں اور اُن کو ہر چیز کا علم ہے اور اُن کی بیوی اُن کو کچھ نہیں دے سکتی تو قدرتی طور پر عزت تو آئے گی ہی نہیں۔

یاد د رکھیئے کوئی رشتہ مکمل طور پر develop ہو ہی نہیں سکتا جس میں ایک دوسرے کی عزت نہ ہو۔یہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ہر ایک شخص کو عزت چاہیے کون یہ کہہ سکتا ہے کہ اُس کو عزت نہیں چاہیے۔ہر رشتہ اسی بنیاد پر قائم رہ سکتا ہے۔

محبت بعد میں آتی ہے پہلے عزت جس کی عزت نہیں کر سکتے اُس سے دنیاوی محبت اگر وقتی طور پر کسی اور وجہ سے ہو بھی جائے تو وہ برقرار نہیں رہے گی۔

ہمارے معاشرے میں بھی پہلے عزت کی بڑی value سمجھی جاتی تھی۔بدقسمتی سے پچھلے کچھ سالوں میں یہ ایک Out-of-fashionسی چیز بن گئی ہے۔جس کی وجہ سے Relationship میں پرابلمز آرہی ہیں۔

ہماری ماڈرن نسل یورپ اور امریکہ کے پیچھے لگ کر عزت کرنا ہی بھول بیٹھی ہیں۔میرے پاس جب Couples آتے ہیں تو مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ ایک دوسرے کو تو ‘تو’یہ’یہ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔سلیم نے یہ کہا۔اسلم یہ کیوں نہیں کرتا’عائشہ تم جھوٹ بول رہی ہو’سلمیٰ تو غلط کہہ رہی ہے’یہ کیا ہو رہا ہے۔

Frankness کیلئے اپنی سماجی اقدار کو بھول جانا ضروری تو نہیں۔ہمارے ماں باپ کے زمانے میں تو بیویاں اپنے خاوندوں کے نام بھی نہیں لیتی تھیں سنیے’کہیے’ جی جی کر کے زندگی گزر جایا کرتی تھی۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ ٹھیک ہے لیکن جو آج ہو رہا ہے وہ بھی ٹھیک نہیں۔

یعنی یہ رشتہ برابری کا ہے لیکن کہاں پر لکھا ہے کہ برابری میں کسی کو ”تو” کہہ کر یا نام لے کر بلانا ضروری ہے۔

اگر آپ ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں تو Show کیجیے۔ایک دوسرے کو آپ کہہ کر مخاطب کیجیے۔مہذب قوموں کی اقدار توکم از کم برقرار رکھیئے۔

کیا ہو گیا ہے ہم لوگوں کو۔ہمارے نبی پاکۖجن کی ہم اُمت ہیں اُنھوں نے ہمیں Courtesy’ respect’Love’سکھانے کیلئے اپنی زندگی میں سب کچھ کر کے دکھایا اور ہم کیا کرتے پھر رہے ہیں۔میں ذرا جذباتی ہو گیا تھا۔بُرا لگا ہو تو معاف کیجئے گا۔ہمیں یہ پسند ہے کہ نہیں لیکن یاد رکھیئے کہ یہی سچائی ہے۔

تو جناب بات ہو رہی تھیGrowth Partner کی۔شروع میں تو ہم نے ایک دوسرے کی پسند اور ناپسندجان لی لیکن یہ تو ابتدا تھی۔ہم لوگوں کی بروقت جسماتی’جذباتی’دماغی اور روحانی development needs بدلتی رہتی ہیں۔یہ ایک دفعہ کرنے والی activity تو ہے ہی نہیں۔اس کیلئے لگاتار جستجو چاہیے۔وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے میں کئی بُرائیاں ختم ہو جاتی ہیں اور کئی نئی باتیں یا عادتیں جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچ سکتی ہے آجاتی ہیں۔

اس کے علاوہ ہماری اپنی خواہشیں اور ضروریات بھی بدلتی رہتی ہیں۔ایک بات مجھے پہلے بُری نہیں لگتی تھی شاید شادی کے کچھ سالوں کے بعد بری لگنی شروع ہو جائے۔کیونکہ مجھے اب زیادہ علم آگیا ہو زیادہ شعور آگیا ہو جیسے شاید شادی کے فوراً بعد ایک خاوند کی اپنی روحانی اور مذہبی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ بیوی کے چھوٹے بازوئوں والے کپڑوں یا tight fitting  والے کپڑوں پر اعتراض کرے۔لیکن اب اس کو روحانی اور مذہبی شعور کی وجہ سے اب اس میں یہ تبدیلی آگئی ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ اس کی بیوی اب ایسے کپڑے نہ پہنے یا پھر شاید شادی کے پہلے کچھ سالوں میں بیوی کو خاوند کی tight fitting  اور ماچو سٹائل کی Jeans اچھی لگتی ہو۔یا لمبے بال اچھے لگتے ہوں یا پھر خاوند کا غصّہ اس کو مرد انگی لگتی ہو۔اور اب اس کے اپنے شعور کی وجہ سے اب اس کو یہ باتیں پسند ہی نہ ہوں۔

اب باتوں پر لڑنے کی وجہ صرف ایک ہی ہو سکتی ہے کہ دونوں Partners میں Growth برابر ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ نہیں ہوئی ۔اگر دونوں ہر طرح ساتھ ہوتے تواس کا امکان تھا کہ دونوں میں یہ تبدیلی اکٹھے ہی آتی اور کسی کیلئے Sudden Shockنہ ہوتا۔

تو اب یہ بتائیے کہ ایک دوسرے کو جاننے کے کیا طریقے ہیں۔My Dear ایک دوسرے کو جاننے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے ۔وہ یہ کہ ایک دوسرے سے پوچھا جائے کہ وہ کونسی باتیں ہیں جو اچھی ہیں اوروہ کونسی ہیں جن میں بہتری کی ضرورت ہے۔

میں لوگوں کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ ایک دوسرے سے پوچھنا اور ایک دوسرے کو بتاناچاہیے کہ پانچ ایسی باتیں کونسی ہیںجو دوسرے partnerکو پسند ہیں اور پانچ ایسی باتیں کون سی ہیں جن کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔جیسے کہ آپ:

—       کو یہ بال سوٹ کرتے ہیں۔

—       آپ کو blue کلر اچھا لگتا ہے۔

—       آپ کا ان الفاظ کاpronunciation بہت بہتر ہو گیا ہے۔

—       اس دفعہ جب میرے گھروالے آئے تھے تو آپ نے ان کے ساتھ بڑا اچھا وقت گزارا جو مجھے بہت اچھا لگا۔

—       جب آپ نے میرے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تومجھے بہت ہی اچھا لگا۔

—       اب آپ میری بات غور سے سنتے ہیں یا سنتی ہیں۔

—       اب آپ مجھے زیادہ پیار کرتے ہیں یا دھیان کرتے ہیں۔

یہ تو باتیں تھیں اچھی والی’اب وسری طرف دیکھئے جن باتوں میں بہتری کی ضرورت ہے:

