Moderation and Balance (اعتدال اور توازن۔ مسلمان کی پہچان)

Transcription of Faiez Seyal’s Urdu best-seller Audio Program “Moderation and Balance” from 1995 

سورة البقرہ کی آیت نمبر ١٤٣میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  ہم نے اسی طرح تمہیں متوازن اُمت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جائو۔  ”   (سورة البقرہ : ١٤٣)

اس آیت سے اس بات کی وضاحت ہو رہی ہے کہ مسلمانوں کی دوسری قوموں پر سبقت کی ایک بڑی وجہ اُن کی طبیعت کا اعتدال اور توازن ہے۔دیکھنے میں تو یہ آیت بہت ہی آسان لگتی ہے اور ایسے لگتاہے کہ جیسے ہر کسی کو سمجھ آجائے گی لیکن کافی عرصہ سے لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے کے مواقع کے دوران لوگوں کے دلچسپ سوالوں سے اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ اکثر لوگ اس خوبی کی اصل حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں۔

جیسے کسی بھی مانگنے والے کو اپنے دروازے سے خالی ہاتھ نہ جانے کی حدیث کے جواب میں ایک صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے کہ جناب ان بھکاریوں نے تو زندگی عذاب کر رکھی ہے اور آپ نے کیایہ نہیں سنا کہ رسول ِ کریمۖ نے کتنا ناپسندیدہ فعل قرار دیا ہے۔

اسی طرح ایک اور لیکچر جس کا عنوان ”فضول خرچی” تھا’ اُس کے بعد ایک زیورات سے لدی ہوئی خاتون فرمانے لگیں کہ ہم نے تو یہ سناتھا کہ پیارے رسولۖ نے فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے نوازا ہو اُس کو اس کا اظہار کرنا چاہئے۔آپ نے آج اسے فضول خرچی بنا دیا ہے اب ہم خرچ بھی نہ کریں تو کیا کریں!

اسی طرح کے کئی بیانات ہی تھے جس پر ایک پورا آڈیوپروگرام لکھنے  کی ضرورت پیش آئی۔

مسئلہ صرف یہ ہے کہ دونوں اس بات کو صرف اپنے نقطہء    نظر سے سوچ رہے ہیں۔پہلی مثال میں صاحبِ ثروت حضرات کیلئے نبی پاکۖ نے یہی فرمایا کہ سوالی کو خالی ہاتھ رخصت نہ کرو۔اور دوسری بات بھی ٹھیک ہے کہ آپۖ نے ہی بھیک مانگنے کو سخت ناپسند فعل قرار دیا ہے۔اب یہ جو ہمارے دین کی خوبی ہے کہ وہ ہر حق کے ساتھ فرائض لگا کر اس فعل کو متوازن بناتا ہے’ یہی چیز اکثر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔مسئلہ تو یہ ہے کہ آجکل ہماری قوم اپنے فرائض سے زیادہ اپنے حقوق سے آگاہی رکھتی ہے۔مانگنا ناپسندیدہ عمل ہے یہ بات تو اُن صاحب کو یاد تھی لیکن پہلی بات کہ کسی ضرورت مند کو بغیر کچھ دیئے رخصت نہ کرو کیونکہ اُن کو ناپسند ہوگی اس لئے وہ پہلی حدیث کا حوالہ دے کر اپنی ذمہ داری سے برّی الزمہ ہونا چاہتے تھے۔ اب کب مانگنا ہے’کیسے مانگنا ہے اور کب نہیں مانگنا چاہئے اس کا فیصلہ وہ صاحب کریں جنہوں نے مانگنا ہے۔انہوں نے اپنی قبر میں اپنے اعمال ساتھ لے کر جانے ہیں۔ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عائد نہیں کی گئی کہ ہم پہلے تفتیش کریں کہ کیا مانگنے والا ضرورت مند ہے یا نہیں اور پھر ہی ہمیں ثواب ملے گا۔ہمارے فعل کا ثو اب تو ہماری نیت پر ہے۔ہاں ہمیں حتی الوسع کوشش ضرورکر لینی چاہئے کہ  کسی جائز ضرورت مند کو ہی دیا جائے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کچھ لوگوں کی وجہ سے کسی جائز ضرورت مند کا ہی حق مارا جائے۔تو جناب یہ ہے مسلمان کے اعتدال اور توازن کی ایک مثال۔

اب اُن خاتون کی بات کر لیجئے اُن کو وہ حدیث تو یاد تھی جو اُن کے دل کو بھلی لگی لیکن کیا انہیں قرآن پاک کی یہ آیات بھول گئیں۔

”  اور پھر تم سے اللہ کی نعمتوں کے بارے میں ایک روز بازپرس کی جائے گی۔  ”  (التکاثر   :٨)

اور سورة توبہ کی آیات ٣٤-٣٥ میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں عذابِ دردناک کی خوشخبری دے دیجئے۔جس دن وہی (سونا چاندی) دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا۔پھر اس سے ان کی پیشانیوں اور پہلوئوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا(اور ان سے کہا جائے گا کہ)یہی وہ (سونا چاندی) ہے جو کہ تم خزانوں میں جمع کیا کرتے تھے اپنی ذات کیلئے۔سو اب جو کچھ تم خزانوں میں جمع کرتے تھے اس کا مزہ چکھو۔  ”   (سورة توبہ : ٣٤-٣٥)

اب اِدھر بھی مسئلہ یہی تھا کہ دین میں سے جو بات اپنے دل کو بھلی لگی’ جس کا فائدہ ہو وہ لے لی اور باقی باتوں کو اَن سنا کر دیا۔

اسی طرح کی ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیے۔

کچھ عرصہ پہلے ایک شادی پر جانے کا اتفاق ہوا۔لڑکی کے والدین نے لاکھوں روپے کا جہیز جس میں زیورات’ کپڑے حتیٰ کہ ایک فلیٹ اور کار بھی شامل تھی’ اپنی لڑکی کو جہیز میں دی۔نکاح کے وقت جب میری ملاقات لڑکی کے والد صاحب سے ہوئی جو کہ ایک معزز اور نیک’ نمازی’پرہیزگار شخص تھے’ تو ملتے ہوئے کچھ شرمندہ سے تھے اور خود ہی بول اُٹھے کہ جناب میں تو ان چیزوں کے حق میں نہیں لیکن بیوی نہیں مانی۔کہتی ہے ایک ہی تو بیٹی ہے۔اس پر خرچ نہیں کریں گے تو کس پر کریں گے۔نکاح کے بعد جب مولوی صاحب کو رخصت کر رہے تھے تو اپنے بیٹے کو 1000روپے دے کر کہنے لگے کہ مولوی صاحب کو دے دو۔کچھ دیر کے بعد بیٹے نے آکر ابو کو ایک طرف بلا کر کچھ کہا تو صاحب غصّے میں آگئے اور باہر جا کر مولوی صاحب کو اونچی آواز میں ملامت کرنے لگے ساتھ ہی ساتھ اپنے دینی علم کی برتری منوانے کیلئے کہنے لگے کہ مولوی صاحب میں نے آپ کا قرضہ نہیں دینا کوئی۔اول تو قرآن پاک میں منع فرمایا ہے کہ نیک کاموں پر معاوضہ نہیں لینا چاہئے میں نے پھر بھی آپکی عزت کرتے ہوئے آپ کو دیا اور آپ کو اس پر بھی خوشی نہیں ہو رہی۔

میری تو آنکھیں نم ہو گئیں اور دل نے یہ کہا کہ ان صاحب کو یہ عرض کروں کہ جناب آپ نے شادی پر اور تو کوئی شریعت کے مطابق کام کیا نہیں لیکن مولوی صاحب کو 1000روپے دینے پڑ گئے تو آپ کو شریعت یاد آگئی۔کیا آپ کو شریعت کی یہ بات یاد نہیں کہ جو لوگ اللہ (کے دین) اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں اُن کو کسی قسم کی تنگی نہ آنے دینا۔

تو جناب یہ ہے معاشرے کا حال۔حقوق سے آگاہ اور فرائض سے لاپرواہ۔جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام ایک ایسے معاشرے کا تصور لے کر آیا جس میں لوگ اپنے حقوق سے زیادہ اپنے فرائض پر توجہ دیتے ہونگے اور ہر کوئی کوتوالی کرنے کی کوشش میں مبتلا نہ ہوگا۔

اب آئیے اُس آیت کی طرف جس سے ہم نے یہ پروگرام شروع کیا تھا۔

”  ہم نے ا س طرح تمہیں متوازن اُمت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جائو۔  ”

اسلام آنے سے پہلے کے مذاہب پر نظر دوڑائی جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ اُن قوموں کے ہر طبقے میں توازن اور اعتدال کی کمی تھی۔ کچھ حقائق پیشِ خدمت ہیں:

O

کئی دیگر مذاہب کے پیشوائوں یعنی کہ مذاہب کا پرچار کرنے والے لوگوں پر یہ لازم تھا کہ وہ کنوارے رہیں۔وہ اپنی زندگی عام انسانوں کی طرح نہیں گزار سکتے تھے۔حتیٰ کہ اُن کے کپڑے بھی فرق ہوا کرتے تھے۔

O

اسلام نے یہ فرق ختم کر دیا اور واحد دین بنا جس میں ایسی کوئی شرط نہیں۔ اور دین کی تعلیم دینے والے لوگ بھی ویسے ہی انسان ہیں’ ویسے ہی روزی کما سکتے ہیں اور شادی کر سکتے ہیں جیسے کہ کوئی اور شخص۔

O

اسلام سے پہلے لوگ سینکڑوں کے حساب سے جائز اور ناجائز شادیاں کیا کرتے تھے اور ان عورتوں کی اہمیت خریدی ہوئی باندی یا غلام سے زیادہ نہیں ہوا کرتی تھی۔یہ عورتیں اپنے مالک کی لاپرواہی یا دوری سے تنگ آکر ناجائز کام کرنے پر مجبور ہو جایا کرتی تھیں لیکن اُن کا کوئی حق نہیں تھا۔

اسلام نے نہ صرف یہ کہ چار بیویوں سے زیادہ پر پابندی لگا دی بلکہ بیوی کو برابری’ عزت’وراثت میں حصہ’خرچہ اور اسکی جائز ضروریات کا حق بھی دلوایا اور تمام بیویوں کے ساتھ برابری کا حکم بھی دیا۔

O

اسی طرح بچیوں کو پیدائش کے وقت ہی مار دینے کی رسم ختم کروائی بلکہ بچیوں کو بچوں کے مقابلے میں برابری بھی دلوائی۔

O

اسی طرح یہ اسلام ہی تھا جس نے غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور اُن کو اپنے جیسا کھانا کھلانے اورپہنانے کا اور اُن سے اُن کی ہمت سے زیادہ کام نہ لینے کا حکم دیا۔اور ساتھ ہی ملازموں پر اپنے مالک کی خیر خواہی لازم کر دی۔

O

یہ اسلام ہی تھا جس نے معاشرے میں معاشرے کے دولتمند اور کمزو ر لوگوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اصلاحات کیں۔

مسلمان معاشرے کے کسی بھی طبقے کا مطالعہ کرلیجئے’ آپ اس بات کے قائل ہو جائیں گے کہ مسلمان قوم میں کوئی ایسا طبقہ نہیں جس میں کسی کو کوئی حق دیا گیا ہو بغیر کسی ذمہ داری یا فرائض کے۔چاہے ماں باپ اور بچوں کے درمیان موازنہ کر لیجئے’چاہے آپ میاں بیوی کے درمیان موازنہ کرلیجئے’ چاہے آپ حکومت اور رعایا کے درمیان موازنہ کر لیجئے’چاہے ہمسائے ہوں یا اُستاد ہوں یا دینی عالم’ بھکاری ہوں یا غلام’ مالک ہو یا مخلوق’ ہر ایک طبقے کے درمیان حقوق و فرائض کا توازن اور اعتدال نظر آئے گا۔

مسلمان کا یہی توازن اور اعتدال ہی تو اُس کو دوسری قوموں پر سبقت دلواتا ہے اور اسی کا اشارہ سورة البقرہ کی آیت نمبر 143میں کیا گیاتھا۔

اس سے پہلے کہ ہم معاشرے میں توازن اور اعتدال کے بارے میں بات کریں’ پہلے اس توازن اور اعتدال کے بارے میں قدرت کے نظام پر کچھ بات کرتے ہیں۔

اور سب سے پہلے تو سورة الذ ّاٰریات کی آیت نمبر ٤٩ کا ترجمہ دیکھئے۔ارشاد ہے:

”  اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں۔ تاکہ تم نصیحت پکڑو۔  ”   (الذ ّاٰریات : ٤٩)

