The Magic of Positive Thinking (مثبت سوچ کا جادو)

Transcription of Faiez Seyal’s Urdu best-seller Audio Program “Magic of Positive Thinking” from 1995

پچھلے دس سالوں میں مجھے ہزاروں لوگوں سے ملنے اور سینکڑوں Couples سے ملنے کا موقع ملا۔جو کہ اپنی زندگی سے کسی نہ کسی وجہ سے ناخوش تھے۔ان لوگوں میں 18 سال سے لے کر 80 سال تک کے مرد و خواتین’ شادی شدہ’غیر شادی شدہ’ ملازمت پیشہ’بے روزگار اور ریٹائرڈ یکساںشامل تھے۔

کوئی ملک سے ناخوش اور کوئی تعلیمی نظام سے ناخوش۔کوئی اپنی بیوی سے ناراض اور کسی کو اپنے سسرال یا والدین سے شکایات۔کوئی اپنے بچوں کی وجہ سے پریشان اور کوئی اپنی ملازمت سے ناخوش۔ملازمت پیشہ خواتین بھی ناخوش اور گھریلوخواتین بھی ناخوش۔جن کے پاس ملازمت ہے ان کو بھی کسی نہ کسی طرح کی شکایت اپنی کمپنی ‘ادارہ یا باس کے خلاف اور جن کے پاس ملازمت نہیں وہ بے روزگاری سے تنگ۔جن کے پاس دنیا کی ہر طرح کی آسائشات ہیں وہ بھی گورنمنٹ پالیسیوں سے یا ملک کی معاشی حالت سے نا خوش اور جن بیچاروں کے پاس کھانا’پہننے کو کپڑا یا چھت نہیں ہے وہ بھی ناخوش۔پڑھے لکھے بھی جاہل معاشرے کی وجہ سے ناخوش اور اَن پڑھ پڑھے لکھوں کی زیادتیوں کی وجہ سے ناخوش۔جن کے والدین زندہ ہیں وہ ان کی خدمت یا خواہشات کی وجہ سے ناخوش اور جن کے والدین زندہ نہیں ہیں وہ اپنے والدین کے نہ ہونے کے دکھ میں مبتلا۔ جو لوگ ملک سے باہر ہیں وہ محنت اور کام کرنے سے ناخوش اور جو اس ملک میں ہیں وہ باہر کا Visa  نہ ملنے کی وجہ سے ناخوش۔جن کے گھر ملازمین کی بھرمار ہے وہ ملازمین کی زیادتیوں’چھٹیوں یا لاپرواہیوں سے ناخوش اور جن کے پاس نہیں وہ کام کی زیادتی کی وجہ سے ناخوش۔شادی شدہ اپنے پارٹنرز کی فرمائشوں اور زیادتیوں سے ناخوش اور غیر شادی شدہ اپنے محبوب سے نہ ملنے کی تکلیف میں مبتلا۔یہ ناخوشی کا احساس ہی سب کچھ نہیں بلکہ اس کے علاوہ ان لوگوں میں طرح طرح کی بیماریاں’  فرسٹریشن ‘Depression  ‘ Agressionاور پتہ نہیں کتنی اور طرح کی بیماریاں نظر آئیں۔

جب ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ کیا مسئلہ ہے تو بس ایک شکایتوں کا دفتر کھل جاتا ہے۔ ان لوگوں سے ناخوشی کی وجہ پوچھنے کی کوشش کی جائے توبس وہ دنیا کے ہر شخص’ ہر چیز کے خلاف الزامات اور شکایتوں کی بھرمار کر دیتے ہیں۔ اس نے یہ کیا’ اس نے وہ کہا اور ان کا اپنا ذکر بس ایک مظلوم ‘بے بس ‘بیچارے کی حیثیت سے ہی آتا ہے۔

١٩٩٦ئ میں جب ہم نے Research کی تو پتہ چلا کہ نوے فیصد سے زائد آبادی اپنی زندگی سے کسی نہ کسی وجہ سے ناخوش یا غیرمطمئن ہے۔جب یہ پتہ چلا تو فطری طور پر میرا پہلا Reaction تو یہ تھا کہ اے رب العالمین تو اپنے بندوں سے اتنی زیادتی کیوں کرتا ہے؟ جوں جوں یہ ریسرچ آگے چلتی گئی تو سوالوں کے جواب بھی ملتے گئے۔ایک تو یہ قرآن پاک کی سورة شوریٰ میں آیت ملی کہ:

”  تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمھاری اپنی ہی وجہ سے آتی ہے”۔   (شوریٰ  :  ٣٠)

اس ریسرچ کے دوران کچھ ایسے لوگ بھی ملے جن کے پاس ویسے تو دنیا کی دولت میں سے کچھ بھی نہ تھا لیکن اس کے با وجود وہ بہت ہی مطمئن تھے۔یہ لوگ جو کہ ویسے تو آٹے میں نمک کے برابر تھے ان لوگوں اور پہلے ٩٠ فیصد لوگوں میں ایک بہت ہی بڑا فرق نظر آیا اور وہ کچھ ایسے تھا۔

پہلی قسم یعنی کہ ناخوش اور غیر مطمئن لوگ

(1)       اپنی ہر پرابلم کا ذمہ دار زمانے یا کسی شخص کو ہی ٹھہراتے ہیں۔

(2)     انھیں ہر شخص میں برائی ‘ جھوٹ اور مکاری نظر آتی ہے۔

(3)     وہ اپنے آپ میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہی نہیں کرتے۔

(4)     ان کے رویے میں تلخی’ زبان میں سختی اور دلوں میں لوگوں اور زمانے کے خلاف شکایتیں اور نفرتیں ہیں۔

(5)     اور یہ اپنے مستقبل سے بہت ہی نااُمید ہیں۔

دوسری قسم یعنی کہ وہ لوگ جو خوش ہیں:

(1)     اپنی محرومیوں یا پرابلمز کی ذمہ داری خود قبول کرتے ہیں۔

(2)     ہر شخص اور چیز میں اچھائی کا پہلو ڈھونڈ ہی نکالتے ہیں۔

(3)     اور وہ ہر وقت بہتر سے بہتر کی جستجو کرتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ یہ کر سکتے ہیں۔

(4)     ان کے رویے میں شگفتگی’ زبان میں نرمی اور دلوں میں لوگوں سے محبت ہے۔

(5)     بہت ہی زیادہ پُراُمید ہیں اپنے بہتر مستقبل کیلئے۔

آسان الفاظ میں بنیادی فرق سوچ تھا اور یہی بنیادی فرق ان کی زندگی کی ہر چیز’ ہر فیصلے’ حتیٰ کے ان کے تعلقات’ان کی کارکردگی غرضیکہ ہر چیز کو متاثر کرتا رہا۔

پہلی  Categoryکے لوگوں کو ہم منفی سوچ اور دوسری Category  کے لوگوں کو ہم مثبت سوچ والے لوگ یعنی کہ Positive Thinker کہتے ہیں۔ اب آپNegativeThinker ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ تو صرف آپ ہی کر سکتے ہیں۔لیکن یہ فیصلہ آپ کیلئے آسان بنانے کیلئے آپ کو کچھ Tips دے دیتا ہوں کہ یہ لوگ کیسے ہوتے ہیں۔

نمبر ایک:    یہ وہ لوگ ہیں جن کے آگے آپ ایک بہت ہی بڑے سفید کاغذ پر کالا نقطہ یا ڈاٹ لگا دیں اور اگر یہ پوچھیں کہ اُنھیں کیا نظر آتا ہے تو یہ لوگ کہیں گے کہ کالا ڈاٹ یا اسی طرح کے Responses ہونگے۔آپ کو 90 فیصد لوگ ایسے ہیں نظر آئیں گے۔اب اگر ان سے پوچھا جائے کہ نقطہ یا ڈاٹ جو کہ کاغذ کا کئی سوواں حصہ ہے ان کو کیسے نظر آگیا جب کہ اتنا  بڑا سفید کاغذ نظر نہیں آیا۔ یہی حال ان کی زندگی کا ہے وہ لوگوں کی چھوٹی سے چھوٹی برائیاں ڈھونڈنے میں اتنے مگن ہیں کہ ان کو اپنی زندگی سدھارنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔

دوسری مثال یہ ہے اگر ان لوگوں کو آدھا گلاس پانی بھر کر پوچھا جائے کہ کیا انہیں نظر آیا تو ان کو آدھا گلاس خالی نظر آتا ہے لیکن آدھا گلاس بھرا ہوا نظر نہیں آتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اپنی اور دوسروں کی اچھائیاں’خوبیاں اور طاقتوں کی بجائے برائیاں اور کمزو ریاں ہی نظر آتی ہیں۔ان کو یہ نظر نہیں آتا کہ اللہ نے ان کو ہاتھ’ کان’ پائوں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ہاں ان کو یہ ضرور نظر آتاہے کہ وہ اتنے خوبصورت نہیں جتنا کہ کوئی اور ہے۔ان کو یہ ضرور نظر آتاہے کہ ان کے پاس کار نہیں یہ نظر نہیں آتا کہ موٹر سائیکل تو ہے۔یہ نظر نہیںآتا ہے کہ ان کے پاس چوبیس  گھنٹے ہیں روز محنت کرنے کیلئے جس کو وہ برباد کررہے ہیں صرف یہ نظر آتاہے کہ ان کی یہ چھ گھنٹے کی نوکری سے ان کو اچھی تنخواہ نہیں مل رہی۔ان کو یہ نظر نہیں آتا کہ دوسرا ان سے زیادہ محنتی یا ذہین ہے ہاں یہ ضرور نظر آتا ہے کہ  ان کو اپنی محنت کا صلہ نہیں ملتا۔ان کو اپنے اوپر ہوئی زیادتیاں تو یاد ہیں لیکن یہ یاد نہیں کہ انھوں نے اپنے اوپر یا دوسروں پر خود کتنی زیادتیاں کی ہیں۔ان کو یہ تو نظر آتاہے کہ لوگوں کے بچے کتنے بدتمیز ہیں لیکن افسوس کہ یہ نظر نہیں آتا کہ خود ان کے بچے کتنے بدتمیز ہیں۔انھیں لوگوں کی Driving  میں تو ہزاروں غلطیاں نظر آتی ہیں یہ نظر نہیںآتا کہ وہ خود کیسی Driving کرتے ہیں۔