—       خالد کے گھر جب ہم گئے تھے تو تمام لوگ Politics پر بحث کر رہے تھے اور آپ نے contribute ہی نہیں کیا ایسا لگ رہا تھا جیسے کہ آپ کو کچھ علم ہی نہیں میرا دل کرتا ہے کہ ہم جہاں بھی جائیں لوگ علم کی وجہ سے آپ کی عزت کیا کریں۔

—       پارٹی میں سارے پڑھے لکھے لوگ تھے۔آپ خاموش بیٹھے ہوئے تھے آپ بھی شام کو English کی کلاسز کیوں نہیں لے لیتے۔

—       آپ بھی بچوں کے ساتھ games کھیلا کریں مجھے بہت اچھا لگے گا۔

—       آپ کو یہ رنگ سوٹ نہیں کرتا۔اب آپ اپنا نیا سوٹ کسی اور رنگ کا بنوائیے گا۔

—       آپ کے Complexion اور ageکی وجہ سے اب آپ کو Sober رنگ پہننا چاہئیں۔

—       آپ کا نیا Perfumeبہت ہی girlish ہے۔اب آپ اپنا Perfumeبدل دیجئے۔

—       مسز ملک کے گھر کھانابہت ہی اچھا تھا آپ بھی  chineseکی کلاسز کیوں نہیں لے لیتی۔

—       آپ کی انگریزی بہتر ہو جائے گی آپ بھی BBCسنا کریں۔

—       آپ یہ لفظ صحیح طرح سے نہیں ادا کرتیں۔اس کا صحیح تلفظ یہ ہے۔مجھے اچھا نہیں لگا کہ لوگ ہنس رہے تھے۔

—       آپ کی یہ سونے کی گھڑی اور انگوٹھی اب اچھی نہیں لگتی۔Please کوئی سوبر گھڑی پہن لیا کریں۔

—       آفس کی میٹنگ میںآپ سے Presentation نہیں ہو رہی تھی۔لوگ بیٹھے بیٹھے ہنس رہے تھے مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔اختر صاحب کی Presentationبڑی improveہو گئی ہے وہ اپنی بیوی کے سامنے Practiceکرتے ہیں۔آپ بھی کیا کریں میں آپ کی help کروں گی۔

—       آپ کو چکن کڑاہی نہیں صحیح بنانی آتی۔میں نے اپنی امی سے سیکھی تھی چلیں میں آج آپ کو سکھاتا ہوں۔

—       میرا بھی دل کرتا ہے کہ آپ کو بھی قرآن آتا ہو۔اگر عربی نہیں بھی پڑھی تو اُردو ہی صحیح۔چلیں روز ہم 1/2گھنٹے کیلئے ایک دوسرے کو ایک رکوع پڑھ کر سنائیں گے اور سینکڑوں چیزیں اور ہو سکتی ہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کیا چیزیں ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ایک سسٹم موجود ہونا چاہیے ان باتوں کو جاننے اور ٹھیک کرنے کا۔اچھی باتیں بتانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر نفسیاتی طور پر لوگوں کی اچھی باتوں کو notice نہ کیاجائے تو لوگ وہ کرنا چھور دیتے ہیں۔اگرآپ بتائیںگے دوسرے کو انہی عادتوں یا باتوں کا تو ایک طرف تو وہ ان کو چھوڑدیتے ہیں لیکن دوسری طرف زیادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Improvement والی باتیں بتانے کا یہ فائدہ ہو گا کہ

1۔      اس سے اپنی development بھی ہوتی رہے گی۔

2۔      دوسرے  Partner کو تکلیف نہیں ہو گی یا برا نہیں لگے گا۔

3۔      اس سے Relationship بھی بہتر ہوگا۔

4۔      ایک دوسرے کی عزت بھی بڑھے گی۔

5۔      ایک دوسرے کے ساتھ involvement بھی بڑھے گی۔

6۔      ایک Partner دوسرے کو Support بھی فراہم کرے گا جو کہ اُس کے کہنے کے مطابق بہتر بننے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہم دوسروں کی بیویوں یا خاوندوں کو دیکھ کر اُن کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں یہ بھول کر کہ ان میں اور کئی برائیاں ہونگی۔لیکن بات تو یہ ہے کہ ہم اپنے life partners کو کیوں نہ improve کریں اور وہ تمام خوبیاں جو دوسروں میں ہیں وہ اپنے میں لے ائیں۔خوبصورتی اور حسن تو کچھ عرصے میں ختم ہو جائے گا لیکن یہ چیزیں رشتہ میں اگر آگئیں تو ساری عمر رشتے کو مضبوط رکھیں گی۔

میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو کہ دفتر میں عجیب و غریب رنگ کے کپڑے پہن کر آتا تھا۔تمام لوگ ہنستے تھے اس پر۔اس بات پر حیرانگی ہوتی تھی کہ اس کی بیوی اس کو بتاتی کیوں نہیں ہے۔My dear اگر آپ اس چیز کو زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے تو آپ کے ساتھ یہی ہو گا کہ لوگ آپ پر ہنسا کرینگے اور آپ ایک دوسرے کو develop کرنے کا ایک موقع بھی ضائع کرتے رہیں گے۔

کئی لوگ مجھے یہ بتاتے ہیں کہ اُن کی بیوی یا خاوند سالہا سال سے ایک بری عادت میں مبتلا ہیں جس سے دوسرے کو بہت زیادہ شرمندگی اُٹھانا پڑتی ہے۔یہاں تک کہ اُس کے بچے بھی اُس کی حرکت کی وجہ سے ان کو اپنے ساتھ سکول کے function پر لے جانا نہیں چاہتے۔تواب آپ خود سوچئے کہ کیا یہ بہتر ہے کہ اس بات کو جانا جائے اور بدلا جائے یا یہ بہتر ہے کہ اپنے بچوں یا life partner سے دور ہو جائیں۔جب آپ ایک دوسرے کے  Life partner ہیں تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ زندگی کی ہر چیز Share کرتے ہیں۔اگر آپ ایک دوسرے کو develop نہیں کرینگے تو اور کون کرے گا۔

اگر آپ کی بیوی خدمتِ خلق کرنا چاہتی ہے یا غریبوں کے بچوں کو پڑھانا چاہتی ہے یہ اچھا فعل ہے۔ یہ اس کی ضرورت ہے اور ثواب کا کام بھی۔اگر آپ اُس کو Supportنہیں کرینگے تو اور کون کرے گا۔