آیت کا پہلا حصہ لیجئے کہ ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں۔

اپنے آگے پیچھے’ اوپر نیچے نظر دوڑائیے اور دیکھئے کہ ہر چیز جوآپ کو نظر آتی ہے وہ جوڑوں میں ہے۔عورت مرد’ بیٹا بیٹی’ ہر جانور’ پرندہ حتیٰ کہ درختوں ‘پھلوں میں نر مادہ’ نیکی بدی’ اچھائی برائی’سچ جھوٹ’ دن رات’ سردی گرمی’ بہار خزاں’صحت بیماری’ زندگی موت’ دنیا آخرت’خوشی غمی’ شور خاموشی’ کام آرام’سفید سیاہ’ موٹاپا دُبلاپن’ دولت افلاس’ غرضیکہ ہر چیز کی دو قسمیں ہیں۔یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے۔

اب ذرا آیت کے دوسرے حصے پر غور کیجئے۔ارشاد ہے:

”  تاکہ تم نصیحت پکڑو۔  ”

اس حصے میں نصیحت پکڑنے کا ذکر کیوں ہو رہا ہے۔

O

ذرا غور کیجئے کہ اگر دنیا میں بدی نہ ہو تو نیکی کیا ہے کسے معلوم ہو گا۔

O

اگر موت نہ ہو تو زندگی کی ضرورت کسے رہے گی۔

O

اگر بیماری نہ ہو تو صحت کسے پیاری ہو گی۔

O

اگر رات نہ ہوتی تو دن کا انتظار کون کرتا۔

O

اگر غمی نہ ہوتی تو خوشی کون مناتا۔

اب یہ کہنا کہ اللہ بیماری نہ دیتا’ تو جناب اگر بیماری نہ ہوتی تو آپ صحت مند رہنے کی جستجو کیسے کرتے۔

ذرا غور سے سوچئے کہ زندگی کی رونق ہی ختم ہو جاتی۔اگر چیزوں میں جوڑے نہ ہوتے۔

اگر ہر جگہ دولت ہی ہوتی تو اُس کو پانے کی کوشش ہی نہ ہوتی اور دنیا کا معاشی نظام ہی ختم ہو کر رہ جاتا یا دوسری طرف اگر ہر طرف مفلسی ہی ہوتی اور امارت ہوتی ہی نہ تو امارت کی کوشش ہی ترک کر دی جاتی اور اس طرح زندگی گزر جاتی۔

اگر موت نہ ہوتی تو لوگ زندگی سے نہ ہی پیار کرتے اور نہ ہی اس میں کچھ کر گزرنے کی جستجو ہوتی۔ تو جناب یہ ہے وجہ کہ ہر چیز رب العالمین نے جوڑوں میں بنائی تاکہ ہم نصیحت پکڑیں اور بہتر چیز کا انتخاب کریں۔لیکن توازن کے ساتھ کہیں یہ نہ ہو کہ ایک چیز کو پاتے پاتے کچھ اور گنوا بیٹھیں۔جیسے کہ اکثر لوگ دولت کی طرف بھاگتے بھاگتے صحت’ عزت اور پیار گنوا بیٹھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کو توازن کتنا پسند ہے اس کا اندازہ چند قرآنی حقائق سے لگایا جا سکتا ہے۔ذرا غور سے سنیے:

O

قرآن پاک میں دنیا کا لفظ ایک سو پندرہ مرتبہ استعمال ہوا اور اسی طرح آخرت کا لفظ بھی ایک سو پندرہ مرتبہ ہی استعمال ہوا۔

O

قرآن پاک میں الملائکہ یعنی کہ فرشتوں کا ذکر 88 مرتبہ ہے اور اسی طرح الشیاطین یعنی کہ شیطانوں کا ذکر بھی 88مرتبہ ہی ہے۔

O

قرآن پاک میں الحیات یعنی کہ زندگی کا لفظ ایک سو پینتالیس مرتبہ آیا اور اسی طرح اس کے برعکس الموت یعنی کہ موت کا ذکر بھی ایک سو پینتالیس مرتبہ ہی ہوا۔

O

قرآن پاک میں الرجال یعنی کہ مرد کا ذکر چوبیس مرتبہ ہے اور اسی طرح المرحہ یعنی کہ عورت کا ذکر بھی چوبیس مرتبہ ہی ہے۔

ایک اور بڑی ہی دلچسپ حقیقت کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔

قرآن پاک کی سورة الز ّخرف کی آیت 11میں ارشاد ہے:

”  اسی نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی نازل فرمایا۔  ”

اس آیت پر غور و فکر کیا جائے تو یہ ایک سیدھی سی آیت لگتی ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ اس میں ذکر ہے ایک اندازے کے مطابق۔جناب! اب وہ اندازہ کیا ہے۔

ظاہری حقیقت اور سائنس تو یہ بتاتی ہے کہ ہماری دنیا میں پانی تقریباً 71فیصد اور خشکی صرف انتیسفیصد ہے۔تو پھر یہ اندازہ کیا ہے۔

اِدھر ایک اور قرآنی حقیقت کا ذکربھی کرنا چاہوں گا۔یہ سائنسی حقیقت بیسویں صدی میںسامنے آئی ہے جبکہ قرآن نے یہ حقیقت 1400سے زائد عرصہ پہلے بتائی تھی۔

وہ ایسے کہ قرآن پاک میں البحریعنی کہ سمندر کا ذکر بتیس مرتبہ اور البّر یعنی کہ خشکی کا ذکر تیرہ مرتبہ ہے۔یہ دونوں جمع کر کے پینتالیس بنتے ہیں۔اب پینتالیس میں سے بتیس ‘ 71.1فیصد اور پینتالیس میں سے تیرہ تقریباًانتیس فیصد بنتا ہے۔دیکھ لیجئے قرآن کا کرشمہ۔

چلئے واپس آتے ہیں بارش کی طرف کہ :

”  ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی نازل فرمایا۔  ”

تو جناب سائنسدانوں نے حال ہی میں یہ اندازہ لگایا ہے کہ ہماری دنیا سے ہر سیکنڈ میں سولہ ملین ٹن پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔یہ بنا  پانچ سو تیس  ٹریلین ٹن پانی سالانہ۔

دلچسپ حقیقت تو یہ ہے کہ سائنسدانوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ پوری دُنیا میں ہر سال جتنی بارش ہوتی ہے اُس کی مقداربھی بالکل اتنی ہی ہے جتنا کہ پانی ہر سال بخارات بن کر اُڑ جاتا ہے۔

ہے نامعجزہ! اور شاید اُس آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ تھا۔

اب ذرا سوچئے کہ اگر یہ توازن بگڑ جائے تو دنیا کا کیا حال ہوگا۔اگر بارش زیادہ ہو جائے تو یہ فالتو پانی کتنے ہی ملکوں کو زیرِ آب کر دے گا اور اگر بارشیں اس مقدار سے کم ہوں جتنا پانی سمندر سے آبی بخارات بن کر اُڑ ا تو سمندر خالی ہو جائیں گے’ہماری زمینوں کا کیا بنے گا۔

ابھی تک تو اللہ تعالیٰ صرف اشارے دے رہا ہے۔صرف شہروں یا ملکوں کا توازن خراب کر کے جس کی وجہ سے حال ہی میں ایک طرف تو ایسے ایسے ملکوں میں سیلاب آگئے جہاں صدیوں میں اتنی بارشوں کا ریکارڈ ہی نہیں ملتا دوسری طرف کئی ملکوں میں پانی کی کمی کی وجہ سے ہزاروں لوگ اور مویشی مر گئے اور کئی بیماریاں آگئیں۔اگر یہ آفت صرف کچھ ملکوں کا توازن خراب ہونے سے آسکتی ہے تو ذرا خیال کیجئے کہ اگر خدا نخواستہ تمام دنیا کا توازن خراب ہو گیا تو کیا ہو جائے گا۔

زمین اور پہاڑ

اب ذرا ملاحظہ کیجئے کہ ہماری زمین کے بارے میں پانی کے علاوہ باقی یعنی کہ انتیس فیصد کے بارے میں اللہ کے نظام کا توازن کیسا ہے اور اس بارے میں قرآن پاک کیا بتا رہا ہے۔سورة الحجر کی آیت  ١٩میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور اس پر (اٹل) پہاڑ ڈال دیئے ہیں اور اس میں ہم نے ہر چیز ایک معین مقدار سے اُگا دی ہے۔  ”   (سورة الحجر : ١٩)

تو پہلے تو آتے ہیں اس بات کی طرف کہ اٹل پہاڑ ڈال دیئے ہیں۔اس کا اشارہ کس طرف ہے اور پہاڑوں کا مقصد کیا ہے؟اس سوال کا جواب بھی قرآن پاک میں ہی ملتا ہے۔سورة النحل کی آیت نمبر١٥میں ارشاد ِ رّبانی ہے کہ:

”  اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے ہیں تاکہ تمہیںہلا نہ دے’ اور نہریں اور راہیں بنا دیں تاکہ تم منزلِ مقصود تک پہنچ سکو۔  ”   (سورة النحل : ١٥)

ذرا اللہ کا نظام دیکھئے اور سوچئے کہ 1400سال پہلے تو سائنسدانوں کو علم ہی نہیں تھا کہ پہاڑوں کا کیا کام ہے۔اب تو دنیا بھر کے Geologist اس بات کو مان چکے ہیں کہ پہاڑ زمین کو رو کے ہوئے ہیں اور ان پہاڑوں کو روکنے والے درخت ہیں۔درختوں کی جڑیں جو پہاڑوں کے اندر ہوتی ہیں وہ ان پہاڑوں کی مٹی کو بہنے سے روکے رکھتی ہیں۔آپ نے بھی کئی بار پہاڑی علاقوں میں بارشوں کے دوران دیکھا ہوگا کہ لینڈ سلائیڈنگ ہوتی رہتی ہے اور سڑکیں بند ہو جاتی ہیں۔اس کی وجہ کیا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ حضرتِ انسان اس کائنات کا وہ توازن خراب کر رہا ہے جس کا ذکر سورة الحجرکی آیت ١٩میں ابھی پہلے بیان کیاکہ:

”  اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور اس پر (اٹل) پہاڑ ڈال دیئے ہیں اور اس میں ہم نے ہر چیز ایک معین مقدار سے اُگا دی ہے۔  ”   (سورة الحجر : ١٩)

اب اگر اللہ تعالیٰ نے درخت بھی معین مقدار سے اُگائے ہیں تو اگر اس توازن کو حضرتِ انسان خراب کرے گا تو نقصان تو اُٹھائے گاہی۔اگر اللہ تعالیٰ نے ایک خاص تعداد سے جنگلات اُگائے ہیں جو کہ نہ صرف جانوروں کو رہنے کی جگہ مہیا کرتے ہیں بلکہ ان میں طرح طرح کی بیماریوں کیلئے شفا یعنی کہ جڑی بوٹیاں بھی ہیں۔ساتھ ہی ساتھ یہ درخت انسان کو صاف آکسیجن بھی مہیاکرتے ہیں۔اور بارشوں میں’ سیلابوں میں زمین کو کٹائی سے روکتے ہیں۔آخر خود سوچئے کہ آج کل ماحولیات کے کتنے مسائل اسی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں کہ حضرتِ انسان اپنی لامحدود لالچ کی تسکین کیلئے ان درختوں کو کاٹتا چلاجا رہاہے۔اللہ کا نظام ایسا ہے کہ اس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اگردرختوں کو توکاٹا جائے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کے بدلے نئے درخت لگائے جاتے رہیں یا چلئے اگر نئے پودے بھی نہ لگائے جائیں کم از کم جنگلات کو تو برقرار رکھا جائے تاکہ پودے خود ہی نئے اُگتے آئیں۔اگر انسان جنگلات کو ہی ختم کر دے اپنے مسکن بنانے کیلئے یا فیکٹریاں لگانے کیلئے تو وہ توازن جو اللہ نے بنایا ہے کہ اتنے درخت ضرور ہونے چاہئیں اتنے جانوروں کے مسکن کیلئے اور اتنی مخلوق کو صاف ہوا اور بیماریوں سے شفا کیلئے تو وہ توازن تو خراب ہو جائے گا اور مسائل بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔

اس توازن کے بارے میں سورة الفرقان کی آیت نمبر ٢ میں ارشاد ہے:

”  ہر چیز کو اُس نے پیدا کر کے ایک مناسب اندازہ سے ٹھہرا دیا ہے۔  ”  (الفرقان : ٢)

اور سورة القمر کی آیت  ٤٩میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرر) اندازے پر پیدا کیا ہے۔  ”  (القمر:٤٩)

جب یہ مقرر اندازہ خراب ہو جائے یا کر دیا جائے تو سوچ لیجئے کہ نقصان تو حضرتِ انسان خود ہی اُٹھائے گا۔

دوسری طرف یہ سوچئے کہ سورة النحل کی آیت ١٥میں یہ بھی ذکر ہے کہ ہم نے پہاڑ رکھے اور اس میں نہریں اور راہیں بنا دیں۔اب ایک طرف تو اشارہ زمینی نہروں کی طرف ہے اور دوسری طرف پہاڑوں پر جو برف پڑتی ہے’ جب وہ برف موسم گرما میں پگھلتی ہے تو اس میں سے پہاڑی چشموں کے ذریعہ پانی زمینی علاقوں کی طرف آتا ہے۔یہ بھی خدا کا توازن ہے۔ اسی طرح سورة الحجر کی آیت نمبر ١٩میں یہ بھی یہی ذکر تھا کہ:

”  اُس میں ہم نے ہر چیز ایک معین مقدار سے اُگا دی ہے۔  ”   (سورة الحجر : ١٩)

اب اس میں اشارہ پہاڑوں کے اندر جو خزانے ہیں اُن کی طرف بھی ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ اشارہ درختوں’ پودوں’فصلوں کی طرف بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اشارہ زمین کے اندر جو قدرتی وسائل ہیں جیسے سوئی گیس’ معدنیات’ تیل وغیرہ اُس کی طرف بھی ہے۔

چلئے اب نظامِ شمسی کے بارے میں بھی اللہ کا توازن دیکھتے ہیں۔

ذرا سوچئے تو صحیح کہ کروڑوں سالوں سے بغیر کسی غلطی کے سورج اور چاند کا نظام کیسے کام کر رہا ہے۔دنیا میں ایک طرف اگر دن ہے تو دوسری طرف رات ہے۔ذرا سوچئے کہ اگر اس نظام میں تھوڑی سی تبدیلی آجائے تو کیا ہو گا۔

اگر سورج اور چاند کی رفتار میں ہی ذرا سی تبدیلی آجائے تو تمام نظام ِ کائنات ہی شاید ختم ہو کر رہ جائے۔

یا پھر اگر سورج کا زمین سے فاصلہ میں تھوڑی سی کمی ہو جائے تو زمین میں درجہ حرارت بڑھ جائے گا’سمندر چڑھ جائیں گے اور کئی ملک زیرِ آب آکر صفحہِ ہستی سے ہی ختم ہو جائیں گے۔

چلئے یہی سوچ لیجئے کہ اگر سورج نہ ہوتا تو فصل ہی نہ اُگ پاتی۔ آپ خود دیکھ لیجئے کہ چھائوں میں تو گھاس نہیں اُگتی فصل کیا حاصل ہو گی۔اگر پوری دنیا میں ہی سورج نہ نکلتا تو کیا ہوتا؟

ایسے ممالک جہاں پر سورج کم نکلتا ہے جیسا کہ یورپ کے کچھ ممالک وہاں پر دیکھ لیجئے کہ فصلیں نہیں اُگتی۔چلئے دنیا کا نظام تو چل رہا ہے اس لئے کہ کچھ اور ممالک تو ہیں جہاں اناج پیدا ہو رہاہے۔اگر خدا کے اس نظام میں توازن نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟

چلئے یہی سوچ لیجئے کہ اگر بارہ مہینے سردی رہتی تو کیا ہوتا۔دیکھ لیجئے کہ زمین کے شمالی حصہ جس کو  North Pole کہتے ہیں’ وہاں پر انسانی زندگی ناممکن ہے۔

یا یہ سوچ لیجئے کہ اگر بارہ مہینے گرمی رہتی تو کیا ہوتا؟آپ کو طرح طرح کے موسمی پھل اور سبزیاں ہی نہ مل سکتے۔۔

غرضیکہ کسی بھی ایک حالت میں ہماری دنیا ایسی نہ ہوتی جیسی ہے۔جو پھل گرمیوں کے ہیں وہ صرف گرمیوں میں ہی اُگتے ہیں اور جو سردیوں کے ہیں وہ صرف سردیوں میں ہی اُگ سکتے ہیں۔

اگر سردی نہ آتی تو پہاڑوں میں برف نہ پڑتی۔ اور اگر برف نہ پڑتی تو گرمیوں میں پانی کہاں سے آتا۔اور گہرائی میں جائیں تو دلچسپ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر گرمی نہ پڑتی تو پھر پانی بخارات بن کر اُڑتا ہی نہ اور اگر دنیا سے پانی اُڑتا ہی نہ تو بارش یا برف کا تو سوال ہی پیدا نہیں  ہوتا۔ تو کیا زندگی کا خیال بھی ممکن تھا؟

تو جناب اُمید ہے کہ یہ واضح ہو گیا ہو گا کہ قوانین ِ قدرت میں سے ایک بہت ہی اہم قانون توازن اور اعتدال ہے۔اس توازن کو جب جب اور جہاں جہاں بھی خراب کیا گیا ہے تباہی ہی آئی ہے۔اب آپ خود سوچئے کہ اگر یہ قانون کائنات کے نظام میں اتنا اہم ہے تو ہماری زندگی میں اس کی اہمیت کتنی ہوگی۔بدقسمتی سے یہی مسئلہ ہے کہ لوگ شاید یہ نہیں جان پاتے کہ یہ قانون ہماری زندگی کے کس کس حصے پر اور کیسے کیسے لاگو ہوتا ہے۔

اس چھوٹے سے موضوع میں ہر چیز کا ذکر کرنا تو ممکن نہیں لیکن زندگی کے کچھ پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہیں کیونکہ اس دنیا میں اور آخرت میں وہی لوگ کامیاب ہیں جو کہ زندگی کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔

دین اور دنیا

چلئے سب سے پہلے دین اور دنیا کے درمیان توازن کی بات کرتے ہیں ۔یہ ایک ایسا ٹاپک ہے جس پر جتنی بھی گفتگو کی جائے کم ہے۔اس پر کچھ گفتگو میںنے اپنے ٹاپک ”زندگی کا مقصد” میں کی ہے۔یہاں پر گزارش صرف یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو انسان سے صرف عبادت ہی مطلوب ہوتی اور عبادت کا مطلب بھی یہی ہوتا جو کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا کی پوجا کی جائے تو انسان کو بنانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔کیونکہ یہ کام دنیا میں پتہ نہیں کتنے کروڑوں سالوں سے باقی تمام مخلوقات پہلے سے ہی کر رہی تھیں۔اور صاف ظاہر ہے کہ یہ کام باقی مخلوقات کے مقابلے میں حضرتِ انسان اتنا کر ہی نہیں سکتا اور اگر اللہ تعالیٰ کو انسان سے یہی مطلوب ہوتا تو اسلام بھی باقی کئی مذاہب کی طرح ترکِ دنیا کو ہی آخرت میں کامیابی کا ذریعہ سمجھتا۔

جبکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔اصل میں تو اسلام واحد دین ہے جس نے ترکِ دنیا کو ناپسند فرمایا ہے۔اسی لئے تو اس دین کے رہنمائوں تک کیلئے کوئی علیٰحدہ قوانین نہیںبنائے گئے۔وہ ایک عام آدمی کی طرح زندگی گزارتے ہیں اور ان پر ایسی کوئی شرعی پابندی نہیں جو کہ اس دین پر چلنے والے ایک عام آدمی پر نہ ہو۔یہاں تک کہ کثرت سے عبادت کرنے سے جس سے باقی ذمہ داریاں یا فرائض خراب ہوں بھی منع فرمایا دیا گیا۔جیسا کہ بخاری کی ایک روایت سے ثابت ہے:

”  حضرت عبد اللہ بن عمرو سے ایک بار نبی پاکۖ نے پوچھا ‘کیا یہ بات جو مجھے بتائی گئی ہے صحیح ہے کہ تم پابندی سے دن میں روزے رکھتے ہو اور رات رات بھر نمازیں پڑھتے ہو؟ حضرت عبد اللہ نے کہا’ جی ہاں!بات تو صحیح ہے۔نبی پاکۖ نے ارشاد فرمایا:’نہیں ایسا نہ کرو’ کبھی روزہ رکھو اور کبھی کھائو پیو۔اس طرح سوئو بھی اور اُٹھ کر نماز بھی پڑھو کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے۔’  ”   (بخاری)

قرآن پاک میں دین اور دنیا کے توازن کی ایک بہت ہی عمدہ مثال سورة الجمعہ کی آیات ٩اور ١٠میں ملتی ہے۔فرمان الٰہی ہے:

”  اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت چھوڑ دو۔یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پائو۔  ”   (الجمعہ : ٩-١٠)

اپنے پیارے رسولۖ کی زندگی کا عمدہ نمونہ آپ کے سامنے ہے کہ آپ ۖنے ایک پیغمبر ہونے کے باوجود ایک بیٹا’ ایک خاوند’ ایک باپ’ ایک عالم’ ایک ملٹری کمانڈرغرضیکہ ہر ایک ذمہ داری کو ایک ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا۔آپۖ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو کہ ایک عام مسلمان کو کرنے سے منع کیا ہو  اور نہ ہی کوئی ایسا کام کیا جو کہ ایک عام مسلمان کر نہ سکتا ہو۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آج اسلامی ممالک میں جو مسائل نظر آتے ہیں وہ اُمت جو کہ دوطبقوں میں بٹی نظر آتی ہے۔ایک وہ لوگ جو کہ دین کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور دوسرا طبقہ جو کہ دنیاوی کامیابی کیلئے ہی سرگرم ہے اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ آج کا مسلمان وہ اعتدال اور توازن بھول گیا ہے جو اُس کی پہچان تھی۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان دو طبقوں کے ملاپ سے ایک تیسرا طبقہ بھی اُبھر آیا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو کہ اپنے دینی فرائض کو تو پورا کرتا ہے لیکن اُس وقت دنیا بھول جاتا ہے اور دوسری طرف جب دنیاداری میں پڑتے ہیں تو دین کو بھول جاتے ہیں۔ان لوگوں کے نزدیک دین اور دنیا دومختلف چیزیں ہیں اور ساری زندگی یہ بیچارے ان دو بالکل مختلف پگڈنڈیوں پر اپنے قدموں کو متوازن کرنے کی کوشش میں ہی لگے رہتے ہیں۔کبھی دین ان پر حاوی ہو جاتا ہے اور کبھی دنیا۔لیکن وہ اعتدال اور توازن جو کہ مسلمان کی شخصیت کا ایک اہم جزو تھا وہ ان میں نظر نہیں آتا۔

آج کل مسلمان معاشروں میں سب سے زیادہ شرح اسی قسم کے مسلمانوں کی نظر آتی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو کہ پانچوں نمازیں بھی بڑے اہتمام سے پڑتے ہیں اور شاید روزہ زکوٰة کے بھی پابند ہوں لیکن ساتھ ہی ساتھ ان میں  جھوٹ’ غصّہ’ گالی گلوچ’ بے صبری بھی نظر آتی ہے۔اس کے علاوہ کافی معاشرتی  بُرائیاں جیسے گانا’ ڈانس’ فضول خرچی’ غیرضروری رسمیں وغیرہ بھی آپ کو ان میں نظر آتی ہیں۔

دلچسپ حقیقت تو یہ ہے کہ کیونکہ آج کل کے دور میں متوازن مسلمان نایاب ہے اس لئے دیگر مسلمان اپنے اعمال کو درست ثابت کرنے کیلئے اپنے سے مختلف مسلمانوں کو طرح طرح کے لقب دیتے ہیں۔جیسا کہ یہ تو جی  Fundamentalist ہے یا یہ جناب  Modern مسلمان ہے۔

غرض یہ ہے کہ مسلمان جو کہ ہے ہی متوازن شخصیت کا نام اُس میں یہ دوExtremes کیسے آگئیں۔ایک کو Fundamentalist کہہ دیا اور دوسرے کو مارڈرن۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایسے مسلمان جو کہ نمازیں بھی نہیں پڑھتے وہ بھی اپنے آپ کو Modernمسلمان کے حلقے میں شامل کر کے سکون سے بیٹھے ہوئے ہیں۔

تو جناب کیا پانچنمازیں پڑھنے’ روزے رکھنے اور زکوٰة ادا کرنے کا نام ہی Fundamentalist ہے۔

اگر اسی کا نام Fundamentalist ہے پھر تو ہر مسلمان کو Fundamentalist ہی ہونا چاہئے کیونکہ ان Fundamentals کے بغیر تو مسلمان’ مسلمان ہی نہیں ۔مجھے اس سوال کا جواب دیجئے کہ دُنیا کا کون ساادارہ’  مذہب یا حتیٰ کہ شعبہ بھی بنیادی Fundamentals کے بغیر کام کر سکتا ہے؟کیا دنیا کی ہر سائنس کے کچھ بنیادی اصول نہیں ہیں؟اسی طرح اگر اسلام کے بھی کچھ بنیادی اصول ہیں تو اُن کو Fundamentals of Islam کہا جاتا ہے۔یعنی کہ توحید’ نماز’ روزہ’ زکوٰة اور حج۔یہ پانچبنیادی عقائد ہیں کسی بھی مسلمان کے’  ان کے بغیر تو مسلمان’ مسلمان ہی نہیں۔ تو یہ Fundamentalist کا ذکر کہاں سے آگیا۔البتہ ایک بات جو کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی مسلمان ان پانچ عقائد کو تو خوش اسلوبی سے نبھائے لیکن اُس کی شخصیت میں مسلمان کی باقی بنیادی خوبیاں موجود نہ ہوں جیسے نرمی’ سچائی’  خوش اخلاقی’  رحم دلی’  ایثار’  صبر’  برداشت’  حوصلہ تو صاف ظاہر ہے کہ ایسا مسلمان حقوق العباد میں پیچھے رہ جائے گا جو کہ مسلمان کی شخصیت کا ایک بنیادی پہلو ہے۔