یہ لوگ ٹریفک میں ایک بند گاڑی کے پیچھے دس  منٹ تک ہارن بجانا اور غصّہ کرنا تو کر سکتے ہیں لیکن گاڑی سے اُتر کر دوسرے کی مدد نہیں کر سکتے۔چلیئے ایک سچا واقعہ سناتا ہوں اس سے آپ کو سمجھنے میں اور آسانی ہو جائے گی۔کچھ عرصہ پہلے ایک شادی پر جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں پر ایک بہت ہی بنی سنوری موٹی سی خاتون جو شاید اپنی یا اپنی دو بیٹیوں کی خوبصورتی سے بہت ہی متاثر تھیں ان کو عجیب طرح کے بے ڈھنگے کپڑے اور فل میک اپ میں گردن پھلائے بیٹھیں نظر آئیں۔ان کے ساتھ تین چار خواتین اور بھی بیٹھی ہوئی تھیں اور پچھلے تیس  منٹ سے وہ ہر آنے جانے والے مہمان پر Comments پاس کر کر کے آپس میں ہنس رہی تھیں۔

کسی کی بیوی کا مذاق’ کسی کے پیٹ کا مذاق’ کسی کے کپڑوں کے رنگ کے بارے میں Comments ‘ کسی کے گنجے پن کا مذاق اور کسی کی بیٹی کی کمزوری اور کسی کے بیٹے کا موٹاپا’کسی کے بیٹے کا کسی اور وجہ سے مذاق’ کوئی شخص بھی ان کے مذاق سے بچ نہ سکا۔میں بھی کچھ دیر بیٹھا ان کی باتوں کو Enjoyکر رہا تھا ہے کہ اچانک ایک بہت ہی Well dressed’ Smart ‘خوبصورت اورWell Mannered  ‘ نوجوان سا نیا شادی شدہ جوڑا نظر آیا۔ جس میں کسی قسم کی بھی بظاہر کوئی کمی نظر نہیں آتی تھی۔اور شاید جن کو دیکھ کر کوئی بھی صاحبِ ذوق یا صاحبِ شعور رشک کئے بغیر نہ رہ سکے۔اب ان خواتین نے ان کو گھورنا شروع کیا جیسے کہ ان میں کوئی برائی ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہوں اور جوں جوں ٹائم گزرتا جارہا تھا ان خواتین کے چہرے پر اضطراب بھی بڑھتا چلا جا رہا تھا۔وہ Couple   چلتے چلتے ہر ایک سے hello hye  کرتا آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا اور ان خواتین کی نظریں بھی انکا پیچھا کر رہی تھیں اور ساتھ ساتھ ان کے چہرے کے تاثرات اضطراب سے بڑھ کر غصّہ کی حد میں داخل ہو رہے تھے۔آخر تین منٹ کی سخت کوشش کے بعد انھوں نے اپنے آپ کوSatisfy کرنے کیلئے ایک ایسی برائی ڈھونڈ ہی لی جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا  وہ کچھ ایسے تھا۔ (منہ میں آواز) ہائے اچھی ہے بیچاری لیکن اگلے دو دانت بڑے ہیں۔یہ کہنے کے ساتھ ہی انھوں نے ایک لمبا تسلی کا سانس لیا اور پھر سے نئے آنے والوں کا جائزہ لینا شروع کردیا۔

سوال تو یہ ہے کہ ہم اتنی محنت لوگوں کی برائیاں ڈھونڈنے میں صرف کرتے ہیں اگر اس سے نصف وقت بھی اپنی برائیاں ڈھونڈنے اور ان کو ٹھیک کرنے میں لگا دیں تو شاید ہماری زندگی ہی بدل جائے۔ایک اور بہت ہی عام خصوصیت ان لوگوں کی کچھ ایسی ہے کہ یہ لوگ اپنا کام خود تو مکمل نہیں کرتے لیکن دوسروں کو بُرا بنانے کے بہت ہی ماہر ہیں۔ اس سے میرا کیا مطلب ہے آپ کو اس پہلے واقعہ سے واضحہو جائے گا۔

کچھ سال پہلے امریکہ میں ایک کانفرنس کے سلسلے میںگیا ہوا تھا۔ کانفرنس میں کئی ممالک سے کوئی 3000 سے زائد لوگ شریک تھے۔Pennsylvania اسٹیٹ کے شہر Philadelphiaکے ایک بڑے ہوٹل میں کانفرنس ہورہی تھی اور تمام لوگ بھی اُدھر ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔ہوٹل کے کوئی پچاس  سے زائد فلور تھے۔کانفرنس کے اختتام کے بعد اگلے دن صبح میں اپنے کمرے سے  Breakfast کرنے نیچے جانے کیلئے Elevator میں سوار ہوا۔میرا کمرہ تین سو  ویں فلور پر تھا۔ Elevator  لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہواتھا۔ ایک تو ناشتے کیلئے نیچے جانے والوں کارش اور کچھ ہوٹل  سے  Check out ہونے والوں کا رش جو کہ صبح کی فلائٹ سے واپس جا رہے تھے۔ Elevator میں ایک صاحب کافی اضطراب میں نظر آئے وہ بار بار گھڑی کو دیکھ رہے تھے اور جونہی Elevator اگلے فلور پر رُکتا انکی پریشانی اور اضطراب بڑھتا جاتا۔ غصّے کا یہ عالم تھا کہ ان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کریں۔ کبھی Elevator کو Slow  بولیں’ کبھی ہوٹل والوں کو بولیں کہ Elevators کم ہیں۔جب کہ ہوٹل میں سولہ Elevators تھے۔ کبھی لوگوں پر غصّہ کہ اس وقت ہر ایک نیچے ہی کیوں جانا چاہتا ہے۔پتہ چلا کہ صاحب کی ایک گھنٹہ میںفلائٹ ہے اور آخری ایئر پورٹShuttle کے جانے میں صرف پانچ  منٹ باقی ہیں اور ابھی انھوں نے Check out بھی کرنا ہے۔کبھی Airline پر غصّہ کا اظہار کریں کہ فلائٹس کیوں کم ہیں۔کبھی Shuttle Service کو بولیںکہ ہر آدھے گھنٹے کے بعد کیوں نہیں چلتی۔غرضیکہ انھوں نے گرائونڈ فلور تک پہنچنے کے تین  یا  زیادہ سے زیادہ چار منٹ میں کسی کو بھی نہیں بخشا۔جونہی وہ نیچے پہنچے انھوں نے لوگوں کو دھکے دے کر سب سے پہلے نکلنے کا راستہ بنایا اور پھر میں نے ان کو Check out  کائونٹر کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا۔اُدھر بھی  Check out ہونے والوں کا کافی رش تھا۔صاحب نے پھر اونچا اونچا بولنا شروع کر دیا ہوٹل انتظامیہ کو کہ مجھے دیر ہو رہی ہے اور میری فلائٹ کا ٹائم ہے Check out میں دیر کیوں لگ رہی ہے۔ان کا شور سن کر بیچارہ مینجر بھاگتا ہوا آیا اور ان کو Check out کرنے لگا۔ جب Payment کی باری آئی تو صاحب نے اپنی پتلون اور کوٹ میں ہاتھ مارا اور اونچی آواز میں گالی دے کر فرمایا ” او میرا پرس اور ٹکٹ تو میرے کمرے میں ہی رہ گیا۔”

اب آپ لوگ خود سوچیں کہ صبح جلدی اٹھنا’ ٹائم پر تیار ہونا’ اپنی چیزوں کو سنبھال کر رکھنا’ کمرے میں سے نکلنے سے پہلے Ensure کرنا کہ میری چیزیں تو میرے پاس ہیں۔ دس پندرہ منٹ پہلے نیچے آجانا وغیرہ وغیرہ سینکڑوں چیزیں ہیں جوکہ یہ صاحب کرسکتے تھے  یہ Ensure کرنے کیلئے کہ وہ صحیح وقت پرCheck out ہو کر Shuttle پکڑ سکیں اور ٹھیک وقت پر Airport پہنچ جائیں تاکہ اُن کی فلائٹ  Miss  نہ ہو۔انھوں نے اس میں سے کچھ بھی نہیں کیا۔

لیکن سب کو گالی گلوچ اور ہر دو سری چیز اور لوگوں میں برائیاں ضرور نکالیں۔ آپ کو ایسے لوگ بہت ہی زیادہ نظر آتے ہونگے۔آپ کے آگے پیچھے’ گھروں’ سکولوں اور دفتروں میں ایسے لوگ کثرت سے ملتے ہیں جو کہ اپنا کام صحیح وقت پر یا ٹھیک طرح سے نہیں کرتے اور پھر ہر جگہ Emergency کی Situation کو Create کر دیتے ہیں۔یہ ایک  typicalمنفی سوچ کی مثال ہے۔

