Peace from The Inside Out-Urdu Part-1

Peace from The Inside Out-Urdu Part-1

Peace from The Inside Out  

(اندر ونی سکون سے بیرونی سکون)

چاہے آپ کہیں بھی رہتے ہوں، ہر صبح ، اخبار ایسے  واقعات سے بھرا ہوا ملتا ہے جو معاشرے کی بے چینی اور بےسکونی کا آئینہ ہے۔خود کشی، لڑائی ، جھگڑے، بد فعلی، زیادتی ، قانونی خلاف ورزی، چوری، ڈکیتی، فراڈ، جھوٹ، یہ سب تو اب روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ  ہمارے معاشرے  ، یہاں تک کے ملک بھر  میں امن قائم کرنے پر بات بھی مسلسل  ہو رہی ہے۔ہر محفل، ہجوم یا اجتماع میں، چاہے عنوان کوئی بھی ہو، معاشرے کی بے سکونی اور امن کے استحصال پر بات چل پڑتی ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر امن حاصل کرنے کی رضاکارانہ کوشش شدت سے نظر بھی آئی ہے۔نتیجہ یہ، کہ دنیا اب، پہلے سے زیادہ امن و سکون کی اہمیت کو جانتی ہے۔ اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ قومیں جو پہلے دنیا میں بے امنی پھیلانے کے لیے ذمہ دار ٹھہرائی گئی تھیں، وہی قومیں اب امن کے لیے نہ صرف کوشش اور جدوجہد کررہی ہیں بلکہ دنیا میں اپنی   ان کاوشوں کی بدولت قیادت کررہی ہے۔ان کی محنت اور اخلاص کو challenge کرنا اور عالمی سطح پر امن و امان میں سیاسی مداخلت اس تحریر کے بس میں نہیں۔ البتہ، اگر یہ   قومیں عالمی سطح پر  امن کی اہمیت کو جان چکی ہیں جس کی عکاسی وہ    resources  ہیں، جن کو وہ امن کی بحالی کے لیے استعمال کرتے ہیں،   تو صاف ظاہر  ہے کہ اس کی اہمیت  ہوگی۔ مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے ہر ایک یہ جانتا ہے کہ ہم سب  اس  عالمی جگہ جس کا نام دنیا ہے، کا حصہ ہیں۔ اور یہاں معاشی ترقی تب تک قرار حاصل نہیں کرسکتی جب تک کہ مکمل امن نہ ہو۔یہ سب لکھنے کی ضرورت ان چند وجوہات کی وجہ سے پیش آئی جن کی وجہ سے  معاشرہ اور قوم بے سکون ہے۔اس میں  وہ با تجربہ اصول بھی شامل ہیں ، جن کے بغیر دنیا میں امن و سکون صرف ایک خواب  ہے۔

 

The Paradox (تضاد)

ہر انسان اپنی موجودہ صورتحال سے نا خوش ہےاور معاشرے میں امن کا خواہشمند ہے۔ چاہے آپ کسی بھی ادارے میں چلے جائیں، اپنے گھر کی دعوتوں کو دیکھ لیں، رشتہ داروں  کی شادی میں چلے جائیں، اپنے دوستوں کے ساتھ ریسٹورنٹ چلے جائیں، گاڑی کی کسی ورکشاپ یا  اپنی مرضی کے سروس سٹیشن چلے جائیں، صبح کا اخبار اٹھا لیں یا ٹی -وی دیکھ لیں، ہر طرف بے سکونی کی بحث نظر آئے گی۔ مختلف لوگ، بقیا مختلف لوگوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے ۔اپنی ذات اور معاشرے کی بے سکونی کے لیے لوگ تعلیم کو الزام دیں گے، عدلیہ کو الزام دیں گے، پولیس کو، ٹی-وی اور میڈیا اور کس کس کو نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ بمشکل ہی کسی ایسے شخص کو سنیں گے جو اس بات کو تسلیم کرتا ہوکہ اسے خود بدلنے کی ضرورت ہے، جس کو میں کہتا ہوں “Peace from The Inside Out”  حقیقت یہ ہے کہ یہ طریقہ نہ صرف بہترین ہے بلکہ میرا ایمان یہ ہے کہ یہی واحد طریقہ ہے۔مجھے اس کے علاوہ، سکون حاصل کرنے کا کوئی پائیدار طریقہ نہیں دکھتا۔قرآن مجید نے اس حقیقت کو بار بار بڑی مظبوطی سے بیان کیا ہے، 

"بے شک اللہ کبھی اس قوم کی حالت کو نہیں بدلتاجب تک کہ وہ اس چیز کو نہ بدلیں جو ان کی اپنی ذات میں ہے۔"13:11

اس سے صاف ظاہر ہے کہ تبدیلی ایک ناممکن چیز ہے، جب تک کہ اس کا تعلق اپنی ذات سے نہ ہو۔یعنی جب تک ہم   زندگی کے بارے میں اپنے  عقائد اور  نظریات کو نہیں بدلیں گے، ہماری دنیا کبھی بھی نہیں بدلے گی۔یہ صرف ایک ذاتی   طور پر نظریاتی منصوبہ نہیں ہے بلکہ اگر آپ تاریخ انسانیت  یا تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو آپ ان منصوبوں کو داد دیں گےجو دنیا میں بڑی کامیابی کے ساتھ، بڑی بڑی تبدیلیاں لائے۔اسلام کی کرن ، یہ وہ تبدیلی ہے جس کو عالمی سطح پر، بہترین ، منظم اور وسیع تبدیلی مانا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی ہرگز ممکن نہ تھی جب تک کہ تبدیلی کی تلقین کرنے والے خود اس چیز پر پہلے عمل نہ کرتے جس کی وہ دوسروں کو تلقین کررہے تھے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم چیزوں کو اور لوگوں کو بدلنے میں اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنے آپ کو بدلنے کا وقت ہی نہیں بچا۔ لیکن، اگر ہم میں سے ہر ایک اپنے آپ پر توجہ دینا شروع کر دے تو مجھے یقین ہے کہ ہماری دنیا بھی بدل جائے  گی۔

ہمیں اس چیز کو سمجھنا چاہیے کہ گھر، ادارے، معاشرہ اور قوم، یہ سب انسانی نظام ہیں، جن کو انسانوں نے بنایا ہے۔ لہذا  اس مجموعے (انسانی نظام) میں تب تک امن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ افراد میں امن نہ ہو۔اپنے جسم ہی کی مثال لے لیجیے، اگر جسم کا ایک حصہ بیمار پڑ جائے، تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح کینسر بھی جسم کے مکمل حصے میں شروع نہیں ہوتا بلکہ جسم کے کسی ایک حصے سے شروع ہوتا ہےاور پھر پھیلتا پھیلتا پورے جسم میں چلے جاتا ہے۔ پھر چاہے ہم پورے جسم کا کتنا ہی خیال کیوں نہ رکھ لیں، جب تک جسم کے اس حصے کا خیال نہیں رکھیں گے جس کی وجہ سے کینسر پھیلا ہے، علاج ناممکن ہے۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہے جس کا علاج کرنا سب سے پہلے ضروری ہے، پھر جسم کے بقیا حصے کی باری آئے گی۔یہی صورت امن و سکون کی ہے۔ اگر لوگ، جن سے 'معاشرہ 'قائم ہوتا ہے، وہ سکون میں نہیں ہیں، تو 'معاشرہ' کیسے سکون میں آئے گا۔ اگر ہر انسان صرف اپنی ذات میں اندرونی سکون کی ذمہ داری اٹھا لے تو بیرونی سکون اس کے تابع ہوگا۔چاہے آپ کو یہ بات کتنی ہی مشکل کیوں نہ لگے، بیرونی طور پر امن و سکون حاصل کرنے کا یہ واحد طریقہ ہے۔دیکھیں، کتنے امن و ایمان سے اسلام دنیا میں تبدیلی لے کر آیا، یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے اس کا بیڑا اٹھایا تھا، وہ خود اپنی ذات میں امن والے تھے۔یہ لوگ اگرچہ تعداد میں کم تھےلیکن انہوں نے اپنے افعال کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔بجائے کہ وہ اپنی افعال کا اختیار دوسروں کے رحم پر چھوڑتے، انہوں نے اپنی زندگی  میں سکون کی ذمہ داری اٹھانے کا انتخاب  کیا اور آخر کار لوگوں نے ان  کی کاوشوں کو سر تسلیم کر کے ہتھیار ڈال دیے۔ یہ وہ واحد طریقہ ہے جس سے امن بحال ہو سکتا ہے۔مثلا پہلے اپنی ذات سے شروع کرنا اور پھر باہر تبدیلی لانا۔

 

Understanding Peace and its Components (امن اور اس کے اجزاء کو سمجھنا)