یاد رکھیئے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا توازن ہی تو مسلمان کو مسلمان بناتا ہے۔

اسلام صرف حقوق اللہ کی ادائیگی کا ہی نام نہیں۔یہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اللہ کو اگر صرف یہی چاہئے ہوتا تو انسان کو پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔حقوق اللہ تو باقی مخلوقات بڑے اچھے انداز سے پورے کر رہے تھے۔

دوسری طرف وہ طبقہ جو کہ حقوق العباد تو پورے کرتا ہو اور حقوق اللہ کو چھوڑ دے تو اُس شخص کو آپ ایک اچھا انسان تو کہہ سکتے ہیں لیکن ایک اچھا مسلمان نہیں۔مسلمان تو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے توازن کا نام ہے۔یاد رکھیئے کہ دین دُنیا کے گزر بسر کے ڈھنگ کا نام ہے۔دین دُنیا کیلئے آیا نہ کہ دُنیا دین کیلئے بنی۔کلمہ کو دیکھ لیجئے لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ اس میں پہلے حقوق اللہ اور پھر حقوق العباد کا ذکر ہے۔

سورة العصر کو دیکھ لیجئے:

”  زمانے کی قسم بیشک انسان خسارے میں ہے ماسوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے۔اور نیک اعمال کیے۔اور حق بات کی تلقین کی اور صبر کی۔  ”

اس میں بھی بات حقوق اللہ سے شروع ہوئی لیکن حقوق اللہ کی ادائیگی زندگی کا مقصد نہیں بلکہ مقصد تک پہنچنے کیلئے ضروری ہے۔مقصد حقوق العباد ہے۔ہاں وہ اور بات ہے کہ حقوق العباد کی آگاہی اور ان کی بے لوث ادائیگی ہو ہی نہیں سکتی جب تک کہ ایک اللہ کو اور اُس کے قوانین کو سمجھا نہ جائے۔

اس موضوع پر میں نے اپنے کچھ اور آڈیوپروگرامز میں کافی تفصیل سے بات چیت کی ہے لیکن یہاں پر میں سورة البقرہ کی آیت نمبر ١٧٧  کا ترجمہ ضرور پیش کرنا چاہوں گا۔

”  ساری اچھائی مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے میںہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ پر’ قیامت کے دن پر’ فرشتوں پر’ کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو’ جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں’ یتیموں’ مسکینوں’ مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے’غلاموں کو آزاد کرے’ نماز کی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے’ جب وعدہ کرے تو اُسے پورا کرے’ تنگدستی’ دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے’یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیز گار۔  ”              (سورة البقرہ :  ١٧٧)

اُمید ہے کہ سب کچھ واضح ہو گیا ہوگا اس آیت کے بعد۔اس آیت میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا ذکر ہے اور یہی توازن ہے۔

شاید کچھ عرصہ تک حقوق اللہ کے بغیر بھی ایک شخص اس آیت میں بیان کیے ہوئے حقوق العباد کو پورا کرے لیکن ایک بات واضح ہے کہ حقوق اللہ’یعنی ایک اللہ کو ماننا’ روزِ قیامت کو ماننا’ اُس کے فرشتوں اور پیغمبروں کو ماننا’نمازیں پڑھنا وغیرہ اس کے بغیر حقوق العباد Conditional رہتے ہیں۔یعنی کہ جب تک کوئی فائدہ ہو ان کو ادا کیا جاتا ہے اور جب فائدہ نہ ہو تو اُن کو ترک کر دیا جاتا ہے۔

حقوق العباد کی لالچ کے بغیر’بے لوث لگاتار ادائیگی تو وہی کرسکتا ہے جو کہ کسی Supreme قوت کا حکم مان کر اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر ان کو پورا کرے نہ کہ دنیاوی فائدہ اُٹھانے کیلئے۔

اسی طرح جو لوگ حقوق اللہ پورے نہیں کرتے اُن میں آپ کو صبر نہیں نظر آئے گا۔جب تک کہ سب کچھ اچھا ہے وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے’ جونہی کوئی مشکل یا تنگدستی آئے گی ان کی اچھائی کا میک اپ بھی اُتر جاتا ہے۔ہاں اگر آخرت کے اجر کا علم ہو اور خدا کے وعدے یاد ہوں تو پھر ہی ایک شخص ان حقوق العباد کی بے لوث ادائیگی کر سکتا ہے۔

تو جناب یہ تھا دین اور دُنیا کا توازن۔

چلئے اب دیکھتے ہیں کام اور آرام کا توازن!

کام اور آرام

اسلام آنے سے پہلے عرب میں ہر طرح کی معاشرتی بُرائیاں عام ہو چکی تھیں۔اُن بُرائیوں میں کام چوری’ کاہلی’ سستی اورتوہم پرستی بھی شامل تھی۔حال اتنا  بُرا تھا کہ مرد حضرات سارا دن گھروں میں پڑے جوا’ شراب اور طرح طرح کی بُرائیوں میں مبتلا رہتے تھے۔اسلام کے آنے کے بعد جہاں عرب میں ایک نئے ضابطہ ء  اخلاق کا نفاذ ہوا ساتھ ہی ساتھ وہاں مسلمانوں میں محنت اور کام کرنے کے شوق کو بھی اُجاگر کیا گیا۔

اُس دور میں تمام صحابہ اکرام محنت مشقت کرتے رہے’حتیٰ کہ نبی پاکۖ نے بھی محنت مشقت کی۔کئی ایک مستند روایات سے ثابت ہے کہ آپ ۖ کے پاس اگر کوئی مفلس شخص بھی مدد کیلئے آیا تو آپ ۖنے اُس کی مدد کرنے کیلئے بھی یہی ترکیب اپنائی کہ بجائے اُس کی صرف مدد کر دی جائے کہ اور اس میں مانگنے کی عادت پڑ جائے آپ ۖنے اُس کو اپنے پائوں پر کھڑا کر کے کمانے کی ترغیب دی۔

بدقسمتی سے آج مسلمان ممالک میں حالت یہ ہے کہ مرد حضرات کسی نہ کسی بہانے سے کام کرنے سے گریز کرتے ہیں۔دفتروں کا یہ حال ہے کہ بجائے لوگ کام کرنے کو عبادت کا درجہ دیں کام کرنے کو مصیبت سمجھاجاتا ہے اور ہرلمحے یہی انتظار کیا جاتا ہے کہ کب چھٹی ہو اور کب گھر جایا جائے۔

سرکاری دفتروں کا تو حال ہی پتلا ہے جبکہ پرائیویٹ دفتروں اور فیکٹریوں میں بھی سب سے بڑا مسئلہ لوگوں کو کام پر لانا اور اُن سے کام کروانا ہے۔

ایک مرتبہ میں نے تقریباًتین سو لوگوں سے یہ سوال پوچھا کہ اگر آپ کی لاٹری نکل آئے تو کیا کل کام پر آئیں گے’ تو تقریباً سب حضرات کا کہنا یہی تھا کہ پھر بھی کام ہی کرنا ہے تو پھر لاٹری کا کیا فائدہ۔

میرا اگلا سوال یہ تھا کہ پھر کیا کریں گے؟ تو جواب ملا کہ پیسوں کو بینک میں رکھوا لیں گے یا کسی بزنس میں لگا دیں گے اور پھر عیاشی کرینگے۔

لفظ ”عیاشی” غور کے لائق ہے ۔یہ عیاشی ہی تو ہے کہ آج مسلمان قوم ہر طرف زوال کا شکار نظر آتی ہے۔

ہر کوئی اپنے وسائل کے اندر رہ کر عیاشی کرنا چاہتا ہے۔جس کسی کے پاس وسائل کی کمی ہے وہ بھی کم از کم روز رات کو تینگھنٹے کی انڈین فلم دیکھنا تو اپنا حق سمجھتا ہے۔مزدور طبقہ کو لے لیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ یہ بھی اس جراثیم سے محفوظ نہیں رہے۔تقریباً ہر ہی ہوٹل حتیٰ کہ تندور تک میں Cable ‘TV لگا ہوا ہے۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ مزدور طبقہ کے گاہک کو پکاّ بنانے کا اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں۔یہ لوگ سارے دن کی محنت کر کے رات کا کھانا کھاتے ہیں پھر بھی تین چار گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں اور جب تک فلمیں’ ٹی وی چلتے رہتے ہیں ساتھ ساتھ کھانا پینا بھی چلتا رہتا ہے اور تھک ہار کر سو جاتے ہیں۔

کبھی سوچئے کہ اسلام نے سود کو منع فرمایا’ جو ّے کو منع فرمایا’ لاٹری کو منع فرمایا’ ہر ایسی کمائی جس پر محنت نہ کرنی پڑے اُس کو منع فرمایا ہے۔آخر اس کی وجہ کیا ہے۔صاف ظاہر ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ اسلام اپنے پیروکاروں کو مفت کی کمائی یعنی کہ بغیر محنت سے کمائی ہوئی دولت سے دور رکھنا چاہتا ہے اس لئے کہ اس کمائی کی وجہ سے اور کئی معاشرتی بُرائیاں بھی آجاتی ہیں۔ترمذی اور نسائی کی ایک روایت ہے کہ آنحضرت ۖنے فرمایا:

”  مومن ماتھے پر پسینے کے ساتھ مرتا ہے۔  ”   (یعنی کہ محنتی ہوتا ہے۔)

آج کل تو حال ہی اُلٹا ہے۔یہ مفت کی کمائی کی چاٹ ہی تو ہے کہ ہر جگہ’ ہر چوراہا’ ہر سڑک بھکاریوں سے بھری ہوئی ہے۔آپ کسی کو کوئی محنت مزدو ری کی آفر کر کے دیکھ لیجئے کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں ہوگا۔میں نے تو یہ کئی مرتبہ کر کے دیکھ لیا ہے۔

بھائی کیا ضرورت ہے محنت کرنے کی’8 گھنٹے محنت کرنے سے تو صرف دو ہزار’تین ہزار روپے ماہانہ ہی مل سکتے ہیں اور مانگنے سے تو یہ لوگ اوسطً پندرہ سے بیس ہزار روپے ماہانہ کما لیتے ہیں۔یہاں تک کہ لوگ اپنے آپ کو خود معذور کر لیتے ہیں۔اور پھر اپنی معذوری لوگوں کو دکھا دکھا کر بھیک مانگتے ہیں۔

ایک طرف تو یہ حالت ہے اور دوسری طرف دیہاتوں میں اور کم پڑھے لکھے طبقے میں جھانک کر دیکھئے’ کئی مرد حضرات اپنی عورتوں سے کام کرواتے ہیں اور خود سارا دن نشے میں پڑے رہتے ہیں۔

تو جناب!کیا بنے گا ایسی قوم کا؟خیر جو بنے گا اُس کا کچھ کچھ خاکہ تو آنکھوں کے سامنے آنے لگ ہی پڑا ہے۔خیر یہ لوگ تو اسلام سے بالکل ہی پیدل ہیں۔بدقسمتی تو یہ ہے کہ جو لوگ اسلام کو جانتے ہیں اُن میں سے بھی اکثریت ایسی ہے جو اسلام کو اور اپنی دینی ذمہ داریوں کو آڑ بنا کر کام کرنے سے کتراتے ہیں۔

جیسے کہ کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک مسجد کے موء ذن سے جو کہ چند امانگ رہے تھے کہا کہ ٹھیک ہے جناب آپ ایک خدمت کر رہے ہیں اور آپ کی اس خدمت کے اعتراف میں معاشرے کو آپ کی مدد کرنی چاہئے لیکن مانگیئے تو نا۔جب میں نے صاحب سے اُن کے کام کے بارے میں پوچھا تو فرمانے لگے کہ موء ذن ہوں۔میں نے کہا وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کے علاوہ کیا کرتے ہیں تو میرا منہ دیکھ کر ذرا غصّہ سے فرمانے لگے کہ اس کے علاوہ اور وقت ہی نہیں ملتا۔جناب مجھے یہ بتائیے کہ پانچ اذانیں دینے یا پانچ نمازیں پڑھانے میں کتنا وقت لگتا ہے۔اور ویسے یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ جو لوگ امامت کے فرائض انجام دیں اُن کو اور کوئی کام کرنا ہی نہیں چاہئے۔تاریخ گواہ ہے کہ تمام صحابہ اکرام کچھ نہ کچھ کام کرتے تھے۔یعنی کہ اپنی دنیاوی ذمہ داریوں کو بھی پورا کیا کرتے تھے۔

