The Magic of Positive Living (مثبت طرزِ زندگی کا جادو)

Transcription of Faiez Seyal’s Urdu best-seller Audio Program “Magic of Positive Living” from 1995 

اِس سلسلے کے پہلے موضوعThe Magic of Positive Thinking  یعنی مثبت سوچ کا جادو میں ہم نے Left Brain-Right Brain اور ان کے کام Principles of Conscious Mind یعنی کہ Conscious Mind  میں وہ کیسے انفارمیشن سٹور کرتا ہے اور یہ انفارمیشن کیسے ہماری زندگی کے ہر حصے کو متاثر کرتی ہے’ پر بات کی تھی۔

اس آڈیوپروگرام میں ہم آپ کو Unconscious Mind یعنی کہ لاشعور اور اس کے قوانین بتانے کے ساتھ ساتھ آپ کو Positive Thinking کے استعمال سے زندگی کے کچھ مسائل کے کچھ حل بتائیں گے۔

میں اکثر اوقات یہ نوٹ کرتا رہتا ہو کہ لوگ ناسمجھی کی وجہ سے اپنے آپ کو لاشعوری طور پر ناکامی کیلئے Train کرتے رہتے ہیں۔جیسے کہ اکثر لوگ میرے پاس بیٹھ کر گھنٹوں اپنے آپ کو برا بھلا یا اپنی ناکامیوں کے قصے سناتے رہتے ہیں اور اگر انھیں یہ کہا جائے کہ نہیں نہیں آپ ایسا نہ کہیں آپ کو خدا نے اتنا کچھ دیا ہے آپ بھی کامیاب ہو سکتے ہیں تو آگے سے جواب ملتا ہے ”نہیں نہیں آپ کو نہیں پتہ کہ میں ایک ناکام آدمی ہوں اور کچھ بھی نہیں کر سکتا” اب آپ اس پہ ذرا غور کیجئے۔ان بیچاروں کو یہ نہیں پتہ کہ وہ لاشعوری طور پر بھی جو کچھ کہتے ہیں وہ انکے لاشعور میں سٹور ہو رہا ہے اور جب آپ شعوری طور پر کچھ کرنے لگتے ہیں تو یہ انفارمیشن جو کہ لاشعور میں ہے یعنی Unconscious Mind میں سٹور ہے آپ کو بتاتی ہے کہ نہیں تم  ناکام آدمی ہو اور تم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔یہی تو آپ نے سٹور کیا تھا۔ تو جو آپ نے سٹور کیا تھا وہی دماغ سے نکلے گا۔زندگی کا بنیادی اصول Garbage in and Garbage Out یادرکھیئے گا یعنی کہ اگر آپ کوڑا مشین میں ڈالیں گے تو پراڈکٹ بھی ویسی ہی بنے گی۔ اسی طرح سوچئے کہ جیسی سوچیں دماغ میں جائیں گی اسی طرح کا جواب دماغ سے نکلے گا  اور دیکھئے کہ اگر آپ یہ کہیںI am a failure’  I am no good’ I am tired’I am confused’ I am angry’ I am upset وغیرہ وغیرہ’ جونہی آپ کے منہ سے یہ الفاظ نکلیں گے آپ کا دماغ اس کو آپ کا حکم سمجھ کر آپ کو ویسا ہی بنا دے گا۔آپ یہ کہنے کے بعد ”I am tired” یا” I am sleepy” زیادہ تھک جائیں گے یا نیند آنا شروع ہو جائے گی کیونکہ آپ نے اپنے دماغ کو ابھی یہی تو کہا تھا۔ چاہے Consciously کہا ہو یا Unconsciously وہ ہو جائے گا۔لیکن اگر آپ تھکاوٹ محسوس کر رہے ہو اور یہ کہہ دیں کہ نہیں” I am not tired” یا” I am fully charged”یا ” نہیں میں نے یہ کام ختم کرنا ہے’میں سو نہیں سکتا”تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے دماغ کو Consciously حکم دے رہے ہیں کہ میں تھکا ہوا نہیں ہوں اور  fully charged ہوں اور میں نے یہ کام ختم کرنا ہے۔اس سے فوراً آپ کا دماغ آپ کا حکم بجا لاتے ہوئے آپ کو ٹھیک کر دے گا۔مجھے یہ بھی حیرانگی ہوتی ہے اگر آپ کسی سے یہ پوچھیں کہ کیا حال ہے تو بیچارے آگے سے جواب کچھ ایسا دیتے ہیں ”بس جی گزر رہی ہے” یارزندگی میں مزاہی نہیں رہا”وغیرہ وغیرہ۔

اب اس کی سائیکالوجی پر ذرا غور کیجئے۔جونہی آپ نے یہ کہا کہ بس جی زندگی گزر ہی ہے آپ کا دماغ یہ سٹور کر لیتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی بس گزر رہی ہے لیکن اس سے بہتر ہو سکتی تھی اور آپ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔پھر جب بھی آپ زندگی کواور دنیا کو دیکھیں گے دماغ آپ کو یہی بتائے گا کہ ”بس جی مزاہی نہیں ہے”۔اس میں آپ کا قصور تو نہیں آپ نے دماغ کو جو بتایا تھا وہ وہی آپ کو بتارہا ہے۔اسی لئے میں لوگوں کو ہمیشہ کہتا ہوں کہ بڑے اور مثبت الفاظ میں جواب دینا سیکھیئے۔ اگرکوئی آپ سے پوچھے کہ زندگی کیسی ہے تو بجائے اس کے کہ آپ یہ کہیں”   it is OK” آپ کو کہنا چاہیے کہ” It is Great” It is wonderful’جونہی آپ یہ کہیں گے تو آپ کا دماغ اس کو حکم سمجھتے ہوئے آپ کو Great اور Wonderful بنا دے گا۔آپ کے جسم کے اندر سنسنی سی پیدا ہو جائے گی۔آپ کو دنیا بھی Great اور Wonderful ہی لگے گی۔آپ خود یہ Exerciseکر کے دیکھ لیجئے ایک طرف کہیں کہ ”I am sad” ”I am OK” اور نوٹ کیجئے کہ اس کو کہنے سے آپ کے جسم اور جسم کے اندر کیا محسوس ہوتا ہے اور کیسا محسوس ہوتاہے اور آپ کے چہرے کو کیا ہوتا ہے۔آپ کے کندھے خود بخود لٹک جائیں گے۔چہرے کا رنگ پیلا پڑ جائے گا اور دوسری طرف اگر آپ یہ کہہ کے دیکھیں I am great’I am excited’I am wonderful یہ کہنے سے آپ کے چہرے پر رونق آجائے گی۔چہرا ہشاش بشاش’ جسم توانا اور جسم کے اندر ایک سنسنی سی محسوس ہوتی ہوئی نظر آئے گی۔جوآپ کہیں گے آپ ویسے ہی ہو جائیں گے۔

اسی طرح اگرکسی ایسے کام کو کرنے کے بارے میں کہا جائے جو آپ نے پہلے کبھی نہ کیا ہو تو یہ کہنے کی بجائے ”کیا میں یہ کر سکتا ہوں؟’ مجھ سے نہیں ہوگا یا میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟”آپ کو یقین ہے کہ میں یہ کام کر لوں گا؟ آپ کو کہنا چاہیے یہ مجھ سے ہو جائے گا۔اپنے آپ کو ہمیشہ بڑے اور مثبت الفاظ سے Motivate کیجئے اور اپنے دماغ کو سگنل بھیجیں کہ یہ کام میں کر سکتا ہوں۔ جیسے

O       لیں یہ بھی کوئی مسئلہ ہے’یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے

O       میں سب کچھ کر سکتا ہوں

O       میرے سے بہتر توکوئی یہ کام کر ہی نہیں سکتا اور اگر کوئی یہ کام کر سکتا ہے تو وہ میں ہی ہوں

اس طرح آپ اپنے دماغ کویہ کام کو کرنے کیلئے ٹرین کر رہے ہیں اور جب آپ یہ کام کرنے لگیں گے چاہے پہلے پہل آپ سے ایسا نہ ہو رہا ہو آپ کا دماغ آپ کو یہی بتائے گا کہ آپ کر سکتے ہیں۔مسئلہ ہی کوئی نہیں جس سے آپ کوMotivation ملتی رہے گی اور آپFinally یہ کام آپ کر بیٹھیں گے۔یہ آپ کی Self-Esteam کو بڑھانے کیلئے بھی بہت ضروری ہے کہ آیا کہ دماغ آپکو ہمیشہ یہ بتائے کہ کوئی ایسا کام نہیں جوآپ نہیں کر سکتے۔ اس سے آپ کا Self Image اور Self Respect بھی Improve ہوجائے گی جو کہ دنیا کے تمام کامیاب لوگوں کی ایک اہم خاصیت ہے۔

یہ تو ہوا مثبت الفاظ کے بارے میں’زندگی میں ایسے لمحے بھی آتے ہیں کہ جب آپ مثبت الفاظ نہیں بول سکتے جیسے اگر آپ کو کسی نے تکلیف دی ہے اور آپ کو غصّہ آ رہا ہو اور آپ کوشش کے باوجود بھی اپنے منفی احساسات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسے لمحات میں پھر کیا کیا جائے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے لمحات میں جب کہ آپ نے منفی احساسات کا اظہار کرنا ہو تو منفی الفاظ کی بجائے نیوٹرل (neutral)الفاظ کا انتخاب کریں۔ جیسے کہیں اگر آپ ناراض ہیں تو یہ کہنے کی بجائے کہ” I am angry” یہ کہیں کہ ”I am disappointed”یاد رکھیئے کہ angry ایک منفی لفظ ہے اور disappointed ایک نیوٹرل لفظ ہے۔یہ کہنے کی بجائے کہ میں غمگین ہو یعنی کہ ”I am sad” آپ نے اگر ضرور اس کا اظہار کرنا ہو تو آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں ”I am not very happy”اس طرح آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ”میں زیادہ خوش نہیں ہوں”۔اگر آپ زیادہ خوش نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ غمگین ہی ہیں یہ نیوٹرل الفاظ ہیں اس سے آپ کو اگر خوشی نہیں تو کم از کم آپ کا دماغ آپ کو غمگین بھی نہیں کرے گا۔