عام زبان میں امن سے صرف تحفظ اور سلامتی مراد لیا جاتا ہے۔ اور اگر کسی معاشرے کو ان کے امن اور تحفظ کی سلامتی دے دی جائےتو وہ معاشرہ پر سکون مانا جاتا ہے۔میرا یہ ماننا ہے کہ تحفظ اور سلامتی امن کے اجزاء میں سے صرف ایک جزء ہے۔اس کے علاوہ اور بہت انسانی ضروریات ایسی ہیں جن کے بغیر معاشرہ پرسکون نہیں ہو سکتا۔ذرا تصور کیجیے، اگر معاشرے میں سب سلامت اور محفوظ تو ہوںلیکن لوگوں  کے پاس کھانا یا رہنے کی جگہ نہ ہواور اور لوگوں کے ساتھ ان کے status اور پیسے کے حساب سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہو، کیا معاشرہ پرسکون ہوگا؟ اگر ہر روز لوگوں کے حقوق مارے جائیں، حق تلفی اور بے انصافی ہو، تو کیا سکون ہوگا؟ ہر گز نہیں!یہی بات تو تفصیل طلب ہے۔ 

پہلی سچائی جو ہم انسانوں کو معلوم ہونی چاہیے وہ یہ کہ حضرت انسان میں  4 dimensions ہیں۔ مثلا، جسم، دماغ، دل اور روح۔یہ 4 dimensions ہمیں مکمل بناتی ہیں۔ ان 4 dimensions سے ہماری 4 طرح کی ضروریات نکلتی ہیں۔جسمانی، جذباتی، دماغی اور روحانی۔جسمانی ضروریات میں زندگی کا تحفظ، کھانا، اوڑھنا، رہائش، صحت وغیرہ شامل ہیں۔دماغی ضروریات میں، سیکھنے اور بڑھنے کی فرصت یا ایسا کام جس میں دماغی ذہانت شامل ہو۔جذباتی ضروریات میں، عزت، حوصلہ افزائی، کوئی آپ کی محنت کو تسلیم کرے، کوئی آپ کو سنے، کسی کو آپ پیار کریں یا کوئی آپ سے پیار کرے، خاندان، دوست وغیرہ شامل ہیں۔ روحانی ضروریات میں شامل ہے، خود کو جاننا، زندکی کا ایسا مقصد ہونا جو آپ کی ذا ت کو مکمل کردے، نیک کردار والی زندگی جینا، دینی عقائد اور عبادتوں کے ساتھ ملوث رہنا، رب کے بارے میں بات کرنے کے مواقع لیتے رہنا۔

پاکستان میں گزشتہ دس سالوں کی  سپیکنگ، کوچنگ، ٹریننگ اور کونسلنگ کے  career میں ہزاروں لوگوں سے ملا ہوں اور آج تک مل رہا ہوں۔ میں اوسطا، ماہانہ 100 یا اس سے بھی زائد لوگوں سے ذاتی طور پر ملتا ہوں اور بات کرتا ہوں۔ ان سب سالوں میں وہ لوگ جو اپنی زندگی میں پریشان ،  ناخوش ، غیر مطمئن یا بے سکون  نظر آئے، میں نے ان سب میں بچوں جیسے رویوں کا مشاہدہ کیا۔غور کیجیے ، میں بڑوں کے رویوں کو بچوں کا رویہ کہہ   رہا ہوں اس لیے کہ یہ لوگ جسمانی طور پر تو بڑے تھے لیکن اپنے رویوں میں بقیا  3 dimensions میں سے کسی ایک میں بچے تھے۔مثال کے طور پر، جذباتی، دماغی اور روحانی۔ میں اسے آپ کے لیے آسان کردیتا ہوں۔جسمانی نشونما تو ہر جاندار کے لیے ایک قدرتی بات ہے۔ مطلب یہ کہ ہم قدرتی طور پر بغیر مشقت لگائے بڑے تو ہو جاتے ہیں، جیسے جانور، پودے اور بقیا مخلوق قدرتی طور پر بڑھتی ہے۔ اور جیسے جانور ہیں ویسے ہی ہم بھی اپنی جسمانی ضروریات  اور یہ کہ ان کو کیسے پورا کرنا ہے، اس سے واقف ہیں۔البتہ حضرت انسان کو اس کے علاوہ تین اور ضروریات سے نوازا گیا ہے، مثلا جذباتی، دماغی اور روحانی۔ ہم ان تین dimensions کی ضروریات اور نشونما کے ذمہ دار ہیں یعنی دماغ، دل اور روح کی نشونما۔حضرت انسان کو اس معاملے میں شعوری طور پر کوشش کرنی پڑے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ہم شعور   اور خلوص کے ساتھ ان کی نشونما نہیں کریں گے، یہ  un-developed رہے گی، جیسا کے بچوں کی ہوتی ہے، چاہے ہم جسمانی لحاظ سے جتنے مرضی بڑے ہو جائیں۔

 Building a Culture of Peace (پر امن معاشرے کا قیام)

ایک بات اب تک قائم ہے کہ اندرونی امن کے بغیر بیرونی امن ممکن نہیں۔ اس سیکشن میں ہم دریافت کریں گے، کیسے؟ کچھ  ایسے طریقے  ہیں جو ہم میں سے ہر ایک اپنی مدد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ،   جب تک ہم سب  اپنی ذات میں پر سکون نہیں ہوں گے،  ہم میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں پرامن نہیں  رہے گا۔ یہ خدا کا قانون ہے اور اسی طرح اس نے اس دنیا کو پیدا کیا ہے۔ جیسے ’’ایک دوسرے پہ انحصار‘‘ کا اصول ۔ ہم جو بھی کرتے ہیں، ہمارے افعال ہمیشہ ہماری زندگیوں کے ساتھ ساتھ معاشرے اور قوم پر مثبت یا منفی اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب ہم ذاتی امن کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، تو ہم دنیا کے مجموعی امن میں بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں جس میں ہم رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہمیں دن کا  ہر ایک  لمحہ امن کے چار اہم عناصر (یعنی کردار، عوامی خدمت، خاندان اور خدا) کے ساتھ گزارنا  ہوگا۔ یہ اہم عناصر اندرونی امن کی بنیاد بناتے ہیں اور بالآخر ہمارے گھروں، معاشروں اور قوموں کے اندر امن کا ذریعہ بنتے ہیں۔

 

کردار اور ضمیر

لوگوں میں "کردار" کی کمی پہلے سے کہیں زیادہ  ہو گئی ہے۔ یہ بات  عالمی سطح پر، اندرون و بیرون ملک، کاروباری اور حکومتی حلقوں اور انتظامی اور سماجی سرگرمیوں کے ہر شعبے میں تسلیم کی جاتی  ہے۔ کردار کی کمی،  سماجی عدم توازن اور  امن کی کمی کو جنم دیتی ہے اور بالآخر معاشرتی زوال  کی طرف لے جاتی ہے۔ کمزور کردار کی ظاہری علامات کو عام طور پر رشوت، بدعنوانی اور استحصال سمجھا جاتا ہے لیکن یہ لفظ کی اصل اہمیت کو سامنے نہیں لاتے۔ اس کا تعلق اخلاقیات سے ہے۔ کردار کی بہت سی تعریفیں ہیں، لیکن عام طور پر اس بات پر اتفاق ہے کہ: " کردار"  اخلاق ہے، "کردار" سچائی کا مظہر ہے،"کردار" صحیح کام کر نا ہے، اور "صحیح" کی بنیاد سچائیوں اور اصولوں پر ہے۔ آکسفورڈ ڈکشنری اس کی تعریف کرتی ہے:

اجتماعی خصوصیات یا  وہ خصوصیات جو کسی شخص کو ممتاز کرتی ہیں

 اخلاقی طاقت

اچھی ساکھ

مجھے یقین ہے کہ کردار ہی آپ کا  وہ حقیقی نفس ہے، جب آپ اندھیرے میں  ہوتے ہیں۔ آدھی رات کو، جب آس پاس کوئی نہ ہو، کیا آپ سرخ بتی پر رکیں گے؟ وہ کردار ہے۔ جب ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا  یا برائی کرنے کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے تو بہت سے لوگ رک جاتے  ہیں۔ لیکن جو لال بتی پر اس وقت رکا جب آس پاس نہ ٹریفک تھی اور نہ پولیس اہلکار، وہ نہ رکنے والوں سے کچھ مختلف تھا۔ یہ ہے اس کا  کردار ، اس کا امتیازی معیار۔ یہ بہت فلسفیانہ لگ رہا ہو گا لیکن میں آپ پر واضح کر دوں کہ ہم واقعی کیا ہیں، یہ صرف ہم  ہی جانتے  ہیں۔ اور جو   لوگ ہمارے بارے میں سوچتے ہیں کہ ہم کیا ہیں وہ  غلط بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارا جسم اس کا صرف ایک فیصد ہے جو  اصل میں ہم ہیں۔ یہ صرف ایک پیکنگ کی طرح ہے۔ ہم جو حقیقی معنوں میں ہیں اس کا ننانوے فیصد، ہمارا باطن ہے۔ کیا آپ کچھ خریدیں گے کیونکہ اس کی پیکنگ بہت اچھی تھی؟ یقینا نہیں۔ اگر آپ خرید بھی لیں تو  جب آپ کو اندر کی چیز کی اصل قیمت معلوم ہوگی تو یا  آپ اسے واپس کردیں گے یا پھینک دیں گے۔ کیوں؟ کیوں کہ اگر آپ کو پیکنگ پسند بھی آئی تو اس چیز کو خریدنے کی وجہ یہ نہیں تھی۔ اصل مقصد اندر کی چیز خریدنا تھا نہ کہ پیکنگ۔ پیکنگ اس کے ساتھ تو آتی ہے اور خریدنے کے لیے  یہ بڑا مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، لیکن یہی  واحد عنصر نہیں۔