اس کے علاوہ بھی اور کئی طرح کے سوالات ہیں جن کے جوابات سے یہ پتہ چل سکتا ہے کہ کون N.T. ہے اور کون P.T. جیسے

1۔      اگر آپ کا   Accident ہو جائے تو آپ پہلے ساٹھ سیکنڈ میں کیا کریں گے؟

2۔      اگر آپ کو اچانک نوکری سے نکال دیا جائے تو آپ پہلے دس منٹ میں کیا کریں گے؟

3۔      اگر آپ کو پتہ چلے کہ آپ کی  بیوی کا Accident ہو گیا ہے تو پہلا خیال آپ کے دل میں کیا آئے گا؟

اور سینکڑوں سوالات ایسے بنائے جا سکتے ہیں اور ان کے جوابات یعنی کہ Responseسے یہ پتہ چل سکتا ہے کہ کون N.T. ہے اور کونP.T. ۔ اب یہ دیکھئے کہ ہم اپنی N.Thinking   کی کیا قیمت چکا رہے ہیں۔

ریسرچ بتاتی ہے کہ خوف’ ڈر’ دل کی بیماریاں’ موٹاپا’ زیادہ کھانا’ برا ہاضمہ’ کمر اور سر کی درد’ہائر کولیسٹرول’ Urinary tract کی انفیکشنز’ڈپریشن’غصّہ حتیٰ کہ قتل اور خودکشی ان تمام کی وجہ نمبر ایک منفی سوچ ہے۔ اس کے علاوہ منفی سوچنے والے خواتین و حضرات کے تعلقات بھی خراب ہیں اور انکی زندگی میں سکون نہیں۔

ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ نویفیصد لوگ جو دل کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اُس کی بھی بڑی وجہ  N.Thinking   ہے۔اس کے علاوہ ٨٠ فیصد سے زائد لوگ جن کو Cancer تھا اس کی وجہ بھی انکا غصّہ ‘پریشانی’خوف اور ان تمام کی وجہ ان کی منفی سوچ ہی پتہ چلی۔ایک ریسرچ سے تو یہ پتہ چلا کہ ٨٠ فیصد سے زائد لوگ جن کو کینسر ہوا اور وہ یہ کہتے رہے کہ ہم اس سے مر جائیں گے وہ کینسر کے پہلے چھ مہینوں میں ہی ختم ہو گئے۔اس کے علاوہ منفی سوچ رکھنے والوں کے اپنے Fields میں ترقی کے Chances بھی بہت کم ہیں اور وہ اکثر اوقات مواقع کو بھی ضائع کر دیتے ہیں اپنی اسی منفی سوچ کی وجہ سے۔

اسی منفی سوچ کی وجہ سے نویفیصد سے زائد لوگ اپنی شادیوں سے مطمئن نہیں ہیں ۔یہی منفی سوچ امتحان میں ناکامیوں کا باعث بھی بنتی ہے۔سترفیصد سے زائد بچے اسی وجہ سے اپنے examsمیں فیل ہو جاتے ہیں۔ایک ریسرچ سے تو یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ منفی سوچ والے خواتین و حضرات کی اوسط عمر تیرہ  سال کم ہے مثبت سوچ رکھنے والوں کی نسبت۔منفی سوچ والے خواتین و حضرات کو ہر طرح کے وبائی امراض لگنے کے Chances بھی مثبت سوچ والوں کی نسبت بیس  گناہ زیادہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منفی سوچ ہمارے   Immune System یعنی کہ قوتِ مدافعت کو متاثر کرتی ہے۔یہی قوتِ مدافعت تو ہے جو کہ باہر کی  بیماریوں کے خلاف لڑتی ہے اور ہمیں ان سے بچائے رکھتی ہے۔اگر یہی کم ہو گئی تو صاف ظاہر ہے کہ ہر وبائی مرض چاہے پیٹ کا ہو یا گلے کا یا آنکھوں کا سب سے پہلے ہمیں ہی لگے گا۔ یہ تو طے ہوا کہمنفی سوچ سے ہمیں کیا ہوتا ہے۔لوگ اکثر اوقات پوچھتے رہتے ہیں کہ کیا یہ منفی سوچ پیدائشی  یا خاندانی ہوتی ہے۔اس کا جواب کچھ یوں ہے کہ ہر بچہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے P.T.  ہی پیدا ہوتا ہے۔اب اس کے آگے پیچھے کے لوگ یا ماحول ا س کو negative thinker  بنا  دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم اس بارے میں کچھ کر نہیں سکتے۔ریسرچ  بتاتی ہے کہ نوسال کی عمر تک اسی سے پچاسی فیصد بچے اپنی Self Esteem کھو دیتے ہیں اور Self Doubt’  Develop کر لیتے ہیں۔

اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے تک ہم نے “No” کا لفظ یعنی کہ نہیں کا 250,000 سے زائد مرتبہ سنا ہے اور جبکہ “yes” صرف چار ہزار مرتبہ سناہے اور اس کی وجہ سے ہمارے دماغ میںمنفی سوچ Develop  ہو چکی ہے۔ ایک مثال سے آپ کو یہ بات اور واضح ہو جائے گی۔ذرا سوچیں آپ اپنے Living Room میں بیٹھے پچھلیساٹھ منٹ سے کوئی کام کر رہے ہیں  یا TV پر اپنی پسند کا کوئی پروگرام دیکھ رہے ہیں۔آپ کا چھوٹا بچہ اسی کمرے میں بیٹھا اپنے کھلونوں سے کھیل رہا ہے اور خود ہی خود Enjoy کر رہا ہے۔آپ اپنے کام میں مگن ہیں۔پندرہ منٹ کے بعد اچانک اس کی آواز آتی ہے تو آپ اسے جواب دیتے ہیں”ش۔۔۔چپ” شور نہیں کرنا۔وہ بیچارہ چپ ہو جاتا ہے۔دس پندرہ منٹ پھر کھیلنے کے بعد پھر شاید وہ آپ سے دودھ یا پانی مانگتا ہے تو اس کو ایسا ہی جواب پھر ملتا ہے صرف10 منٹ پروگرام ختم ہونے دوپھر میں تمہیں دودھ دے دوں گا۔ وہ بیچارہ شاید پھر چپ ہو جائے۔تھوڑی دیر کے بعد اس کا صبر ختم ہو جائے گا اور آپ کو ایک چیز کے ٹوٹنے کی آواز آتی ہے۔آپ فوراً اٹھتے ہیں اور بچے کی طرف بھاگتے ہیں اس کو کوستے ہوئے او یہ کیا کیا تم نے۔اوئے ہوئے او میری شادی کا کتنا ہی خوبصورت Crystal اومیرے خدایا یہ تم نے توڑ دیا اور شاید ایک دو تھپڑ ہی مار دیں اور اگر نہیں تو  atleast  ملامت تو ضرور کریں گے۔

اب آپ یہ سوچئے کہ بچے نے آپ کی توجہ لینے کیلئے کتنی کوشش کی۔ اس وقت میں اس نے کئی منٹ خاموش بھی گزارے ہونگے کئی اچھی باتیں بھی کی ہونگیں۔ لیکن آپ نے اس کو appreciate نہیں کیا۔لیکن جونہی اس نے آپ کے خلافِ مزاج کوئی بات کی آپ نے اس کوShut-up Call   دی یا کوسا ضرور۔یعنی کہ بچے نے مثبت بات نہیں سنی لیکن منفی باتیں اس نے ضرور سنیں۔یہ نہ کرنا۔ نہ نہ۔ایسا مت کرو’ ابھی انتظار کرو۔ٹی وی دیکھنے دو۔ اومیرے خدایا۔چپ کرو۔خبردار۔ہرگزنہیں۔یہ باتیں سنتے سنتے جب وہ بچہ بڑا ہوتا ہے تو وہ negative thinker  ہی بنے گا۔ اس کو یہی پتہ چلتا ہے کہ اچھے کام کا تو کوئی Credit  نہیں لیکن برے کام پر پکڑ ضرور ہوتی ہے اور وہ بڑا ہو کر ایسا ہی بنے گا۔

یہ تو ہیں وہ وجوہات جس کی وجہ سے ہم negative thinkers  بن جاتے ہیں۔لیکن خوبصورتی تو یہ ہے کہ کیونکہ ہم اپنی منفی سوچ زمانے  یا  لوگوں سے سیکھتے ہیں اسی لئے ہر سیکھنے والی چیز کی طرح ہم اس کو بھلا بھی سکتے ہیں یا اور اچھی باتیں یا مثبت سوچ سیکھ بھی سکتے ہیں۔لیکن یہ کیسے کیا جا سکتاہے۔ اس سے پہلے کچھدماغ کے قوانین یعنی کہMind Laws پر بات ہو جائے۔

