Purpose of Life (زندگی کا مقصد اور اُس کا حصول)

Transcription of Faiez Seyal’s Urdu best-seller Audio Program “Purpose of Life and How to Get it” from 1995 

اپنی پروفیشنل زندگی کے پچھلے بارہ سالوں میں لاکھوں لوگوں سے بات چیت کرنے اور ہزاروں لوگوں کی مشاورت کرنے کا موقع ملا ۔یہ لوگ اپنی زندگی سے کسی نہ کسی وجہ سے مطمئن نہ تھے۔اس کی بہت ساری وجوہات تھیں لیکن ایک وجہ مجھے تمام لوگوں میں مشترکہ نظر آئی اور وہ یہ تھی کہ وہ بلامقصد زندگی گزار رہے تھے۔ان لوگوں میں خواتین و حضرات ‘ نوجوان ‘ اُدھیڑ عمر اور زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔

ان میں سے اکثر لوگ تو یہ جانتے ہی نہیں تھے کہ زندگی کا مقصد بھی ہوتا ہے اور کچھ جو یہ جانتے تھے کہ زندگی کا مقصد ہے ان کے دل میں ہزاروں طرح کے سوال اور وہم و گماں پنہاں تھے۔اگرچہ اس موضوع پر میں مختلف مواقع پر سینکڑوں لیکچر دے چکا ہوںلیکن اتنے بڑے مسئلے کیلئے یہ ناکافی محسوس ہوئے اور اسی وجہ سے اس آرٹیکل کی ضرورت محسوس ہوئی۔

بدقسمتی یہ ہے کہ بچے جب بڑے ہوتے ہیں ایک ہجوم کو بھاگتے دیکھتے ہیں اور آنکھیں بند کرکے ہجوم کے ساتھ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کے یہ ہجوم کہاں جا رہا ہے اور کیا اس ہجوم کی منزل اورمیری منزل ایک ہی ہے۔ساری زندگی اُسی ہجوم کا تعاقب کرتے ہوئے گزر جاتی ہے اور زندگی کے آخری حصہ میں بھاگتے بھاگتے جب تھک جاتے ہیں اور سانس لینے کیلئے بیٹھتے ہیں تو اس وقت یہ جان کر مایوس ہوتے ہیں کہ میں یہ کہاں نکل آیا۔میں یہاں تو نہیں آنا چاہتا تھا۔پھر وہ اپنی باقی زندگی اُسی ہجوم کو الزامات دینے میں گزار دیتے ہیں۔

آگے پیچھے’ اوپر نیچے نظر ڈالیے تو دیکھئے کہ کیا آپ کو کوئی ایسی شے نظر آتی ہے جس کاکوئی مقصد نہ ہو۔چاہے وہ آسمان ہو’ ستارے’چاند’سورج یا درخت ہو یا زمین غرض یہ کہ دنیا کی کوئی شے یا جاندار چیز بغیر مقصد کے نظر نہیں آئے گی۔یعنی کہ کائنات کی تخلیق کا ایک مقصد ہے۔آپ ذرا اپنے اندر نظر دوڑائیے آپ کے جسم کے سینکڑوں حصوں میں سے کوئی ایسا عضو نظر نہیں آئے گا جس کا کوئی مقصد نہ ہو۔چاہے وہ آنکھیں ہوں’ناک ‘کان’ہاتھ’پائو ں یا جگر’دل’ پھیپھڑے یا آنتیں۔ہر ایک عضو کا ایک کام ہے۔تو کیا یہ بات عقل مانتی ہے کہ اگر کسی شے کے تمام چھوٹے چھوٹے حصوں کا ایک مقصد ہے تو اُن تمام حصوں کے مجموعے کا کوئی مقصد نہیں ہوگا؟ اگر انسان کے تمام حصوں کا ایک خاص مقصد ہے تو اسی طرح ان اعضاء کے مجموعے یعنی کہ حضرتِ انسان کا بھی ایک مقصد ہونا چاہیے۔قرآن پاک میں سورة الموء منون کی آیت 115میں ارشادِربانی ہے:

”  کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہوکہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جائو گے۔  ”  (الموء منون  : ١١١٥)

سورة القیامہ کی آیت 36میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:

”  کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اُسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا۔  ”  (القیمٰہ:  ٣٦)

شکر ہے ان آیات سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ تمام کائنات اور اس کائنات کی ہر شے کی طرح انسان کی زندگی کا بھی ایک مقصد ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کا مقصد ہے کیا؟لیکن اس سوال کے جواب سے پہلے آپ سے ایک ریسرچ Share کرتا چلوں۔١٩٩٨ئمیں ہم نےHigh سکول کے تین سو  بچوں اور بچیوں سے یہ سوال پوچھا کہ آپ کی زندگی کا کیا مقصد ہے؟  اُن میں سے آدھے سے زائد تو اسی بات پرپریشان ہو گئے کہ کیا زندگی کا مقصد بھی ہے باقی آدھوں نے جو جوابات دیئے وہ کچھ ایسے تھے:

بچوں کے جوابات کچھ ایسے تھے۔

O       ترقی کر کے اونچی پوزیشن پر پہنچنا

O            Ph.Dکرنا ۔ C.A.  کرنا  وغیرہ وغیرہ

O       پیسہ کمانا

جبکہ بچیوں کے جوابات کی شکل کچھ ایسے تھی:

O       اچھی جگہ شادی کرنا

O       اولاد کی تربیت کرنا

O       گھر بسانا

ان جوابات کو غور سے سنیئے اور ان کے بارے میں ذرا سوچئے تو آپ کو معلوم ہو جائے گاکہ ہمارے معاشرے میں ایک جو بے چینی اور عجیب قسم کی افراتفری نظر آتی ہے اُس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ لوگوں کو یہی نہیں معلوم کہ زندگی کا مقصد کیا ہے۔ان بچوں کے جوابات سن کر یہ بھی علم ہو جاتا ہے کہ ان کے والدین اور اساتذہ کو بھی زندگی کے مقصد کا علم نہیںہوگا۔آخر ان بچوں نے اسی ماحول سے ہی تو یہ سیکھاہے۔

جب بچہ آنکھیں کھولتا ہے تو وہ اپنے باپ کو سوائے پیسے کے بارے میں اور کسی موضوع پر بات کرتا نہیں دیکھتا تو وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ شاید یہی زندگی کا مقصد ہے۔وہ باپ کو 10,10 روپے کیلئے جھوٹ بولتا دیکھتا ہے’ ترقی اور تنخواہ  بڑھوانے کیلئے کوشش کرتا ہوا دیکھتا ہے’ ماں باپ کو پیسے پر ہی لڑتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ یہ جان لیتا ہے کہ زندگی  بغیر پیسے کے کچھ بھی نہیں۔ بچیاں بھی ماں سے یہی سیکھتی ہیں۔

O       کچھ پڑھ لو رشتہ نہیں ملے گا

O       کچھ گھر گھرستی سیکھ لو رشتہ نہیں ملے گا

O       انگریزی سیکھ لو اچھا رشہ مل جائے گا

O       MBA کر لو ‘ ڈاکٹر بن جائو اچھا رشتہ مل جائے گا

O       سیدھی ہو کر چلو نہیں تو کوئی رشتہ نہیں دے گا

O       بالوں کو سنوارو ‘ اپنا دھیان رکھو رشتہ نہیں ملے گا

جب یہ بچی بڑی ہوتی ہے تو اس کے لاشعور میں زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے شادی کرنا۔

میںنے پہلے یہ کہا کہ کوئی شے یا انسان بغیر مقصد کے تخلیق نہیں ہوا اب میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کوئی کام بغیر مقصد کے کرتے ہیں؟