Unconscious Mind جس کو ہم زیادہ اہمیت ہی نہیںدیتے اتنا ہی حساس ہے جتنا کہ Conscious Mind جو آپ کو ہر کام کرتے ہوا دیکھتا ہے اور اس کو Record کر لیتا ہے۔آپ جو کرتے ہیں’کہتے ہیں’سنتے ہیں’سمجھتے ہیں’دیکھتے ہیں’یا جس طرح کے لوگوں میں رہتے ہیں یہ سارا کچھ آپ کے Unconscious Mind میں Store ہوتا رہتا ہے جوکہ آپ کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔

جیسے کہ اگر آپ ٹی وی میں فضول قسم کا پروگرام دیکھیں چاہے آپ اس کے بارے میں کچھ نہ سو چیں اور نہ ہی کچھ کہیں لیکن آپ کے Unconscious Mindنے یہ لکھ لیا کہ آپ نے یہ پروگرام دیکھا۔جب آپ دوبارہ وہ پروگرام دیکھیں گے تو آپ کا دماغ آپ کو منع نہیں کرے گا کیونکہ اس نے یہ کام کرتا ہوا آپ کو دیکھا ہے اور وہ یہ انفارمیشن Store کر چکا ہے۔

اسی طرح اگر آپ ایسے ماحول میں رہتے ہیں یا موجود تھے جہاں لوگ گالی گلوچ کررہے تھے اور اگر آپ نے اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا یا کیا یاپھر بھی آپ کے Conscious Mind نے یہ نوٹ کر لیا کہ آپ ایسے ماحول میں رہتے ہیں اور گالی گلوچ کرتے تو نہیں لیکن اس کو بُرا بھی نہیں سمجھتے۔جب Next Time آپ ایسے ماحول میں دوبارہ جائیںگے تو وہی mind جس نے شاید پہلی مرتبہ کچھ نہ کہا ہو اس مرتبہ آپ کو کہے گا ٹھیک ہے کوئی بات نہیں چلے جائو اور اگر آپ تین یا چار  مرتبہ جاتے رہے تو آہستہ آہستہ آپ کے Systemمیں یہ بات قابل قبول بن جائے گی۔اسی طرح تو آج سے 10 سال پہلے جب انڈین فلمیں اور گانوں کا رواج شروع ہوا تھا تو ہم میں سے کچھ لوگ اس کو برا سمجھتے تھے لیکن آہستہ آہستہ دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے Systemمیں یہ قابلِ قبول بن گیا اور اب ہم اس کے بغیر زندگی کا تصور ہی نہیں کر سکتے اور ہم اس کو یہ کہہ کر Justify کرتے رہتے ہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے اب یہ تو چلتا ہی ہے۔اس کی وجہ بھی یہی ہے۔

ایک ریسرچ کا حوالہ دے دوں کہ جس میں یہ ثابت ہوا کہ جولوگ آج کسی بھی جرم میں یا کسی غیر اخلاقی حرکت میں شریک ہیں وہ وہی لوگ ہیں جو کہ یا تو اس قسم کا Material پڑھتے رہے  یا دیکھتے رہے یا اس کے بارے میں سنتے رہے۔اسی طرح آہستہ آہستہ وہ کام آپ کے System میں قابلِ قبول ہو گیا اور پھر آپ نے بھی کر ڈالا۔

یہ Latest  ریسرچ آپ کے مذہب کے ١٤٠٠سال پرانی Guidelinesکی تصدیق کرتی ہے۔اسی لئے تو نبی پاکۖ نے فرمایا کہ:

”  جو کوئی فحش بات کرے یا صرف اس کی اشاعت ہی کرے تو دونوں گناہ میںبرابر ہیں”۔

ایک اور جگہ آپۖ نے فرمایا کہ:

 ”  ایک آدمی اپنے دوست کا مذہب ہی follow کرتا ہے۔ یعنی کہ وہ اپنے دوست جیسا ہی ہو جاتا ہے اس لئے یہ سوچو کہ کس سے دوستی کرتے ہو”۔

جو وہ کہے گا’ کرے گا’دیکھے گا’چاہے آپ شروع میں نہ بھی کرناچاہیں آہستہ آہستہ آپ بھی ویسے ہی ہو جائیں گے اور وہی سب کچھ کرنا شروع کر دیں گے۔

میں ایسے بیسیوں لوگوں کو جانتا ہوں جنھوں نے جرم کرنے سے پہلے اس جرم کے بارے میں بہت سی کہانیاں’قصے اور فلمیں دیکھیں جس سے ان کے دل میں بھی یہ کرنے کا شوق ہوا۔انسانی سائیکالوجی ایسی ہے کہ ہمارے اندر اچھا اور برا دونوں انسان موجودہیں۔انسان  برائی کر ہی نہیں سکتا جب تک کہ اپنے اندر کے اچھے انسان کو مار نہ دے اور اس کو مارنے کیلئے یا اس کو Convinceکرنے کیلئے کہ آج کل یہ سب کچھ ہوتا ہے تاکہ وہ آپ جرم کر سکیں۔یہ اُسی وقت ہوتا ہے جب آپ ویسے ہی لوگوں سے ملیں یا ویسے کام کو ہوتا دیکھیں’ اُس کے بارے میں پڑھیں’ اس کو enjoy کریں تاکہ آپ اپنے اندر کے  انسان کو یہ بتا سکیں کہ اب زمانہ بدل گیا ہے یہ تو اب کرنا ہی پڑتا ہے۔

اورجب آپ اس کام کے بارے میں سوچیں گے’ دیکھیں گے’ سنیں گے’ باتیں کریں گے تو خود بخودآپ کے لاشعور میں یہ کام قابلِ قبول بن جائے گا اور آپ کا ضمیر اس کو کرنے سے اس وقت روکے گا نہیں۔یہ تو اور بات ہے یہاںتک ثبوت ملتے ہیں کہ آپ جس کمرے میں رہتے ہیں اُس کے رنگ’آپ کے کپڑوں کے رنگ’آپ کے کمرے کی دیواروں پر لگی تصویر یں تمام آپ کی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔

اگر آپ ایک ماڈل کی تصویر کو بھی سال ہا سال دیکھتے رہیں تو آپ کا رول ماڈل بھی ویسا ہی بن جائے گا۔اگر شعوری طور پر نہ دیکھیں لیکن آپ کے کمرے میں تصویر موجود ہو اور آپ اُس کمرے میں صرف سونے کیلئے بھی جاتے ہوں پھر بھی یاد رکھیئے آپ کا شعوری دماغ تو سو جاتا ہے جب آپ سوتے ہیںلیکن آپ کا لاشعور نہیں سوتا کیونکہ لاشعور ہی تو آپ کے سوتے ہوئے جسم میں سانس لینے کے عمل اور دل کو چلانے وغیرہ کے کام کر رہا ہوتا ہے اس لئے وہ تو سو ہی نہیں سکتا کیونکہ اگر وہ سو گیا تو آپ بھی مر جائیںگے۔

آپ سورہے ہیں تو آپ کا لاشعوری دماغ جاگ رہا ہے  وہ اُس کمرے کے اندر لگی ہوئی تصویر کو دیکھ رہا ہے اور اس کا بھی اثر آپ کی زندگی پر ہو سکتا ہے۔اسی لئے تو آپ کو اسلام نے 1400 سال پہلے Guideness دی تھیں۔تصویروں’بتوں حتیٰ کہ رنگوں کے بارے میں بھی کیونکہ خدا ہمارا بنانے والا ہے اور وہ بہتر طریقے سے جانتا تھا کہ اس سے کیا اثر پڑے گا۔ماڈرن سائنس تو آج ان باتوں کا پتہ چلا رہی ہے ۔ جو خدا کو تو یہ اس وقت سے معلوم ہے  جب اس نے پہلے انسان کو بنایا تھا۔کاش ہم یہ باتیں سمجھ سکتے تو زندگی کے مسائل پیدا ہی نہ ہوتے چلیں دیر آید دُرست آید۔اگر ابھی بھی سمجھ آجائے تو شاید یہ ہماری زندگی میں ابھی بھی انقلاب لے آئے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگرہم یہ سارا کچھ کر لیں کہ ہم خود کچھ بھی ایسا ویسا نہ سوچیں گے نہ کریں گے’نہ کہیں گے’ نہ سنیں گے اور نہ دیکھیں گے لیکن ماحول کا کیا کریں۔اب کسی کے گھر میں کوئی تصویر ہے یا آس پاس کے لوگ ہی اگر گالی دے رہے ہیں یا برائی اتنی عام ہو چکی ہے جتنی کہ آج کل ہے توہم پھر کیا کریں کیونکہ لاشعور تو پھر بھی یہ چیزیں ریکارڈ کررہا ہے۔تو بھائی اس کا بھی حل موجود ہے۔ ماڈرن سائنس پر بھی اور اگر آپ کو اپنے مذہب پر اعتماد ہے تو ١٤٠٠سال پہلے اسلام نے بھی آپ کو یہ حل بتا دیا تھا۔

اگر آپ نے کچھ غلط سنا یا ہوتے دیکھا لیکن آپ نے اس کے بارے میں کچھ نہ کیا اور نہ ہی کہا تو یہ تو آپ کے دماغ میں Store ہو گیا اور ادھر رہے گا۔لیکن خوبصورتی تو یہ ہے کہ جس طرح ہمارے دماغ میں یہ  Store  ہو سکتا ہے ہم اس کو اسی طرح   Delete بھی کر سکتے ہیں۔وہ ایسے کہ اگر کسی نے کوئی غلط بات کہی تو اس پر ہمارا کنٹرول تو نہیں ہے لیکن اگر ہم فوراً ہی شعوری طور پر اپنے دماغ کو یہ کہہ دیں کہ برائی ہے اور سخت شرم کی بات ہے مجھے نفرت ہے ایسے کام سے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو انفارمیشن دماغ نے سٹور کی تھی آپ نے فوراً اس کو منفی کر دیا یعنی کہ دماغ کو بتا دیا شعوری طور پر کہ یہ غلط ہے تو دماغ آپ کا حکم بجا لاتے ہوئے آپ کا دماغ اس Informationکو  Deleteکر دے گا۔ہے نا مزے کی بات! جی ہاں یہ اتنی ہی آسان بات ہے لیکن اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو پھر یہ Data  اُدھر ہی Store رہے گا اور پھر اگر کچھ ہو تو کسی اور کو الزام دینے کی ضرورت ہی نہیں۔اسی قرآن پاک میں مومنوں کی نشانی بتاتے ہوئے ارشاد ہے کہ

”  اور جب کوئی غلط اور فضول بات سنتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں تمھیں تمھارے اعمال اور ہمیں ہمارے اعمال”۔