کچھ عرصہ پہلے انگریزی لفظ Holiday یعنی کہ چھٹی پر ریسرچ کررہا تھا کہ یہ لفظ کہاں سے آیا تو پتہ چلا کہ عیسائی مذہب کے مطابق اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات چھ دنوں میں پیدا کی اور ساتویں دن یعنی کہ اتوار کو کیونکہ اللہ تعالیٰ تھک گیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آرام کیا۔جس دن اللہ نے آرام کیا ہو اُس کو نام Holy Day یعنی کہ مقدس دن دے دیا گیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں بھی تبدیلی آتی رہی اور یہ Holy DayسےHoliday بن گیا۔

اب آپ مجھے ذرا یہ بتائیے کہ اسلام میں چھٹی کا ذکر کہاں سے آگیا۔آج تک میں نے تو نہ ہی قرآن اور نہ ہی کسی حدیث میں یہ پڑھا کہ مسلمان کو فلانے دن چھٹی کرنی چاہئے۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ چھٹی نہ کریں۔ٹھیک ہے دفاتر میں’ کارخانوں میں ایک چھٹی کا رواج تو ہے لیکن اس چھٹی کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان اُس دن کا م بھی نہ کرے۔ٹھیک ہے دفتر نہیں جانا لیکن کچھ اور کر لیجئے۔گھر کے کام کیجئے۔گھر کی سفیدی کیجئے’ صفائی کر لیجئے اور کچھ کرلیجئے لیکن کام تو کیجئے۔ترقی صرف محنتی قومیں ہی کرتی ہیں۔پچھلے دنوں جمعہ کی چھٹی کی بحث چل رہی تھی تو ٹی وی پر ایک صاحب نے آکر یہ فرمایا کہ ضرور ہونی چاہئے ہمارا مبارک دن ہے اور فرمانے لگے کہ جناب جمعہ کے دن تو تیاری کرنے میںہی’  نہانے دھونے میں ہی تین چار گھنٹے لگ جاتے ہیں۔اس لئے چھٹی اتوار کی بجائے جمعہ کو ہونی چاہئے۔

میں اس بارے میں بحث نہیں کرنا چاہتا کہ چھٹی کس دن ہونی چاہئے لیکن ایک بات جو آپ سے کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اُن صاحب کی بات سے مجھے یہ ضرور لگا کہ شاید یہ صاحب ہفتہ میں صرف ایک ہی نماز پڑھتے ہیں اس لئے اُن کو اس کی تیاری کیلئے اتنا وقت چاہئے۔

مسلمان کو تو ہر وقت پاک صاف رہنا چاہئے۔اگر وہ واقعی مسلمان ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ پانچنمازیں بھی پڑھتا ہو گا۔تو روزانہ ہر نماز میں ہی اگر وہ پاک صاف ہے جیسا کہ ہر مسلمان کو ہونا چاہئے تو پھر تین چارگھنٹے تیاری میں کیسے لگ جاتے ہیں جمعہ کی نماز کیلئے۔ایک طرف تو یہ حالت ہے دوسری طرف جمعہ کے دن مسجدوں میں جا کر دیکھ لیجئے کہ لوگوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ بس مسجد میں اُس وقت پہنچیں جب کہ خطبہ ختم ہونے والا ہو اور جماعت کھڑی ہو رہی ہو اور جماعت کے فوراً بعد واپس آجاتے ہیں۔

میں بھی پچھلے کچھ سالوں سے اس بات پر غور کر رہا ہوں۔میں نے یہی دیکھا کہ جب سے جمعہ کے دن چھٹی ختم ہوئی مسجدوں میں جمعہ کے روز نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔جب جمعہ کے دن چھٹی ہوتی تھی تو لوگ راتوں کو فلمیں دیکھ دیکھ کر جمعہ کے دن گھروں میں سوئے رہتے تھے۔

اس بارے میں اللہ کا کیا فرمان ہے۔سورة الجمعہ کی آیت نمبر٩-١٠ کا ترجمہ ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیے:

”  اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کی آذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت چھوڑ دو۔یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پائو۔  ”   (الجمعہ : ٩-١٠)

اس آیت میں تو یہ نہیں کہا گیا کہ جمعہ کو چھٹی کرو یا جمعہ سے پہلے تین چار گھنٹے تیاری کرو۔اس میں تو یہ کہا جا رہاہے کہ جمعہ کی آذان ہو تو کام چھوڑ دو اور نماز پڑھو اور جب نماز پڑھ چکو تو دوبارہ سے زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔

اب ٹھیک کیا ہے اس کا فیصلہ جناب آپ خود ہی کر لیجئے۔

اب میں یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ مسلمان کو چوبیس گھنٹے تک کام ہی کرتے رہنا چاہئے۔

ویسے وہ اور بات ہے کہ میں نے آج تک کسی شخص کو محنت سے مرتے نہیں دیکھا لیکن میں فارغ لوگوں کو سستی اور کاہلی سے مرتے کافی مرتبہ دیکھ چکا ہوں۔کام کرنے کے بارے میں بھی اسلام توازن کی بات کرتا ہے کیونکہ جیسے کہ پہلے بخاری کی روایت میں آیا کہ ‘ آپۖ نے فرمایا کہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جسم کو آرام نہ ملے۔لیکن یہ توازن چھ’سات یا دسگھنٹے کام کرنے سے خراب نہیں ہوتا۔

اس بارے میں ترمذی کی اس روایت کو یاد رکھیئے:

 نبی پاکۖنے فرمایاکہ ”مومن کیلئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے”  لوگوں نے پوچھا ”مومن بھلا کیسے اپنے آپ کو ذلیل کرتا ہے۔” آپۖ نے ارشاد فرمایا ”اپنے آپ کو ناقابل برداشت آزمائش میں ڈال کر۔  ”

خوب کام کیجئے بس یہ یاد رکھیئے کہ آپ کی برداشت سے زیادہ کام نہیں ہونا چاہئے اور صاف ظاہر ہے کہ ایک صحت مند نوجوان کیلئے دس سے بارہ گھنٹے کام کرنے سے اُسے کچھ نہیں ہونا چاہئے۔

بحر حال یہ آپ نے خود دیکھنا ہے کہ آپ کی برداشت کتنی ہے اور صاف ظاہر ہے کہ یہاں پر جسمانی مشقت کی بات ہو رہی ہے اور وہ آپ خود سوچ لیجئے کہ آپ کتنی مشقت کرتے ہیں۔

اس موضوع کو ختم کرنے سے پہلے ایک بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو ہمارے خوشحال طبقے میں کافی زیادہ پائی جاتی ہے وہ یہ ہے راتوں کو TVدیکھنا’فلمیں دیکھنا اور پارٹیاں کرنا اور دن کو سوئے رہنا۔حال تو یہ ہے کہ ایک فیکٹری کے مالک کو بارہ بجے فون کیا تو ملازم نے جواب دیا کہ صاحب ناشتہ کر رہے ہیں دفتر میں پہنچ کر آپ سے بات کرینگے۔تین بجے صاحب کا فون آیا تو پتہ چلا کہ ابھی دفتر پہنچے ہیں۔آج کل تو مسلمان کا یہ حال ہے کہ تینبجے سے چھ بجے تک کام کر کے سمجھتا ہے کہ بہت کچھ کر لیا۔اب یہ صاحب اگر تین گھنٹے کاروبار کو دیں گے اور اُس کے بعد یہ گلہ کریں کہ کام اچھا نہیں چل رہا تو بتائیے کہ قصور کس کا ہے۔

ایک کاروبار جو کہ پوری توجہ مانگتا ہے اُس کو اگر پارٹ ٹائم کام سمجھ کر کیا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ جو کاروبار ملازموں پر چھوڑ دیا جائے وہ پھر ایسے ویسے ہی چلے گا۔یہ ایک صاحب کی کہانی نہیں ہے ہمارے خوشحال گھرانوں میںبارہبجے ناشتہ کرنا’ چاربجے دوپہر کا کھانا’آٹھبجے شام کی چائے اور رات کو گیارہبجے رات کا کھانا’کھانے کو فیشن سمجھا جاتا ہے۔

مجھے رات کو ساتبجے رات کا کھانا کھاتے دیکھ کر ایک ملنے والے فرمانے لگے یارتُو تو بالکل ہی امریکی ہو گیا ہے۔ساتبجے بھی کوئی رات کا کھانا کھاتا ہے۔امریکی ہونے کا طعنہ جناب مجھے اس لئے ملا کہ امریکہ یورپ میں پڑھے لکھے لوگ شام کوچھ سات بجے ہی رات کا کھانا کھا لیتے ہیں اور اُس کے بعد آٹھ یا نوبجے سوئے ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو کہ صبح چھ بجے اُٹھتے ہیں اورساتبجے پورا خاندان اکٹھے ناشتہ کرکے کام پر اور بچے سکولوں کو چلے جاتے ہیں۔

ہمارے مسلمان معاشرے میں کتنے گھرانے ایسے ہیں جو کہ صبح چھ بجے اُٹھتے ہوں اور رات کو آٹھ’ نوبجے سو جاتے ہوں۔یہاں پر راتوں کو نو یا دسبجے تو لوگوں کا دن شروع ہوتا ہے اور ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کا سلسلہ اور اس کو مہمان نوازی کا نام دیا جاتا ہے۔اگر کسی کو کہا جائے کہ رات کو دسبجے کافی دیر ہو گئی تو لوگ بُرا مان جاتے ہیں۔میرے اپنے جاننے والوں میں کئی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے گذشتہ کئی سالوں سے میرے گھر آنا ہی چھوڑ کر دیا ہے کیونکہ اُن کے مطابق میں بہت امریکی ہوں اور ہمارے گھر میں دسبجے رات کے بعد آنا پسند نہیں کیا جاتا۔ہمارے دین نے تو کام کرنے اور آرام کے بارے میں توازن کا حکم دیا بلکہ دونوں میں اعتدال اپنانے کے جامع احکامات بھی دیئے۔

کئی احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی پاک ۖنے کم سونے کو پسند کیا’ نہ صرف یہ کہ کم سونے کو پسند کیا بلکہ رات کے وہ اوقات بھی بیان کر دیئے جس میں سونا زیادہ صحت بخش ہے۔احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ۖنے رات کے پہلے حصے کو یعنی کہ نمازِ عشاء اور تقریباً آدھی رات کے درمیان سونے کو بہترین قرار دیا اور فرمایا کہ اس وقت سونا دوگنا سونے کے برابر ہے۔یعنی کہ اگر آپ عشاء اور آدھی رات کے درمیان تین گھنٹے سوئیں تو آپ کو چھ گھنٹے کے برابر کی نیند کاآرام ملے گا۔اس طرح آپ ۖنے یہ بھی فرمایا کہ نصف رات اور فجر کے اوقات کے درمیان سونا’ سونے کا دوسرا بہترین وقت ہے۔اس وقت کے دوران تین گھنٹے کی نیند اتنا ہی آرام دے گی۔ آپ ۖنے فرمایاکہ نمازِ فجر کے بعد سونا منفی سونے کے مترادف ہے۔یعنی کہ اس وقت سونے سے آرام کی بجائے تھکاوٹ اور بڑھے گی۔اس طرح آپ ۖنے ظہر سے پہلے سونے کو بُرا جانا اور دوپہر کے کھانے کے بعد یعنی کہ ظہر کے بعد آرام کرنے کو دوگنا آرام کے مترادف قرار دیا۔اور عصر کے بعد سے لے کر عشاء کے درمیان سونے کو تکلیف کا باعث قرار دیا۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ میڈیکل سائنس نے بھی جو دریافت کیا ہے وہ بھی آنحضرت ۖکی احادیث کی تائید کرتا ہے۔

تو جناب اتنے واضح احکامات ہونے کے باوجود آج کل آپ کو معاشرے میں اس کے بالکل برعکس حالات نظر آتے ہیں۔اس کی وجہ معاشرے میں اسلامی قوانین سے لاعلمی ہی ہو سکتی ہے’ نہیں تو کون باشعور شخص اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر خوش ہوگا۔تو جناب سونے کے وقت سونا اور کام کرنے کے وقت میں کام کرنا ہی صحت کا بنیادی اصول ہے۔

اس بارے میں قرآن کیا کہتا ہے ذرا جان لیجئے:

سورة الفرقان کی آیت نمبر٤٧میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  اور وہی خدا ہے جس نے رات کو  تمہارے لئے پردہ پوش اور نیند کو راحت و سکون اور دن کو اُٹھ کھڑے ہونے کو بنایا۔ ”   (الفرقان : ٤٧)

سورة النمل کی آیت ٨٦میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  کیا اُن لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے (تاریک) رات بنائی کہ اس میں آرام و سکون حاصل کریں اور دن کو روشن (کہ دوڑ دھوپ کریں )بلاشبہ اس میں مومنوں کیلئے سوچنے کے اشارات ہیں۔  ”   (النمل : ٨٦)