ہمارے لیے بھی ایسا ہی ہے۔ ہمارے جسم صرف پیکنگ کر رہے ہیں؛ اصل چیز اندر ہے، یعنی ہمارا کردار۔ جب تک ہمارے پاس حقیقی اخلاقی طاقت نہ ہو، جلد یا بدیر، لوگوں کو اس کا پتہ چل جائے گا اور پھر کردار کی یہ کمی بالآخر ہماری پہچان ، یعنی ہماری عزت  ہے جسے ہم   کھونا نہیں چاہیں گے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اپنی  زندگی کی حفاظت کرنا ایک حیوانی جبلت ہے۔  لیکن اپنی عزت کی حفاظت نہیں۔ حیوانی دنیا کے لیے عزت کا تصور نامعلوم  چیز ہے۔ درحقیقت یہ جانور اور انسان کے درمیان ایک بڑا فرق ہے۔ عزت ایک مخصوص انسانی قدر ہے۔ انسانی اقدار کا تحفظ جانوروں سے انسان تک زندگی کی سطح کو بلند کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  اس کردار کی تعریف یوں بھی  کی جاتی ہے۔

"حیوانی جبلتوں کے خلاف انسانی اقدار کا تحفظ۔"چونکہ انسانی اقدار معاشرے سے معاشرے اور فرد سے فرد میں مختلف ہوتی ہیں، یہ ایک درست تشویش پیدا کرتی ہے۔ اگر انسانی اقدار کی حفاظت کرنا "کردارہے تو پھر ہم ان تمام لوگوں کو کیسے قصوروار ٹھہرا سکتے ہیں جو ہمیشہ اپنے  بنیادی اقدار کی حفاظت کے نام پر   ہر غلط  کام اور برائی کرنے کا  جواز رکھتے ہیں؟ ٹھیک ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہم  ذاتی اقدار کو اعلیٰ درجے کے انسانی اقدار کے ساتھ نہ الجھائیں جنہیں اصول کہتے ہیں۔ ان  دونوں میں بڑا فرق ہے اور میں اسے چند حقیقی کہانیوں سے واضح کرتا ہوں۔

 

مخمصہ: اقدار ہمارے اصول بن رہے ہیں

ایک سرکاری ملازم جس نے دیر سے شادی کی تھی اسے شادی کے دس سال بعد پہلا بچہ نصیب ہوا۔ اسے اپنے اکلوتے بچے سے اس حد تک پیار تھا کہ اس نے اپنے بیٹے کو جو کچھ بھی مانگا اسے دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا شروع کر دی۔ اس نے انتہا کر دی اور رشوت لینا شروع کر دی۔ اس کا بیٹا اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلا گیا۔ ایک بار پھر،  باپ نے بیٹے کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے کچھ بھی کیا۔ جب ان کا بیٹا تعلیم مکمل کر کے پاکستان واپس آیا تو اس کے والد  بہت بیمار تھے اور چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا ان کے ساتھ کچھ وقت گزارے۔ دوسری طرف بیٹا اپنے والد کی صحبت سے خوش  نہیں ہوتا تھا ۔ اس نے  اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ باہر جانے کا فیصلہ کیا۔ جب ماں نے اپنے بیٹے کو ان تمام قربانیوں کے بارے میں یاد دلایا جو اس کے باپ نے اسے تعلیم دلانے اور اس کے تمام اخراجات پورے کرنے کے لیے دی تھیں، تو اس نے جواب دیا، "اس نے یہ میرے لیے نہیں کیا، اس نے اپنے لیے کیا۔ وہ امیر بننا چاہتا تھا، میں نہیں۔ اس نے مجھ سے کبھی نہیں پوچھا کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ وہ میرے ذریعے اپنے خواب پورے کرنا چاہتا تھا۔ لیکن میں میں ہوں اور  جو بنوں گا خود ہی بننا چاہوں گا۔ اور ویسے ان کو بتا دیجئے کہ میں شرمندہ ہوں کہ وہ میرا باپ تھا۔ لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ وہ کتنا کرپٹ تھا۔" یہ بول  کر  بیٹا  چلا گیا۔ اس کے والد  سے سہا نہ گیا اور چھ ماہ کے اندر اندر انتقال کر گئے۔

ایک تاجر راتوں رات امیر بننا چاہتا تھا۔ پیسہ اس کے لیے اتنا اہم تھا کہ اس کی زندگی کے تمام فیصلے خالص مالی فوائد پر مبنی تھے۔ اس کے پاس پیسے کے علاوہ کسی چیز کی عزت نہیں تھی۔ پیسے کے لیے وہ کچھ بھی کر لیتا۔ اس نے پیسوں کی خاطر تین شادییاں کیں۔ اس نے پیسے کی کمی کی وجہ سے اپنے پرانے دوستوں کو چھوڑ دیا اور پیسے کی وجہ سے نئے دوست بنائے۔ وہ جھوٹ بولے گا، دھوکہ دے گا اور پیسوں کے لیے کچھ بھی کرے گا۔ پیسہ اسے چلا رہا تھا۔ یہ اس کی ترجیح نمبر ایک تھی۔ 55 سال کی عمر میں تینوں بیویاں ایک ایک کرکے اسے چھوڑ گئیں۔ اس کے بعد اس کے بچے اس سے کبھی نہیں ملے۔ وہ اپنی دولت سے لطف اندوز ہونے کے لیے تنہا رہ گیا تھا۔ 67 سال کی عمر میں انتقال کے وقت وہ تنہا تھا۔ اس نے پیسے کے جنون کی وجہ سے سب کو کھو دیا۔ اس وقت، اس نے اعتراف کیا کہ وہ اب تک کا سب سے بڑا ہارا ہوا انسان  ہے، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

آپ دیکھیں کہ اگر ہم اپنی  ترجیحات یعنی اقدار کو اپنا رہنما اصول بننے دیں تو کیا ہوتا ہے؟ ٹھیک ہے، میں یہ تجویز نہیں کر رہا ہوں کہ آپ کو اپنے اقدار کی حفاظت کے لیے کام نہیں کرنا چاہیے۔ میں صرف یہ تجویز کر رہا ہوں کہ آپ کا اپنے  اقدار کی حفاظت کرنا اس وقت تک اچھا ہے جب تک کہ وہ آپ کو اپنے بنیادی اصولوں سے دور نہ کریں۔ اگر آپ نے اپنے کردار، اصولوں یا اپنے اخلاق کا سودا کر کے  کسی کے لیے کچھ اور کسی اور کے لیے کچھ اور کیا تو پھر آپ کون ہیں؟ آپ دیکھیں کہ ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے "اچھے اور برے" بمقابلہ "صحیح اور غلط" میں فرق کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم میں سے اکثر وہ چیزیں کرتے ہیں جو ہمیں پسند ہیں اور وہ چیزیں نہیں کرتے جو ہمیں پسند نہیں ہیں۔ یعنی ہم وہ کام کرتے ہیں جن کو ہم اپنے لیے اچھا سمجھتے ہیں اور ان کاموں سے اجتناب کرتے ہیں جنہیں ہم اپنے لیے برا سمجھتے ہیں۔ لیکن میرے عزیز، زندگی ہماری پسند اور ناپسند پر مبنی نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ صحیح اور غلط پر غور کرتے ہوئے بسر کرنی چاہیے۔ یاد رکھیں کہ میری "پسند" اور میری  "اچھائی" میرے  ذاتی اقدار سے آتے ہیں، جب کہ "حق" ہمہ وقت کے الہامی اصولوں سے آتا ہے اور یہ برتری کی بنیاد قائم کرتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں، ’’سب کے لیے درجے   ان کے اعمال کے مطابق ہیں۔‘‘ (6:132)۔

ہم ہمیشہ لوگوں کو ان کی صلاحیتوں اور مہارتوں کی بنیاد پر  پرنوکری دیتے ہیں، یا اس چیز کی بنا پر جس کی  ہم قدر کرتے ہیں۔ اور جب ہم انہیں برطرف کرتے ہیں، تو ہم یہ ان کے غیر اخلاقی طریقوں کی وجہ سے کرتے ہیں، جیسے بے ایمانی، دھوکہ دہی، وغیرہ، یعنی ان کے کردار۔ میں نے شادی کی کونسلنگ کے تمام معاملات میں ایک ہی چیز کا مشاہدہ کیا۔ لوگ شادی اس لیے کرتے ہیں کہ کوئی اچھا، خوبصورت، دراز قد، پڑھا لکھا، بہت امیر وغیرہ تھا لیکن اگر طلاق ہو جائے تو یہ ہمیشہ بے ایمانی، جھوٹ، بدعنوانی، دھوکہ دہی وغیرہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگر آپ دونوں صورتوں کا موازنہ کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ تعلقات شخصیت کے خصائل کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں، یعنی ہمارے اقدار یا پیکنگ۔ جبکہ رشتے ہمیشہ کردار کی خصلتوں کی وجہ سے ٹوٹتے ہیں، یعنی الہامی اصول، اندر کی چیز، ہمارے کردار۔ سوال یہ ہے کہ اگر کردار کی خصوصیات اتنی ہی اہم ہیں تو پھر ہم انہیں کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟

 

کردار کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے رہنما اصول

ہمارا ذاتی اخلاق ہمارے افعال سے نظر آتا ہے۔ ہم اصل میں کیا کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ ہم کیا کہتے ہیں۔ جیسا کہ کسی نے صحیح کہا ہے کہ ’’اعمال الفاظ سے زیادہ بلند آواز میں بولتے ہیں‘‘۔ اصولوں کے لیے لڑنا،  ان پر قائم رہنے کے بجائے اکثر آسان ہوتا ہے۔‘‘ لوگ واقعی آپ کے ذاتی معیارات کے بارے میں آپ کے دعووں پر زیادہ اعتماد نہیں دکھائیں گے۔ لیکن وہ اس بات پر پوری توجہ دیتے ہیں کہ آپ خاص طور پر تب  کیا کرتے ہیں، جب آپ کے اخلاقی معیار شدید آگ کی زد میں آتے ہیں۔ کوئی بھی صحیح کر سکتا ہے جب یہ آسان ہو۔ لیکن جب مشکل ہوتا ہے تو کردار والے لوگ وہاں لٹک جاتے ہیں۔ جب گرمی ہوتی ہے تو ہم اپنا اصلی کردار دکھاتے ہیں۔

 

اصولوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا انتخاب کریں

 ہمیں اپنے آج کے عارضی جذبات کو احتیاط سے جانچنا چاہیے اس تکلیف کے عوض جو وہ بعد میں دے سکتے ہیں۔ اگر آپ فوری فوائد حاصل کرنے کے لیے اپنے اصولوں کو بیچ دیتے ہیں، تو آپ گہری جذباتی افسردگی میں مبتلا ہو جائیں گے۔ بڑی تصویر کو دیکھیے۔ اگر آپ اس لمحے کے لیے جیتے ہیں، تو آپ اپنا مستقبل گروی رکھ دیں گے؟ اگر آپ اپنی ساکھ کو خطرے میں ڈالتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ بنسبت اس کے کہ، اگر آپ ابھی کے لیے خوشی کو ٹالنے یا کچھ "درد" کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں، امکان ہے کہ آپ کو ایک گہری خوشی ملے گی۔ یاد رکھیں، آخر کار، ہمیں اپنی اخلاقی خلاف ورزیوں کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، بس پرانی لائن یاد رکھیں جو کہتی ہے، "آپ مجھے ابھی قیمت ادا کر سکتے ہیں یا آپ مجھے بعد میں ادائیگی کر سکتے ہیں"۔ آپ کچھ وقت خرید سکتے ہیں، لیکن جب آپ بعد میں ادائیگی کرتے ہیں تو شاید آپ کو زیادہ قیمت چکانی پڑے گی۔ قرآن پاک کے الفاظ یہ سب کچھ بتاتے ہیں: "بری چیزیں اور اچھی چیزیں برابر نہیں ہیں اگرچہ برائیوں کی کثرت آپ کو حیران کردے۔ پس خدا سے ڈرو اے عقل والو! تاکہ تم فلاح پاؤ" (5:100)۔

اگر  وزن، وقت، قد، لمبائی وغیرہ کے لیے کوئی معیاری پیمانہ نہ ہوتا تو ہماری یہ دنیا کیسی نظر آتی؟ کیا ہوگا اگر ہم سب ایک آفاقی نظام کے بجائے اپنے ذاتی امعیار قائم کریں؟ ہاں، دنیا افراتفری کا شکار ہو جائے گی۔ اب بتائیے ایک شخص کی دوسرے پر برتری کا تعین کرنے کا پیمانہ کیا ہوگا؟ کیا یہ اونچائی، دولت، خوبصورتی، خاندانی پس منظر، تعلیم؟ یا کچھ اور ؟ آپ دیکھتے ہیں کہ آفاقی معیار کو استعمال کرنے کے بجائے، ہم اپنے ذاتی معیار  کا استعمال کرتے ہوئے ایک شخص کو دوسرے پر جانچ رہے ہیں۔ بہت کم لوگ شہرت، مالیات اور مداحوں کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ  دوسرے ترجیح دیتے ہیں، عزت، خدمت اور محبت کو۔ کچھ لوگ تعلیم کو جسمانی ظاہری شکل پر اہمیت دیں گے اور کچھ لوگ تعلیم پر خاندانی پس منظر کو اہمیت دیں گے، کچھ لوگ تعلیم سے زیادہ خوبصورتی کی طرف جانا چاہیں گے اور دوسرے پیسے کی عزت پر سمجھوتہ کریں گے، وغیرہ۔ ہم مختلف چیزوں کی قدر کرتے ہیں۔ لہذا، ہم جس چیز کی قدر کرتے ہیں وہ دوسروں کو ماپنے کا پیمانہ بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی ایک گڑبڑ ہوتی جا رہی ہے، اور ہم ہمیشہ اس کے درمیان جدوجہد کر رہے ہیں کہ کیا اچھا لگتا ہے اور کیا صحیح لگتا ہے۔ تاہم، حقیقی پیمانہ صرف الہامی  اصولوں، قوانین فطرت یا خدا کے قوانین کی شکل میں موجود ہے، جو بھی آپ انہیں نام دینا چاہیں۔

 

ہمیشہ اچھے پر صحیح کو ترجیح دیں

 لوگ چیزوں کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ ہم سب چیزوں کو یکساں طور پر نہیں دیکھتے ہیں، اس لیے ہم کبھی بھی اس بات پر متفق نہیں ہوں گے کہ آپ کی اچھی چیز میرے سے مختلف ہے۔ جو چیز آپ سے برتر معلوم ہوتی ہے وہ اوسط یا دوسروں کے لیے بری بھی ہو سکتی ہے۔ تو آئیے اس کے ساتھ الجھن میں نہ پڑیں۔ تاہم، "صحیح" کا تعین کرنا بہت آسان ہے۔ جو کچھ ، کچھ معاملات میں اچھا ہے وہ دوسروں میں برا بھی ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات صورت حال اتنی پیچیدہ ہوتی ہے کہ ہمیں یہ سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے کہ صحیح چیز کیا ہے۔ اور صحیح کام بھی غلط  طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ حالات اکثر ہمیں گھیر لیتے ہیں۔ ہمیں اپنے آپ سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہیے سوائےاس بات کے کہ  "حق" کے لیے کوشش  کرنا چاہیے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اس وقت اسے کتنا برا لگتا ہے۔ صحیح یہ نہیں کہ آپ سب برائیوں میں سے کم برے کا انتخاب کریں۔  اسے   آسان سمجھیں کہ  صرف صحیح کام کریں۔ یہاں تک کہ اگر ہم کم  برےسے بچ سکتے ہیں، تو بچیں۔ چاہے  دوسرے لوگ جو کررہے ہیں وہ دوسروں کو  بظاہر  اچھا  لگ رہا ہو اور انہیں  غلط چیز کوئی بڑی بات نہ لگتی ہو۔ کیا اچھا ہے؟ کیا برا ہے؟  کبھی کبھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو قبول کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا کام ہر ایک کے ساتھ اچھا کرنا ہے،  انہیں  خوش رکھنا نہیں ہے،  بلکہ "صحیح کام" کو "صحیح طریقے" سے کرنا ہے۔

 

کردار کی نئی وضاحت 

 بدلتے وقت کے ساتھ، ہر چیز بدل گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فطرت کے قوانین بھی بدل گئے ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ فطرت کے قوانین نہ بدلے ہیں اور نہ ہی کبھی بدلیں گے۔ وہ آج بھی اتنے ہی مضبوط ہیں جتنے پہلے تھے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ فطرت کے قوانین کسی خاص مدت کے لیے وضع نہیں کیے گئے تھے۔ صرف ایک چیز جو بدلی ہے وہ ہے ان قوانین کے متعلق ہماری سمجھ اور تشریح۔ یا ہو سکتا ہے، ان قوانین پر ہمارا ایمان بدل گیا ہو۔ ایمانداری، دیانت، صبر، اخلاق، رواداری، سچائی، محنت وغیرہ کے صدیوں پرانے اصول لے لیں، وہ نہیں بدلے۔ ایمانداری آج بھی اتنی ہی اہم ہے، جتنی صدیوں پہلے ہوا کرتی تھی۔ تاہم جو کچھ بدلا ہے وہ ان اخلاقیات کے بارے میں ہماری سمجھ ہے۔ صرف دس سال پہلے جو بے ہودہ ہوا کرتا تھا، اب ہمارا معاشرہ اسے اچھی طرح قبول کر رہا ہے۔ پہلے جو بے ایمانی ہوا کرتی تھی، اب اسے ’’سمارٹ ہونا‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، صرف ہماری سمجھ ہی بدلی ہے، یہ کرپٹ اور ناپاک ہو ئی ہے ۔ ہم نے انہیں زندگی کا   حصہ اور تحفہ سمجھ کر  قبول کرنے کے لیے خود کو موڑ لیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اخلاق بدل گیا ہے۔ بے ایمانی پھر بھی بے ایمانی ہے، چاہے ہم اسے کچھ بھی کہتے ہوں۔ یہ الہامی  سچائیاں ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کیا  عقیدے رکھتے ہیں  یا کیا کرتے   ہیں، الہامی سچائیاں اتنی  ہی پاک ہیں جیسے وہ ہیں اور ہمیشہ اسی طرح رہیں گیں۔