اسی طرح مومنوں کی نشانی بیان کرتے ہوئے نبی پاکۖ نے فرمایا کہ

”  مومن اگر غلط بات ہوتے دیکھے تو اُسے ہاتھ سے روکتا ہے’اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اور کچھ نہ کر سکے تو کم ازکم اسے دل سے ہی برا جانے اور یہ ایمان کی سب سے کم تر حالت ہے۔”

تو جناب یہ 1400سال پرانی guidelines وہی کہہ رہی ہیں جو کہ آج کل کی ماڈرن Behavioral  اور Mind Sciencesکہتی ہیں۔جو بھی ہے یہ سچ ہے کیونکہ قرآن میں ہے اب آپ اس کو مذہب سمجھ کر عمل کرنا چاہتے ہیں یا ماڈرن سائنس سمجھ کر یہ فیصلہ میں آپ پر چھوڑ دیتا ہوں۔

Positive Living کا ایک اور سنہرا اصول Positive Imaging ہے یعنی کہ وہ چیزیں کریں یا ان لوگوں کو دیکھیں جیسا کہ آپ اپنی زندگی میں بننا چاہتے ہیں۔آپ کو زندگی میں ویسا ہی ملے گا جس پر آپ فوکس کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی Race Car کے ڈرائیور سے پوچھیں کہ اس کی جیت کا کیا راز ہے تو وہ آپ کو بتائے گا کہ کبھی بھی نظریں سڑک سے نہ ہٹانا چاہے آپ کی کار تیز رفتاری کی وجہ سے سڑک سے اُترتی ہوئی اور کچے میں جاتی ہوئی نظر آئے پھر بھی کچے کی طرف کبھی مت دیکھنا۔جس کی طرف دیکھوگے اُس کی تصویر دماغ میں نقش ہو جاتی ہے اور دماغ یہی سمجھتا ہے کہ آپ ادھر جانا چاہتے ہیں یا ویسے بننا چاہتے ہیں اور پھر ویسا ہی ہو جاتا ہے۔اور اگر آپ سڑک پر ہی دیکھتے رہے تو اچانک آخری سیکنڈ میں آپ کی گاڑی واپس سڑک پر آجائے گی۔لیکن اگر آپ نے کچے میں دیکھنا شروع کر دیا تو آپ کی گاڑی کچے میں ضرور اُترے گی۔

آپ بھی اپنی زندگی میں اس کو روز دیکھتے ہونگے اگر آپ گاڑی چلا رہے ہوں اور آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے صاحب لگاتار آپ کو یہ کہہ رہے ہو کھمبا دیکھو’ کھمبا دیکھو’ سائیکل والے کو دیکھو’ موٹر سائیکل’بچے کو بچا کے’ تو آپ سے ضرور وہی ہوگا جس کو آپ بچاناچاہتے تھے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جس چیز کو آپ focus کریں گے تو آپ چلتے رہیں گے اور اگر آپ نے دائیں بائیں ان چیزوں کو دیکھنا شروع کیا کہ موٹر سائیکل والے سے ٹکر نہ ہو جائے تو ضرور ہو گی۔ میں نے ایک دفعہ ایک ٹرک ڈرائیور سے جس کا ٹرک کچھ سال پہلے ایک پہاڑ کی کھائی سے نیچے گر گیا تھا ملاقات کی۔ملاقات کیا کی بس ہو گئی۔گلگت جاتے ہوئے ایک ہوٹل میں چائے کیلئے رُکے تو صاحب بھی وہاں موجود تھے۔  باتوں باتوں میں گلگت کے خطرناک راستے کے بارے میں بات شروع ہو گئی۔ تو اس نے اپنی کہانی شروع کی کہ کچھ سال پہلے اس کا ٹرک ایک کھائی میں گر گیا اور وہ آخری سیکنڈ میں کود پڑا تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ اس وقت کیا کر رہے تھے’ یا کیا سوچ رہے تھے۔اس حادثے کے ہونے سے پہلے اُس نے کہا کہ مجھے شدید ڈر لگ رہا تھا اور میں کھائی کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ اگر کوئی اس میں گر جائے تو بچ تو نہیں سکتا اور کچھ ہی منٹوں میں میرے ساتھ بھی وہی ہوا۔

تو میرا خیال ہے آپ کو میری بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ چاہے کتنی بڑی بھی مشکل ہو’چاہے خدا نخواستہ آپ کو ڈاکٹر موت کا سرٹیفیکیٹ بھی دے چکے ہوں کبھی بھی منفی نہ سوچیں ‘کبھی یہ نہ سوچیں کہ اگر آپ فیل ہو گئے تو کیا ہوگا اگر آپ مر گئے تو آپ کی فیملی کا کیا ہوگا۔کیونکہ اگر آپ نے یہ سوچنا شروع کر دیا کہ خدانخواستہ کیا ہو گا تو پھر یاد رکھیئے کہ خدا نخواستہ یہ ہو جائے گا۔یہی قانونِ قدرت بھی ہے اور ماڈرن سائنس بھی یہی کہتی ہے۔

چلئے جناب بڑی باتیں ہو گئیں اب ذرا دیکھتے ہیں کہ یہ سارا کچھ جو ہم نے سیکھا اس کی ہماری لائف میں کیا Application ہے یعنی کہ کیا استعمال ہے۔ہم ایک ایک کر کے کچھ Cases یا Situations لیں گے اور پھر اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ حل تلاش کرینگے۔لیکن یہ یاد رہے کہ ہر Situationکے بیسیوں حل ہو سکتے ہیں۔اس ایک چھوٹے سے آڈیوپروگرام میں ہر Situation کے تمام حل Discuss نہیں کیے جا سکتے لیکن ایک ایک دو دو باتیں ضرور کی جا سکتی ہیں۔مقصد آپ کو حل دینا نہیں حل آپ اپنے لئے خود تلاش کرینگے۔مقصد تو صرف آپ کو زندگی کی ہر مشکل کا ایک نیا Perspective دینا ہے تاکہ آپ کو Positive Living کا Concept سمجھ آجائے۔

ایک اور بات یاد رکھیئے کہ کسی بھی Case میں میں نے اپنے Clients کو جو مشورہ دیا وہ ان کے Particular Case میں تھا۔میرا کام یہ تعین کرنا نہیں کہ کیا ہونا چاہیے اور کیا ٹھیک ہے۔میرا کام تو اپنے Clients کو جو وہ کرنا چاہتے ہیں اور ہو نہیں رہا اُس کو کرنے کیلئے Motivate کرنا ‘Inspire کرنا  اور کچھ نہ کچھ Tips  دینا ہے اُس وقت تک جب کہ وہ کام ہماری سماجی’ اخلاقی’قومی اور مذہبی اقدار کے برعکس نہ ہو۔

Situation No. 1

آپ کام سے لیٹ ہو رہے ہیں اور ٹریفک کی لمبی لائن میں آپ کے سامنے والی گاڑی خراب ہو جاتی ہے۔آپ کے پیچھے بھی گاڑیوں کی لائن ہے۔اب جوnegative thinkerہے تو گاڑی میں بیٹھ کر گالی گلوچ’برا بھلا کہنا یا غصّہ سے اپنا خون جلاتا رہے گا۔بار بار ہارن بھی بجائے گا وغیرہ وغیرہ۔Positive thinker ہے تو گاڑی سے نکل کر اگلی گاڑی کی مدد کر سکتا ہے۔گاڑی کو Side پر کرنے کیلئے اور اگر گاڑی ہل نہیں رہی تو پچھلی گاڑیوں کو پیچھے بھی کیا جا سکتا ہے اور بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔آپ کے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے تو کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا اور نہ ہی سامنے والی گاڑی کا۔اگر آپ ایسی جگہ ٹریفک میں پھنس گئے ہیں جہاں پر آپ کو دس پندرہ منٹ رُکنا پڑے گا پھر بھی آپ کے پاس Choice ہے کہ اب آپ لوگوں کی شکلیں دیکھ دیکھ کر ٹائم ضائع کرنا چاہیں’ گانے سننا پسند کرینگے یا پھر کوئی کتاب پڑھیں گے یا اخبار کا کوئی آڈیوپروگرام یا موبائیل فون پردوتین اہم کالز کر کے اپنا وقت ضائع ہونے سے بچائیں گے۔آپ کیا کرتے ہیں اسی سے یہ تعین ہو گا کہ آپ اپنی زندگی میں کتنے Positiveہیں۔

بنیادی طور پر تو پوری کی پوری Positive Thinking   اور   Negative Thinking کا Concept ہی یہی ہے کہ جو نہیں ہے اُس کو مت دیکھو  اور جو اپنے پاس ہے اُس کو دیکھو۔یعنی کہ جو اپنے اختیار میں ہے وہ کرو۔اس صورتِ حال میں جس وجہ سے ٹریفک جام ہے یا شاید ریلوے کا پھاٹک ہی بند ہو  وہ کھولنا آپ کے اختیار میں نہیں لیکن اب اس وقت کا استعمال کیا کریں گے اس کا Productiveاستعمال کرتے ہیں یا Destructive یہ 100% آپ کے اپنے اختیار میں ہے۔

Situation No. 2

ایک ایسی Situation جس میں سے پچھلے کچھ سالوں سے کافی لوگ گزر رہے ہیں وہ Mergerکی وجہ سے یا Cost کم کرنے کیلئے کئی کمپنیاں لوگوں کو ملازمت سے فارغ کر ہی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق پچھلے تین سالوں میں دو لاکھ سے زائد افراد ملازمت سے فارغ کئے جا چکے ہیں۔ان میں سے کئی لوگ پہلے سے بہتر طرح Set ہو گئے ہیں لیکن Majority کے حالات پہلے سے بہت برے ہیں اور وہ اس کا ذمہ دار حالات کو’ ملک کو یا پھر کمپنی کو ٹھہراتے ہیں۔اب یہ سچا واقعہ سنیے اور فیصلہ کیجئے کہ کیا ٹھیک ہے۔

دو سال پہلے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے ایک مینجر صاحب کا فون آیا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔انھوں نے کسی سے میرے Seminars کے بارے میں سنا تھا اور اُسی سلسلے میں مجھ سے ملنا چاہتے تھے۔جب ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ ان کی کمپنی اگلے سال یعنی کہ جس سال مجھ سے ملاقات کی اُس سے اگلے سال ایک کمپنی کے ساتھ Mergerکی وجہ سے تقریباً تیس فیصد لوگوں کو ملازمت سے فارغ کر رہی ہے اور ملازمت سے فارغ کرنے والے ملازموں کا جو criteria بنایا گیا ہے اس کے مطابق یہ بھی 80%  چانس ہے کہ ان صاحب کی ملازمت بھی چلی جائے گی صاحب بہت پریشان تھے اور کہا کہ اس پریشانی کی وجہ سے میں چڑچڑاہوگیا ہوں ۔روز بیوی سے اور بچوں سے لڑائی بھی رہتی ہے۔بیمار بھی زیادہ رہنے لگا ہوں اور گھر میں عجیب طرح کی tension بھی پیدا ہو چکی ہے۔