سائنسدان اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں۔ایک Right اور ایکLeft Brain ۔ان دونوں حصوں  کو خدا نے مختلف قسم کے کام سونپے ہوئے ہیں۔جیسے کہ Left Brain یعنی کہ بایاں دماغ ذمہ دار ہے’Evaluation’ Judgements’Critical Analysis اور Problems Identification کا جب کہ Right Brain یعنی کہ دایاں دماغ کے ذمہ Creativity’ Innovation ‘ خواب دیکھنا’ Problem Solving جیسے کام ہیں۔جن لوگوں کو کاغذ پر نقطہ نظر آتا ہے یا جو لوگ پہلے برائی یا ہر کام کا منفی پہلو پہلے دیکھتے ہیں ان کو Left Brain Thinkers  کہا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو آدھا خالی گلاس نظر آتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو کہ آپ کو ہزاروں برائیاں اور خامیاں تو بتا سکتے ہیں لوگوں اور سسٹم میں لیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ اس کا علاج کیا ہے تو اُوں آں سے زیادہ ان کے پاس جواب نہیں ہوگا۔یہ بہت ہی اچھے Critical Writers تو بن سکتے ہیں۔چیزوں اور لوگوں کو Evaluate  اور Judge کرنے ہیں بھی بہت ہی اچھے ہیں۔یہ لوگRisk کوAvoid  کرتے ہیں اور نئی چیزوں اور innovations  سے دور بھاگتے ہیں۔ہر چیز یا ہر کام کے بارے میں پہلے یہی کہتے ہیں کہ یہ نہیں ہوسکتا وغیرہ وغیرہ۔

جن لوگوںکو سفید کاغذنظر آتا ہے یا جو لوگ گلاس آدھا بھرا ہوا دیکھتے ہیں۔جن کے پاس ہر چیز کے سینکڑوں Creative اور Innovative حل موجود ہیں۔جو لوگوں اور کام میں سے مثبت پہلو پہلے دیکھتے ہیں اور بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں۔جن کو مستقبل تاریک نہیں بلکہ  Bright  نظر آتا ہے۔جو کسی مسئلے پر Criticize کرنے میں تاکہ یہ دوبارہ نہ ہو میں زیادہ Interested  ہیںاور اپنی غلطیوں پر apologize  کرنا اور لوگوں کو معاف کرنے پر زیادہیقین رکھتے ہیں اور لوگوں کی غلطیوں کو بھول جاتے ہیں۔چاہے لوگ انھیں دھوکہ دیں یا دل توڑدیں پھر بھی اس میں سے کوئی نہ کوئی مثبت پہلو نکال لیتے ہیں یہ لوگ Right Brain Thinkers  کہلاتے ہیں۔دونوں میں ایک بنیادی فرق Criticize کرنے اور Problem Solving کا ہے۔ایک سچے واقعہ سے یہ بنیادی فرق واضح ہو جائے گا۔

پچھلے سال میرے پاس ایک Couple آیا جو کہ ایک دوسرے سے اتنے تنگ ہو چکے تھے کہ بس بات طلاق تک پہنچ گئی۔ان کی شادی کو پچیس سال ہو چکے تھے۔اب تو ان کے بچے بھی جوان تھے۔جب میں نے ان سے کچھ بات چیت کی تو پتہ چلا کہ دونوں سمجھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کیلئےCompatible  نہیں اتنے سال تو بس مجبوریوں یا بچوں کی تربیت کی وجہ سے چپ رہے لیکن اب ان میں برداشت ختم ہو چکی تھی۔جب بات کی وجہ پوچھی تو بس یہ پتہ چلا کہ روز روز کی لڑائیاں اور طعن و ملامت سے دونوں کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔جب بھی ایک دوسرے سے کوئی بات کرتا ہے تو دوسرا بس ا س کو اپنے اوپر attack سمجھ کر attack backکرنا شروع کر دیتا ہے۔ہر لڑائی میں ایک دوسرے کے ماں باپ’ بہن بھائی اور رشتے داروں کے پرانے قصے کہانیاں شروع ہو جاتی ہیں۔پندرہ بیس سال پرانی باتیں یاد کروا کروا کر ایک دوسرے کو یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ دوسرا برا ہے اور بس اس مقابلے بازی میں بات کہیں کی کہیں نکل جاتی ہے۔پتہ یہ چلا کہ کوئی ایسا ہفتہ نہیں گزرتا جس میں دو   بڑی لڑائیاں یا تین چار چھوٹے چھوٹے جھگڑے نہ ہوتے ہوں۔جس میں ایک دوسرے کی دل کھول کر بے عزتی کی جاتی ہے۔صاف ظاہر ہے ایسے یہ رشتہ برقرار کیسے رہ سکتا ہے۔اب آپ ذرا سوچئے کہ پچیس سال ہر سال میں باون ہفتے اور ہر ہفتے میںدو بڑی لڑائیاں اس کا مطلب یہ ہوا کہ چھبیس سو مرتبہ وہ ایک دوسرے سے لڑ چکے ہیں اور ہر لڑائی میں گھنٹوں لعن و ملامت کی جاتی ہے اگر اس کو بھی شامل کر لیا جائے تو سات ہزار یا آٹھ ہزار  گھنٹے ان کی لڑائیوں میں ضائع ہو چکے ہیں۔جتنا وقت اُنہوں نے لڑنے میں اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے اور پرانی باتوں کو یاد کر کے بے عزتی کرنے میں لگایا ہے اگر اس کا  صرف پانچ  فیصد یا اس سے بھی کم وقت اگر اس لڑائی کی وجہ جاننے اور اس کا حل ڈھونڈنے میں خرچ کیا ہوتا تو ان کی زندگی بدل چکی ہوتی۔ لیکن یاد رکھیئے کہ حل ڈھونڈنا تو دائیں دماغ کا کام ہے جوکہ ہم استعمال کرتے ہی نہیں یاشاید بھول ہی چکے ہیںکہ وہ بھی ہے اور اس کا بھی کوئی کام ہے۔ ایک اور سچا واقعہ سنیئے۔

کینیڈاکے ایک شہر میں کچھ سال پہلے ایک طوفان آیا اور ہزاروں لوگوں کو بے گھر کر گیا۔اُسی شام ایک شخص دفتر سے واپسی پر ان اجڑے ہوئے بھوکے لوگوں کو دیکھ کر رُک گیا۔اس کا دل اس بات پر بہت ہی غمگین ہوا۔اگلے ہی لمحے اُس نے سوچا کہ اس کو ان مشکل ذدہ لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔لیکن ساتھ ہی اس کے دماغ سے جواب ملا میں اکیلا  بیچارہ بھلا کیا کر سکتا ہو اتنے زیادہ لوگوں کیلئے’ یہ تو گورنمنٹ کا کام ہے کہ ان کیلئے رہنے اور کھانے پینے کا انتظام کرے۔یہ سوچ کر وہ  بیچارہ بوجھل دل لئے وہاں سے چلا گیا۔کچھ ہی وقت کے بعد وہاں سے ایک اور شخص کا گزر ہوا جو اکہ ایک ریڈیو اسٹیشن میں کام کرتا تھا۔ وہ بھی ان لوگوں کی حالت دیکھ کر رُکے بغیر نہ رہ سکا اور اس نے سوچا کہ مجھے ان لوگوں کیلئے کچھ نہ کچھ تو کرنا چاہیے۔اس کے دماغ نے بھی ایک لمحے کیلئے اس کو یہی کہا کہ تم بھلا اتنے زیادہ لوگوں کیلئے اپنے محدود وسائل سے کر بھی کیا سکتے ہو لیکن اُس نے ہار نہ مانی۔یہ جواب اس کے(Left Brain) نے اس کو دیا تھا لیکن اس نے اپنے آپ سے کہا نہیں ایسا کچھ تو ہو گا جو میں ان لوگوں کیلئے کر سکتا ہوں۔بار بار سوچنے سے بھی اس کو سمجھ نہ آئے کہ وہ کیا کرے لیکن ہر بار وہ ہار ماننے کیلئے تیار نہ ہوا۔سارے راستے وہ یہی سوچتا گیا۔رات کو بھی وہ سو نہ سکا یہی سوچتا رہا کہ وہ کیا کرے۔ اسی شش و پنج میں وہ دفتر پہنچا اور اپنی کہانی لوگوں کو سنائی۔اچانک تین بجے کے قریب اس کو ایک خیال آیا کہ میں اپنے آفس کے باقی لوگوں سے بھی پوچھتا ہوں کہ اس مشکل حالت میں کیا کیا جائے۔اس نے سوچا کچھ نہ کچھ تو ایسا ہوگا جو ہم اُن لوگوں کیلئے کر سکتے ہیں۔ یعنی کہ بار بار وہ اپنے (Right Brain)  پر دبائو ڈال رہا تھا کہ اس کو Solution مل جائے۔اس نے اپنے تمام لوگوں کو ایک کمرے میں جمع کر لیا اور کہا کہ ہم اس کمرے میں ایک خاص مقصد کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں اور ساری داستان ان کو سنا دی۔ اُس کے بعد یہ کہا کہ ہمیں کچھ تو کرنا چاہیے۔یہ سن کر کئی لوگوں نے کہا کہ ہم کر ہی کیا سکتے ہیں یہ تو گورنمنٹ کا کام ہے اُس نے جواب دیا ہم کچھ تو ضرور کر سکتے ہونگے تولوگوں نے پوچھا مثلاً تو اُس نے جواب دیا یہی جاننے کیلئے تو ہم اس کمرے میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ ہم اس کمرے سے اس وقت تک نہیں نکلیں گے جب تک ہم اس مسئلے کا حل تلاش نہ کر لیں اور مسئلہ اُس نے کچھ ایسے دیا کہ ہمیں ”تین  ملین ڈالر تین گھنٹے کے اندر اندر اب سے تین روز کے اندر جمع کر کے ان لوگوں تک پہنچانے ہیں۔”یہ سن کر لوگوں نے پھر سے ‘ آئیں بائیں شائیں’ کرنا شروع کر دی۔تو اس نے کہا کہ ہم یہاں اس لئے اکٹھے نہیں ہوئے کہ ہم سوچیں کہ ہم یہکیوں نہیں کر سکتے بلکہ ہم اس لئے اکٹھے ہوئے ہیں کہ ہم نے اگر یہ کام کرنا ہے تو ہمیں یہ کیسے کرنا ہوگااوریہ کیسے ہو سکتا ہے اور اس کو کیسے سرانجام دیا جائے اور یہ جاننا ہم لوگوں کیلئے بہت ہی ضروری ہے کہ اس کا کیا حل ہے۔