اور اگر آپ نہیں کرینگے اور اس کی growth کو روکیں گے تو یہ رشتہ ٹھیک رہ ہی نہیں سکتا۔زندگی یہ نہیں کہ خاوند دفتر کے کام کرے اور بیوی گھر کے۔بلکہ زندگی تو Sharing کا نام ہے۔ اگر آپ ایک گھنٹہ میں گاڑی دھو رہے ہیں اور آپ کی بیوی ایک گھنٹہ میں کھانا پکا رہی ہو تو زندگی کا وہ مزا نہیں۔کبھی یہ کر کے دیکھئے۔1\2گھنٹہ میں دونوں اکٹھے پہلے گاڑی دھو لیں اور اس کے بعد 1\2گھنٹہ کھانا اکٹھے پکا لیں تو دیکھیں کہ پیار کتنا بڑھے گا۔صرف اس لیے کہ ایک دوسرے کے کام میں ہاتھ بٹایا۔ایک دوسرے کے ساتھ Share کیا۔ایک دوسرے کی مدد کی اور ٹائم اکٹھے گزارا۔

آپ خود سوچئے کہ حضرت عائشہ کا مقام آنحضرتۖ کی ازواجِ مطہرات میں سب سے زیادہ کیوں ہے۔اس لیے کہ حضرت عائشہ آپۖ کے کام میں برابر کی شریک تھیں۔آپ علم میں بھی باقی ازواجِ مطہرات میں بھی سب سے آگے تھیں۔اسی لیے آنحضرتۖ کو حضرت عائشہ  سے سب سے زیادہ پیار تھا۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے:

”ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔”   (التوبہ:  ٧١)

ناصرف یہ بلکہ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ آپۖ اپنی ازواجِ مطہرات کو جنگوں میں ساتھ لے جایا کرتے تھے۔زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے کیلئے۔تو پھر ہم اپنی خواتین کو اپنے کام میں شامل کرنے سے کیوں گریز کرتے ہیں۔پردہ کا حکم یہ تو نہیں کہتا کہ آپ ایک نیک کام کرنا ہی چھوڑ دیں۔میں تو ایسی کئی خواتین کو جانتا ہوں جن کو سالہا سال کی شادی کے بعد بھی یہ علم نہیں کہ اُن کا خاوند کیا کام کرتا ہے یا کس دفتر میں ملازمت کرتاہے۔حیرانگی کی بات ہے یا نہیں۔

یہ تو بات ہوئی growthکے حوالے سے اب دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی conflict یا اختلافِ رائے آجائے تو اس کو حل کیسے کرنا ہے۔ایک اہم مسئلہ جو مجھے نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم لوگوں نے سننا اور پوچھنا ختم کر دیا ہے جس کی وجہ سے زندگی کے مسائل بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

میں لوگوں کی باتیں سنتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک بات پر بیس سالوں سے جھگڑا ہو رہا ہے اوراس کا حل تلاش نہیں کیا گیا۔ایک coupleمیرے سامنے بیٹھا اپنے اختلافات بیان کر رہا تھا۔لڑائی کی وجہ یہ تھی کہ جب بھی لڑکی کے گھر والے آتے ہیں تو صاحب کا موڈ خراب ہو جاتا ہے اور اُن کے جانے کے بعد لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔جب میں نے خاتون سے پوچھا کہ یہ کب سے ہو رہا ہے تو اُس نے کہا کہ شادی کے فوراً  بعد سے (تقریباً پندر ہ سال پہلے)جب میرے گھر والے پہلی دفعہ آئے تھے اُس وقت سے ہو رہا ہے۔جب بھی لڑکی کے گھر والے آتے ہیں تو لڑائی ہوتی ہے اور لڑائی میں پندرہ سال کے دوران کی گئی ہر بات کی جاتی ہے۔طن و تشنیع کی جاتی ہے۔ایک دوسرے کوhurtکیا جاتا ہے۔ایک دوسرے کی insult کی جاتی ہے۔ہفتے دس دن میں غصّہ کم ہو جاتا ہے۔زندگی نارمل ہو جاتی ہے۔اور جب بھی پھر آتے ہیں پھر لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔بس پندرہ سال سے زندگی ایسے ہی گزر رہی ہے۔سب کچھ کہا سنا جاتا ہے۔لیکن اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی۔یہ نہیں پوچھا جاتا یا سوچا جاتا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ہر چیز کی ایک وجہ ہوتی ہے۔اگر لڑکے کا موڈ خراب ہوتا ہے یہ تو ایک Reaction ہے۔اب یہ موڈ کس وجہ سے خراب ہوتا ہے اس کو جانے بغیر اس مسئلے کاحل نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔میں نے لڑکے سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے تو اُس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے کہ میں نے کوئی ایسی بات پوچھ لی ہو جو اس بیچارے سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی۔سانس لینے کے بعد اُس نے کہا کہ مجھے اس سے بہت پیار ہے اور میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میں اس کو Share کروں۔جب اس کے گھر والے آئے ہوئے ہوں تو یہ مجھے مکمل طور پر  نظرانداز کرتی ہے۔میں hurt اور Jealous ہو جاتا ہوں اور خاموش ہو جاتا ہوں۔اس سے یہ سمجھتی ہے کہ میرا موڈ ہی خراب ہو گیا اور طعنے بازی شروع ہو جاتی ہے۔اس کے جواب میں مجھے بھی غصّہ چڑھ جاتا ہے اور بات کہیں کی کہیں نکل جاتی ہے۔اس میں میرے گھر والوں کی بھی insultکردیتی ہے۔اور پتہ نہیں کیا کیا مجھے سننا پڑتا ہے۔اصل بات تووہیں رہ جاتی ہے اور ہم دوسرے مسائل میں الجھ جاتے ہیں۔

یہ بات سننے کے دوران لڑکی نے کئی بار اُس کی بات کاٹنے کی کوشش کی اور میں نے اُسے چپ کرایا۔میں نے غور سے اس کی بات سنی اور جب اس نے بات ختم کی تواُس سے پوچھا کہ اب وہ کیسا feel کر رہا ہے۔اُس نے کہا کہ پندرہ سالوں میں پہلی مرتبہ کسی نے یہ بات سنی ہے۔اور مجھے بہت ہی اچھا لگا ہے۔میں نے لڑکی سے پوچھا کہ تم اس سے کچھ پوچھنا چاہو گی۔اس نے کہا ہاں اگر اتنی سی بات ہے تو اس نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔لڑکے نے جواب دیا ”تم نے پوچھا ہی نہیں”۔میں نے لڑکی سے پوچھا کہ یہ آپ کر سکتی ہیں؟اُس نے کہا کہ مجھے اس سے بہت پیار ہے اس کیلئے اتنا کچھ کرتی ہوں تو یہ کیا مشکل ہے۔اُس نے وعدہ کیا اور بات ختم ہو گئی۔تین ہفتوں کے بعد میرے دفتر میں دونوں میاں بیوی پھول لے کر آگئے اور یہ کہ پندرہ سال میں پہلی دفعہ لڑکی کے گھروالے آئے اور ہماری لڑائی نہیں ہوئی۔یہ آپ کی وجہ سے ہے۔آپ کا شکریہ۔