میرا پہلا سوال تو یہ تھا کہ وہ صرف نوکری کیلئے پریشان ہیں یا اُس کی اپنی اس کمپنی کے ساتھ اُن کا گہرا لگائو اور تعلق(association) ہے کہ وہ اس کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتے۔پتہ یہ چلا کہ وہ صرف کام نہ ہونے کے ڈر کی وجہ سے پریشان ہیں کہ کیا بنے گا ان حالات میں پتہ نہیں اور اس عمر میں (صاحب کی عمر پچاس سال کے قریب تھی) انھیں کہیں اور ملازمت ملے گی بھی یا نہیں۔یہ سن کر میں نے اُن کو کہا کہ جو ہونا ہے اُسے تو کوئی ٹال نہیں سکتا ابھی آپ کے پاس 1سال ہے ایک سال بہت ہوتا ہے۔نئی زندگی شروع کرنے کیلئے آپ یہ دیکھیں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں اور پھر اس کے بعد اپنے آپ کو تیار کرلیجئے جونہی آپ تیار ہو جائیں گے نئی زندگی کیلئے اسی وقت آپ کی پریشانی جاتی رہے گی۔ہماری پریشانی اسی لئے ہوتی ہے کہ ہم اس واقعہ کیلئے تیار نہیں ہیں جونہی ہم اپنے آپ کو تیار کر لیں گے ہماری پریشانی ختم ہو جائے گی۔اب یہ صاحب پچھلے بیس سال سے اسی کمپنی کیلئے کام کر رہے تھے۔سوائے اپنی فیلڈ کے انھیں کچھ نہیں آتا تھا۔صرف Short Hand ٹائپنگ یا فائل مینجمنٹ کے انھوں نے کچھ اورسیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی تھی۔اب Computers کا زمانہ تھا اور انھیں اسی چیز کا ڈر تھا کہ انھیں اب پرانی Skills کی  بنیاد پر Job نہیں ملے گی۔

اب ان صاحب نے میرے ساتھ بیٹھ کر یہ سوچا کہ وہ کیا کیا کام کر سکتے ہیں اور کونسے areas ایسے ہیں جہاں پر انھیں نوکری مل سکتی ہے۔تو پتہ یہ چلا کہ Administration  یا  Sales سے وابسطہکوئی نوکری بھی کر سکتے ہیں اگر اُن میں تھوڑی سی مہارت آجائے۔اس کے بعد میں نے اُن کو کہا کہ روز اخبار پڑھیں اور دیکھنا شروع کریں کہ اس قسم کی نوکری میں لوگ کیا تجربہ اور کس قسم کی Skills  مانگتے ہیں اور وہ Skills لینا شروع کر دیں۔

خیر مختصراًبات یہ ہے کہ انھوں نے ایک سال میں French Language بھی سیکھ لی۔ Computer Skills میں بھی مہارت حاصل کر لی اور اس کے علاوہ Labor Laws کا بھی Diploma کر لیا ساتھ ہی ساتھ Business Lifeمیں تعلقات بہتر بنانے شروع کر دیئے۔مختلف کورسز اور کانفرنسز میں بھی شرکت کی اور کافی لوگوں سے جان پہچان کر لی۔سال کے بعد انھوں نے کسی ایک Embassy میں Apply کیا اور ان کو پہلی نوکری سے زیادہ پیسوں کی Job مل گئی۔بجائے اس کے کے کمپنی ان کی چھٹی کرواتی انھوں نے خود Golden Hand Shake کی پالیسی کے تحت استعفیٰ دے دیا اور کئی لاکھ روپے اپنی پرانی کمپنی سے لے کر اپنی نئی Job  Join کر لی۔یہ ہے Positive Living  کا کمال۔

اسی طرح کے ایک اور کیس میں ایک صاحب اپنی کمپنی سے اس قدر مطمئن تھے کہ وہ کمپنی ہی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔انھوں نے بھی Positive Living کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ایک سال میں دو اور لوگوں کا کام سیکھ لیا اور اتنی اچھی Performance دکھائی  کہ وہ کمپنی کیلئے indispensableبن گئے۔ اب کمپنی ایک ایسے شخص کو جو کہ دو تین مختلف قسم کے کام کر سکتا ہو کیسے چھوڑے’یہی ہوا کہ وہ بچ گئے اور ان کے باقی ساتھی جو کہ بیٹھے صرف پریشان ہی ہوتے رہے اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ بھی صرف مثبت طرزِ عمل کی ہی وجہ سے ممکن ہوا۔

Situation No. 3

ایک اور Situation ملاحظہ فرمائیے:

ایک صاحب کمپنی کے Director تھے اور ان کو پوری اُمید تھی کہ وہ MD کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے MD بن جائیں گے۔انھوں نے MD بننے کیلئے پچھلے پانچ سال سے انتظار کے علاوہ کچھ نہیں کیا اور جب پرانے MD صاحب ریٹائر ہوئے تو کمپنی نے اُن کی جگہ باہر سے نئے MD کا انتخاب کر لیا۔ اب یہ صاحب سخت ناراض تھے نئے MD سے بھی اور کمپنی سے بھی۔اُن کی  Performance  خراب ہوچکی تھی اور نئے MD صاحب سے ہر وقت Cold War چلتی رہتی۔ جب میرے پاس آئے تو میں نے کہا کہ جناب اس Cold War اورمنفی سوچ سے آپ MD تو بن نہیں سکیں گے لیکن اس نوکری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔تو کہنے لگے لیکن MD بننا میرا حق ہے۔تو میں نے کہا کہ چلئے مانا کہ آپ ٹھیک ہیں۔ یہ تو ہوا نہیں اب آپ کے پاس Choice ہے کہ آپ N.T. پر عمل کرتے ہوئے نئےMDکو Fail کرنے پر زیادہ زور دینگے یا پھر P.T. پر عمل کرتے ہوئے اپنی Performance اتنی بہتر کرینگے کہ پورے Board of Directors  کی نظر آپ پرہی لگی ہو اور نیا MD بھی آپ کے گیت گائے اور پھر خدا کرے جب بھی موقع ملے تو آپ ہی نئے MD بنیں۔

صاحب کو بات کچھ کچھ سمجھ میں آگئی۔اُنھوں نے MD کو Support کرنا شروع کر دیا’اپنے کام پر توجہ بڑھادی’ٹائمCommitment دفتر میں بہت زیادہ کر دی’MDکے کام بھی کرنے شروع کر دیئے’اپنےCustomers’Vendors کے ساتھ اپنے تعلقات بہت ہی بہتر کر لئے۔اپنے function areaیعنی کہ Financial Area (Finance)  سے ہٹ کر باقی Functions یعنی کہ Marketing’Production ‘HR میں بھی Interest لینا شروع کر دیا۔یہ سلسلہ دو سال چلتا رہا۔دو سال کے بعد ان کے MD کو کوئی اور اچھی Job Offer   ہوئی تو جب وہ چھوڑ کر جا رہے تھے اور ان سے پوچھا گیا کہ آپ کس کو Propose کرتے ہیں تو انھوں نے انہی صاحب کا نام لیا۔یوں آپ اپنی مثبت سوچ کی وجہ سے دو سال میںMD بن گئے۔

Situation No. 4

ایک صاحب جو کہ کسی کمپنی میں Accountant تھے بڑے پریشان حال میرے پاس آئے اور کہا کہ ایک مسئلہ ہے اور مجھے بتائیے کہ میں کیا کروں۔مجھ سے ایک غلطی ہو گئی ہے جس کا اُنھیں شدید دکھ ہے اور اپنے آپ پر نالاں ہیں۔Guilt کا احساس بھی ہے اور سوچ سوچ کر زندگی اجیرن ہو رہی ہے۔ازالہ کرنا چاہتے ہیں لیکن سمجھ نہیں آتی کہ کیسے کروں۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ صاحب نے کمپنی کے Accounts  میں سے تین  لاکھ روپے کی ہیرا پھیری کی ہے۔ابھی تو کسی کو پتہ تو نہیں چلا لیکن شاید کچھ عرصہ میں پتہ چل جائے گا۔

صاحب اپنی اس حرکت پر نالاں تھے لیکن اُنہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کریں اور اس شش و پنج میں زندگی عذاب بن چکی تھی۔میرے سمجھانے پر آخر انھوں نے وہ فیصلہ کیا جو کہ بہت ہی بہادری کا فیصلہ تھا۔لیکن  Positive Living کا فیصلہ ایسا ہی ہوتا ہے۔فیصلہ تو بہت ہی مشکل تھا لیکن اس کو کرگزرنا بہت ہی ضروری۔سنئے کہ انھوںنے کیا کیا۔ وہ اپنی کمپنی کے MDکے پاس گئے اور جا کر ساری داستان سنادی۔ان کو پیسے واپس کر دیئے اور کہا کہ میں بہت ہی نالاں ہوں مجھے معاف کر دیجئے۔MD نے یہ سن کر شکریہ بھی کیا’ دلاسہ بھی  دیا’  appreciate  بھی کیا لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ میں آپ کو آپ کی ایمانداری کی وجہ سے نوکری سے تو نہیں نکال رہا لیکن آپ کو  Accounts Department میں اب نہیں رکھا جا سکتا اس لئے آپ Field کی کوئی Job کر لیں۔صاحب نے Sales کی Job شروع کر دی پہلے تو بڑے مایوس ہوئے لیکن P.T. پر عمل کرتے ہوئے انھوںنے اس کے فوائد کو دیکھنا شروع کیا۔نیا مسئلہ ‘نئی Learning’ گھومنے پھرنے کا کام’ نئے لوگوں سے ملاقات’ زیادہ کام کرنے سے زیادہ کمیشن وغیرہ وغیرہ۔خیر صاحب تین ہی مہینوں میں ہی adjust ہو گئے۔دوسرے سال اُن کو  Best Saleman of the Year کا Award ملا۔ترقی بھی ہوگئی تنخواہ پہلے سے کہیں زیادہ ملنے لگی اور تین سالوں میں Product Manager بن گئے۔تین سال کے بعد جب وہ مجھے دوبارہ ملے تو پتہ چلا کہ ان کو دوبارہ Finance Department میںبطورِ Finance Manager لے لیا گیا ہے۔بہت ہی خوش تھے کہنے لگے فائز صاحب اگر آپ یہ مشورہ نہ دیتے تو شاید آج میں اس مقام پر نہ پہنچ سکتا۔میرے خیال میں یہ Credit ان کی مثبت سوچ ‘ ایمانداری اور Hardwork کو جاتا ہے اور شاید خدا نے ان کی Promotion کا یہی راستہ ڈھونڈا تھا۔