تو جناب یہ تھا کام اور آرام کا توازن۔

کمانے اور خرچ کرنے کا توازن

زندگی کا ایک اور نہایت ہی اہم ترین پہلو جس میں اکثر لوگ اعتدال اور توازن نہیں کر سکتے وہ ہے کمائی کو خرچ کرنا۔ جن لوگوں کے پاس وسائل ہی ضرورت سے کم ہیں اُن کی تو بات نہیں مسئلہ تو اُن لوگوں کا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے وسائل زیادہ دے رکھے ہیں۔

اس طبقے میں بھی ہمیں دونوں شدتیں(Extremes) میں نظر آتی ہیں۔ایک طبقہ تو وہ ہے جو کہ کماکما کر جمع کیے جاتا ہے۔اُن کے حال سے تو ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں کی مالی حالت بہت ہی پتلی ہے لیکن بنک بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔یہ لوگ دوسروں پر تو کیا اپنے خاندان پر بھی خرچ کرتے ہوئے کتراتے ہیں۔اور بس اپنی دولت کو گن گن کر جمع کرتے رہتے ہیں اور اسی پر خوش رہتے ہیں۔

دوسری طرف وہ طبقہ ہے جن کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ اپنی دولت کو کیسے خرچ کریں کہ لوگو ں کو نظر آئے اور وہ اس پر لوگوں کی داد لے سکیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو کہ ہر سال نئے نئے زیورات ‘گاڑیاں’ کپڑے اور گھر بدل بدل کر اپنی دولت کی نمائش کرتے ہیں اور پھر بھی تسلی نہ ہو تو ہر سال اپنے گھر کا فرنیچر ہی بدل دیتے ہیں۔

ا س سے پہلے کہ ہم یہ دیکھیں کہ دولت کا صحیح مصرف کیا ہے اور خرچ کرنے کا توازن کیا ہے یہاں پر پہلے دو باتیں واضح کرنی ضروری سمجھتا ہوں۔کیونکہ میرا خیال ہے کہ ان دو بنیادی باتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی یہ دو شدت آمیز رویے معاشرے میں نظر آتے ہیں۔

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں دولت کی طلب ناپسندیدہ فعل ہے۔تو جناب اس سوچ کی وجہ بھی دین سے ناسمجھی ہے۔اور اس ناسمجھی کی وجہ سے معاشرے میں دو طبقے نظر آتے ہیں ایک وہ جن کا مقصدِ حیات ہی دولت کو اکٹھا کرنا ہے۔ اُن کیلئے زندگی میں اور کسی چیز کی اہمیت ہے ہی نہیں۔ وہ اس دولت کی خاطر اپنی ذمہ داریاں تو کیا اپنی عزت ‘ شہرت’ وقار حتیٰ کہ اپنے بیوی بچوں کو قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔

دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو کہ دین کی آڑ لے کر کام چور بن چکا ہے اور کام کرنا ہی نہیں چاہتا۔وہ اپنی نااہلیت یا کام چوری کو یہ کہہ کر چھپانا چاہتے ہیں کہ جی دولت کمانا ہی سب کچھ نہیں۔اللہ سے دل لگائو اور اس طرح یہ طبقہ معاشرے پر بوجھ بن جاتا ہے۔

اس بارے میں بھی دین وہی توازن کی بات کرتا ہے جو ہمارے دین اسلام کا بنیادی ستون ہے۔ٹھیک ہے زندگی کا مقصد دولت سمیٹنا تو نہیں لیکن اگر ایک شخص اپنی دینی ذمہ داریوں کو پورا کر کے حلال طریقے سے کمائی کرنا چاہتا ہے اور اس کمائی کو شرعی طریقے سے خرچ بھی کرنا چاہتا ہے تو کیا مضائقہ ہے اس میں۔

سورة البقرہ کی آیت نمبر ١٩٨میں ارشاد ِ رّبانی ہے:

”  تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو۔  ”   (سورة البقرہ : ١٩٨)

چلئے اس آیت سے ایک بات تو واضح ہوئی کہ کمانا بُرا نہیں ہے۔اس آیت میں کمانے کی اجازت اور حکم مل گیا۔ہاں البتہ یہ نہیں فرمایا کہ کیا کمانا اچھا فعل ہے یا بُرا۔اس آیت سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اب وہ کیا چیز ہے جو کہ کمائی کو اچھا یا بُرا بناتی ہے۔

آپ خود سوچئے کہ ایک شخص سارا دن خدا کی عبادت کرتا ہے اور بس اتنی ہی کمائی کرتا ہے جس سے اُس کے خاندان کی گزر بسر ہو جائے۔ دوسرا شخص اپنے فرائض بھی پورے کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اچھی خاصی کمائی بھی کرتا ہے اور پھر اس کمائی کو دینی طریقے سے معاشرے کے کمزور افراد پر خرچ کرتا ہو’ان دونوں لوگوں میں سے اللہ کے نزدیک کون سا شخص ہوگا۔صاف ظاہر ہے کہ وہی بہتر ہوگا جو کہ حلال کمائی سے حاصل کی ہوئی دولت کو شرعی طریقے سے خرچ بھی کرتا ہے۔

جناب بات یہ ہو رہی ہے کہ کمانا بذاتِ خود نہ اچھا فعل ہے نہ بُرا’ کمانے کا طریقہ اور اس کا استعمال ہی اس کو اچھا یا بُرا بنا سکتا ہے۔اگر ایک شخص حرام طریقے سے کمائی کرے اور پھر اس کو حرام چیزوں کے استعمال میں لگائے تو صاف ظاہر ہے کہ اُس کی کمائی اللہ کے ہاں پسندیدہ ہونہیں ہو سکتی۔

تو جناب اس بحث سے ثابت یہ ہواکہ کمانا زندگی کا مقصد نہیں ہے۔ہاں زندگی کے مقصد تک پہنچنے کیلئے ایک اہم ذریعہ ضرورہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ لوگوں نے اس کو بذاتِ خود منزل بنا لیا ہے اور یہ بھول چکے ہیں کہ منزل کچھ اور تھی۔اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ ہر شخص کو پیسہ کسی نہ کسی ضرورت کیلئے چاہئے۔بچوں کی تعلیم کیلئے’ آرام کیلئے’  سیکیورٹی کیلئے’ ماں باپ کے علاج کیلئے۔اگر اس کو پیسہ مل جائے لیکن اُس پر یہ پابندی لگا دی جائے کہ وہ اُس کو خرچ نہیں کر سکتا تو کیا فائدہ اُس پیسے کا۔ یا فرض کیجئے کہ آپکو جس آرام کیلئے پیسہ چاہئے اگر وہ آرام ہی آپ سے  لے لیا جائے تو کس کو پیسہ چاہئے۔اگر جن بچوں کی تعلیم کیلئے پیسہ چاہئے تھا خدا نخواستہ وہ بچے ہی نہ رہے تو کیا کرنا ایسے پیسے کو۔تو جناب بات یہ ہو رہی ہے کہ پیسہ کیسے حاصل کیا جاتا ہے اور کس مقصد کیلئے حاصل کیا جاتا ہے اور اس کو کیسے خرچ کیا جاتا ہے۔اس کے بعد ہی اس بات کا فیصلہ ہو سکتا ہے کہ کمانا باعثِ رحمت تھا یا باعثِ زحمت۔دولت شرعی مقاصد پر خرچ نہ کرنے کی ایک نفسیاتی وجہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دولت اُن کی اپنی محنت کا اور قابلیت کا نتیجہ ہے تو پھر وہ دوسروں پر خرچ کیوں کی جائے۔

آپ خود سوچئے کہ اگر کوئی شخص آپ کو 1لاکھ روپیہ دے اور اُس میں سے آپ کو کہے کہ 50,000روپے فلاں جگہ پر خرچ کردو یا اُس شخص کو دے دو ‘  تو آپ کو بُرا نہیں لگے گا کیونکہ آپ اُس کے پیسوں میں سے خرچ کر رہے ہیں۔لیکن اگر اسی شخص کو اس کی کمائی ہوئی حق و حلال کی کمائی سے کوئی دوسرا شخص خرچ کرنے کو کہے تو اس کو بُرا لگے گا کیونکہ کسی شخص کی کمائی پر صرف اُسی شخص کا ہی حق ہے اور کوئی دوسرا شخص اُس کی کمائی کا حصہ دار بن نہیں سکتا۔

اب اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کوئی ایسی چیز نہیں کروائے گا جو کہ فطرت کے خلاف ہو۔اسی وجہ سے تو اسلام کو دین ِ فطرت کہا جاتا ہے۔تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری کمائی پر اپنا حق جتائے اوربجائے اس کے کہ ہم خود مختاری سے اپنی کمائی ہوئی دولت کو خرچ کریں اللہ تعالیٰ ہمیں بتائے کہ اس کو خرچ کیسے کرنا ہے۔

تو جناب بات یہ ہے کہ جس کمائی کو ہم اپنی سمجھتے ہیں اور جس رزق کو ہم اپنی محنت اور قابلیت کا ثمر سمجھتے ہیں اصل میں وہ ہماری نہیں ہے۔کیا آپ نے ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا جو آپ سے زیادہ قابل اور زیادہ محنتی ہوںاور اُس کے باوجود اُن کے پاس اتنا رزق نہیں  جتنا کہ آپ کو مل رہا ہے۔میں تو ایسے سینکڑوں لوگوں کو جانتا ہوں۔

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ ہمیں جو رزق دے رہا ہے وہ صرف ہمیں نہیں بلکہ ہمارے وسیلے سے باقی لوگوں تک بھی پہنچانا چاہتا ہے اور بہت سے بدقسمت لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اللہ اُن کی کمائی ہوئی دولت پر حق جما رہا ہے۔سورة طہٰ کی آیت نمبر ١٣٢سے یہ حقیقت عیاں ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

”  ہم تجھ سے رزق نہیں مانگتے (بلکہ) تجھے ہم ہی روزی دیتے ہیں۔  ”   (سورة طہٰ : ١٣٢)

سورة اٰلِ عمران کی آیت ١٨٠میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  اور جو لوگ بخل کرتے ہیں اس چیز کے خرچ کرنے میں جو اللہ نے اُن کو اپنے فضل سے دی ہے۔ وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ (بخل) ان کے حق میں اچھا ہے۔بلکہ یہ اُن کے حق میں بُرا ہے اور قیامت کے روزیہی مال جس سے یہ بخل کرتے ہیں اُن کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا۔  ”   (سورة اٰلِ عمران : ١٨٠)

اُمید ہے کہ حقیقت عیاں ہو گئی ہو گی کہ ہمیں ملا ہوا رزق صرف ہمارا ہی نہیں ہے۔ جس ذات نے وہ دیا ہے اُس نے اُس میں کئی لوگوں کا حصہ رکھا ہوا ہے اور رزق کے ساتھ اُس نے اُس کے استعمال کرنے کا طریقہ بھی بتا دیا ہے۔

اب اسلام ایک طرف تو کمانے میں اعتدال اور توازن کا حکم دے رہا ہے کہ کہیں کمائی کے چکر میں باقی ذمہ داریاں رہ نہ جائیں اور دوسری طرف اُس کو خرچ کرنے کے بارے میں بھی ہدایت مہیا کرتا ہے۔

اب یہ توازن اور اعتدال کیا ہے؟اس موضوع کے شروع میں ہم نے دو طبقوں کا ذکر کیا تھا’ ایک وہ جو کہ کنجوس یا بخیل ہے اور پیسے کو جمع کرنے کی چیز ہی سمجھتا ہے اور دوسرا وہ جو کہ پیسے کو بے جا جگہوں پر خرچ کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔

کچھ ماہ پہلے ہمسائے میں ایک شادی کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ دس دن تک پورا علاقہ روشنیوں میں نہایا رہا۔ ہر رات کو کئی کئی گھنٹوں تکFire Works ہوتے رہے ۔ ہر رات کو ایک نیا میوزیکل کنسرٹ ہوتا رہا۔مہندی اونٹوں اور بگھیوں پر گئی اور بارات میں کاروں کے ہجوم کے ساتھ ساتھ ہاتھی بھی شامل تھے’بارات کے راستے میں تقریباً اڑھائی کلو میٹر تک سڑک پر پھول اور پتیوں کی تہیں جمی ہوئی تھیں۔یہ تو وہ چیزیں ہیں جو باہر لوگوں کو نظر آئیں اندر پتہ نہیں کیا کیا ہو ا ہو گا۔

اب آپ ذرا سوچئے کہ پیسے کے اس استعمال کو آپ کیا نام دیں گے۔

ایک طرف تو معاشرے کا یہ حال ہے اور دوسری طرف ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ ہمارا دین خرچ کے بارے میں کیا حکم دے رہا ہے۔

سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر ٢٩ میں ارشاد ہے:

”  اور اپنے ہاتھ کو نہ گردن سے بندھا ہوا(یعنی بہت تنگ) کر لو(کہ کسی کو دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سبھی کچھ دے ڈالو اور انجام یہ ہو) کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جائو۔  ”   (بنی اسرائیل : ٢٩)