اب آپ خود سوچئے کہ اس میں میری کیا بہادری ہے۔میں نے تو صرف ایک مسئلہ کی وجہ diagnose کی اور وجہ کو ختم کرنے کی کوشش کی۔جب تک وجہ ختم نہیں ہو گی مسئلہ کا علاج تو ہو ہی نہیں سکتا۔اور وجہ جاننے کیلئے ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے’طعن و ملامت کرنے کی ضرورت تو ہے نہیں بلکہ لگن سے اور غور سے سننے کی ضرورت ہے۔آدھا مسئلہ تو سننے سے ہی حل ہو جاتا ہے۔یہ صرف ایک واقعہ ہے اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہیں جہاں پر عورت یا مرد یا دونوں ہی ایک دوسرے کو سننے کیلئے تیار نہیں ہیں اور بجائے مسئلے کو سلجھانے کے اور بگاڑ دیتے ہیں۔طریقہ تو بتا دیا لیکن By the wayایک اور بات کرتا چلوں اس لیے کہ مسئلہ صرف سسرال کی عزت کا نہیں ہے۔بات تویہ ہے کہ جب ہم کسی سے شادی کرتے ہیں جس کی بنیاد ہی وہ عزت اور پیار ہے تو ہمیں اُس کی ہر چیز سے پیار کرنا چاہیے۔یہ تو نہیں ہونا چاہیے کہ مجھے لڑکے سے پیار ہے لیکن اُس کے گھروالوں سے نہیں یا لڑکی سے پیار ہے اس کی ماں سے تو مجھے چڑ ہے۔یہ تو وہی بات ہوئی مٹھائی سے پیار اور حلوائی سے بیر۔

ایک اور بہت ہی Commonمسئلہ جو Relationship میں نظر آتا ہے اس کی وضاحت کیلئے ایک سچا واقعہ بیان کرتا ہوں۔آپ کی بیوی آپ سے پوچھے بغیر آپ کی گاڑی لے کر چلی گئی ہے اور آپ نے ایک اہم میٹنگ کیلئے جانا ہے جس کیلئے آپ late ہو رہے ہیں۔آپ گھر کے گیٹ کے باہر کھڑے تھے کہ آپ نے اپنی بیوی اور چھوٹے بیٹے کو گاڑی میں آتے دیکھا۔اُنھوں نے گاڑی آپ کے پاس کھڑی کی۔اب اس صورتحال میں آپ تین طرح سے act کر سکتے ہیں:

1۔      آپ نے اس بات کوignore کر دیا اور انہیں کچھ نہیں کہا۔یعنی کہ آپ اپنا غصّہ پی گئے اور دل ہی دل میں کڑتے رہے۔

نمبر 2۔   آپ نے اپنی بیوی سے کچھ نہیں پوچھا۔جونہی وہ گاڑی سے نیچے اترے آپ نے اپنی بیوی کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا اور اپنی حدود کراس کر گئے۔آپ کے غصّے کی وجہ سے آپ کا بچہ بھی سہم گیا۔اور آپ کی بیوی خاموش رہی۔

تیسرا  ردّ عمل discuss کرنے سے پہلے ہم ان دونوں situations کو analyzeکرتے ہیں۔

پہلی حالت میں

آپ کو بُرا لگا اور آپ نے کچھ نہیں کہا۔سارا دن آپ دل ہی دل میں کڑتے رہے اور اپنی بیوی کے بارے میں غلط سوچتے رہے کہ اُس کو آپ کا خیال نہیں ہے۔وہ آپ سے محبت نہیں کرتی۔وہ بدتمیز ہے۔آپ کی یہ سوچ آپ کے ازدواجی تعلقات کو خراب کر دے گی۔

اس کے علاوہ اگر آپ نے اپنی سوچ کو صاف نہ کیا یعنی کہ اپنا دل صاف نہ کیا تو ایک دن یہ بہت ہی بڑھ چڑھ کر نکلے گی۔کچھ ہی دن پہلے میں نے اخبار میں ایک خبر پڑھی کہ شادی کے پندرہ سال کے بعد خاوند کے ظلم سے تنگ آکر اپنے کئی بچوں اور خاوند کو مار کر خودکشی کر لی۔

ایسا کیوں ہوتا ہے۔اگر آپ ریسرچ کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگ چپ رہے ہیں۔ تمام تر زیادتیوں کے باوجود اُن کا غصّہ اندر ہی اندر ناسور بن گیا اور ایک دن یہ غصّہ اتنا بڑھ گیا کہ اُنھوں نے یہ انتہائی قدم اُٹھالیا۔

ہر شخص کی ہمت کی ایک انتہا ہوتی ہے۔

گلاس کو لے لیجئے اس میں پانی بھرنے کی ایک گنجائش ہے اگر اس میں گنجائش سے زیادہ پانی ڈالنے کی کوشش کریں گے تو پانی باہر گرے گا۔کچھ اسی طرح کا حال انسانوں کا بھی ہے۔ہم میں سہنے کی ایک limit ہے۔

دوسرے Case میں جب آپ نے بُرا بھلا کہنا اور گالی گلوچ شروع کر دی۔کچھ سوچے سمجھے بغیر تو آپ کی بیوی آپ کی زیادتی اگر برداشت کر بھی گئی پھر بھی اندر ہی اندر اُس کا غصّہ رشتے کو خراب کر دے گا اور پھر ایک دن پہلی مثال کی طرح وہ بھی غصّہ سے پھٹ پڑے گی۔

دوسری طرف اگر آپ کو شام کے وقت یہ پتہ چلے کہ آپ کا چھوٹا بیٹا کھیلتے کھیلتے گر گیا تھا اُس کو چوٹ لگی تھی اور آپ کی بیوی آپ کا خیال کرتے ہوئے کہ آپ کو ضروری meeting میں جانا ہے اور آپ کو دیر نہ ہو جائے’ بجائے اس کے کہ آپ کو بتاتی اور وقت ضائع کرتی آپ کو بتائے بغیر ہی گاڑی لے کر بچے کو ہسپتال لے کر چلی گئی تھی۔تو یہ جان کر آپ کو کیسا لگے گا۔آپ کو دُکھ ہوگا’guiltہو گا اور شرمندگی ہو گی’صحیح۔یاد رکھیئے کہ یہ دونوں Reactions غلط ہیں اور ایک ہی سکّے کی دو Sides ہیں۔خاموش لوگ بھی کچھ وقت زیادتی برداشت کرنے کے بعد ایک دن پھٹ پڑیں گے اور اسی طرح پھٹنے والے لوگ کسی دن شرم یا guilt کی وجہ سے خاموش ہو جائیں گے۔دونوں حالتوں میں آپ نے react کرنے سے پہلے پوچھنے اور سننے کی زحمت گوارہ نہیں کی اور جو ہوا اُس میں سے خود ہی مطلب نکال کر react کیا۔

پہلےcase میں آپ نے محسوس کیا کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن آپ اس کو مصلحت کے تحت یا اپنی خاموش طبیعت کی وجہ سے پی گئے۔