Situation No. 5

ایک نئی Situation اور نیا واقعہ ملاحظہ فرمائیے:

امریکہ میں Golden Gate Bridge کے دونوں کناروں پر ایک چیک پوسٹ ہے جس کا سائز کوئی 6×6 فٹ کا ہے۔ اس میں Computer’  TV’  ٹیلیفون’ AC وغیرہ تمام ضروریاتِ زندگی موجود ہیں اور اس میں آٹھ’آٹھ گھنٹوں کی تین  Shifts میںچوبیسگھنٹے کسی نہ کسی Security کے شخص کی Duty رہتی ہے۔

ایک طرف والے شخص کا کہنا ہے کہ اس سے بری اور بورنگ نوکری کوئی ہے ہی نہیں۔پانچ سال سے وہ اسی نوکری میں ہے اور ہر روز ہر شخص سے اپنی نوکری اور جاب کے خلاف زہر اُگلتے رہتے ہیں۔اُس کا کہنا ہے کہ میں سارا دن گاڑیوں کو دیکھ دیکھ کر تنگ آجاتا ہوں نہ کوئی پاس ریسٹورنٹ ہے’ نہ کوئی ملنے آسکتا ہے۔یعنی کہ وہnegative thinker ہے اور تمام منفی باتوں کے بارے میں سوچ رہا ہے۔اسی پل پر دوسرے پار بیٹھا ہوا شخص positive thinker ہے۔اُس کا دھیان ہر اس چیز پر ہے جو کہ اس Job کے فوائد ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ اس Job پر رہ کر اُس کو پڑھنے کا وقت مل جاتا ہے’اُس نے Computer سیکھ لیا ہے کوئی Disturbنہیں کرتااسی لئے اس نے Distance Learningکے ذریعے اپنی Bachelor کی Degree بھی مکمل کر لی ہے۔کیونکہ پاس کوئی جگہ نہیں اس لئے اس کے پاس پیسے بھی بچ جاتے ہیں کھانے پینے میں ضائع نہیں ہوتے۔ تین  سالوں کی نوکری میں وہ اپنا  B.A  بھی مکمل کرتا ہے’ Computer بھی سیکھ لیتا ہے اور بیس ہزار ڈالرکی بچت بھی کر لیتا ہے۔اس کے بعد اس کو ایک بہت ہی اچھی کمپنی میں White Collar یعنی کہManagement  کی جاب مل جاتی ہے جب کہ پہلے شخص کی زندگی میں تین سال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی سوائے اس کے کہ وہ پہلے سے زیادہfrustrated ہے۔بیٹھ بیٹھ کر اور کھا کھا کر تیس پائونڈ وزن بڑھا چکا ہے اور اپنی عمر سے کہیں زیادہ لگتا ہے۔تو کیا فرق ہوا دونوں میں جب کہ دونوں کی جاب تو exactly ایک ہی جیسی تھی۔ایک کیلئے یہ مصیبت اور دوسرے کیلئے یہ زندگی بدلنے کا موقع فراہم کردیتی ہے۔فرق صرف سوچ کا ہی تھا۔

Situation No. 6

ایک اور Situation دیکھئے:

اس Situation میں ایک صاحب اپنی Accounting کی Job سے ناخوش تھے اور HR Department میں جانا چاہتے تھے۔دو دفعہ applyکیا لیکن ان کو کامیابی نہ ہو سکی۔مجھے میرے Seminar کے بعد ملے اور کہا بڑا اچھا تھا آپ کا سیمنار لیکن آپ نے کہا کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں لیکن میں اس بات سے agree نہیں کرتا۔وہ لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جو کہ وہ سب کچھ کر جاتے ہیں۔میں HR میں کام کرنا چاہتاہوں اور اپنی موجودہ Accountingکی Jobسے خوش نہیں۔بات تو پھر ہوگی کہ آپ بتائیں کہ میں کیا کروں کہ ایسا ممکن ہو سکے۔

میرا پہلا سوال یہ تھا کہ آپ کب سے یہ کوشش کر رہے ہیں۔اُنھوں نے جواب دیا کہ تین سال سے۔ پوچھنے پر مزید پتہ چلا کہ انھوں نے تین سالوں میں چالیس مرتبہ کوشش کی جگہ جگہ apply کیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ میرا گلا سوال یہ تھا کہ اچھا بتائیے کہ آپ نےHR سے related کیا کیا ہوا ہے۔انھوں نے کیا کچھ نہیں۔ میں نے پھر پوچھاکہ آپ تین سال سے کوشش کر رہے ہیں لیکنتین سالوں میں اگر آپ کو اس فیلڈ میں interest ہی تھا تو آپ نے کئی کورسز کیے ہونگے’کئی کتابیں پڑھی ہونگی’کسی سے متاثر ہوئے ہونگے تو میری طرف حیرانگی سے دیکھنے لگے۔جواب یقینا منفی تھا کہ ایسا تو کچھ نہیں کیا تو میں نے کہا کہ آپ کی تعلیم بھی Accounting میں ہے اور پانچ سال کا تجربہ بھی اسی field میں ہے۔

مجھے یہ بتائیے کہ کوئی شخص آپ کو HR میں نوکری کیوں کر دے اگر آپ لوگوں کو تو یہ کہتے رہیں کہ آپ کا interest ہے لیکن آپ کا یہ interest کیسے Show ہو گا جب تک کہ آپ نے خود ہی کچھ نہیں کیا۔اگر آپ کا interest ہے تو اپنی زندگی بدلنے کیلئے پہلے وہ تمام کچھ کریں جو آپ کر سکتے ہیں پھر دوسرے سے expect کرنا شروع کریں۔خیر گھنٹے کی جستجو کے بعد ان صاحب کو بات سمجھ میں آگئی۔ایک سال تک وہ جتنے کورسز کر سکتے تھے وہ کیے۔بیسیوں کتابیں پڑھ ڈالیں۔اپنی کمپنی کے HR Manager کے ساتھ اس کے کام میں Help کرنا شروع کر دی۔interenal ٹریننگ کورسز میں اپنے ٹائم میں سے وقت نکال کر ٹریننگ میٹریل بنانے میں HR Manager کی course deliveryکرنے میں مدد کرتے رہے اور ایک سال بعدجب HR Manager کے پاس جب Asst. HR Manager کی Job کی Vacancy نکلی تو یہی صاحب ان کی فرسٹ Choice  تھے یہ ہے  Positive Living کا کمال۔

ہمارا کام دنیا کو برا بھلا کہنا نہیں بلکہ صرف وہ ہے جو کہ ہم کر سکتے ہیں۔نوکری دینا دنیا کا کام ہے لیکن اپنے آپ کو اس نوکری کے آنے سے پہلے تیار کرنا اور یہ ensure کرنا کہ ہمارے سے بہتر اور کوئی candidate نہ ہو یہ ہمارا کام ہے۔بدقسمتی تو یہ ہے کہ ہم وہ سب کچھ نہیں کرتے جو ہمیں کرنا چاہیے بس زمانے کے بارے میں اور لوگوں کے بارے میں سوچ سوچ کر ہی پریشان ہوتے رہتے ہیں جس پر ہمارا کوئی اختیار ہی نہیں۔

Situation No. 7

Positive Living کا ایک اور سچا واقعہ حاضرِ خدمت ہے۔

ایک نوجوان MBA میرے پاس آئے صاحب بہت ہی دِل برداشتہ اور مجبور تھے۔ پتہ یہ چلا کہ پچھلے دو سال سے بیروزگار ہیں دو سو سے زائد کمپنیوں میں apply کیا پچاس سے انٹرویو کی کال آئی لیکن نوکری نہ مل سکی۔فرمانے لگے کہ اب تو یہ حال ہے کہ سوچ رہا ہوں کہ چچا کی Video Shop پر ہی کام کرنا پڑے گا نہ صرف یہ بلکہ ان کی بیٹی سے شادی بھی کرنا پڑے گی۔کہنے لگے کہ اب تو میں بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ سفارش اور رشوت کے بغیر تو نوکری نہیں ملتی۔حالات یہ تھے کہ بیچارے چھ ہزار روپے پر بھی کام کرنے کو تیار تھے۔

اُن کے آنے کا مقصد پوچھا  تو کہنے لگے کہ آپ کا کسی نے بتایا تھا سوچا کہ آپ سے مل لوں کہ شاید آپ کچھ مدد کر سکیں۔میں نے صاف کہہ دیا کہ میں تو صرف آپ کو بتائوںگا لیکن مدد آپ اپنی خود کرینگے۔ آپ کو صرف یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ جو میں کہوں گا وہ کرینگے۔صاحب نے خاموشی سے وعدہ کر لیا۔میں نے ان سے پوچھا کہ جہاں بھی 50کمپنیوں میں انھوں نے  interview دیا کیا انھوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ  Job کس کو ملی یا یہ کہ آپ کو منتخبکیوں نہیں کیا گیا تو جناب نے فرمایا کہ نہیں یہ تو نہیں کیا اس کا بھلا کیا فائدہ میں نے دل میں کہا کہ جناب نے پچاس  مواقع سیکھنے کے ضائع کر دیئے اور فرما رہے ہیں کہ اس سے بھلا کیا فائدہ تھا۔