نہانے کا مقصد’ کھانے کا مقصد’ پینے کا مقصد’سونے کا مقصد’پڑھنے کا مقصد’سکول و کالج جانے کا مقصد’ دفتر جانے کا مقصد غرض یہ کہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اگر کسی وقت آپ کچھ نہ بھی کررہیں ہوں صرف لیٹے ہوئے ہوں پھر بھی اس لیٹنے کا ایک مقصد ہو گا جیسے کہ آرام کرنا’ وقت گزارنا۔

تو ہر چیز کا ایک مقصد ہے اور ہر ایک کام کرنے کا بھی ایک مقصد ہے۔لیکن مقصد کیا ہے؟ ٹھیک ہے یا غلط ہے؟ اچھا ہے یا برا ہے؟ اس سے اُس کام کے بارے میں لوگوں کے رویے کا نہ صرف اندازہ لگایا جا سکتا ہے بلکہ کام کے نتیجہ کے بارے میں قیاس آرائی بھی کی جا سکتی ہے۔

مثال کے طور پر دو بچے سکول یا کالج جاتے ہیں۔ایک بچہ کالج اس لئے جاتا ہے کہ کالج سے پاس ہونے کے بعد اسے ملازمت مل جائے گی اور جبکہ دوسرا  بچہ کالج اس لیے جاتا ہے کہ علم حاصل کرنا ہے ۔آپ کے خیال میں کیا دونوں بچوں کا کالج میں رویہّ اور کارکردگی ایک ہوگی؟جی نہیں! بالکل نہیں ‘ دونوں کے رویے اور کارکردگی میں زمین آسمان کا فرق ہوگا۔

جو بچہ کالج میں علم کیلئے نہیں بلکہ ڈگری حاصل کرنے کیلئے جاتا ہے وہ ڈگری لینے میں اور زیادہ  interested ہوگا۔اسے جب بھی موقع ملے گا نقل کرنے کا یا رشوت دے کر پاس ہونے کا یا guess پیپر سے بیس سوالات تیار کرکے امتحان دینے کا یا ہوم ورک میں دوسروں کی مدد لینے کا وہ سب کچھ کر گزرے گا کیونکہ مقصد ڈگری حاصل کرنا ہے۔نہ صرف یہ بلکہ اگر ڈگری بغیر پڑھے مل سکے تو وہ اس موقع کا استعمال ضرور کرے گا کیونکہ مقصد تو ڈگری ہے نہ کہ علم۔

جب کہ دوسرا بچہ جو علم حاصل کرنے کیلئے کالج جاتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھے گا زیادہ محنت کرے گا’ اساتذہ سے سوال و جواب کرے گا’ گھر کا کام اچھے طریقے سے کرے گا’ چیٹنگ (Cheating)نہیں کرے گا۔اگر کلاس میں ٹیچر نہیں ہوگا تو اس بات پر خوش ہونے کی بجائے اور سیر کرنے کی بجائے لائبریری میں پڑھ کر وقت گزارے گا۔ٹیچر سے guessپیپر کی Demand نہیںکرے گا اور صاف ظاہر ہے کہ اس بچے کی کارکردگی امتحانوں میں بھی بہت بہتر ہوگی۔

اب ذرا سوچئے کہ ہماری نئی نسل کے بچے جو کہ پیسہ کمانے کو یا زندگی میں ترقی کرنے کو ہی زندگی کا مقصد سمجھیں اور بچیاں جو شادی کرنے اور اولاد کی تربیت کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنا بیٹھیں’ ان بچوں اور بچیوں کا زندگی میں رویہ اور کارکردگی کیا ہوگی؟ان بچوں کو جب جب زندگی میں اپنے مقصد کے حصول کاموقع ملے گا  وہ کسی طرح سے بھی اپنے زندگی کے مقصد کو پورا کرنے کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے اور بدقسمتی سے یہی آپ کو نظر آتا ہے کہ یہ بچے اِسی مقصد کے ساتھ سکول میں پھر کالج میں اور پھر جب دفتروں میں کام کرتے ہیں تو ہر چیز کے پیچھے ان کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے پیسہ کمانا۔تو جب ان کو پیسہ کمانے کا کسی بھی جائز یا ناجائز طریقے سے موقع ملے گا تو کیا وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے؟

اسی طریقہ سے زیادہ تر بچیاں بھی آپ کو جیسی حرکتیںکرتی نظر آتی ہیں اور جیسے کپڑوں میں نظر آتی ہیں اور جس طرح میک اَپ میں لدی نظر آتی ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہیں۔اب آپ کو اس کی وجہ بھی سمجھ آگئی ہوگی۔

میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ پیسہ کمانا یا شادی کرنا غلط ہے میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ بدقسمتی سے لوگوں نے دو فرق چیزوں کو گڈمڈ کر دیا ہے۔ایک ہے مقصد اور ایک ہے وسیلہ یا ذریعہ۔اس کو سمجھنے کیلئے ایک مثال پر غور کیجئے۔

فرض کریں کہ آپ صبح گھر سے اپنی کار میں اسلام آبادجانے کیلئے نکلتے ہیں’ راستے میں آپ رُک کر گاڑی میں پیٹرول ڈلواتے ہیں ‘ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں یا چائے پیتے ہیں’آرام کرتے ہیں۔ اس مثال میں سفر کا مقصد اسلام آباد جاناہے ۔چائے پینا’ کھانا کھانا یا آرام کرنا نہیں ہے بلکہ یہ تو وسائل یا ذرائع ہیں۔

اگر یہ چیزیں جو کہ ذرائع ہیں وہی مقصد بن جائیں تو کیا ہوگا۔یعنی کہ اگر چائے پینا’ کھانا کھانا اور آرام کرنا’ سفر کا مقصد بن گیا تو شاید آپ اسلام آبادکبھی بھی نہ پہنچ سکیں۔اسی طرح شادی کرنا’ بچوں کی پرورش کرنا ‘کالج جانا’پیسہ کمانا’نوکری کرنا’ترقی کرنا’ زندگی کے مقصد تک پہنچنے کے ذرائع تو ہو سکتے ہیں لیکن زندگی کا مقصد نہیں ہو سکتے۔لیکن اگر یہ ذرائع مقصد بن گئے توزندگی میں بے چینی’ مایوسی اور بلکہ تباہی ہی آجائے گی۔اس سے پہلے کہ میں اس سوال کی طرف آئوں کہ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے’ ایک اور بات کا ذکر کرنا بہت ہی ضروری سمجھتا ہوں۔

اگر آج کل کے انسان کی زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ کھاتا ہے’پیتا ہے’ملتا جلتا ہے’سوتا ہے’نہاتا ہے’اپنی جسمانی ضروریات پوری کرتا ہے اور روزی کماتا ہے۔اب اگر جانوروں کی زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام کام تو وہ بھی کرتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ ہم انسان روزی کمانے کیلئے دفتروں میں چلے جاتے ہیں اور جانور اپنی روزی کا انتظام کرنے کیلئے جنگلوں میں نکل پڑتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان نے بھی وہی کرنا تھا جو جانور کرتا ہے تو انسان کو پیدا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ذرا سوچئے تو سہی کہ لاکھوں قسم کے حشرات چرند’پرند اور دوسری مخلوقات اس کائنات میں پتہ نہیں کتنے کروڑوں سال سے رہ رہی تھیں۔خدا کو انسان بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اگر انسان نے بھی ویسے ہی زندگی گزارنی تھی جیسے کہ جانور گزاررہے تھے بلکہ اس سے بھی بدتر۔قرآن پاک میں سورة الحجر کی آیت 28-35میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو خمیر کی ہوئی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں۔تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کیلئے سجدے میں گر پڑنا۔چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجدہ کر لیا۔مگر ابلیس کہ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شمولیت کرنے والوں سے (صاف) انکار کر دیا۔وہ بولا کہ میں ایسا نہیں کہ اُس انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔فرمایا اب تو بہشت سے نکل جا کہ تو راندہء درگاہ ہے۔اور تجھ پر میری پھٹکار رہے قیامت کے دن تک۔  ”      (الحجر :٢٨-٣٥)

اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ حضرت انسان میں ایسی کون سی خوبی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو اشرف المخلوقات کا نام دیا ہو اور اُس کو اپنے فرشتوں سے سجدے کروائے ہوئے ہوں اور سجدہ نہ کرنے والے فرشتے کو بہشت سے نکال کر قیامت تک اس پر لعنت ڈال دی ہو۔اُن فرشتوں سے سجدے دلوائے جو کہ نہ معلوم کتنے کروڑوں سال سے اللہ تعالیٰ کی خدمت کررہے تھے۔ذرا سوچئے کہ آپ اپنے بچپن کے ملازم کو جس نے ساری زندگی آپ کی خدمت کی ہو ایک نئے ملازم کو لانے کے بعد اُس کو اِس کا ماتحت کردیں تو کوئی وجہ تو ہوگی اس فیصلہ کی۔آئیے اس کی وجہ دریافت کرنے کیلئے قرآن پاک کی مدد حاصل کرتے ہیں۔سورة الانعام کی آیت 165کا ترجمہ ہے:

”  اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا اور ایک کا دوسرے پر رتبہ بڑھایا تاکہ تم کو آزمائے ان چیزوں میں جو تم کو دی ہیں۔بالیقین آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے۔اور بالیقین وہ واقعی بڑی مغفرت کرنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔  ”   (الانعام : ١٦٥)

اور سورة ص کی آیت ٢٦میں ارشاد ہے:

”  اے داء ود! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا اور تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔یقینا جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کیلئے سخت عذاب ہے۔اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔  ”   (ص  :٢٦)

ان آیات سے یہ واضع ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو خلیفہ نام سے بلارہا ہے۔خلیفہ کا مطلب ہے نائب۔اب یہ نائب کون ہوتا ہے اس کو اس مثال سے سمجھئے۔اگر آپ لوگ کسی دفتر یا ادارہ میں کام کرتے ہیں تو کوئی شخص وہاں پر ایسا ہوگا جو کہ آپ کا نائب ہوگا جس کو آپ اپنا ڈپٹی نامزدکرتے ہیں۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی بھی ادارے کا سربراہ اپنے نائب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے اور اسی طرح سربراہ کو اپنا نائب باقی تمام لوگوں سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ اِسی طرح اب یہ سوچئے کہ خدا کو بھی اپنا نائب کتنا عزیز ہوگا کہ اُس نے کسی مخلوق کو نائب کا رتبہ نہیں دیا سوائے حضرت انسان کو اور اُسی نائب ہونے کے ناطے سے انسان کو تمام مخلوقات پر برتری مل گئی اور اُسے اشرف المخلوقات کا نام دے دیا گیا۔

ذرا سوچئے کہ اگر آپ کسی ادارے کے سربراہ کے نائب نامزد ہو جائیں تو آپ کو کیسا لگتا ہے۔لوگوں کے تو زمین پر پائوں ہی نہیں لگتے۔اب ذرا یہ سوچئے کہ اگر ایک چھوٹے سے ادارے کے ایک چھوٹے سے حاکم کے نائب بننے سے اگر لوگوں کے پائوں زمین پر نہیں ٹکتے اور وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے تو جس شخص کو یہ علم ہو کہ وہ اللہ کا نائب ہے اس شخص کی مسرت کا کیا عالم ہونا چاہیے۔آج کے انسان کی بدحالی کو دیکھ کر تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اس کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ وہ کون ہے۔اب یہ سوچئے کہ اللہ کو اس بات کا بھی بخوبی علم تھا کہ یہ نائب زمین میں فتنہ کرے گا’فساد کرے گا اِس کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرما رہا ہے کہ میں وہ جانتا ہوں جو کہ تم نہیں جانتے۔ذرا سورة البقرہ کی آیت 30کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:

”  اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں نے کہا ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے؟ اور ہم تیری تسبیح ‘ حمد اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ ”  (البقرہ   :٣٠)

اس آیت میں یہ صاف الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انسان فساد کرے گا’ خون بہائے گا اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے نہ صرف انسان کو بنایا بلکہ اس کو دوسری مخلوقات پر سبقت دی اور فرشتوں کے اس سوال کے جواب میں فرمایاکہ:

” میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ”

انسان کو نائب بنانے کی وجہ کیا ہے اس کو سمجھنے سے پہلے ایک اور نظریہ کے بارے میں صفائی پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔جس کو صحیح طریقے سے ناسمجھنے کی وجہ سے ہی کافی لوگ زندگی کے مقصد کے بارے میں کنفیوز confused رہتے ہیں۔

قرآن پاک کی سورة الذٰریات 51 آیت 56 میں ارشاد ہے :

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّالِیَعْبُدُوْنِo                                                                     ”  میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں۔  ”

اس آیت کا معنی اور مفہوم عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ خدا نے انسان کو صرف عبادت کیلئے پیدا کیا ہے اور عبادت کا مفہوم عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ نماز پڑھی جائے’ خدا کی تسبیح بیان کی جائے’ روزہ رکھا جائے وغیرہ۔

اس بدگمانی کی وجہ سے بہت سے لوگ زندگی کے مقصد کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا دین اور دنیا میں مطابقت نہیں پیدا کر سکتے۔ایک طرف وہ خدا کو خوش کرنے کیلئے نماز ‘ روزہ ‘تسبیح کرتے ہیں اور پھر دوسری طرف دنیا داری کیلئے کچھ اور کرتے ہیں اور اسی دین اور دنیا کی جنگ میں زندگی ختم کر بیٹھتے ہیں۔ان لوگوں کی زندگی دو حصوں میں ہی بٹی رہتی ہے۔ایک حصہ دین اور دوسرا دنیا۔

اس طرح کے لوگوں سے یہ معاشرہ بھرا ہوا ہے جوکہ خوب پرہیزگار ہیں۔نمازیں پڑھتے ہیں’روزے رکھتے ہیں’ سارا دن ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ دنیا کے معاملے میں جھوٹ بھی بولتے ہیں۔دھوکہ بھی کرتے ہیں۔فراڈ بھی کرتے ہیں۔ وہ دین کو مذہب یعنی پوجاپاٹ تک ہی محدود سمجھتے ہیں اور اس دین کا نفاذ اپنی روزمرہ زندگی پر کر ہی نہیں پاتے۔ان لوگوں کوSplit Personality یعنی کہ دوہری شخصیت والے حضرات کہا جاتا ہے جن کی زندگی میں اسلام کا عمل دخل صرف اور صرف نماز’روزہ’پہناوے’ ختم القرآن تک ہی محدودہے۔

غور کیجئے کہ عربی کا لفظ ‘الیَعْبُدُوْن’ عبد سے نکلتا ہے۔عبد کے لفظی معنی بندہ کے ہیں۔یعنی کہ جس آیت کے معنی ہم عبادت سمجھ رہے ہیں اس عبادت کے معنی پوجا پاٹ نہیں بلکہ بندگی ہے۔

ذرا سوچئے تو صحیح اگر پوجاپاٹ اور تسبیح ہی کرنا خدا کو مطلوب تھا تو یہ کام تو حضرت انسان سے پہلے اور زیادہ احسن طریقے سے فرشتے’ چرند’پرند اور تمام مخلوقات حتیٰ کہ پتے’ درخت’پتھر وغیرہ بھی کر رہے تھے۔قرآن پاک میںسورة الانبیاء کی آیات 19اور 20میں ارشادِربانی ہے:

”  آسمانوں اور زمین میں جو ہے اسی اللہ کا ہے۔اور جو اس کے پاس ہیں۔ وہ اُس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ ہی تھکتے ہیں۔ دن رات تسبیح بیان کرتے ہیں اور ذرا بھی سستی نہیں کرتے۔  ”  (الانبیاء  : ١٩-٢٠)

اور سورة النحل کی آیت٤٩میں ارشاد ہے:

”  یقینا آسمان وزمین کے کُل جانور اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے کرتے ہیں۔اور ذرا بھی تکبرّ نہیں کرتے۔ ”   (النحل  :٤٩)

 اس کو سمجھنے کیلئے ذرا غور کیجئے کہ سوائے انسان اور جناّت کے اللہ تعالیٰ نے ”نہ” کہنے کی صلاحیت کسی مخلوق کو نہیں دی۔روزِاول سے روزِ آخرت تمام مخلوق اُس کی تسبیح بیان کر رہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو اسی لئے بنایا ہے۔وہ  اللہ کے حکم کے آگے ”ناں” نہیں کہہ سکتے۔کروڑوں سال گزر جانے کے بعد آج بھی فجر کے وقت تمام چرند پرند اٹھتے ہیں اور خدا کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور مغرب سے پہلے گھروں میں واپس آجاتے ہیں۔

وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ رات کو فلم بڑی اچھی تھی صبح آنکھ نہیں کھلی یا مغرب کے وقت گھر نہیں آسکتے کیونکہ رات کو تو night life شروع ہوتی ہے۔جبکہ حضرت انسان کے پاس ”نہ”کہنے کی صلاحیت موجود ہے۔جیسا کہ قرآن پاک میں سورة الشمس کی آیات٧تا١٠میں ارشاد ہے :

”قسم ہے نفس کی اور جیسا کچھ اسے سنوارا۔کچھ سمجھ دی اُس کو بُرائی کی اور بچ کر چلنے کی۔جس نے اسے پاک کیا  وہ کامیاب ہوا۔اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا  وہ ناکام ہوا۔  ”   (الشمس  :٧ – ١٠)

اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ نے انسان کو بُرائی اور اچھائی دونوں کی صلاحیت دی ہے۔اب یہ انسان پر ہے کہ وہ کس کا انتخاب کرتا ہے۔سوچئے تو صحیح کہ اگر کسی شخص کے پاس بُرائی کرنے کی choice ہی موجود نہ ہو اور وہ بُرائی نہ کرے تو کیا بڑی بات ہے۔

فرض کریں کہ کسی کو چوری کا موقع ہی نہیں ملا یا نتیجے سے ڈر لگتا ہے اور اُس نے اس سے اجتناب کیا تو اُس میں کیا بڑی بات ہے یا یہی سوچیئے کہ اگر کسی کو شراب ہی نہیں ملتی اور اُس نے شراب نہیں پی تو اُس میں کیا بڑی بات ہے’ ہاں اگر کسی کو شراب مل رہی ہو اور چوری کرنے یا فراڈ کرنے کا موقع بھی مل جائے اور پکڑے جانے کا ڈر نہ بھی ہو۔پھر بھی یہ حضرت انسان اگر سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے کہ نہیں میں نے بُرائی نہیں کرنی تو واقعی یہ خوبی تواس قابل ہے کہ اس کو باقی مخلوق سے سجدہ کروایاجائے۔

تمام چرند پرند اور مخلوقات اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہیں کیونکہ اُن کے پاس choiceنہیں لیکن اگر یہ حضرت انسان تمام کام چھوڑ کر ٹی وی کے پاس سے نماز کیلئے اٹھ جائے تو واقعی یہ خوبی تو اتنی بڑی خوبی ہے کہ اس کو باقی مخلوق سے اعلیٰ رتبہ دیا جائے۔

تو جناب یہ بات تو واضح ہو گئی کہ خدا نے انسان کو باقی مخلوقات کی طرح صرف اپنی تسبیح یا پوجا پاٹ کیلئے پیدا نہیں کیا کیونکہ کسی طرح بھی انسان اِن چیزوں میں باقی مخلوقات پر سبقت نہیں لے جا سکتا۔تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اور اس میں ایسی کون سی خوبی ہے کہ اس کو اشرف المخلوقات کہلوایا اور ایسا کون سا زندگی کا مقصد تھا جو کہ اتنا اشرف ہے’ اتنا اعلیٰ مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو نہ صرف پیداکیا بلکہ اُس کو باقی تمام مخلوقات پر برتری بھی دے دی۔

اس سوال کے جواب سے پہلے میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ خدارا یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ میں نعوذ بااللہ یہ کہہ رہا ہوں کہ نماز پڑھنا یا روزہ رکھنا اور خدا کی تسبیح بیان کرنا ضروری نہیں میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ زندگی کا مقصد نہیں مقصد تک پہنچنے کا ایک وسیلہ یا ذریعہ ضرور ہے۔

زندگی کا مقصد بندگی ہے جیسا کہ شیخ سعدی نے فرمایا:

زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

اور علامہ اقبال نے فرمایا:

میری زندگی کا مقصد

تیرے دین کی سرفرازی

میں اسی لئے مسلماں

میں اسی لئے نمازی

قرآن پاک کی سورة البقرہ کی آیت١٧٧اس بات کی تصدیق کرتی ہے ۔ارشادِ ربانی ہے:

”  ساری اچھائی مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ پر’قیامت کے دن پر’ فرشتوں پر’ کتابِ اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو’جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں’یتیموں’ مسکینوں’مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے’غلاموں کو آزاد کرے’نمازکی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے’جب وعدہ کرے تب اُسے پورا کرے’تنگدستی’ دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے’یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔ ”  (البقرہ  :١٧٧)

تو جناب دیکھ لیجئے کہ اس آیت میں نماز کے ساتھ اور کتنی چیزوں کا بیان ہے!

زندگی کے مقصد کو آسان الفاظ میں سمجھنے کیلئے اب آتے ہیں بندگی کے مفہوم پر:

آپ سے سوال یہ ہے کہ اگر آپ کے ادارہ میں یا دفتر میں آپ کا کوئی نائب ہے تو آپ اُس سے کیا چاہتے ہیں؟اس سوال کے جواب میں لوگ کہتے ہیں کہ ہم اپنے نائب سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے کام میں ہماری مدد کرے۔جیسے سمجھئے کہ گھر میں بیوی آپ کی نائب ہے یا کسی سفر میں جاتے ہوئے آپ اپنے بڑے بیٹے کو اپنا نائب بنا کر جاتے ہیں۔ہر حالت میں آپ اپنے نائب سے یہی توقع کرتے ہیں کہ وہ جو کام آپ نے اس پر سونپا ہے وہ اُس کام کو بجا لائے۔تو آپ سوچئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نائب سے کیا چاہتا ہو گا وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ آپ اُس کے نائب ہونے کے ناطے اُس کے احکام کی پیروی کریں اوراُس کے کام میں اس کی مدد کریں۔

سوچنے والی بات یہ ہے کہ وہ کیا کام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نائب ہونے کے ناطے سونپا تو قرآن پاک میں اس کا جواب موجود ہے۔سورة العصر میں ارشاد ہے:

”  زمانے کی قسم’ بے شک انسان سر ا سر نقصان میں ہے۔سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور جنہوں نے آپس میں حق بات کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔”   (سورة العصر :١-٣)