دوسرے case میں بھی آپ نے سوچا کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن آپ نے اپنے اُس غصّہ کا اظہار کر دیا۔

یاد رکھیئے کہ دونوں cases میں آپ نے سوچا کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ضروری نہیں کہ یہ ایسا ہی ہوا ہو۔

اس نتیجہ پر پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ دوسرے شخص سے بات کر لیں اور یہ ہے تیسری Situation۔

اگر آپ نے اس واقعہ کے بعد

نمبر 1۔   اپنی بیوی سے پوچھا ہوتا کہ وہ کدھر گئی تھی۔

نمبر 2۔   اُس کو کہنے کا موقع دیا ہوتا اور

نمبر 3۔   صبروتحمل کے ساتھ اُس کی بات سنی ہوتی تو غصّہ’ پریشانی’شرمندگی’guiltیا دُکھ کی نوبت ہی نہ آتی۔وہ پہلے ہی آپ کو بتا دیتی کہ اُس نے گاڑی آپ سے پوچھے بغیر کیوں نکالی تھی اور بجائے اس پر غصّہ آتا شاید آپ کو اس پر پیار ہی آنے لگتا۔اگر بات کرنے کے بعد آپ کو پتہ چلے کہ کوئی ایسا ضروری کام نہیں تھا تو پھر بھی غصّہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس حالت میں آپ اُسے بتا سکتے تھے کہ آپ کو میٹنگ سے دیر ہو گئی ہے اور آپ کو یہ اچھا نہیں لگا اور اس کے علاوہ اور بہت سے طریقے ہیں۔مثلاً

1۔      اگر آپ کا خاوند آپ کی بات کاٹ رہا ہے اور آپ کو بُرا لگ رہا ہے تو ناراض ہونے کی بجائے آپ یہ کہہ سکتی ہیں”ایکسکیوزمی مجھے میری بات ختم کرنے دیجئے”۔

2۔      اگر پھر بھی صاحب نہ مانیں تو آپ کہہ سکتی ہیں۔”آپ میری بات پھر کاٹ رہے ہیں اگر میری بات ختم نہیں ہوگی تو آپ کو پوری طرح سے سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ میں کیا کہہ رہی ہوں”۔

3۔      اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو آپ یہ کہہ سکتی ہیں:

—       خالد آپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ میری بات نہیں کاٹیں گے اور میری بات پوری طرح تسلی سے سنیں گے۔

اگر تینوں طریقوں سے بھی مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو تو اس کے بعد آپ چوتھا طریقہ استعمال کر سکتی ہیں اور وہ کچھ یوں ہے:

خالد آپ پھر میری بات کاٹ رہے ہیں اور مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔

اس میں آپ نے اپنے خاوند کو بھی بتا دیا کہ آپ کو یہ اچھا نہیں لگ رہا یعنی کہ آپ کی feelings اور احساسات کیا ہیں۔جب آپ میرے دوستوں کے سامنے میری بات کاٹتے ہیں یا میرا مذاق اُڑاتے ہیں تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔

90فیصد مسائل تو سننے سے حل ہو جائیں گے اور باقی 10فیصد اگر ہم کوشش کرتے رہے تو وہ بھی حل ہو جائیں گے۔مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم ایک یا دو مرتبہ کوشش کر کے کوشش کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔یاد رکھیئے کہ دوسرا بھی انسان ہے۔بعض باتیں بدلنے میں ٹائم لگ سکتا ہے اور اگر آپ یہ سوچنے کی بجائے کہ وہ بدل نہیں رہی یا بدل نہیں رہا اُس کو بتاتے رہیں گے یا بتاتی رہیں گی تو اُمید ہے کہ مسئلہ ٹھیک ہو جائے گا۔لیکن یہ یاد رکھیئے کہ:

1۔      ہم دل و جان سے اور توبہ سے کسی کی بات سننے اور اس پر عمل کرنے کیلئے تیار ہوں۔

2۔      الزام تراشی اور دھمکیاں کبھی مت دیجئے۔

3۔      بے عزتی نہ کیجئے۔نہ ہی تکلیف پہنچائیے۔

4۔      مسئلہ سے ہٹ کر کبھی کوئی اور بات نہ کریں۔

5۔      ایک دوسرے کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں۔

6۔      کسی کو غلط ٹھہرانے کی کوشش نہ کریں(نہیں نہیں مجھے پتہ ہے کہ تم یہ کیوں کرتے ہو۔سچ تو یہ ہے کہ یہ آپ کو پتہ چل ہی نہیں سکتا۔)

7۔      اپنی غلطی کو تسلیم کرنے سے آدمی بڑا ہوتا ہے چھوٹا نہیں۔ غلطی ماننے اور معافی مانگنے سے مت گھبرائیے۔

8۔      انسان کو انسان سمجھئے اور معانی دینے سے گریز نہ کریں۔اصل میں ہم دوسرے کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو معاف کرتے ہیں۔بڑا شخص تو وہ ہے جو معاف زیادہ کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔

9۔      ایک دوسرے کی غلطیاں ڈھونڈنے کی بجائے غلطیاں ٹھیک کرنے میں مدد کیجئے۔شادی سے پہلے تو ہم اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں ignore کر دیتے ہیں۔ اور پہلے سال کے بعد ہی دونوں آنکھیں کھول کر چھوٹی چھوٹی غلطیاں بھی پکڑنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

یہ تو تھی تعلقات اچھے بنانے کی بنیادی Guidelines’اب یہ دیکھتے ہیں کہ ایسی کونسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن سے ہم اپنے تعلقات میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پہلے سال جیسی رنگینی’خوبصورتی اور Energy زندگی میں شامل کر سکتے ہیں۔

ان باتوں کو بتانے سے پہلے میں ایک مزیدار واقعہ آپ کو سناتا ہوں۔ایک نوجوان Couple میرے پاس کوچنگ کیلئے آیا جن کی شادی کو ابھی دوسال بھی نہیں ہوئے تھے اور ایک دوسرے سے کافی کھچے کھچے سے تھے۔لڑکی سے وجہ پوچھی تو اُس نے بتایا کہ یہ مجھے اب پیار نہیں کرتے جیسا کہ پہلے کیا کرتے تھے۔میں نے وضاحت مانگی تو اُس نے شرما کر مجھے کچھ یہ بتایا:

1۔      یہ پہلے تو مجھے آتے جاتے چھیڑتے تھے اب پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔

2۔      پہلے دن میں کئی مرتبہ I Love You کہا کرتے تھے۔دفتر سے بھی فون کیا کرتے تھے اب نہیں کرتے۔

3۔      دفتر جاتے ہوئے اور آتے ہوئے Kiss کیا کرتے تھے۔

4۔      دن میں کئی مرتبہ ہاتھ پکڑتے تھے۔

5۔      دن میں کئی مرتبہ گلے لگاتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔

جب خاوند صاحب سے پوچھا گیا کہ بھائی کیا بات ہے تو اُن صاحب نے بتایا کہ وہ اب بھی اپنی بیوی کو اتنا ہی پیار کرتا ہیں جتنا پہلے کرتے تھے۔لیکن بیوی یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھی۔

خیر بات آگے بڑھتی گئی تو پتہ کچھ ایسے چلاکہ صاحب ابھی بھی دن میں کئی مرتبہ اپنی بیوی کوI Love You ‘Take Care’I Miss You  وغیرہ کہتے رہتے تھے اور جب وہ خوش نہ ہوتی تو اور زیادہ کہتے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوتا۔اور بیوی یہی کہتی رہی تو اب آپ پہلے جیسا پیار نہیں کرتے۔

اب اس مثال سے آپ کو کیا لگ رہا ہے۔بیوی سمجھ رہی ہے کہ خاوند بدل گیا ہے۔خاوند سمجھ رہا ہے کہ بیوی بدل گئی ہے۔جب کہ سچ تو یہ ہے کہ کوئی بھی نہیں بدلا لیکن کوئی ایک دوسرے کی بات سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا۔خاوند پیار کر رہا ہے لیکن بیوی کو وہ پیار لگ نہیں رہا یا وہ اُس کو سمجھا نہیں پا رہا۔چلیئے میں آپ کو سمجھاتا ہوں دیکھئے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیںتین طرح کی صلاحیتیں دی ہیں۔اپنا Message دوسرے تک پہنچانے کیلئے۔

نمبر 1۔   زبان سے۔یعنی کہ بول کے۔ (جس کو ہم سن سکیں)

نمبر 2۔   جسم سے یعنی کہ دِکھا کے۔(جس کو ہم دیکھ سکیں)

نمبر 3۔   چھو کر۔ (جس کو ہم محسوس کر سکیں)

ہم سب لوگ فرق ہیں۔کچھ لوگ سننے پر زیادہ  Believe کرتے ہیں۔کچھ دیکھنے پر اور کچھ محسوس کرنے پر۔اب اس پر غور کریں کہ لڑکی نے کیا کہا تھا۔

1۔      یہ چھیڑتے نہیں۔

2۔      Kiss نہیں کرتے۔

3۔      ہاتھ نہیں پکڑتے۔

4۔      گلے نہیں لگاتے۔

اس سے یہ لگاکہ وہ پیار کو دیکھنا اور محسوس کرنا چاہتی ہے سننے سے زیادہ۔جب کہ لڑکا یہ کہہ رہا ہے کہ میں تو دن میں کئی بار کہتا ہوں I Love You’I Miss You یعنی کہ وہ بول رہا ہے۔اُس کا یہ بولنا بے کار ہے کیونکہ دوسرا شخص سننے سے زیادہ دیکھنے اور محسوس کرنے پر Believe کرتا ہے۔

ویسے بھی ایک ریسرچ بتاتی ہے کہ مرد حضرات زیادہ بولنے اور خواتین زیادہ دیکھنے اور محسوس کرنے پر Believe کرتی ہیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ دوسرے کو سمجھیں اور اس سے پوچھیں کہ آپ کو کس طرح یقین ہو گا کہ مجھے آپ سے پیار ہے۔اگر میں یہ آتے جاتے کہتا رہوں یا آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو کہوں یا آپ کو flying kiss کروں جسے آپ دیکھ سکیں۔

My dear ہمارا یہ سب کچھ کرنے کا مقصد تو یہی ہے نا کہ ہم دوسرے ساتھی کو اپنے جذبات بتا سکیں۔اگر وہ جذبات اُس طرح پہنچ ہی نہیں رہے تو کیا فائدہ اس بات کا جس کو دوسرا سمجھ ہی نہیں رہا۔

جونہی آپ کو یہ معلوم ہو جائے گاکہ اپنے Life Partner تک اپنا پیغام بہتر طریقے سے کیسے پہنچانا ہے۔زندگی خود ہی بہتر ہو جائے گی۔اگر صرف کہنے سے مقصد پورا نہیں ہوتا تو ہمیں دکھانا اور محسوس کرانا پڑے گا جب تک کہ مقصد حل نہ ہو جائے اور یہ صرف دوسرا شخص ہی بتا سکتا ہے کہ اس کو کیسے پیغام بہتر طریقے سے پہنچے گا اور اُس کیلئے پھر ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنا اور سننے کی عادت ڈالنی پڑے گی۔اب کچھ چھوٹی چھوٹی Tips جن پر اگر آپ نے عمل کیا تو آپ کی زندگی میں نئے شادی شدہ Couples کی طرح پیار آجائے گا۔

1۔      اپنے Partner کو حاصل کرنے کے بعد Never take him or her for granted جیسے ہر چیزکو پانے کے بعد اُس کا شوق ختم ہو جاتا ہے۔یاد کھیئے کہ انسان بے جان چیز نہیں بلکہ جیتی جاگتی’حساس مخلوق ہے۔اصولی طور پر تو آپ جتنے زیادہ قریب رہیں پیار بڑھنا چاہیے تو ہمارا پیار کم کیسے ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم وہ تمام باتیں نہیں کرتے جس سے پیار بڑھے۔

2۔      صرف شادی کے پہلے سال میں ہی نہیں ساری عمر ایک دوسرے کو assurance دیتے رہے کہ مجھے تم سے پیار ہے۔تم کتنے خوبصورت یا کتنی خوبصورت ہو۔مجھے تمھاری ضرورت ہے۔وغیرہ وغیرہ۔

3۔      ایک دوسرے کو تکلیف ‘اذیت نہ پہنچائیں۔نہ ہی دھمکی دیں نہ ہی طعن و ملامت کریں نہ الزام تراشی کریں۔

4۔      زندگی کی ہر چیز’ہر کام share کیجئے

5۔      ایک دوسرے کے کام میں ہاتھ بٹائیں

6۔      ایک دوسرے کو بغیر مطلب کے یا بغیر کچھ بدلے میں مانگے uncoditional love دیں۔یہ رشتہ لے دے کا رشتہ نہیں ہے۔کہ میں یہ نہیں کروں گا کیونکہ تم نے نہیں کہا۔اگر ایک I Love You نہیں کہ رہا تو دوسرا تو کہہ سکتا ہے۔ایک کے کہنے کی وجہ سے دوسرا بھی کہہ دے گا۔ اگر آپ کو Love چاہیے تو اس کو دیں۔

7۔      جو چیز اپنے لیے’اپنے گھر والوں کیلئے پسند نہ ہو وہ دوسرے یا اس کے گھروالوں کیلئے بھی پسند نہ کریں۔یاد رکھیے نبی پاکۖ کی احادیث کو’اپنے آپ کو دوسرے کی جگہ رکھ کر سوچیں کہ اگر یہ آپ کے ساتھ ہو تو آپ کو کیسا لگے گا۔