سورة الفرقان کی آیت نمبر ٦٧میں مومن کی نشانی کچھ اس طرح بتائی جا رہی ہے:

”  اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی بلکہ اعتدال کے ساتھ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم۔  ”   (الفرقان : ٦٧)

کنزالا عمال میں ایک روایت ہے کہ آنحضرت ۖ نے فرمایا:

”  خوشخالی میں میانہ روی کیا ہی خوب ہے۔ ناداری میں اعتدال کی روش کیا ہی بھلی ہے اور عبادت میں درمیانی روش کیا ہی بہتر ہے۔  ”

قرآن بخل کے بارے میں کیا بیا ن کرتا ہے’  ذرا ملاحظہ فرمائیے:

سورة محمد کی آیت ٣٨میں ارشادِ ربّانی ہے:

”  دیکھو وہ لوگ جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے بلائے جاتے ہو تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں ۔اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔اور خدا بے نیاز ہے اور تم محتاج۔اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا۔اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہونگے۔  ”   (سورة محمد : ٣٨)

سورة الیل کی آیات ٨تا ١١میں ارشاد ِ رّبانی ہے:

”  اور جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا رہا۔اور نیک بات کو جھوٹ سمجھا۔اُسے سختی میں پہنچائیں گے۔اور جب وہ (دوزخ کے گڑھے میں) گرے گا تو اُس کا مال اُس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا۔  ”   (سورة الیل:  ٨ -١١)

اور سورةا لتغابن کی آیت ١٦میں ارشادِ ربّانی ہے:

”  سو جہاں تک ہو سکے خدا سے ڈرو اور (اُس کے احکام کو) سنو اور (اُسکے) فرمانبردار رہو اور (اُسکی راہ میں) خرچ کرو (یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔اور جو شخص طبیعت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ راہ پانے والے ہیں۔  ”     (سورةا لتغابن : ١٦)

سورة النساء کی آیت ١٢٨ میں فرمایا:

”  اور طبعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکو کاری اور پرہیز گاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔  ”   (سورة النسائ : ١٢٨)

اسراف کے بارے میں سورة بنی اسرائیل آیات ٢٦ اور ٢٧میں ارشاد ِ رّبانی ہے:

”  اور اہلِ قرابت کو اُن کا حق ادا کرو۔اور مسکین کا اور مسافر کا بھی اور بے جا خرچ نہ کرو۔بلاشبہ بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرگزار ہے۔  ”   (بنی اسرائیل : ٢٦ – ٢٧)

ذرا ملاحظہ کیجئے کہ کتنے واضح اور شدید احکامات ہیں بخل اور اسراف دونوں کے بارے میں۔

اِن آیات سے بات واضح تو ہو ہی جاتی ہے لیکن پھر بھی معاشرے میں ایک کافی بڑا طبقہ ایسا ہے جو کہ اعتدال کا معنی شاید نہیں جانتا یا یہ کہہ لیجئے کہ جاننا چاہتاہی نہیں۔

کچھ عرصہ پہلے ایک صاحب سے اس بارے میں گفتگو ہو رہی تھی تو مجھے بتانے لگے کہ میں نے پچھلے ماہ امریکہ سے یہ 5لاکھ کی گھڑی خریدی ہے’ بتائیے کہ یہ اسراف میں تو نہیں آتا۔جب میں مسکرانے لگا تو کہنے لگے کہ جناب مجھے جو گھڑی پسند آئی تھی اور جو میں خریدنے کی استعداد بھی رکھتا تھا وہ تو 10لاکھ کی تھی میں نے سوچا کہ بہت زیادہ ہو جائے گا اس لئے میں نے نہ خریدی۔اس لئے یہ اسراف نہیں ہو سکتا۔

تو جناب شرعی اعتدال میں سے اپنے مطلب نہ نکالیے بلکہ اس کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔اللہ نے انسان کو عقل سے نوازا ‘اس کو مثبت طریقے سے استعمال کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ہماری قوم کا تو یہ حال ہے کہ بجائے اس کے کہ اللہ کے احکام کو سمجھیںاور اُن کو اپنی زندگی پر لاگو کریں’ اپنی من پسند سوچ کے مطابق اللہ کے احکام کو ڈھالنے کے چکر میں لگے رہتے ہیں۔

اس اعتدال کو سمجھنے کیلئے ایک مثال لیجئے۔فرض کیجئے کہ آپ ایک دفتر میں اعلیٰ عہدے پر ملازم ہیں اور آپ کے حلیے کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ کسی دفتر میں چپڑاسی ہیں تو صاف ظاہر ہے جناب کہ اللہ یہ نہیں چاہتا۔اگر آپ باحیثیت ہونے کے باوجود پھٹے پرانے کپڑوں اور جوتوں کو پہنیں تو یہ اعتدال نہیں بلکہ یہ بخل کے زمرے میں آئے گا۔اگر آپ کے جوتے پرانے ہو چکے ہیں اور ان کی حالت خستہ ہے تو نئے جوتے خریدنا آپ کی ضرورت ہے۔لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ میں نے جوتا Bali کا ہی خریدنا ہے جو کہ 20,000کا ہے تو یہ اسراف میں آئے گا۔کیونکہ جوتا ضرورت ہے البتہ بالی کا جوتا خرید نا ضرورت نہیں بلکہ آپ کی چاہت ہے۔اِسی طرح گھڑی کی ضرورت ہے اور آپ گھڑی نہ خریدیں تو یہ بخل ہو گا۔اب یہ فیصلہ آپ کرینگے کہ ایک معقول گھڑی پر کتنے پیسے خرچ کرنے چاہئیں۔اب اگر حیثیت ہونے کے باوجود آپ 100روپے کی گھڑی پہن لیں جو وقت ہی صحیح نہ بتائے تو یہ بخل ہو گا۔دوسری طرف اگر آپ ایک گھڑی پر لاکھ روپیہ خرچ کر دیں تو یہ اسراف ہوگا۔

اب ایک معقول گھڑی جو کہ ضرورت بھی پوری کرے ساتھ ہی آپ کی حیثیت کے مطابق بھی ہو اگر 1000سے کم نہیں ملتی تویہ 1000روپیہ بھی اسراف میں نہیں آئے گا۔اسی طرح ایک صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود ایک ایسی کار چلانا جو تنگ کرے اور آپ کو روز دفتر سے لیٹ کرے اور اپنی بچت کو بنک میں جمع کرائے رکھنا بخل ہوگا۔اس حالت میں 10لاکھ روپے کی گاڑی خریدنا جو کہ پاکستان میں ایک اچھے درجے کی معقول کار کی قیمت ہے وہ بھی اسراف میں نہیں آئے گا۔ہاں اگر آپ اچھی خاصی گاڑی کو صرف اس لئے بدلنا چاہیں کہ ماڈل بدل گیا ہے چاہے اُس پر آپ کے صرف دو لاکھ روپے ہی زیادہ خرچ ہوں وہ اسراف ہوگا۔

تو جناب یہ ہے اسلام کا توازن اور اعتدال۔ایک طرف تو 20,000روپے کی گھڑی بھی اسراف میں آسکتی ہے کیونکہ وہ ضرورت سے زیادہ ہے اور اُس میں دکھاوے کا پہلو ہے اور دوسری طرف ضرورت کے تحت خریدی گئی 10لاکھ روپے کی کار بھی اسراف نہیں ہوگا۔

ضرورت اور حالات کے مطابق فیصلہ ہوگا کہ اسراف کیا ہے اور بخل کیا ہے۔اگر آپ معاش کے سلسلے میں سفر بہت کرتے ہیں اور اس کام اورسفر کی ضرورت ہے کہ آپ کے پاس ایک اچھی Jeep ہو تو شاید تیس لاکھ روپے کی Jeep بھی اسراف میں نہیں آئے لیکن اگر آپ شہر میں رہتے ہیں جہاں کار بھی کام دے سکتی ہے لیکن آپ کو Jeep اس لئے چاہئے تاکہ دنیا کو آپ کی امارت کا احساس ہو یا اس لئے کہ آپ کے دوست یا عزیز کے پاس بھی ہے تو وہی Jeep اسراف ہوگی۔

یہ تو اللہ اور اُس کے بندے کے درمیان کا تعلق ہے۔یہ تو آپ جانتے ہیں یا اللہ’ کہ آپ کس نیت سے اور کس ضرورت کے تحت چیز کو خرید رہے ہیں۔

اس بارے میں کچھ احادیث پیشِ خدمت ہیں:

”  ایک شخص نے نبی کریمۖ سے کہا یا رسول اللہۖ میں چاہتا ہوں کہ میرا لباس نہایت عمدہ ہو۔سر میں تیل لگا ہوا ہو۔جوتے بھی نفیس ہوں’اسی طرح اس نے بہت سی چیزوں کا ذکر کیا’یہاں تک کہ اس نے کہا میرا جی چاہتا ہے کہ میرا گھوڑا بھی نہایت ہی عمدہ ہو’نبی پاک ۖاس کی گفتگو سنتے رہے پھر فرمایا:’ یہ ساری باتیں پسندیدہ ہیں اور خدا اس لطیف ذوق کو اچھی نظر سے دیکھتا ہے۔  ”  (مستدرک حاکم)

ابن ِ ماجہ میں روایت ہے:

”  حضرت عبد اللہ بن عمر  فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ۖسے دریافت کیا یا رسول اللہۖ! کیا یہ تکبر اور غرور ہے کہ میں نفیس اور عمدہ کپڑے پہنوں’ آپ ۖنے ارشاد فرمایا نہیں’ بلکہ یہ تو خوبصورتی ہے اور خدا اس خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔  ”

مشکوٰة میں روایت ہے کہ نبی پاکۖ نے فرمایا کہ:

”  عیش پسندی سے دور رہو۔اس لئے کہ خدا کے پیارے بندے عیش پرست نہیں ہوتے۔”

رزین میں روایت ہے کہ:

”  رسول اللہ ۖنے زیادہ شان و شوکت اور بہت زیادہ حقیر لباس سے منع فرمایا ہے۔  ”

بخاری کی حدیث ہے:

”  کھائو’ پیو’ صدقہ کرو اور پہنو جب تک کہ اسراف اور تکبر نہ ہو۔  ”

تو جناب یہ واضح ہے کہ اسلام نے نفاست اور عمدگی کو بُرا نہیں سمجھا بلکہ عیش’ تکبر اور دکھاوے کو ناپسند قرار دیا ہے۔

تو جناب ذاتی خرچ کے بارے میں بنیادی معلومات کے بعد اب اگلے نقطہ کی طرف آتے ہیں جس کے بارے میں بھی کئی سوالات کیے جاتے ہیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ جناب اب خرچ بھی نہ کریں تو پھر پیسے کو کیا کریں۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ کس نے کہا ہے کہ خرچ نہ کریں لیکن یاد رکھیئے کہ آپ کے پاس جو دولت ہے وہ صرف آپ کی نہیں اس میں باقی لوگوں کا بھی حق ہے۔اگر شریعت اسراف نہ کرنے کا حُکم نہ دیتی تو حضرت ِ انسان کی فطرت تو یہ ہے کہ اس کو اپنے اوپر خرچ کرنے سے فرصت ہی نہ ملتی۔پانچ مرلے کے گھر کے بعد دس مرلے کے گھر کی خواہش پھر ایک کنال کے پھر دو کنال کے’ بس ایسے زندگی گزر جاتی ہے اور صاف ظاہر ہے کہ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ آپ صرف اپنے آپ کو ہی یاد رکھیں بلکہ آپ کے مال میں جناب دوسروں کا بھی حق ہے۔یاد رہے کہ نقطہ حق کا استعمال ہو رہاہے۔

آپ کے پاس جتنا بھی ہے یہ اللہ کی طرف سے ہی ہے۔ جس کے پاس زیادہ ہے اُس میں دوسروں کا حق بھی زیادہ ہے اور جس کو اللہ نے دیا ہی کم ہے صاف ظاہر ہے کہ اُس پر دوسروں پر خرچ کرنا بھی اُسی حساب سے ہوگا۔اللہ جو کہ رزق دینے والا ہے اُس کو علم ہے کہ آپ کو اُس نے کتنا دیا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ کوئی ایک لاکھ روپیہ دے کر دو لاکھ خرچ کرنے کو تو نہیں کہہ سکتا۔بس یاد رکھیئے کہ اپنے مال کو دوسروں پر خرچ کرنے کا حُکم ہے اور اس سے کوئی شخص بھی بالاتر نہیں ہے۔

سورة الطلاق کی آیت نمبر ٧ میں ارشاد ِ رّبانی ہے:

”  کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہئے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو اُسے چاہئے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اُسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسبِ حیثیت) دے’کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اُسے دے رکھی ہے’اللہ تنگی کے بعد آسانی فراغت بھی کر دے گا۔  ”   (سورة الطلاق : ٧)