دیکھئے کہ اس آیت میںایمان لانا ابتدا ہے انتہا نہیں’ جیسے کہ آپ نائب ہونے کے ناطے سب سے پہلے اپنے Boss یا حاکم کیSuperiority اور اتھارٹی پر ایمان لاتے ہیں اور اُس کے بعدوہ کام کرتے ہیں جو کام سونپا گیا ہو۔اب جو انسان کو کام سونپا گیا ہے وہ نیک اعمال اور حق بات کی تلقین اور صبرکی تلقین کرنا ہے۔نیک اعمال کیا ہیں اس بات کی وضاحت کرنے سے پہلے ذرا یہ سمجھ لیجئے کہ نائب کی اپنی کوئی  authority نہیں ہوتی۔نمبر ایک یعنی کہ اس حاکم کو اپنی authority  دے کر کے اُس کو مضبوط بناتا ہے۔جیسے کسی ملک کے صدر غیر ممالک کے دورے پر جاتے ہوئے سینٹ کے کسی ممبر کو نائب یا قائم مقام صدر چن لیتے ہیں۔صدر کی غیر موجودگی میں نائب یا قائم مقام صدر ‘ صدر کا کام کرتا ہے۔لیکن یاد رکھیئے اس کی اپنی اتھارٹی کوئی نہیں ہے وہ باقی تمام سینٹ کے ارکان کی طرح ایک رکن ہے لیکن صدر صاحب کے حکم سے ان کی غیر موجودگی میں اُس کو قائم مقام صدر ہونے کے ناطے اتھارٹی مل جاتی ہے اور جب صدر صاحب واپس آتے ہیں تو وہ اُس سے اپنی اتھارٹی واپس لے لیتے ہیں۔اسی طرح جب آپ چاہیں اپنے نائب سے اپنی دی ہوئی اتھارٹی واپس لے سکتے ہیں۔یاد رکھیئے کہ انسان کی خلافت ہے حاکمیت نہیں۔اگر آپ بھی صدر کی موجودگی میں حاکم بن بیٹھیں اور اُس کی پالیسیوں اور احکامات کا نفاذ کرنے کی بجائے پالیسیوں کو ہی تبدیل کرنا شروع کر دیں تو کیا وہ یہ بات پسند کرے گا؟ ہرگز نہیں’ تو جناب! اللہ تعالیٰ کیسے کر سکتا ہے۔اور یہی فرق ہے خلافت اور حاکمیت کا۔خلیفہ کا کام احکامات کو بدلنا نہیں بلکہ احکامات کی بجا آوری اور نفاذ ہے۔احکامات کو بدلنے کی اتھارٹی صرف حاکم کے پاس ہوتی ہے۔خلیفہ کے پاس نہیں۔

اب وہ نیک اعمال کیا ہیں؟ قرآن پاک میں سینکڑوں نیک اعمال کا ذکر ہے جیسے ایک دوسرے کی نیک کام میںمددکرنااور بُرائی سے روکنا’ ایک دوسرے کی خدمت کرنا’ رشتے داروں’ اولاد’ماں باپ سے حسنِ سلوک کرنا’عدل’احسان’انصاف’پیارومحبت’ علم حاصل کرنا’ جانوروں سے رحم دلی کرناوغیرہ وغیرہ۔آسان الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ ”دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو” اور یہ اس لئے کہ اس دنیا کا نظام چلتا رہے۔

اللہ تعالیٰ کا کام اس کائنات کو چلانا ہے اور زمین پر نائب ہونے کے ناطے آپ کا کام اس دنیا اور اس میں رہنے والی مخلوق کی دیکھ بھال یعنی کہ custodianshipہے۔حاکمیت نہیں۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کو صرف خدمتِ خلق کرنی چاہیے اور کمانا نہیں چاہیے۔ضرور کمائیے لیکن اس وقت سوال تو یہ ہے کہ کس کیلئے؟خوش قسمتی سے اس کا جواب بھی سورة  اٰلِ عمران کی آیت ٩٢میں موجود ہے’ارشادِ باری ہے:

”  جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پائو گے اور تم جو خرچ کرو اُسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے۔  ”  (اٰل عمران  :٩٢)

سوچئے کہ آپ خرچ کیسے کر سکتے ہیں جو آپ کے پاس موجود نہ ہو۔طبرانی میں روایت ہے کہ آپۖ نے فرمایا:

”  اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے اپنے اُن بندوں کو جو اپنی روزی حلال طریقے سے کماتے ہیں۔  ”  (طبرانی)

تو جناب واضح رہے کہ کمانا بُرا نہیں لیکن کمانا زندگی کے مقصدتک پہنچنے کیلئے ایک ضرورت ہے۔

نائب اس لئے نہیں appoint کیا جاتا کہ حاکم کی مجبوری ہے بلکہ اس لئے کہ اس طرح نائب کی آزمائش ہو جائے گی کہ کون بہتر ہے اور کون نہیں اور اس کام کے بدلے اس نائب کو اپنی خدمات کا اجر مل جائے گا۔یعنی نائب کو نامزد کرنے کا مقصد نائب کو اپنی روزی روٹی کمانے کیلئے موقع مہیا کرنا ہے یہ حاکم کی مجبوری نہیں ہے۔کیونکہ اگر یہ نہیں تو اور کئی نائب ‘حاکم کو تو مل جائیں گے جو حاکم کی اطاعت کر کے اپنی خدمت کی مزدوری لے لیں۔اس بارے میں سورة المُلک کی آیات ١ اور   ٢  میں ارشادِ ربانی ہے:

”  بہت با برکت ہے وہ (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔جس نے موت اور حیات کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھا کام کون کرتا ہے۔اور وہ غالب (اور) بخشنے والا ہے۔  ”   (الملک :١-٢)

ذرا غور کیجئے کہ اگر یہ نظام نہ ہوتا تو انسان بھی جانور کی طرح اکیلا اپنے لیے ہی جیتا۔ذرا غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا اور وہ ہماری خصلت سے بخوبی واقف ہے۔وہ جانتا تھا کہ حضرتِ انسان کبھی بھی وہ کام بغیر کسی لالچ یا مطلب کے نہیں کرے گا۔آپ خود سوچئے اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو کوئی دوسرا شخص وہ چیز آپ کو کیوں دے جب تک کہ اس کے بدلے میں اُس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ذرا سوچئے کہ

کیا آپ ایک ایسے ڈاکٹر کو فیس دینا پسند کرینگے جو آپ کی تکلیف کو دور نہ کر سکے؟

کیا آپ ایک ایسے استاد کو فیس دینا پسند کرینگے جو آپ کو امتحان کی تیاری نہ کرواسکے؟

کیا آپ ایک ایسے شخص کو پیسے دینا پسند کرینگے جو آپ کی گاڑی کی مرمت نہ کر سکے یا آپ کو آپ کی مرضی کے کپڑے مہیا نہ کر سکے؟

دیکھئے جناب! اگر یہ نظام نہ ہوتے تو انسان کی زندگی جانوروں جیسی ہی ہوتی۔لیکن اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا کہ یہ دنیا کیسے چلانی ہے۔اس لئے اُس نے لوگوں کو مختلف خوبیاں دیں تاکہ زندگی کا کام چلتا رہے۔ سورة الانعام کی آیت ١٦٥میں ارشادِ باری ہے:

”  اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا اور ایک کا دوسرے پر رُتبہ بڑھایا تاکہ تم کو آزمائے اُن چیزوں میں جو تم کو دی ہیں۔بالیقین آپ کا رب جلد سزادینے والا ہے۔اور بالیقین وہ واقعی بڑی مغفرت کرنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔  ”   (الانعام  :١٦٥)

اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی نفسیات کو جانتے ہوئے یہ نظام بنایا کہ انسان ایک دوسرے کی خدمت کرتا رہے اور اس کے بدلے میں اس کو اپنے لئے بھی ملتا رہے یعنی کہ اللہ تعالیٰ نے حاصل کرنے کا راز دینے میں رکھ دیا ہے۔انسان کو اپنے لئے کچھ نہیں ملے گا جب تک کہ اُس کی مصنوعات یا خدمات کسی دوسرے شخص کی ضروریات نہ پوری کر رہی ہوں۔جیسے کہ ترمذی کی ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی پاکۖ نے فرمایا:

”  خدا اپنے بندے کی مدد میں اُس وقت تک لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگارہتا ہے۔  ”   (ترمذی)

بدقسمتی سے یہ چھوٹی سی بات اکثر لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی۔اس سارے فلسفہ کو سمجھنے کیلئے ایک سچی کہانی سنیئے جس سے سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

دو  ڈاکٹروںکی کہانی ہے۔دونوں ایک ہی کالج سے ایک ہی سال میںMBBS کی ڈگری لے کر Job شروع کرتے ہیں اور شام کو اپنی پرائیویٹ Practice کرتے ہیں۔ایک کی زندگی کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے’ دوسرے کی زندگی کا مقصد پیسے کمانا ہے۔دونوں کی تعلیمی قابلیت ایک ہی ہے’دونوںنے FRCS کیا ہوا ہے۔

پندرہ سال کے بعد پہلے کی معائنہ فیسچار سو روپیہ ہے اور جو غریب لوگ afford نہیں کر سکتے وہ ان کا مفت علاج کرتا ہے۔ایک کنال کا سادا سا گھر ہے’ چھوٹی سی پیاری سی فیملی ہے۔پانچ  سال پرانی کرولا کار رکھی ہوئی ہے’بچے بہت ہی Well-mannered اورBehavedہیں’گھر میں بہت سکون ہے۔

دوسرے موصوف کی معائنہ فیس آٹھ سو  روپیہ ہے’چار کنال کا بڑا گھر ہے’غریبوں کی مدد کے بارے میں موصوف نے کبھی نہیں سوچا۔’ہرسال امریکہ فیملی کے ساتھ جاتے ہیں’گھر میں کسی بھی چیز کی کمی نہیں’پہلی شادی طلاق پر ختم ہوئی’ دوسری بیوی سے تین بچے ہیں۔اچھے سکولوں میں پڑھنے کے باوجود نہایت ہی بدتمیز اور نافرمان اولاد ہے۔

بیوی سے لڑائی روز کا معمول ہے اور بیوی کئی بیماریوں کی مریضہ ہے۔ماں اور باپ بھی بیمار رہتے ہیں اور لاکھوں روپیہ ماں باپ کے علاج پر ہر سال خرچ ہوجاتا ہے اور بقول اُن کے دنیا میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے لیکن زندگی میں سکون نام کی کوئی چیز نہیں ہے’ ہر وقت کچھ نہ کچھ مسائل کھڑے رہتے ہیں’خود بھی دل کے مریض ہیں۔آخر ایسا کیوں؟ اس کا جواب سورة  اٰلِ عمران کی آیت   ٩٢سے لیجئے:

”  جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پائو گے اور تم جو خرچ کرو اُسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے۔  ”   (اٰلِ عمران : ٩٢)

اور سورة الشوریٰ کی آیت ٣٠ میں ارشادِ ربانی ہے:

”  تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے’ اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما لیتا ہے۔  ”  (الشوریٰ  :٣٠)

ترمذی اور مشکوٰة میں روایت ہے کہ

نبی پاک ۖنے فرمایا :

”  دعا تقدیر کو بدلتی ہے اور نیکی عمر کو زیادہ کرتی ہے اور انسان سے روزی چھین لی جاتی ہے اُن گناہوں کی وجہ سے جن کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔  ”  (ترمذی’  مشکوٰة)

سورة النساء کی آیت ١٤٧کا ترجمہ ہے:

” اللہ تعالیٰ سزا دے کر کیا کرے گا؟ اگر تم شکر گزاری کرتے رہو اور باایمان رہو’اللہ تعالیٰ بہت قدر کرنے والا اور پورا علم رکھنے والا ہے۔  ”  (النساء  :١٤٧)

دیکھئے جناب! کما تو دونوں رہے ہیںایک اپنے لئے اور دوسرا لوگوں کیلئے۔لیکن دونوں کی زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

بس یہی بات میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کمانا بذاتِ خود نہ ہی زندگی کا مقصد ہے اور نہ ہی اچھا یا بُرا فعل ہے۔اس کمانے کا مقصد کیا ہے اور اس کا استعمال کیا ہے۔اس سے ہی یہ اچھا فعل یا بُرا فعل بنے گا۔اگر کمانے کا مقصد’زندگی کے مقصد کو پورا کرنے کیلئے ہے تو یہ اچھا فعل ہوگا یعنی کہ لوگوں کی خدمت کرنے کیلئے۔

اب آپ بتائیے کہ کیا آپ اپنے ایسے خلیفہ یا نائب کی مدد کرینگے جو کہ آپ کا دیا ہوا کام چھوڑ کر اپنا کام شروع کر دے یا جو پیسے آپ اس کو لوگوں کی خدمت کیلئے دے رہے ہوں وہ سارے پیسے اپنے استعمال کیلئے رکھ لے۔ تو پھر سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے نائب کی مدد کیوں کرے جو اس کا سونپا ہوا کام چھوڑ کر اپنا کام کر رہا ہو اور اپنے لئے ہی جی رہا ہو۔زیادہ دولت ‘ امارت یا علم اگر یہ زندگی کے مقصد کیلئے استعمال نہیں ہو رہا تو اس کو ‘ خداکا فضل ہی نہیں سمجھ لینا چاہیے’ یہ امتحان ہے۔جتنا زیادہ خدا دے گا اتنا ہی زیادہ آپ سے توقع بھی کرے گا۔جیسے کہ آپ اگر اپنے نائب کو زیادہ تنخواہ دے رہے ہوں تو آپ کی توقع بھی اُس سے زیادہ ہوتی ہے۔

ایک بہت ہی بڑی غلط فہمی جس کو واضح کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کیونکہ ان کا کام ٹھیک چل رہا ہے اس لئے وہ کچھ ٹھیک ہی کر رہے ہونگے۔ا س کے جواب میں’ میں نے  پہلے بھی قرآن پاک کی آیت سنائی ہے کہ یہ آزمائش ہے۔اس کے علاوہ ایک اور حدیث سے بھی یہ واضح ہو جائے گا کہ فیصلہ کرنا انسان کا کام ہے وہ جو بھی اچھا یا بُرا فیصلہ کرے گااللہ تعالیٰ اُس کی اُسی کام میں مدد ضرور کرے گا یہ اور بات ہے کہ وہ مدد بعد میں کافی مہنگی پڑ جائے۔

جیسا کہ ابھی ڈاکٹر والی کہانی سے واضح ہوا۔

مشکوٰة میں روایت ہے کہ آپۖ نے فرمایا:

”  جو کوئی نیک ہے اُس کو اسی کاموں میں مدد کی جائے گی اور جو کوئی گناہ گار ہو اس کو اسی طرح کے کاموں میں مدد کی جائے گی۔  ”

تو اس سے واضح ہوا کہ بڑھتی ہوئی آمدن یا کاروبار کو دیکھ کر یہ نہ سمجھ لیاجائے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے ساتھ ہے اور وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ ٹھیک ہی کر رہا ہو گا۔تب ہی تو اللہ تعالیٰ اُس کا ساتھ دے رہا ہے۔