8۔      ایک دوسرے کی سالگرہ ‘anniversary  کو یاد رکھیئے۔

9۔      دل و جان سے ایک دوسرے کی عزت کریں۔عزت سے بلائیں۔خاص طور پر دوسرے لوگوں کے سامنے بہت احتیاط کریں۔اسلام نے جو عزت کے بارے میں Guidelines دی ہیں اُن پر عمل کریں۔

10۔    تعریف’appreciation ‘ recognition ‘acknowledgement کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔

11۔    Hugsاور Kisses پر کوئی پیسہ نہیں لگتا۔جتنا زیادہ اُتنا بہتر۔یہ کوئی غیر شرعی حرکت تو نہیں ہے۔

12۔    چھوٹی چھوتی باتوں پر ایک دوسرے کو surpriseدیں۔چائے بنا دیں’کچھ لے جائیں’ٹیلیفون کال۔

13۔    تحفے تحائف کیلئے خاص دنوں کا انتظارنہ کریں۔ایک پھول’ایک کارڈ missing you کا رڈکی قیمت کچھ بھی نہیں لیکن اثر بہت ہے۔

14۔    ایک دوسرے کی secret باتوں کو secret ہی رکھیئے۔یاد رکھیئے کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

 ”وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کیلئے لباس ہو”۔

15۔    عورت اپنے خاوند کی ہی اطاعت کرے جیسا کہ حکم ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ:

”عورت کیلئے اپنے شوہر کی اطاعت اور ان کے حقوق کو پہچاننا اتنا ہی افضل ہے جتنا مردوں کیلئے راہِ خدا میں فتح یاب ہونا یا شہید ہونا۔”

اس کے علاوہ آدمیوں کیلئے یہ فرمایا کہ:

” تم میں سے وہ بہتر ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہتر ہو۔”

16۔    ایک دوسرے کی ہر اچھے کام میں مدد کریں لیکن بُرائی اور خلافِ شرع کام میں ہرگز نہیں۔ایک حدیث شریف میں ہے:

”مرد ہلاک ہوئے جب وہ عورت کی اطاعت کریں۔”

مطلب یہ کہ (خلافِ شرع) اطاعت کریں۔غلط باتوں میں اور یہی بات عورتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے خاوند کو خوش کرنے کیلئے خلافِ شرع کوئی بات نہ کریں۔

17۔    یاد رکھیئے کہ ایک حدیث شریف میں ہے کہ:

”آدمی کا بہترین اثاثہ اُس کی وہ زبان جو خدا کو یاد کرے’ ایک شکر گزار دل’ ایک نیک بیوی اور کسی مومن کی اچھے کام میں مدد کرنا ہے۔”

تو اپنی بیوی کا بھی ایسے ہی دھیان کیجئے جیسے کہ ایک قیمتی اثاثہ کا کرتے ہیں۔

18۔    عورتیں نازک ہیں شیشے کی طرح ان سے ویسے ہی برتائو کیجئے۔ایک حدیث شریف میں آیا کہ ایک مرتبہ ازواجِ مطہرات اونٹوں پر سفر کر رہی تھیں نبی پاکۖ نے ساربان سے فرمایا کہ:

”شیشوں کو ذرا سنبھال کر لے چلو۔”

19۔    ایک دوسرے کی غلطی کو معاف کریں۔حدیث شریف میں بیان ہے کہ:

” کسی مومن کیلئے جائز نہیں کہ وہ کسی مومنہ کو نفرت کرے۔اگر وہ اُسے اُس کے کردار میں ایک بُرائی کی وجہ سے نفرت کرتا ہے تو اُس کی کوئی اور بات اُسے خوش بھی کرتی ہو گی۔”

20۔    ایک دوسرے کے شکر گزار رہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اور چھوٹے تحائف پر منہ چڑھانے کی بجائے شکر ادا کریں۔ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ آپۖ نے عورتوں سے فرمایا کہ:

”میں تمھیں دوزخ کے لوگوں کے ساتھ دیکھتا ہوں۔ تو عورتوں نے پوچھاکہ ہم ایسا کیا کرینگی کہ آپۖ ہمیں دوزخ کے لوگوں کے ساتھ ملاتے ہیں تو آپۖنے جواب دیا کہ تم اپنے خاوندوں کو بُرا بھلا کہو گی اور اُن کی ناشکرگزار رہو گی۔ ”

21۔    جب آدمی باہر سے گھر آئے تو اپنی بیوی اور بچوں کو سلام کرے اور گلے لگائے’پیارو محبت کرے۔حدیث شریف میں بھی ارشاد ہے کہ :

”ایک آدمی کو گھر میں داخل ہوتے ہوئے اپنی بیوی اور بچوں کو سلام کرنا چاہیے۔”

22۔    اپنے ماں باپ اور دوسرے لوگوں کی باتوں میں آکر ایک دوسرے کو تنگ نہ کریں۔اسلام نے میاں بیوی کے درمیان لڑائی کرانے کو شیطانی فعل قرار دیا ہے۔

23۔    ایک دوسرے کو خود سر اور بددماغ بن کر مت دکھائیں۔اس رشتے میں کوئی کسی سے بڑا نہیں ہے۔

24۔    اگر کہیں باہر جائیں یا شادی یا پارٹی پر جائیں تو ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے رہیئے اُس سے دوسرے کو لگے گا کہ اس موقع پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

25۔    جو چاہئیے وہ دے کر دیکھیں۔پیار چاہیے’عزت چاہیے تو دوسرے کوپیار اور عزت دیں’یہ خود ہی واپس آپ کو بھی مل جائے گا۔پیار دینے والے بنیں پیار مانگنے والے نہیں۔

26۔    بڑا ہونا صرف اتھارٹی یا Priviledgesکا نام ہی نہیں۔یاد رکھیئے اس کے ساتھ آپ کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔جو بڑا ہے وہ معاف کرنے میں’پیار کرنے میں’برداشت میں’محنت میں’اخلاق میں’خدمت میں ہر لحاظ سے بڑا ہونا چاہیے۔

27۔    کبھی بھی دل میلا کر کے نہ سوئیں۔اگر کسی کا موڈ خراب ہے یا غلط فہمی کی وجہ سے دل خراب ہے تو نہ ہی اُس کو گھر سے جانے دیجئے’نہ ہی سونے دیں۔جب تک کہ دل صاف نہ ہو جائے۔کیا معلوم کہ دوبارہ موقع بھی ملے گا یا نہیں۔

28۔    ہر روز ہر لمحہ اتنا پیار کریں یہ سوچ کر کہ پتہ نہیں کل کا موقع بھی ملے گا یا نہیں۔

29۔    اگر مرد باہر سے کچھ دنوں کے بعد آرہا ہو تو اس کو چاہیے کہ پہلے کال کر کے بیوی کو بتا دے تاکہ وہ تیار ہو سکے اور اس کا استقبال کر سکے۔یاد رکھیئے کہ اچھی بیوی کی مثال حدیث شریف میں یہی ہے کہ اُس کو جب اس کا خاوند دیکھے تو اُس کا دل خوش ہو جائے۔اگر آپ بغیر بتائے آگئے تو شاید وہ تیار نہ ہو یا سو رہی ہو تو آپ کو بُرا لگے گا۔ آنحضرتۖ جب رات کو لیٹ باہر سے آیا کرتے تو صبح ہونے تک کا انتظار کرتے اور پہلے پیغام بھجوایا کرتے اور اس کے بعد گھر میں داخل ہوتے۔