 

قانون کی روح کے ساتھ جئیں

 ہمیں فطرت کے قوانین کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے ،   دنیا کے قانون کے ساتھ نہیں۔ دنیاوی قوانین کے ساتھ پریشانی یہ ہے کہ ہر چیز کے لیے دائمی قوانین موجود نہیں ہیں ۔ اور بعض اوقات لوگ اپنے گھناؤنے کام کرنے کے لیے قانون کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ آپ بہت سارے برے کاموں کے  ساتھ  بھی جرمانہ یا جیل بھیجے بغیر فرار ہوسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ قانونی کاغذات پر پورے طریقے سے عمل بھی کر لیں، اور اس کی روح اور ارادے کے مطابق زندگی بسر کریں، فرد اور معاشرے، امتیازی معیار حاصل نہ کر پائیں۔ قانونی نظام ، ہمیشہ ہمارے ضمیر کے لیے اچھی رہنمائی کا کام نہیں کرتا۔ ہم حد سے تجاوز کر کے بھی قانون کے اندر رہ سکتے ہیں۔ ہم "قانون کے مطابق" جا کر بھی غیر اخلاقی برتاؤ کر سکتے ہیں۔ لہذا  زندگی کا معیار ہمارے کردار، دیانتداری اور ایمانداری سے آتا ہے اور یہ یقیناً الہامی نوعیت کا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ہم دنیا کے قوانین سے تو دور ہو سکتے ہیں لیکن فطرت کے قوانین سے بچ نہیں سکتے۔ اگر ہم فطرت کے قوانین کے خلاف جانے کا انتخاب کرتے ہیں، تو ہمیں جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور مجھ پر یقین کریں چاہے آپ کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو،  اتنی دنیاوی قوانین کی  قیمت نہیں ہے جتنا کہ  اس کی قیمت ہے۔ یاد رکھیں ،  آپ کا کردار آپ کی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے صرف آپ ہی جوابدہ ہیں، کوئی اور نہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں واضح کیا گیا ہے، "ہر نفس اپنے اعمال کے لیے گروی رکھا جائے گا۔" (74:38)۔

 

 

چھوٹی چیزوں کو نظر انداز نہ کریں

اگر  کوئی شخص ہم پر  چھوٹی چیزوں کے معاملے میں بھروسہ نہیں کر سکتا تو وہ  ہم  پر بڑی چیزوں  کے معاملے میں کیسے بھروسہ کر ے گا؟  آج کل کے اس بدلتے دور میں ، ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، معنی رکھتا ہے۔ سب سے معمولی خلاف ورزیاں  جیسے لال بتی پہ نہ رکنا ،  ہماری ساکھ، شناخت  کو کمزور کرتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہمارا کردار آشکار ہو۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے سرخ بتی پر رکنا، سڑک پر کچرا نہ پھینکنا، وقت پر آنا، ہماری رپورٹس کو بھرنا، صحیح معنوں میں اور بروقت، "نو سموکنگ" زون میں سگریٹ نوشی نہ کرنا یا پارکنگ ٹکٹ کی ادائیگی وغیرہ سے فرق پڑتا ہے۔ اس طرح کی ایمانداری اور دیانتداری کی چھوٹی سی خلاف ورزی، خواہ کتنی ہی چھوٹی ہو، ہماری اخلاقی طاقت کو کمزور کر دیتی ہے، اور ہمیں ان بڑے چیلنجوں کے لیے کمزور کر دیتی ہے جن کا ہمیں جلد یا بدیر سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جو بڑے جرائم کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان کا آغاز چھوٹی چھوٹی خلاف ورزیوں سے ہوا۔ ایک شخص، جو آدھی رات کو سرخ بتی پر رکتا ہے  جب نہ پولیس اہلکار ہو اور نہ ہی ٹریفک، وہ کبھی بھی بڑے جرم  میں ملوث نہیں ہوگا۔ وہ لوگ جو دفتری سٹیشنری کو ذاتی استعمال کے لیے بھی استعمال نہیں کرتے، وہ کبھی بھی بڑے فراڈ میں ملوث نہیں ہوں گے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ چھوٹی چیزیں بڑی کی طرف لے جاتی ہیں، لہذا یقینی بنائیں کہ آپ انہیں کبھی نظر انداز نہ کریں۔

 

اپنے باطن، اپنے ضمیر، اپنے دل کو سنیں

 ہمیں اپنے اندر کی آواز پر توجہ دینی چاہیے لیکن ساتھ ہی  اپنے جذبات اور احساسات میں فرق کرنا چاہیے۔ احساسات ہمیشہ سچے ہوتے ہیں۔ ہمارا اپنے احساسات  پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اسی لیے خدا ہمیں ہمارے احساسات کا جوابدہ بھی نہیں ٹھہراتا ہے۔ بعض اوقات ہم اپنے احساسات کو جذبات کے ساتھ الجھاتے ہیں۔ جذبات ہمارے احساسات پر ہمارا ردعمل ہیں۔ آپ کچھ چوری کرنا چاہتے ہیں، آپ کی اندرونی آواز ہمیشہ آپ کو بتائے گی کہ یہ غلط ہے۔ یہ ایک اور مسئلہ ہے اگر ہم اسے سننا نہیں چاہتے ۔ یا ہمارا دل جو کچھ کہہ رہا ہے اس کو شٹ اپ کال دے دیتے  ہیں۔ آپ اسے ضمیر، یا چھٹی حس یا خدا کی آواز کہہ سکتے ہیں۔ یہ ہم میں سے ہر ایک میں ہے۔ اور یہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ یقینی طور پر کچھ لوگ دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مجرم محسوس کرتے ہیں۔ ایک شخص برا محسوس کیے بغیر ظالم، بدکردار اور بے ایمان ہو سکتا ہے۔ اگلا شخص معمولی غلطیوں کے ارتکاب کے لیے بھاری جرم کا شکار ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات ہم ساتھیوں کے دباؤ سے ہمارے ضمیر کی آواز دب جاتی ہے اور ہمارا دماغ بری چیزوں کا جواز نکالتا ہے۔ جب ہم "صحیح" اور اپنی خود غرضی "اچھائی" کے درمیان تنازع کا شکار ہو جائیں تو ہمیشہ صحیح ہونے کو ترجیح دیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو یاد رکھیں، "جس کا اچھا کام اسے پسند آئے اور جس کا برا کام اسے برا لگے، وہ ہے مومن"۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب آپ  نے اپنے ضمیر کو  بار بار سن کر   اسے تسلیم کر کے  صاف رکھا ہو۔

 

لوگوں سے بات کریں، لیکن انہیں احتیاط سے منتخب کریں

 اگر آپ کو اپنے دل کی آواز کے بارے میں یقین نہیں ہے، تو دوسری رائے حاصل کریں۔ استاد  کو تلاش کریں. لیکن اسے احتیاط سے منتخب کریں۔ کچھ لوگ ناقص مشیر ہوتے ہیں۔ ان کے مفت مشورے کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی۔ اور ٹھوس نصیحت کے ساتھ نرمی سے بات کرنے والے کو  اس پر برتری حاصل نہیں ہوسکتی جو دوسروں کی بات اچھے طریقے سے  سنتا ہی نہیں۔  بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ ان لوگوں سے بات کریں جن کی اخلاقیات کی آپ تعریف کرتے ہیں، جن کی آپ ایمانداری، انصاف پسندی اور دیانتداری کا احترام کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ بات کرنے سے گریز کریں جو مخالف نقطہ نظر رکھتے ہیں، یا جو صورتحال کو مختلف زاویہ سے دیکھتے ہیں۔  نہ  یہ کہ جو ہاتھ آیا اس سے مشورہ کر لیا  یا وہ شخص جو "جی آیا نوں آدمی" ہے  جو آپ کی سوچ کو کبھی چیلنج نہ کرے ۔

 

قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہیں

 جب ہم اعلیٰ معیار پر قائم رہتے ہیں، تو لوگ متاثر ہوتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ ہمیں اسی  کے لیے پسند نہیں کرتے۔ صحیح اور اخلاقی کام کرنے کی ہماری جدوجہد میں ہر کوئی ہمارے ساتھ نہیں ہوگا۔ درحقیقت، بعض اوقات ہم بھی اپنے ساتھ نہیں ہوتے۔ یہاں تک کہ "نظام" ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں ہوگا۔ ہم اپنی اندرونی کشمکش سے لڑیں گے، "اچھے" اور "صحیح" کے درمیان تقسیم ہو کر۔ ہمیں خود کو ہر کسی میں مقبول بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ یاد رکھیں! لوگ ہمیشہ صحیح چیزوں کا بدلہ نہیں دیتے۔ ہماری شہرت اور کردار میں بڑا فرق ہے۔ زیادہ تر اوقات، شہرت اس بات پر بنتی ہے کہ کیا اچھا لگتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ  صحیح  ہو۔ وہ بہت اچھا ہے، کیوں، کیونکہ وہ مجھے اپنے برے کام کرنے دیتا ہے۔ اب یہ کیا ہے؟ آپ دیکھتے ہیں کہ اگر آپ صحیح تھے، تو شاید لوگ آپ کو زیادہ پسند نہ کریں۔ لیکن یاد رکھیں کہ آپ یہاں مقبول ہونے کے لیے نہیں ہیں۔ آپ یہاں صحیح کرنے کے لیے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کا اپنا خاندان آپ کے اصولوں کی وجہ سے آپ کو پسند نہ کرے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی شریک حیات اور بچے آپ کے اصولوں کی وجہ سے آپ کے ساتھ زیادہ مطمئن نہ ہوں۔ لیکن یاد رکھیں کہ کوئی مفت لنچ نہیں ہے۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اور اگر یہ کردار کے ساتھ زندگی گزارنے کی قیمت ہے، تو میں شرط لگاتا ہوں کہ یہ اس کے قابل بھی  ہے۔   آئیے کردار کے ساتھ شہرت کو الجھائیں نہیں۔ اچھی شہرت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اچھے کردار ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو یاد رکھیں، "تم میں سے بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے اخلاق میں بہترین ہوں۔" لہٰذا صرف کردار کے لیے کوشش کریں چاہے اس سے آپ کو مختصر مدت میں اپنی شناخت ہی کی قیمت   کیوں نہ ادا کرنی  پڑے۔ یقین مانیں یہ کوئی برا سودا نہیں ہے۔ 

پرامن معاشرے حادثاتی طور پر نہیں بنتے۔ ہمیں شعوری طور پر محنت سے ان کی تعمیر کرنا ہوگی۔ اور ہمارا کردار اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا کہ نتائج۔   امن  جیسی تبدیلی ایک  process ہے، جو کہ صحیح کام کرنے کے کی  ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ اس  کے لیے، ہمیں اپنے ہر کام میں خود کو اعلیٰ معیار رکھنا ہو گا۔" امن " کردار، دیانتداری، انصاف پسندی، ایمانداری اور صحیح کام کرنے کے عزم کا مطالبہ کرتا ہے۔ یاد رکھیں کہ ہمارے ہر عمل کی ایک قیمت ہے جو ہمیں ادا کرنی ہوگی۔ آپ اسے ابھی ادا کرنا چاہیں گے یا بعد میں کسی اور طریقے سے ادائیگی کرنا چاہیں گے۔ آپ کو ابھی فیصلہ کرنا ہے۔ یہ ایک انتخاب ہے۔ لیکن دوسروں کے تجربات سے سیکھتے ہوئے، بہتر ہے کہ آپ اپنے طریقے کا انتخاب کریں اور زندگی گزاریں،  دوسروں کو اپنے پر قابو نہ ہونے دیں۔ یاد رکھیں ،  آپ کا کردار اور آپ کے اعمال  ہی آپ کا واحد اثاثہ ہیں جو آپ کے ساتھ رہے گا،  اس 7×4 اندھیرے کمرے میں جسے "قبر" کہا جاتا ہے۔

 

خدمت خلق:

ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے، میں نے ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔اعلیٰ طبقے کے ساتھ ساتھ نچلے   طبقے کے لوگ، دس سے اسی سال کی عمر کے لوگ ، گھریلو خواتین سے لے کر زندگی کے تمام شعبوں تک۔ کام کرنے والی خواتین، تاجر، پیشہ ور، خدمت گار، طالب علم، ملازم اور بے روزگار، کام کرنے والے اور ریٹائرڈ، مرد اور خواتین دونوں۔ میں نے ذاتی طور پر 10,000 سے زیادہ لوگوں سے ملاقات کی ہوگی۔  آخر کار مجھے یقین ہو گیا کہ ان کی عمر، ان کی سماجی حیثیت، ان کے منتخب کردہ میدان سے قطع نظر، صرف وہی لوگ خوش، مطمئن اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں جو  دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں کسی نہ کسی طرح کے مخلصانہ اور بے لوث تعاون میں شامل تھے۔ قرآن کے الفاظ میں، ’’تم ہرگز نیکی کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم  اس چیز کو نہ دو جسے تم پسند کرتے ہو(3:92)۔  میں نے ذاتی طور پر اس کا تجربہ کیا ہے۔ ان دنوں، جب میں اپنے پورے پیشہ ورانہ کیریئر میں چٹان کی تہہ پر تھا، تمام مالی پریشانیوں کے ساتھ، صرف ایک چیز جس نے مجھے زندہ رہنے میں مدد کی وہ معاشرے کے لیے میری بے لوث خدمت  تھی۔ میرے آس پاس کے لوگ ہمارے  مالی حالات کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند تھے جب کہ میری بیوی اور میں دونوں ہی اس  بارے میں کم سے کم فکر مند تھے،۔ ہم اپنے فلاحی کاموں میں اتنا  مصروف تھے جتنا ہم اس دستیاب وقت میں ہو  سکتے تھے۔ ہم دونوں اس بات سے متفق ہیں کہ ان دنوں ہم ذاتی سکون اور امن کے عروج پر تھے۔ کیا یہ حیران کن نہیں ہے؟ جی ہاں، یہ ہے، لیکن یہ سچ ہے اور میں اسے  خدمت خلق  کی طاقت کہتا ہوں۔

اس کی مزید وضاحت کے لیے میں ایک کہانی بیان کرتا ہوں۔ چند سال پہلے ایک انتہائی غریب گھرانے کی جس کی سات سال کی بیٹی شدید بیمار تھی، مجھ سے ملنے آئی۔ لڑکی کو کینسر تھا، اور ان کے پاس اس کے علاج کے لیے پیسے نہیں تھے۔ وہ ہر جگہ گئے جہاں وہ مدد کے لیے جا سکتے تھے۔ بہت کم لوگوں نے ان کی مدد کی لیکن ان میں سے زیادہ تر کو ایسا کرنا نصیب نہیں ہوا۔ جب انہوں نے مجھے یہ کہانی سنائی، اس وقت ان کی امید تقریباً ختم ہو چکی تھی، اور وہ دستی  مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ میں نے انہیں اطمینان  دیا اور ان سے درخواست کی کہ مجھے کچھ وقت دیں۔ انہیں جو رقم درکار تھی وہ میرے لیے اکیلے ہینڈل کرنے کے لیے بہت زیادہ تھی۔ جس لمحے وہ چلے گئے، میں نے ان تمام لوگوں کو فون کرنا شروع کر دیا، جنہیں  میں جانتا تھا کہ مدد کر سکتے ہیں۔ میں نے سینکڑوں لوگوں کو فون ملایا جن میں سے چند ایک پرعزم تھے۔   ان میں ایک معروف تاجر بھی تھا۔ جب میں نے اسے ساری کہانی سنائی تو اس نے مجھے بتایا کہ حال ہی میں اسے اپنے کاروبار میں ایک ہفتے کے دوران تقریباً 10 ملین کا بڑا نقصان ہوا ہے اور اس وقت وہ کچھ دینے کی حالت میں نہیں ہے۔ مجھے اس پر افسوس ہوا اور پھر اس سے کہا کہ شاید اس کے لیے بدلے میں کچھ لینے کی کوشش کرنے کا موقع تھا۔ وہ نہیں سمجھ پا یا۔ پھر میں نے اسے پورا فلسفہ سمجھا دیا۔ بے وجہ  نہیں تھا کہ وہ یہ سب سننے میں اتنا وقت صرف کر تا، لیکن  شاید بحران کی وجہ تھی (ہم میں سے اکثر بحران کے وقت خدا کے قریب آتے ہیں) اس نے صبر سے  میری بات کو سنا۔ میں نے اس سے کہا کہ ہم ایک دوسرے پر منحصر ہیں، ہمارا خالق ایسا ہی چاہتا ہے۔

میں نے اسے مزید بتایا کہ یہ خدا کی طرف سے اس کے لیے ایک موقع ہو سکتا ہے جو چاہتا ہے کہ تم جیسے  اپنے تجربے سے کچھ سیکھے اور اگر اس نے اس چھوٹی بچی کو بچانے میں مدد کی تو اسے بدلے میں کچھ انعام مل سکتا ہے۔ اسے میری بات پہ  زیادہ یقین نہیں تھا اور وہ الجھن میں کھویا ہوا معلوم ہو رہا تھا۔ اس نے  ایک دو دن سوچنے کے لیے مانگے۔ دو دن بعد، میں نے اس سے چیک کرنے کے لیے واپس فون کیا۔ اس نے  25،000روپے کا عطیہ دیا۔  آخر کار میں مطلوبہ رقم جمع کرنے میں کامیاب ہو گیا اور لڑکی کو زیر علاج رکھا گیا۔ چند ہفتوں کے اندر گھر والوں نے فون کرکے بتایا کہ لڑکی تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی اور میری طرف سے یہ باب بند ہو گیا۔ دو ہفتے بعد، صبح سویرے مجھے  اسی تاجر کا فون آیا۔ اس کا فون آنا میرے لیے حیرت کی بات تھی کیونکہ اس سے پہلے اس نے مجھے کبھی فون نہیں کیا۔ وہ بہت پرجوش لگ رہا تھا، جب میں نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے مجھے بتایا کہ اس کی کمپنی نے مشرق بعید میں ایک بڑا کنٹریکٹ جیتا ہے اور اسے تقریباً 25 ملین  روپے کمانے کی امید تھی۔ اگلے تین سالوں کے لیے صرف اس معاہدے سے سالانہ بنیادوں پر 25 ملین منافع۔ اُسی شام وہ ذاتی طور پر دفتر میں مجھ سے ملاقات کے لیے پوری کہانی سنانے اور یہ موقع فراہم کرنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے آئے۔ آپ اسے کیا کہیں گے، ایک معجزہ، ایک موقع، یا محض قسمت؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس میں سے ایک بھی نہیں ہے، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہمارا انعام ہے، "جو نیکی کرے گا اسے دس گنا زیادہ ملے گا..."۔ (6:160)