خیر صاحب کے ساتھ دو گھنٹے بیٹھ کر میں نے ایک Plan of Action  بنا کر اُن کو دے دیا اور ان کو اس بات کی تاکید کر دی کہ یہ پورا عمل کرنااور چاہے جو مرضی ہو جائے اس پر عمل کرتے رہنا ہے۔اس Plan میں جو کہا تھا کہ وہ لمبی بات ہے۔مختصراً یہ کہ انھوں نے اس Plan پر عمل کرتے ہوئے ہر ہفتے  بیس پچیس جگہوں پر Visit کرنا اور اپنا CV’ Drop کرنا شروع کر دیا۔اگر Interview بھیarrange ہو جاتاہو تو interview دے دیتے ورنہ صرف  CV  ہی Drop کر دیتے۔انٹرویو کی تیاری کیلئے اپنا حلیہ بہترکر لیا۔اخباریں پڑھی اور اس Industry کے بارے میں Basic معلومات ایڈوانس میں اکٹھی کرنی شروع کر دیں۔Positive Thinking  پر عمل کرتے ہوئے مثبت الفاظ کا استعمال بھی کرنا شروع کردیا۔اس کے علاوہ میرے کہنے پر عمل کرتے ہوئے جو بھی انٹرویو ہوتا ان کو ” Thank you”کا کارڈ بھجواتے۔Proper طریقے سے Follow-up کرتے۔اگر وہ Select  نہ بھی ہوتے تب بھی شکریہ ادا کرتے اور مینجر سے کہتے کہ سر میں فریش Graduate ہوں اور مجھے آپ جیسے seniors سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔کیا آپ بتائیں گے کہ مجھے کس چیز میں improve کرنا چاہیے۔وہ صاحب غور سے اس بات کو سنتے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے۔خیر وہ صاحب ایسا کرتے رہے۔پہلے ہی ہفتہ میں انھوں نے اپنا CV تین دفعہ تبدیل کیا۔

تیسرے ہفتے میں ہی انھیں 8000  روپے کی تنخواہ پر دو Jobs کی آفر ہوئی لیکن اس دن انھوں نے یہ آفرز refuse کر دیں اس لئے کہ ان کو یقین ہو گیا تھا کہ ان کو اب بہتر نوکری بھی مل ہی جائے گی۔ہر ہفتے ان کو بہتر سے بہتر آفرز ہونے لگی۔آخر کار تیسرے مہینے میں انھیں 15000روپے کی Job کی آفر ہوئی۔اُس وقت تک وہ ایک سو سے زائد انٹرویو دے چکے تھے۔لیکن یہ Job Accept  کرنے کی بجائے انھوں نے مینجر سے یہ پوچھنا شروع کر دیا کہ ان میں کونسی ایسی صلاحیت تھی جس کی وجہ سے انھوں نے اس کو Selectکیا۔اُس کو بتایا گیا کہ جس طریقے سے اس نے بار بار صبروتحمل سے نوکری کو اور انٹرویوز کوfollow-up کیا اور جس دن اور جتنی باری بلایا گیا ٹائم پر اورہر وقت ہنستے مسکراتے ہوئے آتے رہے اس سے ان کو لگا کہ اگر یہ شخص نوکری لینے کیلئے اتنی محنت کر سکتا ہے تو اس کو بچانے کیلئے تو وہ زیادہ محنت کرے گا۔خیر اُس نے مینجر کا شکریہ ادا کیا اور اس دن یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا کام خود کرے گا۔ اُس نے اپنے گھر میں ایک چھوٹا سا ٹریننگ سنٹر کھول لیا اور بزنس کالجز کے سٹوڈنٹس اور Graduates کو interviewing Skills پر ٹریننگ دینا شروع کر دی۔اس کو یقین تھا کہ اتنے انٹرویوز لینے کے بعد کوئی اور اس سے بہتر یہ  Subject  پڑھا ہی نہیں سکتا۔اس نے اس طرح تیس ہزار ماہانہ کمانا شروع کر دیا اور ایک سال کے اندر اسے Middle Eastمیں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے HR ڈیپارٹمنٹ میں ایک لاکھ روپے کی نوکری مل گئی۔اب آپ سوچئے کہاں چھ ہزار روپے اور کہاںایک لاکھ ایک سال کے اندر۔یہ کیسے ہوا تو جناب یہ بھی صرف مثبت سوچ کا ہی کمال ہے۔

Situation No. 8

ایک اور کیس میں ایک صاحب کو MBA کے بعد دو سال سے نوکری کی تلاش تھی اور ہر جگہ سے ”No” سن کر اور اپنے گھر کے حالات سے بہت ہی دلبرداشتہ ہو گئے تھے۔میرے کہنے پر انھوں نے ایک ہوٹل میں Waiter کی Job کر لی تین ہزار روپے ‘ اس کے علاوہ چار ہزار روپے مہینے کے tips مل جاتی تھیں۔اس سے انکا کھویا ہوا اعتماد بھی بحال ہو گیا اور لوگوں سے تعلقات بھی بڑھنے لگے چھ مہینے بعد ایک کمپنی کے ڈائریکٹر کی فیملی کھانے پر آئی ہوئی تھی ان کو Serve کیا تو اتنی اچھی طرح Serve کیا کہ وہ پوچھنے پر مجبور ہو گئے کہ آپ نے کیا کیا ہوا ہے تو انھوں نے بتایا کہ MBAکیا ہوا ہے۔بڑی جگہ Job تلاش کی لیکن نہیں ملی تب سوچا کہ کام کوئی چھوٹا نہیں ہوتا۔وقت ضائع نہ ہو اس لئے سوچا یہیں یہ کام کر لیتا ہوں۔اس کی بات سے متاثر ہو کر ڈائریکٹر نے اس کو اپنے آفس میں بلایا اور ایک ہی ہفتے میںبارہ ہزار روپے ماہانہ Plus Alto  کار کے ساتھ مینجر کی Job مل گئی۔Director صاحب نے فرمایا کہ مجھے ایسے ہی لڑکے کی ضرورت تھی جو کہ کسی کام کو چھوٹا نہ سمجھے۔آج کل کےGraduatesمیں یہ نخرہ بہت زیادہ ہے اس لئے یہ صاحب اُن کو پسند آگئے۔ تو جناب یہ پھر Positive Living  کا ہی کمال تھا۔

مثبت سوچ کی ایک بہت ہی پیاری مثالThomas Edisonکی ہے۔ ١٩١٤ئمیں اس کی زندگی کی تمام کمائی جو کہ اس وقت دو ملین ڈالر کے قریب تھی اور سالہا سال کی Researchکے ساتھ جب اس کی Laboratoryجل رہی تھی تو ا س کی بیوی بچے اور ہمسایوں نے اس کو دیکھ کر رونا شروع کر دیا اور لگے افسوس کرنے تو اس نے اپنی بیوی سے مخاطب ہو کر کہا ”چلو اچھا ہوا  خداہمارے سارے گناہ جلا رہا ہے اب ہم کل سے نئی اور صاف زندگی کا آغاز کر سکتے ہیں”۔کیا آپ یقین کرینگے کہ اس واقعے کہدو ہفتے کے بعد اس نے اپنی پہلی ایجاد کی جو کہ ایک  Phonograph  تھا۔

ہم میں سے کتنے لوگ اس بڑے صدمے کو اس طرحPositively   لیں گے۔ہم تو اس کو زندگی کا آخرہی سمجھ کر زندگی کو رو  دھو کر ہی گزار دیں گے۔کامیاب لوگ ایسے ہی کامیاب نہیں بن جاتے بنیادی فرق ان لوگوں میں اور دوسریCatagory جو کہ ناکام لوگوں کی ہے سوچ کا ہی ہے۔یہ تو مثبت سوچ کی ہماری پیشہ ورانہ زندگی میں سے کچھ applications تھیں۔

اب ہماری ذاتی زندگی میں اس کی کچھ application کی بات ہو جائے۔

Situation No. 9

ایک صاحب میرے پاس آئے کافی اکیلے اور اداس تھے اور بیمار بھی رہنے لگے تھے۔ عمر تقریباًپینتالیس سال’ بہت ہی پڑھے لکھے’اچھی ملازمت’اچھا خاندان لیکن اس کے باوجود ان کی دو مرتبہ شادی ہوئی پہلی  بیوی شادی کے 8سال بعد طلاق لے گئی۔تین سال کے بعد دووبارہ شادی ہوئی تو وہ بھی شادی کے تین سال بعد یہ کہہ کر چلی گئی کہ آپ کے ساتھ کوئی رہ ہی نہیں سکتا۔پہلے کچھ سال اپنے بچوں سے ملتے رہے پھر بچوں نے بھی ملنے سے انکار کر دیا۔

جب ان کے خاندان کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ دو بہنیں اور ایک بھائی اسی شہر میں رہتے ہیں لیکن وہ بھی ملنا پسند نہیں کرتے۔اس کے علاوہ کوئی دوست بھی نہیں تھا۔جب بات شروع ہوئی تو زمانے کے خلاف لوگوں کے خلاف بولنا شروع کر دیا۔دو گھنٹے بیٹھے گلے شکوے ہی کرتے رہے کہ زمانے کی اقدار ہی بدل چکی ہیں۔پیار محبت ختم ہو گیا ہے ‘ لوگ Honest نہیں رہے’بات کرنے کے طریقے میں مجھے کچھ نہ کچھ ”میں”تھی یعنی کہ ”arrogance” نظر آرہی تھی۔اس لئے مزید کریدنے کیلئے میں نے بیوی بچوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ان کے خلاف بولنا شروع کر دیا۔دوستوں کا پوچھا تو ان کی داستان شروع ہو گئی۔مختصراًیہ کہ صاحب کو ہر شخص میں بس برائی ہی نظر آتی تھی۔پینتالیس سال کی عمر میں دل کی بیماری’سردرد کی شکایت’وزن تقریباً پینتالیس  پائونڈ زیادہ اپنی عمر سے تقریباً دس سال بڑے لگتے تھے۔