30۔    بنائو سنگھار ایک دوسرے کیلئے کیجئے۔زمانے کیلئے نہیں۔ دوسروں کو دکھانے کیلئے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو دکھانے کیلئے۔حیرانگی ہوتی ہے اُن مردوں پر جو اپنی بیویوں کو سجا کر بازاروں میں یا شادیوں میں لے کر جاتے ہیں اور خود دوسروں کی بیویوں کودیکھتے رہتے ہیں اور ان کی بیویوں کو دوسرے دیکھتے رہتے ہیں۔اسلام کو جانیئے۔فرمایا گیا ہے کہ زمانہ جاہلیت کی طرح بنائو سنگھار کر کے باہر نہ پھرتی رہا کرو۔میں نے اسی طرح کی باتوں پر سینکڑوں شادیاں ٹوٹتی دیکھی ہیں۔ جو مرد حضرات آپ کے ساتھ ہیں وہی آپ کو کسی دن یہ کہہ کر چھوڑ دینگے کہ تمھارا کردار خراب ہے۔یاد رکھیئے جس کو خدا کا خوف نہیں جو خدا کا نہیں بن سکا یا بن سکی وہ آپ کا کیا بن سکے گا یا بن سکے گی۔اپنے دل سے پوچھیئے کہ کیا آپ ایک دوسرے کی دل و جان سے عزت کرتے ہیں اور اُن سے بھی پوچھیئے جن کی بیوی اُن کے سامنے فضول کپڑوں کو پہنے دوسروں سے دانت نکال نکال کر ہنس ہنس کر باتیں کر رہی ہو کہ اُنھیں کیسا لگ رہا ہے۔یہ باتیں پہلے کچھ سال میں تو پی لی جاتی ہیں بعد میں فتنہ بن جاتی ہیں۔کیونکہ یہ انسانی فطرت اور قانونِ قدرت کے خلاف ہیں۔

32۔    روز شام کو ایک دوسرے سے دن کے بارے میں پوچھیں اور بتائیں۔

33۔    ایک دوسرے کو سننے اور سوال پوچھنے کی عادت ڈالیں۔

34۔    ہفتہ میں کم از کم ایک دفعہ Romantic Candle Light Dinner لیجئے صرف ایک دوسرے کے ساتھ۔

35۔    Weekends اور چھٹیوں کو advance میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر Plan کریں۔

36۔    ایک دوسرے کو اچھا تیار دیکھ کر تعریف کیجئے اس سے پہلے کہ کوئی اور کرے۔

37۔    اگرآپ کو دیر ہو جائے گی تو دوسرے کو فون کر کے بتاتے رہیئے۔

38۔    ایک دوسرے کی بات سنتے ہوئے اخبار چھوڑ دیجئے۔TV بند کرکے تو جہ سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے بات سنیں۔

39۔    اگر کوئی تھکا ہو یا بیمار ہواور آپ کو بتائے تو اس کی feelings کو validate کیجئے اور اس کا دھیان کریں۔بجائے کہ نصیحتیںکریں۔

40۔    دن میں کم از کم تین مرتبہ ایک دوسرے کو  I Love You  ضرور بولیئے۔

41۔    سونے سے پہلے  I Love You کہہ کر خدا حافظ کہہ کر سوئیے۔

42۔    شہر سے باہر ہوں تو ایک دوسرے کو فون کر کے اطلاع دیتے رہیں۔

43۔    TV اکٹھے دیکھئے’خبریں ایک دوسرے کو پڑھ کر سنائیں۔

44۔    ایک دوسرے کو grow کرنے میں مدد کیجئے۔

45۔    پارٹی میں’شادی میں ایک دوسرے کو کبھی  ignore  مت کیجئے۔

46۔    کھانے کا یا باہر کا پروگرام بناتے ہوئے ایک دوسرے سے مشورہ ضرور کریں۔

47۔    ایک دوسرے کے ساتھ Romantic رہیئے۔Romance عمر کے ساتھ بڑھنا چاہیے کم نہیں ہونا چاہیے۔بڑھاپے میں صرف یہی ساتھ رہے گا۔

48۔    ایک دوسرے کو چھیڑخوانی کرتے رہاکریں’آتے جاتےLight Jocks اورپیار بھری Statements  دیتے رہا کریں۔

49۔    کچھ کہنے یا مانگنے کیلئے Courtesy کا ضرور خیال رکھیں۔

50۔    ہفتہ میں ایک دفعہ گھر اکٹھا صاف کریں۔

51۔    کوئی  exercise  یا  walk  یا گیم اکٹھے کھیلا کریں۔

52۔    بیوی کیلئے گاڑی کا دروازہ پہلے کھولئے اور پھر بیوی اندر بیٹھے ہوئے آپ کا دروازہ اندر سے کھولے۔

53۔    جہاں تک ممکن ہو اپنے کام خود کرنے کی کوشش کیجئے۔اپنے برتن خود اُٹھائیں’جوتے پالش کریں۔یاد رکھیئے کہ یہ سنت بھی ہے۔

54۔    ایک دوسرے سے کیے گئے وعدے کبھی نہ بھولیں۔

55۔    مشکل اور وزنی کام بیوی سے کبھی نہ کروائیے۔

56۔    ایک دوسرے سے اکثر اپنے بارے میں پوچھتے رہیں۔

57۔    زندگی میں مزاح اور مسکراہٹ کبھی ختم نہ ہونے دیں۔

58۔    دن میںایک کھانا اکٹھے ضرور کھائیں۔

59۔    ایک دوسرے کی ٹیلیفون کالز کو دھیان سے سنیں اور پیغام دینا کبھی نہ بولیئے۔

60۔    کسی کو یہ بتانے سے کہ آپ نے اسے Miss کیا آپ کے نمبر کم نہیں بلکہ زیادہ ہو جائیں گے۔شرمائیے مت۔جس کسی نے آپ کو یہ کہا ہے کہ یہ بتانے سے دوسرا سر پر چڑھ جاتا ہے وہ بے وقوف ہے۔

61۔    یاد رکھیئے صرف Physical Relations رکھنا جانوروں کی خصلت ہے۔جب کہ پیار کرنا انسانی خصلت ہے۔پیار کے بغیر Physical Contact مت رکھیں۔اس سے تعلقات بگڑ جائیں گے۔

یہ آڈیوپروگرام سالہا سال کے تجربے اور ہزاروں لوگوں کی باتوں سے مستفید ہو کر لکھا گیا ہے اور آپ کی ازدواجی زندگی کو خوبصورت بنانے کیلئے کافی ہونا چاہیے۔اب صرف اس پر عمل کی ضرورت ہے۔