 

دینا یا لینا

ایک دلچسپ بات جو میں نے ان تمام لوگوں میں پائی، جو پرامن اور خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے، وہ یہ تھی کہ وہ خدمت پر یقین رکھتے تھے، خیرات کرتے تھے، اپنا وقت اور وسائل کسی قابل قدر کام میں خرچ کرتے تھے۔ اور بدلے میں انہیں اپنی زندگی میں سکون اور تکمیل نصیب ہوئی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ (یعنی 2.5 فیصد صدقہ) کو مسلمانوں کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ، اس نے درحقیقت ہمیں دوسروں کو دے کر، ہمارے لیے مزید کچھ حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ میں نے بہت سے لوگوں کو ان تمام لازمی نمازوں اور فرائض کے بارے میں شکایت کرتے دیکھا ہے جو ہمارے خالق کی طرف سے ہم پر عائد کی گئی ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ وہ شکایت کیوں کرتے ہیں؟ وہ شکایت کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ خدا ہمارے ذریعے دوسروں کی مدد کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ ہم سے تقاضا کرتا ہے، لیکن وہ چاہتا ہے کہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنے کا یہ اعزاز حاصل ہو۔ کیونکہ ہماری اپنی زندگیوں کو سنوارنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔

 

کچھ سال پہلے، مجھے فالج کے مریض کے پاس ریفر کیا گیا جس کی عمر 55 سال سے زیادہ تھی۔ پچھلے کئی سالوں سے، وہ اپنے فضلے سے مفلوج تھا اور اس نے ہر ایک سے مشورہ کیا جو اس کے پاس تھا، لیکن حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ اپنی پہلی ملاقات میں، میں نے دریافت کیا کہ وہ ایک سینئر بیوروکریٹ ہیں اور کافی امیر ہیں، لیکن مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہ اپنے بڑے گھر میں دو نرسوں کے ساتھ اکیلے رہتے تھے۔ تفتیش کرنے پر اس نے مجھے بتایا کہ اس کے تین بیٹے معذور پیدا ہوئے تھے اور بعد میں انتقال کر گئے تھے۔ اس نے تین شادیاں کیں،  دو بیویاں فوت ہوئیں اور تیسری نے دس سال پہلے اسے چھوڑ دیا۔ یہ دکھ بھری کہانی سننے کے بعد، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی اندرونی زندگی مجھ سے شیئر کرنا چاہیں گے کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ اس کی زندگی میں ضرور کوئی نہ کوئی ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے۔ میں قرآن پاک کی اس آیت کو تاکید  سے ذکر  کرتا ہوں، "اور جو بھی مصیبت تم پر آتی ہے، وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہے۔ اور وہ بہت کچھ معاف کرتا ہے۔‘‘ (42:30)

کسی کے فوری جواب کی طرح، اس نے ٹھوس "نہیں" کے ساتھ جواب دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ ایک ایمانی طبیب  کے طور پر، میرا کام اس کا علاج کرنا نہیں ہے بلکہ اس کے علاج میں اس کی مدد کرنا ہے۔ میں نے اسے یہ بھی بتایا کہ خدا جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ہم سے ہماری ماؤں سے ستر گنا زیادہ محبت کرتا ہے، وہ یہ سب کسی کے ساتھ  نہیں کر سکتا۔ لیکن، بدقسمتی سے، اس نے اصرار کیا کہ اس طرح کی کوئی چیز نہیں تھی۔ مہینے گزر گئے اور چھ مہینے کے بعد اس نے ایک بار پھر مجھے بلایا، جب اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔ جیسے ہی میں وہاں پہنچا، اس نے رونا شروع کر دیا اور پھر آخر کار اپنی زندگی کا سارا قصہ سنایا۔ اسے مختصر کرتے ہوئے، میں نے جو جمع کیا وہ یہ تھا کہ وہ کرپٹ آدمی تھا۔ اس نے اپنے بھائی سے خیانت کی، اور والد کی وفات کے بعد بھائی کو  وراثت میں سے اس کا حصہ دینے سے انکار کر دیا تھا، جب کہ بڑے ہونے کی وجہ سے اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ وہ ایک کرپٹ بیوروکریٹ کے طور پر بھی جانا جاتا رہا  جس نے اپنے اعلیٰ عہدوں کا فائدہ اٹھا کر بہت پیسہ کمایا۔ اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اپنی پوری زندگی میں اس نے کبھی خیرات میں ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا اور خدمت خلق جیسی چیز سے  وہ بالکل لاعلم تھے۔ اس نے مجھے مزید بتایا کہ اس نے مجھ سے جھوٹ بولا، کیونکہ وہ خود  میں بہت مجرم اور شرمندہ تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ خدا اسے ان تمام چیزوں کو کرنے کے سلسلے میں بہت ساری ویک اپ کالیں دے رہا ہے جو اس کے ساتھ ہوا، خدا صرف  یہ چاہتا ہے  کہ وہ سیکھے اور بدلے۔ لیکن اس نے ان ویک اپ کالوں کو کبھی نہیں سنا۔ میں نے اسے مزید بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اگر میں اس کی کوئی مدد کرسکتا ہوں۔ تاہم میں نے اسے کہا کہ وہ رب کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں سے بھی معافی مانگے، جن سے اس نے دھوکہ کیا ہے اوریہ کہ  اسے ان تمام نقصانات کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو اس نے اپنی روح کو پہنچائے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسا نسخہ تھا اور اس سب کا فالج سے کیا تعلق ہے۔ یہاں تک کہ سیکھنے کے شروع میں یہ مجھے عجیب لگتا تھا لیکن اب میرا ایمان ان چیزوں پر بہت مضبوط ہو گیا ہے۔ اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے، "کوئی چیز (انسان کی) عمر میں اضافہ نہیں کرتی سوائے نیکی کے۔ اور انسان کو صرف ان گناہوں کی وجہ سے (زندگی کے) رزق سے محروم رکھا جاتا ہے جو وہ کر گزرتا  ہے۔"

مزید میں نے اسے یہ بھی کہا کہ وہ رب کے ساتھ ایک معاہدہ کر لے کہ اگر وہ صحت یاب ہو گیا تو اپنی زندگی ضرورت مندوں کی خدمت کے لیے وقف کر دے گا۔ اس نے وعدہ کیا۔ اگلے چند مہینوں میں، ہماری کچھ اور میٹنگیں ہیں۔ اسے مختصر کرتے ہوئے، اس  آدمی نے وہی کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ اس نے اپنے بھائی سے معافی مانگی اور اس کی رقم اسے واپس کردی۔ اس کے علاوہ اس نے اپنا گھر بیچ کر چند خیراتی اداروں کو رقم عطیہ کی۔ اس نے خود اپنا وقت پسماندہ بچوں کو پڑھانے کے لیے وقف کیا۔ اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ وہ عوامی خدمت میں پوری طرح شامل ہو گئے اور آپ جانتے ہیں کیا؟ پہلے سال میں وہ مکمل صحت یاب ہو گیا۔ وہ نہ صرف جسمانی طور پر ٹھیک ہوا بلکہ اس کی خوشی، اطمینان اور سکون بھی واپس آگیا۔ اس نے اپنی کھوئی ہوئی عزت بھی بحال کر دی اور لوگ اس سے محبت کرنے لگے۔ میڈیکل سائنس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ لیکن میرے خیال میں اس کا واحد جواب، میرے پاس ہے، وہ  یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ہزاروں لوگوں کی زندگیوں میں اہم بنایا جن کے پاس مدد کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تھا، اور خدا اسے کھونے کا متحمل نہیں ہوسکتا، کم از کم اس وقت کے لیے۔

آپ نے دیکھا کہ ہمارے خالق نے ہمیں ایک دوسرے پر منحصر کیا ہے۔ ہم چند چیزوں کے لیے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں اور چند چیزوں کے لیے  دوسرے  ہم پر انحصار کر سکتے ہیں۔ دوسروں کی مدد کرنا، جو کچھ ہمارے پاس ہے ان کو دینا جن کے پاس نہیں ہے بالآخر ہماری مدد کرتا ہے۔ اگر آس پاس کوئی مدد کرنے والا نہ ہوتا، تو ہم ان تمام چیزوں کو حاصل کرنے کے بہت سے مواقع گنوا سکتے تھے جو اس کے نتیجے میں ہمیں حاصل ہوتے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ زندگی دینے اور لینے کے درمیان توازن ہے۔ خدمت کی یہ روایت نئی نہیں ہے۔ یہ تہذیب اتنی ہی پرانی ہے۔ صرف ایک چیز جو بدلی ہے وہ یہ ہے کہ اب ہم اس کے فوائد سے زیادہ واقف ہو گئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہ صرف ایک ذاتی عمل تھا۔ مگر اب نہیں۔ یہاں تک کہ کاروباری اداروں سمیت مختلف تنظیموں نے بھی اس کے فوائد کو محسوس کیا ہے۔ اپنی خدمات اور مصنوعات کی تشہیر اور تشہیر پر لاکھوں اور کروڑوں خرچ کرنے کے بجائے، کامیاب تنظیموں نے کمیونٹیز کی خدمت کرتے ہوئے پروموشن کا یہ انوکھا طریقہ دریافت کیا ہے، جس میں وہ کام کرتی ہیں۔ کمیونٹی کو یہ دکھانے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ وہ واقعی پرواہ کرتے ہیں۔ وہ جتنا زیادہ کمیونٹی کو دیتے ہیں، اتنا ہی زیادہ،  کمیونٹی سے ان کے پاس واپس آتا ہے۔