ان کی داستان ختم ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کی کسی  بیوی یا  بچوں  یا بہن بھائیوں اور دوستوں نے کبھی آپ کو یہ بتایا کہ آپ کی کس بات سے ان کو تکلیف پہنچتی ہے۔میں نے یہ سوال جونہی ختم کیا صاحب defensive ہو گئے تو مجھے convince کرنے کی کوشش شروع کر دی کہ انھیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں مسئلہ تو دوسرے لوگوں کو ہے اور وہ ہمیشہ دوسروں کو بتاتے رہتے ہیں۔میں نے دل میں سوچا کہ مسئلہ یہی تو ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کوٹھیک سمجھتا ہے اور سارے زمانے کو غلط۔منفی سوچ کا یہ typical کیس تھا۔میں نے صاحب کو آ خر ناچاہتے ہوئے کہہ ہی دیاجناب اتنے لوگ ایک وقت میں غلط ہو نہیں سکتے۔آپ کا مسئلہ تومجھے یہ لگتا ہے کہ آپ کے نزدیک تمام لوگ غلط اور بس ایک آپ ہی ٹھیک ہیں اور آپ کی یہ سوچ اتنی  Strong ہے کہ آپ نے کبھی یہ زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ لوگوں سے پوچھیں کہ آپ میں ایسی کونسی بات ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ آپ کے ساتھ رہنا پسند ہی نہیں کرتے۔شاید یہی بات ہے کہ آپ لوگوں کو ہر وقت Criticize ہی کرتے رہے ہیں اور اپنے آپ کو”Mr. Right”سمجھتے ہیں۔اگر آپ کو اپنی زندگی کو بہتر بنانا ہے تو آپ کو کہنے سے زیادہ سننے کی عادت ڈالنا ہوگی۔آپ پچھلے 3گھنٹوں سے سوائے اس کے کے تمام زمانے کو بول رہے ہیں کچھ نہیں کر پائے۔چلے مان لیا کہ سارا زمانہ غلط ہے لیکن جناب حیرانگی تو اس بات کی ہے کہ آپ کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔یہ سن کر صاحب کو اتنا ناگوار گزرا کہ چلے گئے۔اب میں نے سمجھانے کی کوشش کی لیکن نہ مانے۔اب میں کیا کر سکتا تھا بات آئی گئی ہوگئی۔دو ماہ کے بعد صاحب کا فون آگیا کہ ملنا چاہتے ہیں میں نے بلالیا تو کہنے لگے مجھے دیکھ کر آپ کو حیرانگی تو ہو رہی ہوگی لیکن اس دن آپ کی باتوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا میں غصّے میں آپ کے آفس سے چلا تو گیا تھا لیکن ساری رات سو نہ سکا۔

اس رات میں نے یہ محسوس کیا کہ برائی میرے اپنے اندر ہے۔میں نے اپنی اس عادت کی کتنی بڑی قیمت چکائی ہے۔میں نے یہ سوچ لیا کہ اب جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا لیکن میں اب جو کر سکتا ہوں وہ کر گزروں گا۔میں نے اپنی دوسری  بیوی کو فون کیا اور اس سے منت سماجت کر کے ملنے کو رضامند کرلیا۔میں نے اس کو اس دِن آپ سے ملاقات کا قصہ سنایا اور بتایاکہ میرے میں کیا تبدیلی آئی ہے۔میں نے اس کویقین دلایا کہ میں اب اپنی اس criticism کی عادت سے چھٹکارا پانا چاہتا ہوں اور مجھے اس کی ضرورت ہے۔آخر کئی کوششوں کے بعد ایک ہفتہ کے اندر اندر وہ مجھ میں مثبت تبدیلی دیکھ کر میرے پاس وآپس آگئی۔اس کے بعد میں نے یہی مشق اپنی بہنوں’بھائی اور اپنے بچوں کے ساتھ بھی کی اور دو ماہ کے اندر اندر میری زندگی بدل گئی۔ میرے دونوں بچے میرے پاس رہنے لگے ہیں۔میری بہنوں نے مجھ سے ملنا شروع کر دیا ہے میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کاش میرا یہ پیغام آپ میرے جیسے ہر negative thinkerکو پہنچا  دیں کہ ہم اپنے ساتھ باقی لوگوں کی زندگی بھی تباہ کر رہے ہیں۔کوئی بھی N.T. کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتا۔توجناب یہ ہے P.T. کا کمال جس دن انھوں نے criticism کرنے کی بجائے مسئلے کو سمجھنے اور سلجھانے کی کوشش کی ان کی زندگی بدل گئی اور یہی بنیادی فرق ہے دونوں میں۔Negative Thinkers اپنے Left Brain کا استعمال کرتے ہوئے صرف تنقید کرنا چاہتے ہیں جب کہ positive thinkerاپنے Right Brain کا استعمال کرتے ہوئے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش زیادہ کرتے ہیں۔

Situation No. 10

منفی سوچ کیسے ہمارے گھروں کا سکون بربار کر رہی ہے اس کو جاننے کیلئے ایک بہت ہی typical کیس ملاحظہ کیجئے:

اسلام آباد میں میرے ایک سیمینار کے فوراً بعد ایک خاتون میرے پاس آئیں اور کہا کہ مجھے ہر حالت میں آپ سے ملنا ہے۔میں نے ان کو بتایا کہ مجھے آج رات ہی واپس لاہور پہنچنا ہے۔لیکن ان کی بے چینی اور پریشانی کو دیکھ کر اُسی رات ان سے ملنے کا فیصلہ کیا۔رات نو بجے وہ خاتون اپنی ماں کے ساتھ ملنے کیلئے آگئیں۔اُس کی بہت ہی پریشان کن تھی۔عمر اٹھائیس سال۔ شادی کو آٹھ سال ہو چکے تھے۔دو بچے ایک بیٹا چھ سال کا اور ایک بیٹی چار سال کی’ خاوند ایک فارن بنک میں بڑی ہی اچھی Post پر۔ بہت ہی اچھے خاندان سے تعلق۔باپ فیڈرل منسٹری سے گریڈ اکیس آفیسر۔خود MBBS ڈاکٹر۔یہ اتنا کچھ اچھا سن کر مجھے حیرانگی ہوئی کہ انھیں کیا پرابلم ہو سکتی ہے اپنے خاوند کی تصویر بھی دکھائی۔تیس سال کا خوبرو نوجوان بہت ہی سمارٹ بلکہ Handsome۔خود بھی اچھی شکل و صورت لیکن اچانک یہ پتہ چلا کہ Husbandکے مقابلے میں مسز Over Weight تھیں ۔جب ان کا تعارف ختم ہوا تو میں نے ان سے پرابلم کا پوچھا تو انھوں نے رونا شروع کر دیا۔

خیر پتہ یہ چلا کہ شادی کے پہلے چھ سال تو بہت ہی اچھے گزر گئے۔پچھلے دو سال سے خاوند صاحب کا affair اپنے ہی بنک کی کسی خاتون سے چل رہا ہے اور وہ شادی کرنے والے ہیں۔یہ سن کر میرا پہلا reactionتو یہ تھاکہ اس صورت میں میں کیا مدد کر سکتا ہوں؟تو کہنے لگیں کہ مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں ؟تو میں نے پوچھا کہ آپ سینکڑوں کام کر سکتی ہیں لیکن یہ تو پتہ چلے کہ آپ چاہتی کیا ہیں۔تو پتہ یہ چلا کہ وہ اپنے خاوند سے بہت پیار کرتی ہیں اور خاوند بھی ان کو بہت پیار کرتا تھا لیکن بس پتہ نہیں بقول ان کے ”کسی کی نظر لگ گئی”۔یہ سن کر میں نے مزید کریدنا شروع کر دیا بس محترمہ کبھی اس لڑکی کو چڑیل بولیں’ کبھی لڑکے کے ماں باپ کو برا بھلا کہیں’کبھی زمانے کو کوسیں’کبھی کچھ کبھی کچھ’انھوں نے  ہر ایک کو برا بھلا کہا لڑکے کو بھی اور اس کے خاندان کو بھی۔

اتنا برا بھلا کہنے کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ اگر اس کا خاندان اتنا ہی برا ہے تو آپ پھر اسکے ساتھ کیوں رہنا چاہتی ہیں؟تو جواب ملا کہ بس مجھے اس سے پیار ہے۔میں نے دل میں سوچا کہ ‘اچھا پیار ہے’۔میں ان کی زندگی کے بارے میں مزید کریدتا رہا۔پتہ یہ چلا کہ چھوٹے موٹے جھگڑے شادی کے دو تین ماہ بعد ہی شروع ہو گئے تھے۔پہلے Joint Family میں رہتے تھے۔ایک سال کے بعدانہی خاتون کے اصرار پر ان کے husband نے گھر علیٰحدہ لیا لیکن جھگڑے ختم نہ ہوئے۔ایک اور بات نوٹ کی کہ سوال میں ان سے پوچھتا تھا اور جواب ان کی ماں دیتی تھی اور مجھے بار بار ان کو یاد دلانا پڑتا تھاکہ مسئلہ ان کا ہے آپ کا نہیں پلیز ان کو بولنے دیں۔

اس سے مجھے کچھ کچھ شک پڑنا شروع ہو گیا کہ ان محترمہ کی ماں کااس سارے کام میں ضرور کوئی ہاتھ ہے ۔خاوند کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ ذرا خاموش طبع ہے۔لڑائی کے دوران میں بھی خاموش ہی رہتا ہے۔ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے گھریلو قسم کا لڑکاہے۔دفتر سے گھر’گھر سے دفتر۔ایک طرف جو لڑکے کی personality بیان کی گئی وہ ان کی اپنیpersonalityسے بالکل Opposite تھی۔میں Jig saw puzzle کو حل کرنے کیلئے مزید کریدتا رہا۔گھر میں لڑائیوں کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ بیگم صاحبہ ذرا extrovertقسم کی خاتون تھیں روز سارا سارا دن یا ماں کے گھر چلی جاتی تھیںیا پھر سہیلیوں کی طرف۔فیشن’میک اپ’TV’ فلمیں’رسالے پڑھنے کا بہت ہی شوق۔گھر کے کام کاج سے کوئی غرض نہیں نہ ہی کوئی شوق۔وہ اپنی ماں سے روز ملتی تھیں لیکن سسرال میں مہینے میں ایک مرتبہ بھی ناک منہ چڑھا کر جاتی تھیں۔اس بات پر بھی کئی دفعہ لڑائی ہوئی’ مہینہ میں بیس  دن کھانا یا تو باہر جا کے کھایا جاتا تھا یا پھر باہر سے منگواکر کھایا جاتا ہے۔گھر میں 3ملازمین ہر وقت موجود تھے۔صاحب کو یہ بھی برا لگتا تھا کہ Privacy نہیں اور اس پر بھی ہر وقت لڑائی ہوتی تھی ۔محترمہ کی فضول خرچیوں پر بھی لڑائی رہتی تھی۔

زندگی میں کوئی Romance نہیں بچا تھا۔ایک سال کے بعد ہی ان کے خاوند خاموش سے خاموش ہوتے گئے اور اب چھٹی والے دن بھی سارا دن گھر رہنے کے باوجود بھی کم ہی بات کرتے ہیں۔بچوں کو بہت پیار کرتے ہیں۔ان کے ماں باپ سے ملتے ضرور ہیں لیکن خاموش رہتے ہیں۔بقول خاتون کے ان کو میری ماں پسند نہیں۔