آخر ایک گھنٹے سے بھی زیادہ  Negative Thinking  اور Left Brain کو استعمال کرتے کرتے جب یہ لوگ تھک گئے تو اس نے اُن کو Right Brain کو استعمال کرنے کیلئے مجبورکر دیا تو ایک شخص کے منہ سے پہلا مثبت ”Idea” آیا اُس نے کہا کہ اگر ہم ایک Radio Show کر کے Charity اکٹھی کریں۔تو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ساتھ ہی اس نے یہ White Board پر لکھ لیا۔ساتھ ہی دوسرے شخص نے نوالہ دیا کہ ہاں اگر National Show ہو جائے یعنی کہ پورے ملک میں یہ Show براڈ کاسٹ ہو جائے تو پھر تو ہم Charity اکٹھی کر سکتے ہیں۔یہ بات سنتے ہی تیسرے نے کہا لیکن ہم لوگ یہ  National Show کر نہیں سکتے کیونکہ ہمارے  Radio Station  تو صرف تین شہروں تک ہی محدود ہیں۔یہ بات سن کے چوتھا چپ نہ رہ سکا اور بولا باقی ریڈیو Stations والے ہمارے Competitors ہیں وہ ہمیںHelp  تو کرینگے نہیںساتھ ہی اس نے اُن کو پھر یاد دلایا کہ ہم یہاں پر Negative سوچنے کیلئے نہیں ہیں۔یہ بات سن کے اُنہی میں سے ایک نے کہا کہ ہاں ہیں تو وہ ہمارے Competitors لیکن کیونکہ یہ شاید قومی مسئلہ ہے وہ ہماری Help ہی کر دیں’ Try کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ساتھ ہی پہلے نے زور سے کہا اگر یہ ہو جائے تو ہم قومی سطح پرتیس منٹ کا Show کر سکتے ہیں۔اور اسی Showکے ذریعے ہم پیسے بھی لوگوں سے اکٹھے کر سکتے ہیں۔ ایک اور شخص بولا کہ ہاں ایسا ہو تو سکتا ہے لیکن اگر Show ہم نے خود کیا تو شاید لوگ ہمیں donations نہ دیں یہ صرف  اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی بڑی شخصیت اس Show میں آکر Charity کیلئے ہمارے ساتھAppeal کرے۔ساتھ ہی کسی نے کہا کہ ہاں اگر ہم Showbiz کے کسی مشہور اداکار اور اداکارہ کو بلا لیں اور اگر وہ اپیل کردیں ہمارے Behalf پہ تو Charity ضرور اکٹھی ہو جائیگی۔اور اسی طریقے سے Ideasآنا شروع ہو گئے۔پھر کسی نے کہا جو ایکٹر اور ایکٹرسز آئیں گے Showکرنے کیلئے وہ تو بہت ہی پیسے مانگیں گے لیکن ساتھ ہی دوسرے نے کہا کہ ہم اُنہیں convince  کر سکتے ہیں کہ اُن کی طرف سے Donation اُن کا وقت ہی ہو گی۔خیر ایسے ہی کرتے کرتیتین گھنٹے کے اندر اُن کا  Plan  بن گیا۔

اگلے دن صبح ہوتے ہی انھوں نے پہلے تو باقی Radio Stations  کو فون گھمانے شروع کر دیئے اورساتھ ہی ساتھ اس اداکار اور اداکارہ کو بھی منانے کیلئے فون گھمانے شروع کر دیئے۔ شام سے پہلے پہلے تمام Radio Stations   اس پروگرام کو تیس  منٹ کیلئے ایک ساتھ پورے ملک میں مفت نشر کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔اس سے اُن کا حوصلہ بہت ہی بڑھ گیا۔ساتھ ہی ساتھ اُن کی کوشش جاری رہی اس اداکار اور اداکارہ کو منانے کی۔خیر رات ہونے سے پہلے پہلے وہ یہ کام بھی کر چکے تھے’نتیجہ یہ نکلا کہ اُنہوں نے تیس منٹ کا شو تین دن کے اندر اندر کیا اور تین ملین کی بجائے پانچ ملین ڈالر اکٹھے کر لئے۔تو یہ ہے فرق Left Brain اور Right Brain Thinking  کا۔

پہلے اور دوسرے شخص میں یہی فرق تھا۔دوسرے کو بھی پہلے جواب پہلے جیسا ہی ملا تھا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا لیکن اس نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا اور اپنے Right Brainجہاں پر ساری Creativity اور Problem Solving ہے اس کو مجبورکر دیا کہ وہ اس کا حل بھی ڈھونڈ کر لائے۔یاد رکھیئے کہ یہ کام خدا کی طرف سے Right Brain کے پاس ہے اور وہ اپنا کام کرنے سے انکار کر ہی نہیں سکتا اگر کام لینے والے کی اپنی سوچ خود ٹھیک ہو۔یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ دماغ جسم کو کنٹرول کرتا ہے۔یہ بات بھی Universal Truth ہے کہ دایاں دماغ ہمارے جسم کے بائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے اور بایاں دماغ ہمارے جسم کے دائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے۔جس کی سب سے بڑی شہادت تو یہ ہے کہ اگر ہمیں دماغ کے دائیں حصے پر چوٹ لگے تو ہمارے جسم کا بایاں حصہ مفلوج ہو جاتا ہے اور اگر خدا نخواستہ چوٹ سر کے بائیں طرف لگے تو جسم کا دایاں حصہ مفلوج ہو جائے گا۔

اب ذرا یہ سوچئے کہ دماغ ایک مسل (Muscle)ہے۔جسم کے کسی بھی مسل کی طرح جیسے کہ آپ کے ہاتھوں اور ٹانگوں کے مسل ہیں یا پیٹ کے muscleہیں۔اگر آپ کو ایک بستر پرایک ماہ کیلئے باندھ دیا جائے تو جب ایک ماہ کے بعد آپ کو چلنے کیلئے کہا جائے تو آپ کی ٹانگیںآپ کا وزن اٹھا ہی نہیں سکیں گی کیونکہ ٹانگوں کے مسل نہ استعمال ہونے کی وجہ سے سو گئے ہیں اور اب ان کو دوبارہ قابلِ استعمال کرنے کیلئے مسلسل Exercise  کرنی پڑے گی ۔اسی طرح استعمال نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا دایاں دماغ بھی جو کہ مثبت سوچیں پیدا کرتا ہے شاید سو چکا ہے ۔یعنی کہ Dead ہو گیا ہے یا شایدSlow ہی ہو گیا ہو۔یاد رکھیئے کہ یہی دماغ جسم کے بائیں حصے کو چلا رہاہے اور بائیں طرف ہی ہمارا دل ہے اور اگر یہ دماغ سو گیا تو ہمیں دل کی بیماریاں تو ہونگی ہی۔اس کو استعمال میں لانے کیلئے ہمیں مثبت طور پر سوچنے کی مسلسل کوشش اور مشق کرنی پڑے گی تاکہ یہ دوبارہ active ہو سکے۔

میرا خیال ہے کہ یہ بات آپ کی اس پریشانی کا جواب دے دیتی ہے کہ ہمارے ملک میں اتنے زیادہ لوگ اب دل کی بیماریوں میں کیوں مبتلا ہیں اس لئے کہ ان میں زیادہ تر لوگ تو negative thinkers ہیں اور جب وہ اپنے Right Brainکو استعمال ہی نہیں کر رہے جو کہ ہمارے جسم کے بائیں حصے کو چلا رہا ہے تو دل کی بیماری تو ہوگی ہی۔ اسی لئے تو شاید ہمارے نبی پاکۖ نے فرمایا ہے کہ:

” منفی سوچ سے دور رہو کیونکہ منفی سوچ سب سے بڑی بیماری ہے”۔

اب یہ دیکھئے کہ Brain ایک Hardware ہے دنیا کے تمام انسانوں کے Brain کا سائز تقریباً ایک ہی جیسا ہے۔پھر بھی اس کے باوجودکچھ لوگ اپنی زندگی میں بہت کچھ کر گزرتے ہیں اور کچھ زندگی میں بالکل ہی ناکام رہتے ہیں۔ اسی طرح کئی جانوروں کے دماغ کا سائز انسانوں کے دماغ کے سائز سے کئی گنا بڑا ہے۔اگر دماغ کے ساتھ سے ہی لوگ عقلمند ہو جاتے تو وہ جانور جن کے دماغ کا سائز بڑا ہے وہ انسان سے کہیں زیادہ عقلمند ہوتے۔لیکن ایسا تو نہیں ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ صرف brain سے کچھ نہیں ہوتا۔دماغ تو ہمارا ملازم ہے ہم اس کو جو کہیں گے یہ وہ ہی کرے گا۔مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم اس سے کیا کام لینا چاہتے ہیں اور اس کو کس چیز کی  command  دیتے ہیں۔