نہایت ہی مختصر الفاظ میں زندگی کا مقصد بیان کرنے کیلئے سورة العصر سے بہتر کوئی صورت نہیں۔ارشادِ باری ہے:

والعصر’زمانے کی قسم’ان الانسان یعنی خیر:بے شک انسان خسارے میں ہے۔الاالذین آمنو:ماسوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے’وعملوالصالحت: اور نیک اعمال کئے’وتواصوابالحق: اور سچ بات کی تلقین کی’وتواصوابالصبر: اور صبر کی تلقین کی۔

تو جناب ہمارے بنانے والے نے ہمیں یہ کام سونپ کر بھیجا ہے اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے۔اب ہم نے فیصلہ صرف یہ کرنا ہے کہ ہم اس مقصدِ حیات کو پورا کرنے کیلئے کیا شعبہ اپنائیں گے۔کیا ہم ڈاکٹر بن کریا انجینئر بن کر’ اُستاد بن کریا مکینک بن کر’نرس بن کریا درزی بن کر’پروفیشنل مینجر بن کریا مسجد کے امام بن کر یہ مقصدِ حیات پورا کرنا چاہیں گے۔

ہم سب کا زندگی کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنائیں اور ساتھ ہی ساتھ حق بات کی تلقین بھی کریں تاکہ لوگ اپنی زندگی کو خود ہی ضائع نہ کر دیں۔کیونکہ اسی میں ہماری اپنی زندگی اور خوشی کا راز چھپا ہوا ہے۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ کسی دوسرے کی زندگی کو بہتر بنایا نہیں جا سکتا جب تک کہ پہلے علم حاصل نہ کیا جائے۔آپ خود ہی سوچئے کہ جوڈاکٹر یا انجینئر یا مکینک آج لوگوں کی زندگی کو بہتر بنا رہا ہے پہلے اُس نے کتنی محنت سے علم حاصل کیا ہوگا اور آج پھر وہ اسی علم کی بنیاد پر دوسروں کی زندگی کو بہتر بنا رہا ہے۔

ڈاکٹر’ انجینئریا استاد تو ایک طرف’ کوئی شخص بھی جو آج کسی کی زندگی بہتر بنانے کے قابل ہے چاہے وہ مکینک ہو یا مالی ہویا ڈرائیور’ ہوٹل والا ہو یا نرس پہلے اُس نے اپنے کام میں مہارت تو حاصل کی ہی ہوگی۔اسی لئے تو مشکوٰة میں روایت ہے کہ آپۖ نے فرمایا :

”  علم میں زیادتی’ عبادت میں زیادتی سے بہترہے۔  ”  (مشکوٰة)

ایک اَن پڑھ جاہل آدمی جو اپنی زندگی ہی نہیں بدل سکا وہ کسی اور کی زندگی کو بھلا بہتر کیسے بنا سکتا ہے۔اوریہی صحیح علم حاصل کرنا جو کہ نیک اعمال کی بنیاد بنے سب کیلئے چیلنج ہے۔

کئی لوگ اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مقصد دیا ہے تو پھر اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے تمام لوگوں کو وسائل کیوں نہیں دیئے؟ جو امیر ہے اس کے پاس تو علم حاصل کرنے کے ذرائع ہیں’ غریب یہ کیسے کرے؟ اس کا جواب میرے ایک اورآڈیوپروگرام جو کہ اس کتاب میں شامل کیا گیاہے’جس کا نام ”علم مفت ہے تعلیم نہیں” میں موجود ہے۔لیکن یہاں پر یہ بات واضح کرتا چلوں کہ ہر شخص کے پاس ایک جیسے وسائل تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ ضرور ہیں۔اس کو سمجھنے سے پہلے ایک سوال کا جواب دیجئے۔

کیا آپ اپنے نائب یا ڈپٹی کو کام کرنے کی ذمہ داری بغیر ذرائع مہیا کیے سونپتے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔کام کو سونپنے سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا یہ شخص اس قابل ہے کہ یہ کام کر سکے گا۔اس کے بعد اس کو ضروری وسائل مہیا کیے جاتے ہیں جیسا کہ: کار’ دفتر’ملازم’بجٹ وغیرہ۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کام کی ذمہ داری سونپنے سے پہلے انسان کو اس کا م کو کرنے کی صلاحیت کا Potential ضرور دے دیا ہے۔اس کا ثبوت سورة الحجر کی آیات٢٨تا٢٩میں موجود ہے۔ذرا سنیے:

”  اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں۔تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کیلئے سجدے میں گر پڑنا۔  ”   (الحجر :٢٨-٢٩)

اِن آیات میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اس نے انسان میں اپنی روح پھونک دی ۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر آپ کے خون کے ایک قطرے سے بنی ہوئی اولاد میں آپ کی خصوصیات چلی جاتی ہیں تو جس شخص میں کسی کی روح چلی جائے تو کیا اُس میں اُس کی خصوصیات نہیں ہونگی۔

اب سوچئے کہ اللہ تعالیٰ نے جس پر اپنی روح پھونک دی ہو کیا اس میں اللہ تعالیٰ کی خوبیاں نہیں آئی ہونگی۔اسی لئے میں نے کہا کہPotential ہے ان خوبیوں کو Develop کرنا انفرادی ذمہ داری ہے۔لیکن ہر شخص میں خدا کی تمام صلاحیتیں’خوبیاں یعنی کہ اپنے خالق کی تمام خوبیاں ‘صلاحیتوں کا Potential ضرور موجود ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو اپنے نائب سے اتنا پیار ہے جتنا کہ ایک ماں کو بھی اپنی اولاد سے نہیں ہوتا۔

جس بندے نے یہ سمجھ کر کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی خوبیاں اور صلاحیتیں موجود ہیںان خوبیوں اور صلاحیتوں کو اجاگر کر لیا۔وہ خدا کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ بیٹا یا بیٹی جس میں باپ کی زیادہ خوبیاں موجود ہوں وہ باپ سے زیادہ قریب ہو جائے گا۔

جس طرح جو نائب اپنے حاکم کی زیادہ خوبیاں اپنے میں لے آئے وہ اپنے حاکم کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے اسی طرح وہ بندہ جو کہ اپنے خالق کی زیادہ خوبیاں اپنے اندر اجاگر کرے گا وہ اپنے خالق کے زیادہ قریب ہو جائے گا۔

زندگی کے مقصد کو بھی بہتر طریقے سے سرانجام دینے کیلئے یہ اشد ضروری ہے کہ آپ اپنے  اندر  خدا کی دی  ہوئی  خوبیوں اور صلاحیتوں کے  potential کو زیادہ اُجاگر کرتے جائیں گے جیسا کہ حدیث میں  ملتا ہے کہ  نبی پاک ۖ نے فرمایا :

”  اپنے اندر خدا کی خوبیاں پیدا کرو۔  ”

اگر اللہ تعالیٰ یہ نہ چاہتا تو قرآن پاک میں جہاں جہاں خدا اپنی خوبیاں بیان کرتاہے اکثر وہاں اپنے بندوں کو بھی تو یہی حکم دے رہا ہے ۔جیسے کہ’میں معاف کرنے والا ہوں تم بھی معاف کرو’  ‘میں رحم کرنے والا ہوں تم بھی رحم کرو’  ‘میں دینے والا ہوں تم بھی دو۔

تو جناب یہ تھا زندگی کا مقصد جو اللہ تعالیٰ نے ہم سب پر سونپ دیا اور اس وجہ سے ہمیں خلیفہ اور اشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔

اب ایک شخص جو صبح سے شام تک زندگی کے مقصد کو حاصل کرنے کے میں مگن رہے’ صبح اُٹھے بھی اسی لئے’تیار بھی اپنے لئے نہ ہو بلکہ اُسے بھی خدا کی بندگی سمجھ کر ہو’کھائے بھی اسی لئے کہ زندگی کے مقصد کو حاصل کرنا ہے اور نہ کھانے سے بیمار ہو جائوں گا پھر اسی مقصد کی تکمیل کیلئے دفتر بھی چلا جائے۔اسی مقصد کو احسن طریقے سے ادا کرنے کیلئے سوئے اور آرام کرے۔تو ایسے شخص کی زندگی کا تو ہر ایک فعل ہی عبادت بن جاتا ہے کیونکہ وہ کوئی کام اپنے لئے نہیں بلکہ اللہ کی بندگی کیلئے کر رہا ہے۔

اب سوچئے کہ کیا اگر آپ کا نائب وہ کام نہ کرے جس کیلئے آپ نے اسے ملازمت پر رکھا ہو۔لیکن وہ سارا دن آپ کی خدمت کرتا رہے’ آپ کی تعریف بیان کرتا رہے آپ کی ٹانگیں دباتا رہے تو کیا آپ اس سے خوش ہونگے؟جی نہیں’ کوئی بھی ایسے شخص سے خوش نہیں ہو سکتا اور خاص طور پر اگر اس کی تنخواہ آپ کی جیب سے جاتی ہو تو سوچئے کہ اگر ہم بھی جس کام کیلئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں معمور کیا ہے اسے چھوڑ کر سارا دن سجدہ میں پڑے رہیں’اس کی تعریف بیان کرتے رہیں’ اس کی تسبیح کرتے رہیں لیکن وہ کام نہ کریں تو کیا اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہو سکتا ہے؟کبھی نہیں۔ہاں اگر اس کام کے ساتھ ہم اس کی تعریف اور تسبیح بھی بیان کرتے رہیں اور اس کے آگے سجدے بھی کرتے رہیں تو یہ تو سونے پر سہاگہ والی بات ہو جائے گی۔

یہاں پر ایک بات کی وصاحت ضرور کرتا چلوں کہ ہم میں سے کوئی شخص بھی اپنے خالق اور حاکم کی طرف سے دیئے گئے مقصد کو پورا کئے بغیر کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتا۔زندگی میں خوشی’ سکون و اطمینان اس مقصد کو سرانجام دینے کیلئے ہی آتی ہے۔جب تک ہم اپنی تخلیق کا مقصد پورا کرتے رہیں گے ہمارے خالق کو شاید اس دنیا میں ہماری مدد کی ضرورت رہے۔اس بارے میں میرے مشاہدے میں بڑی ہی تلخ حقیقت آئی ہے جو آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہوں گا اکثر لوگ جو کہ مہلک بیماریوں میں اچانک مبتلا ہو جاتے ہیں اس کی بھی ایک بنیادی وجہ اس مقصدِ حیات سے منہ موڑنا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ آخر ہمارا خالق ہمیں زندہ کیوں رکھے’ اگر ہمارے جلد مرنے سے کسی کی زندگی میں کوئی فرق پڑے’کچھ بچے تعلیم نہ حاصل کر سکیں’کچھ لوگوں کے گھرمیں کھانا نہ پک سکے’کچھ بچیوں کی شادی نہ ہو سکے’کچھ لوگوں کا علاج نہ ہو سکے’ پھر تو شاید اللہ تعالیٰ کو ہماری ضرورت ہو لیکن اگر ہمارے مرنے سے کسی کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تو پھر ہمیں زندہ کیوں رکھا جائے۔

ایک اور حقیقت میرے مشاہدے میں آئی کہ جو خواتین اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی ہیں جب اُن کے بچے تعلیم حاصل کر کے اپنے پائوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں تو اُن کی صحت بہت ہی تیزی سے گرنا شروع ہو جاتی ہے۔ سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے تو جناب اس حقیقت کی وجہ بھی یہی لگتی ہے کہ آپ سال ہا سال یہی سمجھتے رہے ہوں کہ اولاد کی تربیت ہی زندگی کا مقصد تھا تو آپ کا دماغ بھی یہ بات نوٹ کر لیتا ہے کہ جب تک آپ وہ مقصد پورا کر رہے ہوتے ہیں تب تک تو سب کچھ ٹھیک رہتا ہے لیکن جونہی اولاد کی تربیت مکمل ہو جاتی ہے آپ کی زندگی کا مقصد بھی مکمل ہو جاتا ہے۔اب سوال تو یہ اُٹھتا ہے کہ جب مقصد ہی پورا ہو گیا تو زندگی میں اب کیا بچا تو جینے کی ضرورت ہی ختم ہو جاتی ہے جبکہ وہ لوگ جو آخری عمر تک زندگی کے مقصد کیلئے تگ و دو جاری رکھتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کسی نہ کسی طریقے سے زندگی کا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ اُن کی عمربھی لمبی ہوتی ہے۔اس بارے میں بھی ذرا غور ضرور کیجئے گا۔

ایک آخری وضاحت جو اس بارے میں نہات ضروری ہے اور لوگ اسی پر اکثر پریشان رہتے ہیں اس کے بیان کیلئے بھی میں ایک سوال کا ہی سہارا لوںگا۔

سوال یہ ہے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا نائب اپنی ذمہ داریاں اچھی طرح سے نبھا سکے گا اگراس کو اپنی جان یا رزق کی فکر ہی پریشان کرتی رہے؟جی ہاں ہرگز نہیں۔ اسی لئے تو آپ اپنے نائب کو کام سونپنے کے ساتھ ہی ساتھ اس کو سیکورٹی اور تنخواہ کی گارنٹی بھی مہیا کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلوم تھی اسی لئے اُس نے قران پاک میں بے شمار جگہوں پر اپنے نائب کو دونوں چیزوں کی سیکورٹی مہیا کر دی تاکہ وہ بے خوف و خطر اور بے دھڑک اپنے خالق کے دیئے ہوئے مقصد کو پورا کرنے کیلئے لگا رہے۔جیسا کہ قرآن پاک میں مختلف مقامات پر ارشادِ ربانی ہے :

سورة الجاثیہ آیت٢٦میںارشاد ہوا:

”  آپ کہہ دیجئے! اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے اور پھر تمہیں مارڈالتا ہے۔۔۔۔۔لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔  ”      (الجاثیہ :٢٦)

جب کہ سورة العنکبوت کی آیت نمبر ٦٠میں آیا:

”  اور بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے’ ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ ہی روزی دیتا ہے۔۔۔۔۔  ”   (العنکبوت : ٦٠)

اور سورة الملک کی آیت ٢١میں ارشاد ہے

”  اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتائو کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا۔  ”   (الملک :٢١)

تو جناب زندگی اور رزق کی فکر کرنا چھوڑیئے اور جینا سیکھئے۔بدقسمتی تو یہ ہے کہ آج کا انسان وہ کام نہیں کر رہا جو اسے سونپا گیا بلکہ اس چیز کی فکر کر رہا ہے یعنی کہ زندگی اور رزق کی جس کی ذمہ داری اس کی ہے ہی نہیں’ بلکہ اللہ کی ہے۔جس کام کی ذمہ داری آپ کی ہے ہی نہیں اس کا فکر آپ کیوں کرتے ہیں۔آپ اُس کام کی فکر کریں جس کی ذمہ داری آپ پر سونپی گئی ہے۔کیونکہ اسی کے بارے میں آپ سے پوچھ گچھ ہونی ہے جوکہ آپ کی ذمہ داری ہے۔آپ خدا کے نائب ہونے کا حق ادا کیجئے۔آپ اپنا کام کیجئے اور اللہ تعالیٰ کو حاکم ہونے کے ناطے اپنا کام کرنے دیں۔