میرے مزید پوچھنے پر پتہ چلا کہ آپ اپنے خاوند کیلئے کیا کرتی تھیں تو ایسے لگا کہ میں نے کوئی alien سا سوال پوچھ لیا ہے میں نے clarify کرنے کیلئے پوچھا کہ اس کا کوئی کام’ اس کے کپڑوں’کھانے کی ذمہ داری’کبھی اس کیلئے Special Dinner تیار کرنا وغیرہ وغیرہ کچھ تو کرتی ہونگی۔جواب دھیما سا منفی ملا۔فوراً ہی ماں بولی کہ میری بیٹی کو ایسے کام نہیں آتے۔وہ ملازمہ تو نہیں ہے ڈاکٹر ہے ڈاکٹر۔تو میں نے پوچھا اچھا آپ Job کرتی ہیں تو پتہ یہ چلا کہ نہیں۔ماں نے پھر لقمہ دیا کہ ڈاکٹروں کو جتنی تنخواہ ملتی ہے اتنا تو اس کا میک اپ کا خرچہ ہے۔دل میں سوچا کہ وہ تو نظر آرہا ہے۔(معاف کیجئے گا جو سچ تھا وہی بتا رہا ہوں) محترمہ کے بال لمبے تھے’جو کہ انھوں نے شادی کے بعد کٹوا دیئے اس پر بھی لڑائی ہوئی۔آٹھ سال میںپچاس  پائونڈ وزن gainکر چکی تھیں جس پر کئی مرتبہ خاوند نے کہا کہ یار کچھ کام کیا کرو یا  exercise ہی کر لیا کرو۔سارا دن گھر میں گھومنا پھرنا’سونا TV دیکھنا اچھا نہیں۔اس پر بھی محترمہ نے بہت ہی شور مچایا۔اس طرح کی سینکڑوں اور بھی باتیں پتہ چلیں۔پھر میں نے ان سے اس لڑکی کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیسی ہے جس سے اُن کے خاوند کا affairہے۔انھوں نے اس کے بارے میں بھی detailed انفارمیشن مہیا کیں۔

خیر مختصراً یوں کہ کچھ کچھ سمجھ آنے لگ پڑی کہ مسئلہ ہے کیا۔یہ منفی سوچ کا ایک اور typical کیس تھا۔ تو میں نے  finally  پوچھا کہ آپ کے خاوند سے بات ہو سکتی ہے تو کہا کہ نہیں اس سے نہ بات کریں جو کہنا ہے مجھ سے کہیں۔تو میں نے کہا کہ جو کچھ آپ نے مجھے بتایا ہے اس سے تو مجھے یہی لگ رہا ہے کہ آپ نے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے اور آپ کے خاوند کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ بھی شاید یہی کرتا۔اب اگر آپ واقعی رشتے کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں تو جو کچھ کرنا ہے آپ کو ہی کرنا پڑے گا۔اب آگے آپ کی مرضی ہے۔تو کہنے لگیں کہ بتائیں کہ کیا کروں۔تو میںنے کہا کہ اب آپ غور سے بات سنیں پھر میں نے ان کو کہا کہ محترمہ آپ کو سب سے پہلے تو یہ بات دل سے نکالنی پڑے گی کہ وہ آپ کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے یہ تمام آپ کی منفی سوچ کا نتیجہ ہے۔جتنی بھی باتیں آپ نے مجھ کو بتائی ہیں اس سے لگتا ہے کہ آپ کاhusband آپ کو clue دیتا رہا ہے کہ اس کو کیا پسند ہے کیا نہیں لیکن آپ نے ہمیشہ اس کو منفی لیا اور روز روز کی لڑائی سے بچنے کیلئے آخر اس نے یہ قدم اُٹھالیا۔اس نے آپ کو بتانے کی  ہر ممکن کوشش کی لیکن آپ اپنی زندگی میں اتنی مگن تھیں کہ آپ اپنا  life style  بدلنے کو ہی تیار نہ ہوئیں لیکن اس کو بدلنا چاہتی رہیں۔ آپ کی زندگی صرف اسی وقت بدل سکتی ہے جب آپ خود کو بدلیں گی۔اگر آپ sincerely کچھ کرنا چاہتی ہیں تو try کر لیجئے اگر بہت دیر نہ ہو گئی ہوتو شاید کچھ ہو جائے لیکن جو میں بتائوں گا وہ کریں اگر کوئی فائدہ نہ بھی ہو تو کرتی جائیں اگر خدا نے چاہا تو شاید ٹھیک ہو ہی جائے۔

یہ سن کر انھوں نے رونا شروع کر دیا اور اپنی ماں سے لڑائی شروع کر دی کہ یہ سب کچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے اور اپنے خاوند کا نام لے کر کہا کہ میں تو پہلے ہی کہتی تھی کہ وہ ایسے نہیں ہیں۔خیر میں نے بات کاٹ کر کہا کہ چلئے چھوڑیں جو ہوا اب اُس کو دیکھیں جو کہ آپ کو کرنا ہے ۔تو میں نے جو کچھ ان کو بتایا وہ کچھ ایسے ہے۔

O       جب آپ کا خاوند آئے تو آپ گھر موجود رہیں۔اس کیلئے کھانا پکائیں اور اس کو اس کے affair کی وجہ سے کوئی  taunt نہ کریں نہ ہی اس کا ذکر کریں بالکل ایسے  actکریں جیسے سب کچھ نارمل ہے۔اس کیلئے تیار ہوں۔

O       اُس کے دن کے بارے میں پوچھیں۔

O       اگر اس نے کھانا کھا بھی لیا ہو تب بھی اسے کچھ نہ کچھ کہیںاور صرف یہ کہیں کہ آج سے میں نے کھانا آپ کے ساتھ ہی کھانا ہے نہیں تو میں نہیں کھائوں گی۔یہ کہتے اور اس کے بعد اس بات کو بھول جائیں۔

O       اچھا وقت گزاریں۔اس کے کام کریں۔اس کو appreciate کریں۔

O       اس کو بتائیں کہ آپ بال لمبے کر رہی ہیں۔

O       اب ماں کی طرف روزانہ جانے کی ضرورت نہیں۔

O       دن میںتین سے چار  مرتبہ فون کر کے دفتر میں اس کا حال پوچھیں چاہے وہ شروع شروع میں کال نہ بھی لے۔

O       exercise شروع کریں۔اگر وہ آپ کے ساتھ مل کر walk کرے تو ٹھیک ہے ورنہ آپ خود کر لیجئے۔weight lose کیجئے۔

O       کپڑے اس کی پسند کے پہنیں۔

O       اگر اسے میک اپ زیادہ پسند نہیں تو نہ کریں۔

O       گھر سے دو ملازمین کو فارغ کر دیں۔

O       گھر کے کام کاج خود کرنا شروع کردیں۔

O       بچوں کے ساتھ مل کر weekend کوenjoy کرنے کا پروگرام بنائیں۔

O       نمازیں پڑھنا شروع کریں۔

O       کسی بات پر بھی اس کو criticize یا فضول بحث نہ کریں۔

یہ سن کر وہ حیران ہوئیں اور کہا کہ یہ سب تو وہ مجھے کہا کرتے تھے آپ کو کیسے پتہ چلا۔میں نے کہا کہ یہ ساری باتیں آپ نے مجھے اُس لڑکی کی personality بیان کرتے ہوئے خود بتائیں ہیں۔یہی تو وجہ ہے کہ اب آپ کا خاوند اُس خاتون کو پسند کرنے لگا ہے کیونکہ جو آپ کو کرنا چاہیئے تھا اب اُس خاتون نے کرنا شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ میں نے یہ کہا کہ بھول جائیں کہ آپ کی عمر اس لڑکی سے چار سال بڑی ہے اور وہ آپ سے زیادہ خوبصورت ہے۔اپنا دھیان رکھیں۔آپ یہ دیکھنا چھوڑ دیں کہ آپ کے پاس کیا نہیں آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے پاس کیا ہے۔آپ ڈاکٹر ہیں’ خوبصورت ہیں’آپ کے دو بہت ہی پیارے سے بچے ہیں۔آپ اس کی بیوی ہیں۔آپ کا خاندان اچھا ہے۔صرف جسمانی خوبصورتی ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔یہ تمام باتیں رشتے کی جان ہیں۔آپکی منفی سوچ صرف یہ بتا رہی ہے کہ وہ لڑکی آپ سے زیادہ جوان اور خوبصورت ہے۔جب کہ آپ وہ تمام باتیں بھول رہی ہیں جو آپ کے پاس موجود ہیں۔

خیر میں نے کوئی ایک گھنٹہ ان کو مختلف tips دیں اور بات آئی گئی ہوگئی۔تقریباً 8مہینے کے بعد ایک دن مجھے ان کی کال آئی کہ وہ ملنا چاہتی ہیں جب وہ آئیں تو ان کے ساتھ ان کا خاوند بھی تھا۔دونوں بہت ہی خوش تھے۔ان کو دیکھ کر ہی پتہ چل گیا کہ آخر انھوں نے وہ سب کچھ کر ڈالا۔وزن بھی lose’ میک اب بھی کم’بال بھی لمبے اور بہت ہی خوش۔تو کہا کہ سلمان کہتے تھے کہ آپ سے ملنا ہے جس کی وجہ سے ہم آج اکٹھے ہوئے ہیں۔

اب آپ خود سوچئے کہ یہ کیسے ہوا مثبت سوچ کی وجہ سے۔ جس دن اس خاتون نے یہ سوچناچھوڑ دیا کہ وہ مظلوم ہیں۔ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اور اس کی بجائے اپنے اندر دیکھنا شروع کر دیا کہ میں کیا کر سکتی ہوں اس relationship کو برقرار رکھنے کیلئے اسی دن ان کی زندگی بدلنا شروع ہو گئی۔

یاد رکھیئے کہ Positive Thinking سے آپ اپنی زندگی میں معجزانہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

ہم آپ کیلئے دُعا گو رہیں گے ہمیں اپنی دعائوں میں یاد رکھیئے گا۔اگر آپ کی زندگی میں اس آڈیوپروگرام سے کوئی خوشنما تبدیلی آئے تو ہمیں ضرور بتائیے گا۔آپ کا واقعہ کسی اور شخص کی زندگی بدلنے کیلئے کارآمد ہو سکتا ہے اور اس کا صدقہ جاریہ کی طرح ہمیشہ کیلئے آپ کو ثواب ملتا رہے گا۔ایک قانونِ قدرت یاد رکھیئے کہ ہماری زندگیوں میں خوشیاں دوسرے لوگوں کی زندگی میں خوشیاں بانٹنے سے ہی آتی ہیں۔