بالکل ایسے ہی جیسے کہ کیسٹ پلیئر میں اگر کیسٹ موجود بھی ہو تو وہ چلے گی نہیں جب تک آپ اس کو Command نہ دیں یعنی کہ بٹن نہ دبائیں اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپPlayکا بٹن دباتے ہیں’ Record کا یا Forward کا یا پھر Rewind کا۔اسی طرح اگر آپ کے پاس اچھے سے اچھا Computer موجود ہو لیکن آپ کو چلانا ہی نہ آئے یا آپ کمپیوٹر کی زبان ہی سمجھتے نہ ہوں تو وہ Computer آپ کیلئے بالکل بے کار ہے۔ یاد رکھیئے کہ Computer بنانے والا انسان ہی ہے اور اس کو بنانے کے اور اس کو چلانے کے Principles انسان سے ہی لئے گئے ہیں۔اسی طرح اگر آپ اپنے دماغ کو Command ہی منفی دینگے۔ یعنی لوگوں میں خوبیاں نہ ڈھونڈنے کی بجائے لوگوں میں برائیاں ڈھونڈنے کا کام اپنے دماغ کو سونپیں گے یا پھر مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی بجائے صرف پرانی منفی باتوں کو سوچ کر دوسروں کو شرمندہ ہی کرنا چاہیں گے تو دماغ تو آپ کا ملازم ہے وہ تو وہی کرے گا جس کا آپ نے اس کو حکم دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو سوچنے سمجھنے اور سیکھنے اور اپنے آپ کو کنٹرول کرنے کی ایسی صلاحیت دی ہے جو کہ دنیا کی اور کسی مخلوق کو دی ہی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو انسان کے آگے  سجدہ کرنے کیلئے کہا تھا۔یہ انسان ہی ہے جو برائی اور اچھائی میں تمیز کر سکتا ہے۔جوکہ اچھائی یا   برائی کو چن سکتا ہے۔جو کہ اپنے آپ سے جو چاہے کروا سکتا ہے۔جیسا کہ نبی پاکۖنے فرمایا کہ ”انسان جو چاہے کر سکتا ہے”۔

ناصرف یہ بلکہ ہم اپنے ساتھ پیش آئے ہوئے  تمام واقعات اور حادثات کا Response چننے کے بھی اہل ہیںبلکہ ہمیںاپنے جذبات پر بھی کنٹرول ہے وہ علیحدہ بات ہے کہ ہم ان صلاحیتوں سے واقف ہیں یا نہیں یا پھر اگر واقف ہیں تو ان کو استعمال کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔لیکن ہم سب کے پاس یہ صلاحیت موجود ضرور ہے اور یہی صلاحیت ہمیں جانوروں سے برتر کرتی ہے اور جانوروں اور دوسری مخلوق کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی دیتی ہے۔اب یہ سنیئے کہ دماغ کی زبان کیا ہے اور اس سے بول چال کیسے کی جاتی ہے اور یہ کیسے سگنل سمجھتا ہے اور یہ ساری انفارمیشن کہاں اور کیسے store ہوتی ہے۔

ہمارے دماغ میں Storage کیلئے دوخانے موجود ہیں۔ایک حصے کو ہم Conscious Mind یعنی کہ شعور اور دوسرے کو Unconscious Mind یعنی کہ لاشعور کہتے ہیں۔بالکل اسی طرح جس طرح Computer میں ایک Hard Disk ہوتی ہے جس میں آپ جو چاہیں Store کر سکتے ہیں اور ایک RAM یعنی کہ (Ramdom Access Memory) ہوتی ہے۔جس میں آپ جو Computer  کو Command دیتے ہیں وہ Store ہو جاتی ہیں۔اسی  طرح  ہمارا  Conscious Mind یعنی کہ شعور Hard Disk کی طرح ہے اور لاشعور یعنی کہ Unconscious Mind کمپیوٹر کی RAM کی طرح ہے۔ہم سارے دن میں جو کچھ کہتے ہیں’ دیکھتے ہیں’ سوچتے ہیں’ سنتے ہیں’ شعوری یا لاشعوری طور پر وہ ہمارے دماغ میں Store  ہو جاتا ہے۔اب یہ Store’Conscious Mind  میں ہوتا ہے  یا Unconscious Mind میں اس کا تعین کچھ ایسے ہوتا ہے۔جو کچھ آپ سوچتے سمجھتے ہوئے کہتے ہیں’ کرتے ہیں’ مانتے ہیں’ دیکھتے ہیں’ Appreciate کرتے ہیں وہ آپ کے Consicous Mind میں چلا جاتا ہے۔اگرآپ یہ کہیں کہ میں ناکام ہوں’ یہ دنیا بہت ہی بری ہے’  ہر شخص دھوکے باز ہے’ وہ چالاک ہے تو آپ کا دماغ آپ کے کہے ہوئے یہ الفاظ آپ کےConscious Mind میں Store کرلے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ سارا دن جو سوچتے ہیں  وہ آپ کے دماغ میں Store ہورہا ہے۔اب اس میں منفی باتیں ہیں یا مثبت باتیں جو کچھ بھی ہے اس پر کسی کو الزام دینے کی ضرورت تو ہے ہی نہیں کیونکہ یہ آپ نے خود ہی کی ہیں۔آپ کے پاس Choice ہے کہ آپ اپنے دماغ کی Hard Disk  کو اچھی اور مثبت سوچوں سے بھریں گے یا منفی سوچوں سے۔یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ ہمارا دماغ ہمارے جسم کوکنٹرول کرتا ہے لیکن یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اپنے دماغ کو ہم خود پروگرام کرتے ہیں۔ہم اپنے دماغ کے Programmer ہیں۔اب آپ اس کو کامیابیوں اور خوشیوں کیلئے پروگرام کرنا چاہتے ہیں یا ناکامیوں اور محرومیوں کیلئے’ یہ بھی آپ کے پاس Choiceہے اور یہ پروگرامنگ کرنے کا ایک طریقہ ہماری سوچ ہے  جو ہم سوچتے ہیں۔اچھا یا برا’ دماغ اس کو سگنل سمجھ کر ہمیں ویسا ہی کر دیتا ہے۔ہماری سوچیں یعنی کہ  Thinking  ہماری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے۔

آپ ابھی خوش ہونا چاہتے ہیں یا غمگین یہ 100فیصد آپ کے اختیار میں ہے اور اس کو کرنے کیلئے گھنٹے نہیں لگیں گے یہ صرف Seconds کی بات ہے۔اگر آپ اسی وقت خوش ہونا چاہتے ہیں تو آنکھیں بند کر لیجئے اور اپنے آپ کو  Relax کرلیں’ کندھوں کو نیچے لٹکا دیں’ سانس اندر اور باہر ہوتا ہوا Feel کریں۔اب آہستہ آہستہ اپنی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ سوچیں جب کہ آپ بہت خوش تھے اور سوچیں جب وہ واقعہ آپ کی آنکھوں کے سامنے آجائے تو اس کو Enjoy کیجئے۔اب دیکھئے کہ آپ کیاکررہے تھے’ آپ کے پاس کون سے لوگ ہیں’ آپ نے کپڑے کیسے پہن رکھے ہیں اور سوچئے اور گہرائی میں جائیے۔چھوٹی چھوٹی چیزوں کو نوٹ کیجئے آگے پیچھے ‘ دائیں اور بائیں کیا ہو رہا ہے سب پر غور کیجئے۔جوں جوں آپ اس واقعے کی تصویر کو TVکی تصویرکی طرح بہتر طریقے سے Tune کرتے جائیں گے توں توں آپ کی وہ خوشی اور وہ حالت جو اس واقعہ کے وقت تھی واپس آجائے گی۔

اب آہستہ آہستہ اپنے آپ کو حال میں واپس لے آئیے تو نوٹ کیجئے اپنے جسم پر’اپنے جسم کے اندر کی Feelings پر’ اپنی شکل پر اور اگر آپ نے یہ Exerciseنہایت توجہ سے اور احتیاط سے کی ہے تو آپ کی وہی خوشی اور وہی feelingsجو اس واقعے کے وقت تھیں آپ کے اندر اس وقت بھی موجود ہوگی۔اس طرح اگر آپ اس وقت غمگین اور افسردہ ہونا چاہتے ہوں تو کوئی افسردہ واقعہ سوچنا شروع کر دیجئے تو آپ افسردہ ہو جائیں گے۔یہ سب سوچ کا کمال ہے۔جو سوچیں گے ویسے ہی بن جائیں گے۔ہمارے ساتھ جو بھی ہوتا ہے اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک ہم اس کے بارے میں کچھ سوچیںنہ۔جب ہم اس کے بارے میں منفی یا مثبت سوچتے ہیں تب ہمیں اس سے فرق پڑتا ہے یا منفی یا مثبت۔اب آپ لوگوں کی اچھائیاں سوچنا چاہیں گے’  قدرت کی عنایتیں سوچنا چاہیں گے’  اپنی اچھائیاں یا خداکی آپ پر مہربانیوں کے بارے میں سوچیں گے یا پھر لوگوں کی برائیاں’ اپنے ساتھ ہوئی ذیادتیوں کے بارے میں سوچنا پسند کریں گے یہ آپ کی اپنی مرضی ہے۔اسی طرح آپ کو اپنے اردگرد مٹی’ کوڑا کباڑ’ رش’ گندگی نظر آتی ہے یا قدرت کی خوبصورتی’ چڑیوں کی آواز’صبح کی ٹھنڈی اور خالص ہوا’ یہ آپ کی اپنی  Choice ہے۔