 

خدمت  خلق نہ کرنے والا رویہ  - سماجی مسائل کی بنیادی وجہ

میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ آج ہماری دنیا جن تمام عالمی مسائل کا سامنا کر رہی ہے وہ خدا کے قوانین پر عمل کرنے میں انسان کی نااہلی کی وجہ سے ہے۔ ورنہ زندگی اتنی مشکل نہیں ہونی چاہیے تھی جتنی بن گئی۔ ماحولیاتی مسئلہ کو لے لو۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ہمارے خالق نے ہمیں اس زمین پر اس دنیا  کے رکھوالوں کے طور پر بھیجا ہے، مالک  کے طور پر نہیں۔ اچھے سرپرستوں کی طرح، ہمیں اس دنیا  کی دیکھ بھال کرنی تھی۔ ہمیں اس کے   non-renewable  وسائل کی حفاظت کرنی چاہیے تھی اور اگلی نسلوں کے لیے renewable وسائل کی تجدید کرنی چاہیے تھی۔ لیکن ہم نے کیا کیا؟ ہم اس کے بجائے "مالک" بن گئے، اور ان وسائل کو اگلی نسلوں تک تجدید کیے بغیر غلط استعمال کرنا شروع کر دیا۔ "اوہ، یہ میری زمین ہے میں جتنے چاہوں درخت کاٹ سکتا ہوں؟"، "اوہ یہ میری زمین ہے۔ میں جو چاہوں گا اس میں ڈال دوں گا؟" یہ صرف چند تبصرے ہیں جو لوگ اپنے افعال کا جواز پیش کرنے کے لیے دیں گے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند رہتے ہیں اور اس لیے ان کے لیے اچھی وراثت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ لیکن ذرا تصور کریں کہ آپ ان کے لیے کیسی دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اپنے آپ سے پوچھیے:

کیا ان کے پاس پینے کے لیے صاف پانی ہوگا؟

کیا انہیں سانس لینے کے لیے صاف اور تازہ ہوا ملے گی؟

کیا ان کے پاس اس  زمین کو برقرار رکھنے اور ہوا کو صاف اور سانس لینے کے لیے محفوظ رکھنے  میں  کافی درخت باقی رہ جائیں گے؟

کیا ان کے پاس اپنی ٹرانسپورٹ  کو چلانے کے لیے کافی ایندھن باقی رہ جائے گا؟

کیا ان کے پاس اتنا کوئلہ اور قدرتی گیس باقی رہ جائے گی کہ وہ جلا سکیں اور اپنے گھر کو گرم رکھیں؟

کیا ان کے پاس اپنی خوراک اگانے کے لیے غیر آلودہ زمین باقی رہ جائے گی؟

آپ نے دیکھا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا، وہ ختم ہوچکا ہے۔ اب ہمیں اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، اگر ہم مصیبت سے بچنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے زندگی کی تمام آسائشوں سے لطف اندوز ہوں جیسا کہ ہم نے کیا تھا، تو ہمیں  اپنے ڈبہ  سے باہر نکل کر مختلف طریقے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ ماحولیات اور اس کے وسائل کی حفاظت کریں، تو ہمیں انہیں دکھانے کی ضرورت ہے، کہ ہمیں بھی پرواہ ہے۔ ہمیں مثال کے طور پر رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر ایک اپنے طور پر بہت سے کام کر سکتا ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے، ہم کچھ درخت لگا سکتے ہیں، ہم توانائی کے وسائل کو بچا سکتے ہیں، ہم ایندھن میں، بجلی کی بچت کر سکتے ہیں، ہم اپنے ماحول، اپنے محلے کو صاف رکھ سکتے ہیں۔

 

عوامی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں، بہرحال!

دوسروں کی مدد کرنے کے بہت سارے طریقے ہیں اور بہت سے ایسے جن میں  آپ کو زیادہ خرچ نہیں کرنے کی ضرورت۔ آپ کو اپنی ہر چیز یا کسی بھی چیز کے ساتھ لوگوں کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت کے ساتھ، پیسے کے ساتھ، اپنے علم سے یا جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے، ان کی خدمت کریں، لیکن آپ کو خدمت ضرور کرنی چاہیے۔ دوسروں کے لیے نہیں، تو  اپنے لیے صحیح۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تمام لوگ جو مختلف رضاکارانہ سرگرمیوں میں فی ہفتہ 4-6 گھنٹے گزارتے ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں 6-8 سال زیادہ جیتے ہیں جو  ایسا نہیں کرتے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ ہم سے کیا ہوا؟ ہماری ساری نیکیوں کو کیا ہوا؟ انسانیت کی تاریخ کے سب سے عظیم پیغمبر کے پیروکار جنہوں نے ہمیں بے لوث خدمت کا سبق دیا، وہ خدمت میں کیوں پیچھے رہ گئے؟ ذرا تصور کریں کہ اگر تقریباً 140 ملین کی آبادی میں ہم میں سے ہر ایک ہفتے میں 4 گھنٹے رضاکارانہ کام کے لیے دیتا ہے، تو یہ ہمیں رضاکارانہ کام کے لیے ہفتے میں 560 ملین گھنٹے دے گا۔ اب ذرا سوچئے کہ یہ قوم کیا بن سکتی ہے اگر ہم اتنا رضاکارانہ کام ہفتہ وار بنیادوں پر کریں۔

 

اس معاشرے، اس برادری، اس ملک نے، اس دنیا نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اگر ہم اسے تسلیم کریں۔ ہمیں ہمیشہ اس بات کی فکر رہتی ہے کہ ہمارے خاندان، ہمارے معاشرے یا ہماری قوم نے ہمیں کیا دیا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم نے اپنی برادری یا ملک کو کیا دیا ہے؟ ہم میں سے اکثر یہ بھی نہیں جانتے کہ اگلے دروازے پر کون رہتا ہے؟ آپ نے دیکھا کہ ہمارے  عقائد کا نظام بدل گیا ہے؟ کیا ہم اس سے مختلف ہو گئے ہیں جو ہمیں ہونا چاہیے تھا؟ دوسروں کی مدد کرنے کے بجائے، ہم میں سے اکثر دوسروں، برادریوں، معاشرے اور مجموعی طور پر ملک کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ ایک طرف عوام کی خدمت کا رویہ ہے، اچھا کرنا، دوسروں کے لیے کچھ اضافی کرنا، کسی کی مدد کے لیے ایک میل کا فاصلہ طے کرنا، لیکن اصل میں لوگوں کی اکثریت اپنے پڑوسیوں، معاشرے اور قوم کے لیے نقصان اور پریشانی کا باعث ہے۔

اگر آپ حقیقی سکون چاہتے ہیں تو اپنے پاس جو کچھ ہے اس کا تھوڑا سا حصہ دوسروں کی خدمت کے لیے خرچ کرنے کا عہد کریں۔ اگر آپ پیسے نہیں دے سکتے تو کم از کم ان لوگوں کو تعلیم دینے کی کوشش کریں جو اسکول نہیں جا سکتے۔ کسی بھی طرح دوسروں کی مدد کرنا، یہی خدمت ہے۔ گھروں میں بیٹھی گھریلو خواتین اور ریٹائرڈ لوگوں کو دیکھیں۔ ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ وہ بھی کچھ کر سکتے ہیں۔ وہ کسی کو سکھا سکتے ہیں۔ وہ لکھ سکتے ہیں۔ وہ اپنی برادریوں میں سرگرم ہو سکتے ہیں۔ وہ ماحول میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں یا دماغی طور پر معذور یا کینسر کے مریض کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ وہ سکول جانے میں بچے کی مدد کر سکتے تھے۔ کچھ بھی کریں، لیکن مہربانی فرما کر کوئی ایسا کام کریں جو اگلے کو  یاد رہے ۔ اس سے کسی کی زندگی میں فرق تو  پڑے گا اور آپ اس سے کیا کچھ  حاصل کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کو دنیا کی کسی مصیبت سے نجات دلائی، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس کی پریشانی دور کر دے گا۔ اور جو شخص تنگدستی میں مبتلا آدمی کے لیے  قرض ادا کرنا آسان کر دے تو اللہ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں (ہر چیز) آسان کر دے گا۔ …… جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کے لیے تیار رہتا ہے خدا ہمیشہ اپنے بندے کی مدد کے لیے تیار رہتا ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.