دنیا میں کوئی شخص یا کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کی صرف اچھائیاں یا صرف برائیاں ہوں۔ہر چیز’ ہرشخص میں آپ کو ہر وقت کوئی نہ کوئی اچھائی یا بُرائی ملے گی۔اب یہ آپ کی اپنی مرضی ہے کہ آپ نے کیا دیکھنا ہے۔یاد رکھیئے کہ آپ کی سوچ آپ کے جسم’ آپ کی شکل’ آپ کے جذبات’ آپ کے کام’ آپ کے تعلقات’ آپ کی کارکردگی یعنی آپ کی زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

اگر آپ اپنی کسی کامیابی پرخوش ہیں تو آپ اُڑتے پھریں گے۔آپ کی چال تیز ہو جائے گی۔چہرے پر Smile ہوگی۔جسم کے اندر سنسنی سی ہوگی۔تمام دنیا آپ کو اپنی مٹھی میں نظر آئے گی۔آپ سیدھے اور اکڑ کر چلیں گے۔اور اسی طرح اگر آپ اپنے آپ کو ناکام سوچنا شروع کر دیں تو آپ کا اپنا جسم بوجھل ‘ کندھے جھک جائیں گے’چال آہستہ ہو جائے گی’چہرے پر مایوسی یا زمانے سے نفرت’ماتھے پر شکنیں’ناک پھولا ہوا’ آنکھیں آدھی کھلی آدھی بند ایسا ہی آپ کو نظر آئے گا۔

ہر کام پہلے سوچ سے شروع ہوتا ہے۔یاد رکھیئے ہماری سوچ ہی ہماری زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ہماری سوچ ہمارے Beliefs کو متاثر کرتی ہے۔Beliefs سے ہماری قدریں بدلتی ہیں۔قدروں سے ہمارے اصول اور اصولوں سے ہمارا کردار اور کردار سے ہماری کارکردگی اور کارکردگی سے ہماری زندگی  بدلتی ہے۔لیکن یہ سب کچھ شروع سوچ سے ہوتا ہے۔

میں کئی لوگوں سے ملتا ہوں جن کو کوئی نہ کوئی شخص ناپسند ہوتا ہے اور اگر انھیں کہا جائے تو وہ آگے سے ایسا جواب دیتے ہیں کہ بس میں کیا کروں میں جونہی وہ سامنے آتا ہے بس مجھے غصّہ آجاتا ہے۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ غصّہ تو اس لئے آتا ہے کہ آپ نے اس شخص کے بارے میں جو سوچ بنائی ہے وہ ہے ہی منفی پھر غصّہ تو آئے گا ہی۔دماغ خود تو لوگوں کو اچھا یا برا  بنانے کی صلاحیت نہیںرکھتا۔اگر ایسا ہوتا تو خوبصورتی کا اور اچھائی کا ایک ہی معیار ہوتاہر شخص کیلئے۔ لیکن یاد رکھیئے کہ ایسا ہے نہیں۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔آپ جو دیکھنا چاہتے ہیں آپ کو آپ کی آنکھیں وہی دکھاتی ہیںاورجو سننا چاہتے ہیں کان آپ کو وہی سنائیں گے۔

اس واقعے پر غور کیجئے تو بات شاید واضح ہو جائے گی جو شخص آپ کو ناپسند ہے جب وہ آپ کو پہلی بار ملا ہوگاتو شاید آپ کو برا نہ لگتا ہوگا۔پھر شاید اس نے کوئی ایسی بات کی یا کہی یا اس سے کوئی ایسی غلطی ہو گئی ہو جس کی وجہ سے آپ نے اس کے خلاف غلط سوچنا شروع کر دیا۔آپ نے شاید اس کے بارے میں کچھ غلط کہا ہو مثلاً یہ اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے’  یہ مجھے سخت ناپسند ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر شاید دوسری دفعہ جب اس شخص سے ملاقات ہوئی تو آپ نے اپنی بیوی یا خاوند سے کہا ہو کہ یہ شخص مجھے ذرا بھی پسند نہیں۔کچھ دنوں کے بعد شایدآپ نے اس کی فون کال پر اپنے بچے کو کہا ہو کہ کہہ دو کہ ابو گھر میں نہیں مجھے یہ شخص پسند نہیں اور جب بھی انکل کا بیٹا فون آیا کرے کہہ دیا کریں کہ میں گھر میں نہیںہوں۔یاد رکھیئے یہ ساری  information آپ کا دماغ Order سمجھ کر آپ کے Conscious Mind  میں Store کرتا رہا ہے اوراب آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔جو نہی اس شخص کا چہرہ سامنے آتا ہے  دماغ کمپیوٹر کی طرح اس شخص کے بارے میںStore کی ہوئی تمام information نکال کر آپ کے سامنے لے آتا ہے۔آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی اور آپ کو خود بخود ہی غصّہ آجاتا ہے۔ لیکن یہ سوچیں کہ یہ سب کچھ شروع ایک سوچ سے ہی ہوا۔اگر آپ اس شخص کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہیں تو آپ کو اس شخص کے بارے میں اپنی سوچ کو بدلنا پڑے گا نہیں تو کچھ بھی نہیں بدلے گا۔جب آپ کی سوچ بدل جائے گی تو اُس شخص کے بارے میں آپ کا کہنا بھی بدل جائے گا۔اسی بدلی ہوئی سوچ سے آپ کا دماغ مجبور ہو جائے گا اس شخص کے بارے میں different قسم کیpicture بنانے کیلئے اور جب اگلی بار وہ شخص آپ کے سامنے آئے گا تو وہ دماغ اس شخص کے بارے میں غلط انفارمیشن لانے کی بجائے وہ تمام مثبت انفارمیشن جو آپ نے store کی ہے وہ سامنے لے آئے گا اور آپ کو اُس شخص کے بارے میں غصّہ نہیں آئے گا۔ سائیکالوجی میں ایک Phenomenon ہے جس کا نامPygmalion Effect ہے’جو کہ اسی بات کی تائید کرتا ہے۔امریکہ میں تو ایک باقاعدہ انسٹیٹیوٹ ہے جو کہ صرف اسی  Pygmalion Effect  پر ہی سارا سال Research کرتا رہتا ہے۔ان کی ریسرچ کی ایک مثال آپ کے سامنے حاضر ہے۔

ریسرچ کرنے والوں نے آج سے کافی سال پہلے ایک کلاس سے بیس بہترین Students اٹھائے اور بیس نالائق ترینStudents کا Sample لیا۔بیس  بہترین Students کو ایک دوسری کلاس میں بھیج دیا گیا اور انکے اساتذہ کو یہ کہا گیا کہ یہ کلاس کے نکمّے ترین طالبعلمہیں۔اسی طرح جو کلاس کیبیس نالائق ترینطالبعلم تھے ان کو ایک اور کلاس میں بھیج دیا گیا اور انکے اساتذہ کو یہ کہا گیا کہ یہ کلاس کے بہترین طالبعلم ہیں ان کا دھیان رکھنا اور خاص توجہ دینا۔وقت گزرتا گیا پہلے گروپ کے اساتذہ نے ان لائقطالبعلموں کو نکّماسمجھ کر ان پر توجہ نہ دی اور انکے Grades  خراب ہونا شروع ہو گئے جب کہ دوسرے گروپ کے اساتذہ نے ان نکّمے طالبعلموں کو لائق سوچ کر ان پر بہت توجہ دی اور ان کو خصوصی اہمیت دینا شروع کر دیا جس سے ان کے Grades بہتر ہونے شروع ہو گئے اور آہستہ آہستہ ایسا ہوا کہ نکمے طالبعلم واقعی ہی بہترین طلباء بن گئے اور لائق طالبعلمکلاس کے نکمے ترین طلبائ بن گئے۔اب خود ہی دیکھئے کہ یہ کیسے ہوا صرف ایک سوچ کی وجہ سے۔ اس لئے تو قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ:

”  مومنوں صرف وہی باتیں کہو جوکہ بہترین ہوں۔  ”

 اور ہمارے نبی پاکۖنے فرمایا کہ :

”اچھی سوچ عبادت کا ایک حصہ ہے۔”

کیونکہ ساری برائی منفی سوچ سے ہی شروع ہوتی ہے۔

سوچ ہماری زندگی پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے اس کا اندازہ اس سچے واقعہ سے سن لیں جو کہ مجھے ایک شخص نے یہ کہہ کر سنایا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں بالکل ٹھیک ہے اور میری بربادی کی وجہ بھی یہی سوچ ہے۔واقعہ کچھ ایسے ہے پندرہ سال پہلے صاحب ایک بنک میں کام کرتے تھے اور اپنی نوکری سے بہت ہی خوش تھے۔زندگی اچھی گزر رہی تھی کہ اچانک ایک دن ایک دوست جو کہ دبئی سے آیا ہوا تھا اس سے ملاقات کے دوران اپنی چیزوں کی اتنی نمائش کی کہ بدقسمتی سے یہ شخص بہت ہی متاثر ہوئے۔اُسی رات اُس نے یہ سوچنا شروع کر دیا کہ میں بھی کیسے اتنے پیسے کیسے کما سکتا ہوں کہ یہ ساری آسائشیں مجھے بھی مل جائیں۔ اچانک Mr. Wrong یعنی کہ Negative Thinking نے کہا کہ تم تو بنک میں کام کرتے ہو اتنے پیسوں سے کھیلتے ہو تھوڑا بہت فراڈ کر لو۔ پہلے تو وہ ڈر گئے لیکن کچھ دیر کے بعد پھرخیال آیا اور سوچا کہ ہاں پیسہ توہونا چاہیے لیکن کوئی ایسا طریقہ مل جائے کہ میں پکڑا نہ جائوں ۔بس صاحب نے دن رات اس بات کو سوچنا شروع کر دیا اور کچھ ہی مہینوں میں پلان بنا لیا اور بنک سے بہت ہی صفائی سے پانچ لاکھ روپے اڑا لئے۔زندگی گزرتی گئی۔ان کی شرافت کی وجہ سے ان پر الزام نہ آیا اور الزام کسی اور پر لگ گیا لیکن کب تک۔ آخر پکڑے گئے اور ١٠سال کی قید ہو گئی۔جب باہر نکلے تو زندگی الٹ چکی تھی۔بچے بھی لٹیرے بن گئے تھے۔بیوی فاقوں کی وجہ سے مر چکی تھی۔ بیٹی غربت سے تنگ آکر کسی کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔صاحب نے کہا کہ یہ سب کچھ اس گندی سوچ کی وجہ سے ہوا میری پوری زندگی برباد ہو گئی۔مجھے یہ سوچنا ہی نہیں چاہیے تھا۔

یہ سوچ ہمارے Belief یعنی کہ یہ ہمارے اعتقاد کو کیسے بدلتی ہے۔ اس کو دیکھنے کیلئے آپ کو چڑیا گھر جانا پڑے گا۔چڑیا گھر میں بڑے سے ہاتھی کو دیکھے اور پھر اس کے پائوں کے گرد لپٹی زنجیر کو دیکھئے۔غور کرنے سے پتہ چلے گا کہ اتنا بڑا ہاتھی اتنی چھوتی سی زنجیر سے کیوں بندھا ہوا ہے اور بعض اوقات تو زنجیر کا دوسرا سرا کہیں بندھا بھی نہیں ہوتا اس کے باوجود ہاتھی ہلتا ہی نہیں۔

اس کا جواب کچھ ایسے ہے کہ آپ اگر مہاوت سے پوچھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ جب ہاتھی کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو کچھ ہی گھنٹے کے بعد اس کے پائوں میں زنجیر باندھ دی جاتی ہے اور دوسرا سرا ایک بہت ہی بڑے ستون سے باندھ دیا جاتا ہے۔ہاتھی کا بچہ زنجیر توڑ کر اپنی  ماں کے پاس جانے کیلئے بہت کوشش کرتا ہے لیکن اس وقت اس کے سائز اور طاقت کے مقابلے میں زنجیر بہت ہی مضبوط ہوتی ہے جس کی وجہ سے زنجیر ٹوٹ نہیں سکتی۔ وہ دن رات اس زنجیر کو توڑنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔تھک کر سانس لینے کے بعد جستجو پھر شروع ہو جاتی ہے۔ہرگزرنے والے دن کے ساتھ جستجو کم ہوتی جاتی ہے اور ہاتھی کے بچے کا یہ یقین پختہ ہونا شروع ہو جاتاہے کہ یہ بہت ہی مضبوط Chain ہے اور توڑی نہیں جا سکتی۔دن گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ یقین مضبوط ہوتا جاتا ہے اور توں توں اس کی کوشش میں کمی آتی جاتی ہے پہلے ہی مہینے میں اس کا یہ Belief کہ جب بھی Chain پائوں کے ساتھ بندھی ہو میں بھاگ نہیں سکتا اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے بعد کوشش کر نا ہی چھوڑ دیتا ہے اور تب سے اس نے کبھی کوشش ہی نہیں کی۔جب کہ اب اس میں اتنی طاقت ہے کہ اگر وہ ایک جھٹکا بھی لگائے تو یا تو زنجیر ٹوٹ جائے گی یا پھر ستون۔اکثر اوقات تو زنجیر دوسرے سرے سے بندھی ہی نہیں ہوتی اس کے  باوجود صرف یہ سوچ کر کہ زنجیر اس کے پائوں میں ہے وہ ہلتا ہی نہیں۔یہی سوچتا رہتا ہے کہ بھاگ تو سکتا نہیں پھر کوشش کرنے کی کیا ضرورت۔تو جناب ہم میں سے کافی لوگ اس ہاتھی کے بچے کی طرح ہیں۔ہم نے بھی زندگی میں کچھ نہ کچھ کوشش کی ہوگی اور اگر وہ کام نہ کر سکے تو ہم نے اپنے دل میں Negative Belief بنا لیا ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا اس لئے ہم Tryکرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

ہمارے دل میں ہزاروں Belief ایسے ہی Negative ہیں۔اس میں ہمارے اپنے Image کے بارے میں Belief ‘ شخصیت کے بارے میں Belief’  ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیانہیں کر سکتے ا س کے Belief’  کیا صحیح ہے کیا غلط ہے اس کا Belief ‘  لوگ کیسے ہیں’  زمانہ کیسا ہے اس کا  Belief’  اچھا کون ہے’  برا کون ہے اس کا  Belief ‘ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے اس کا Belief’  اور ہزاروں Believes ہیں جو کہ ہماری کارکردگی’ تعلقات اور زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اب آپ کے Belief اپنے بارے میں’ زمانے کے بارے میں’ اپنی صلاحیتوں کے بارے میں’ملک کے بارے میں’ لوگوں کے بارے میں’مثبت اور آپ کو Energy دینے والے ہیں یا منفی اور آپ کو Drainیعنی کے تھکا دینے والے ہیں۔یہ تو آپ کو معلوم ہی ہو گا لیکن یاد رکھیئے جب تک ہم نے اپنی سوچوں کے ساتھ Belief کو بھی نہ بدلا تو ہماری زندگی میں زیادہ تبدیلی آنہیں سکے گی۔

یہ دلوں کے Belief ہی تو ہیں جن کے بارے میں قرآن پاک میں ارشاد ہے ”ان کے دلوں میںدھبہ ہے جو یہ کرتے ہیں”۔اور نبی پاکۖنے فرمایا کہ

 ”جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب یہ ٹھیک تو سارا جسم ٹھیک ہے اور جب یہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے”۔

یعنی کہ اگر ہمارے Belief ہی خراب ہیں تو ہماری زندگی تو خراب ہوگی ہی ۔یہی قرآن پاک اورنبی پاکۖ کا وعدہ ہے۔

منفی سوچ اتنی worth نہیں کرتی جتنی کہ ہم اس کی قیمت چکارہے ہیں۔اگر مثبت سوچ سے آپ کی زندگی اس دنیا میں ہی جنت بن جائے گی تو کیا آپ کو اس کیلئے کوشش نہیں کرنی چاہیے۔اس سے ایک کہانی یاد آتی ہے جو کہ بہت پہلے کسی کتاب میں پڑھی تھی۔ایک آدمی روز نماز میں جنت میں جانے کیلئے دعا مانگتا۔آخر کارسال ہا سال کی محنت کے بعد ایک دن اس کو خواب میں ایک فرشتہ نظر آیا فرشتے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اگر تم جنت میں جانے کے خواہش مند ہو تو تمھیں میری بھی ایک بات ماننا پڑے گی۔صاحب نے کہا میں جنت میں جانے کیلئے سب کچھ کرنے کیلئے تیار ہوں۔فرشتے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ تم  یہ وعدہ کروکے آج کے بعد کبھی غلط بات نہیں سوچو گے اور جب سوچو گے نہیں تو کروگے بھی نہیں تو صاحب نے کہا کہ لو یہ بھی کوئی بڑی بات ہے آج سے میں نے وعدہ کیا لیکن تم اپنا بھی وعدہ یاد رکھنا۔زندگی گزرتی گئی اور صاحب نے وعدے کا پاس کرتے ہوئے غلط سوچنا چھوڑ ہی دیا۔ہر چیز’ ہر شخص اور ہر واقعہ چاہے وہ کتنا ہی بڑا اور بُرا ہو’ وہ ہر وقت اچھائی کا پہلو ڈھونڈتا اور ہر وقت اچھا ہی سوچتا رہتا۔اچانک دوسرے سال اُس کو وہ فرشتہ خواب میں پھر نظر آیا اور کہا ہاں میاں کیسی ہے زندگی تمہاری؟ میں نے کہا کہ تمھیں حوصلہ دے آئوں کہ تم نے اپنے وعدہ کا پاس کیا تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو نبھائے گا۔ تو ان صاحب نے فرمایا کہ نبھائے گا سے کیا مطلب ہے مجھے تو پہلے سے ہی جنت مل چکی ہے۔ یعنی کہ اس شخص کی دنیا ہی اس کی مثبت سوچ کی وجہ سے جنت بن چکی ہوئی تھی۔یہ کہانی یاد رکھیئے گا۔اسی طرح مثبت سوچ سے آپ کی زندگی بھی جنت بن سکتی ہے۔

ہم آپ کو اس نئی زندگی کے آغاز کے سفر میں خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ کیلئے اس نئی زندگی کے سفر میں دُعا گو رہیں گے اور آپکی کامیابی کی خبر سننے کیلئے شدت سے انتظار کریں گے اور اگر آپ کو اس آڈیوپروگرام سے کوئی فائدہ ہوا ہو تو ہمیں ضرور بتائیے گا۔