جناب اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ضروری ہے البتہ خرچ حیثیت کے مطابق ہوگا۔

یاد رکھیئے کہ یہاں پر زکوٰة کے علاوہ صدقات اور خیرات کی بات ہو رہی ہے۔زکوٰة تو جمع پونجی پر ہے جب کہ صدقات اور خیرات جمع پونجی پر نہیں بلکہ کمائی میں سے خرچ کیے جاتے ہیں۔

اب اس ضمن میں اگلا سوال یہ ہے کہ خرچ کس پر کیا جائے۔

ایک غلط فہمی جو اس ضمن میں کافی عام ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ صرف غریبوں اور مسکینوں پر ہی کیا جاتاہے۔اس بارے میں سورة البقرہ کی آیت نمبر٢١٥میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجئے جو مال تم خرچ کرو وہ ماں باپ کیلئے ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہے اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔  ” (سورة البقرہ : ٢١٥)

اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ میں ماں باپ’ رشتہ داروں’ یتیموں’ مسکینوں اور مسافروں سب کا حصہ ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی ضرورت مند ہو تو اُس پر بھی خرچ کیا جا سکتا ہے۔

خرچ کے طریقے کے بارے میں ابودائود میں ایک بہت ہی خوبصورت روایت ہے ذرا ملاحظہ فرمائیے:

”  ایک شخص نے نبی پاک ۖسے کہا کہ میرے پاس ایک دینار ہے مجھے اس کا استعمال بتائیے۔ آپۖنے فرمایا کہ اپنے پر خرچ کرو۔اُس شخص نے کہا کہ میرے پاس ایک اور ہے آپۖنے فرمایا کہ اسے اپنے بچوں پر خرچ کرو۔اُس شخص نے کہا کہ میرے پاس ایک اور ہے۔آپۖنے فرمایا کہ اسے اپنی بیوی پر خرچ کرو۔میرے پاس ایک اور ہے اُس شخص نے کہا۔آپۖنے فرمایا کہ اس کو اُن لوگوں پر خرچ کرو جن کے تم نگہبان ہو۔اُس شخص نے کہا کہ میرے پاس ایک اور ہے۔رسول اللہۖنے فرمایا کہ اُس پر خرچ کرو جس کو تم ضرورت مند سمجھتے ہو۔  ”

تو جناب یہ تھا اسلام میں خرچ کرنے میں اعتدال۔ ماں باپ’رشتے داروں’ غریبوں’ مسکینوں’ مسافروں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرنے میں توازن۔

اس گفتگو سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اپنے بیوی بچوں’ والدین کے علاوہ ہمارے مال میں ہمارے رشتہ داروں کا حق مسکینوں اور دوسرے ضرورت مندوں سے زیادہ ہے۔

 ایسا نہ ہو کہ آپ مسکینوں اور محتاجوں کو تو ان کا حق دیتے رہیں اور آپ کے اپنے رشتے دار جو کہ سفید پوشی کی وجہ سے مانگ بھی نہیں سکتے اُن کی ضرورتیں آپ کو نظر ہی نہ آئیں۔یاد رکھیئے کہ سفید پوش لوگو ں کا حق بھی ہے نہ کہ صرف ان لوگوں کا جو کہ آسانی سے ہاتھ پھیلا کر اپنی ضرورت پوری کر لیتے ہیں۔ سورة البقرہ کی آیت نمبر ٢٧٤سے یہ حکم واضح ہے ‘ارشادِ رّبانی ہے:

”  جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں اُ ن کیلئے رب تعالیٰ کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگینی۔  ”   (سورة البقرہ : ٢٧٤)

اس میں چھپے اور کھلے دونوں خرچ کا ذکر ہے۔اب یہ چھپے خرچ کا حکم سفید پوش لوگوں کے بارے میں ہے جو کہ اپنی سفید پوشی میں یا شرم کے مارے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔اس بارے میں آپ کو حکم بھی یہی ہے کہ ان لوگوں پر ایسے خرچ کریں کہ اُن کی ضروریات بھی پوری ہو جائیں اور اُن کی سفید پوشی کا بھرم بھی رہ جائے۔اور جو آپ سے کھل کر مانگے یعنی سب کے سامنے مانگے جیسے فقیر’ مسکین یا  محتاج اُس کو آپ کھلے میں دے دیں۔

اس کے علاوہ ایک اور بات کا خیال رکھیں کہ رشتے داروں پر خرچ کرنے کا حکم صرف ضرورت مند رشتے داروں تک محدود نہیں ہے۔اگر آپ کے رشتے داروں میں کوئی ضرورت مند نہ بھی ہو تو بھی آپ کی کمائی میں اُن کا حق ہے۔اس صورت میں آپ اُن کا حق اُن کو تحفے تحائف یا دعوت وغیرہ دے کر پورا کر سکتے ہیں۔

خرچ کے بارے میں حکم کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ کے نزدیک بیوی بچے’ والدین’ رشتے دار’ یتیم’ مسافر’ مسکین ان تمام لوگوں پر خرچ کے کھاتے فرق فرق ہیں۔یہ نہیں کہ آپ کہیں کہ میرے پاس پانچ سو روپیہ تھا اور وہ میں نے اپنے بیوی بچوں یا والدین کو دے دیا اب میرے پاس رشتے داروں پر خرچ کرنے کیلئے کچھ بچا ہی نہیں۔اگر آپ کے پاس کل پانچ سو روپیہ خرچ کرنے کو ہے تو اُس کو بھی آپ کو اسی توازن کے ساتھ خرچ کرنا ہوگا کہ معاشرے کے کسی بھی شخص کا حق نہ مارا جائے۔یہی توازن برقرار رکھنا ہی اصل چیلنج ہے۔اس سے پہلے کہ توازن کے سلسلے میں اگلے موضوع پر گفتگو ہو کمائی اور خرچ کے بارے میں ایک بہت ہی اہم نقطہ جو کہ اکثر اُٹھایا جاتا ہے اُس پر کچھ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

نقطہ یہ ہے کہ ہم نے کمائی اور خرچ کے بارے میں تو بات کر لی لیکن کیا اسلام صرف کمائی اور خرچ کرنے کیلئے ہی جائز قرار دیتا ہے اور اگر نہیں تو بچت کے بارے میں شرعی احکام کیا ہیں کیونکہ بُرے اوقات کیلئے بچت تو ہر کوئی کرتا ہے۔

تو جناب پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ اسلام کا معاشی نظام مال کو جمع کرنے کے سخت خلاف ہے کیونکہ آپ خود سوچئے کہ ایک طرف تو یہ کہ بچت کی کوئی انتہا ہی نہیںہے۔یہ لالچ دن بدن بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ اگر ہر کوئی اپنی کمائی کو جمع کرنا شروع کر دے تو خود سوچئے کہ معیشت کی کیا حالت ہوگی۔معیشت تو اسی وقت ترقی کرتی ہے جب مال حرکت میں رہے یعنی کہ ہاتھ بدلتا رہے۔میں نے کمائی کی اور اس میں سے کچھ کپڑوں پر خرچا’ کچھ کھانے پر’کچھ اور ضروریات پر اور جو میں نے مال خرچ کیا اس سے تجارت پیشہ لوگوں کی آمدنی ہوئی۔اُنہوں نے اپنی آمدنی کا کچھ حصہ ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ کیا اور کچھ سے مال خریدا۔مال بنانے کی آمدنی ہوئی اُس سے کارخانے چل رہے ہیں اور اُس مال کو بنانے کیلئے خام مال بنانے والوں کی کمائی بھی ہو رہی ہے اور کئی اور لوگوں کا روزگار چلتا جا رہا ہے۔تو یہ ہے معیشت کا نظام۔اس کے علاوہ اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے مال میں سے بھی وہ لوگ اپنی ضرورت کے مطابق چیزیں خریدیں گے۔اس طرح وہ مال بھی گردش میں رہے گا۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام کسی بھی ایسے دھندے کو جائز قرار نہیں دیتا جس میں بیٹھ کر بغیر محنت کے کمائی ہو سکے۔جیسا کہ لاٹری کا دھندہ یا انعامی بانڈز جس میں بغیر محنت کے کمائی ہو یا پھر سیونگ سر ٹیفیکیٹ اور  fixed بچت کی سکیمیں جس میں گھر بیٹھے پکی آمدنی ہو تی رہے۔

سوچئے کہ اس میں کتنی حکمت ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہر کوئی اس بچت کو کاروبار میں لگانے کی بجائے بنکوں میں رکھوا کر  fixed  ماہانہ آمدنی لینے کو ترجیح دیتا۔تو ایسی حالت میں کاروباری حلقوں کا کیا حال ہوتا اور سوال تو یہ ہے کہ اگر کاروبار ہی نہ ہوتا تو بنک لوگوں کی جمع کرائی ہوئی آمدنی کو کہاں پر لگاتے اور اگر کہیں کاروبار پر نہ لگاتے تو پھر بنک   fixed  آمدنی کیسے دے سکتے تھے۔غرضیکہ پوری کی پوری معیشت کا نظام ہی مفلوج ہو کر رہ جاتا۔

اسی طرح بچت پر سالانہ 2.5فیصد زکوٰة کا نظام بھی یہی بات واضح کرتا ہے کہ اسلام مال و دولت کو جمع کرنے کے رجحان کو کم یا ختم کرنا چاہتا ہے۔آپ خود سوچئے کہ ایک طرف سود منع ہے اور دوسری طرف اگر آپ کی جمع کی ہوئی پونجی پر سال کے بعدسالانہ2.5  فیصد کے حساب سے زکوٰة کٹتی رہے تو ایک وقت آئے گاکہ جمع پونجی ختم ہو جائے گی۔اس مسئلے کا صرف یہی حل ہے جو اسلام نے دیا اور وہ یہ ہے کہ مال و دولت کو خرچ کرو۔

جیسا کہ سورة التوبہ کی آیات٣٤-٣٥میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں عذاب ِ دردناک کی خوشخبری دے دیجئے۔(وہ عذاب ا س دن ہوگا) جس دن وہی (سونا چاندی) دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیوں اور پہلوئوں اور پیٹھوں پر داغ دیئے جائیںگے (اور ان سے کہا جائے گا کہ) یہی وہ (سونا چاندی)ہے جو کہ تم خزانوں میں جمع کیا کرتے تھے اپنی ذات کیلئے۔سو اب جو کچھ تم خزانوں میں جمع کرتے تھے اس کا مزہ چکھو۔ ”       (سورة التوبہ : ٣٤-٣٥)

تو جناب دیکھ لیجئے کتنا سخت حکم ہے ان لوگوںکے بارے میں جو کہ اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے بلکہ اُن کو جمع ہی کیے جاتے ہیں۔اگر یہ حکم نہ دیا جاتا تو یہ لالچ دن بدن بڑھتا ہی چلا جاتا اور آہستہ آہستہ پورے ملک کی معیشت ہی بیٹھ جاتی۔

اب سوال یہ اُٹھایا جاتا ہے کہ کیا شریعت بُرے وقت کیلئے بچانے کی اجازت  نہیں دیتی۔ تو جناب یہ کہنا بھی غلط ہوگا کیونکہ سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر ٢٩میں ارشادِ رّبانی ہے۔

”  اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کر لو(کہ کسی کو دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھول ہی دو(کہ سبھی کچھ دے ڈالو اور انجام یہ ہو) کہ ملازمت زدہ اور  درماندہ ہو کر بیٹھ جائو۔  ”   (سورة بنی اسرائیل : ٢٩)

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بُرے وقت کیلئے بچانے کو پسندیدہ فعل قرار دیا گیا ہے۔لیکن اس بارے میں بھی بنیادی اصول وہی اعتدال اور توازن کا ہی ہوگا۔نہ یہ کہ لاکھوں روپے بنکوں میں جمع کرواتے رہیں کہ بُرے وقت میں کام آئیں گے۔

پہلے تو یہ سوچئے کہ اس بُرے وقت کے ڈر سے نجات کی ذہنیت کی بنیادی وجہ کیا ہے۔

اگر ہمیں یہ پتہ ہو اور اس پر ہمارا ایمان بھی ہو کہ رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے تو سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا اللہ کے خزانوں میں کمی ہو جائے گی جسکے ڈر سے ہم بچنا چاہتے ہیں۔اور اگر اُس نے آپ کا رزق یا آپ کی زندگی ہی ختم کرنی لکھی ہے تو کیا آپ کی بچت آپ کے کام آجائے گی؟

کچھ سال پہلے میں نے TV پر  National Geographic   یا  Discovery channel  پر ایک پروگرام دیکھا۔ایک بالشت بھر مینڈک ایک چھوٹے سے غار میں پھنسا ہواتھا۔دلچسپ بات یہ تھی کہ غار کا دھانہ اُس مینڈک کے سائز سے تقریباً تین گنا کم تھا۔تو سوال یہ اُٹھ رہا تھا کہ آخر یہ مینڈک اس غار میں اتنے چھوٹے سے دھانے سے گھسا کیسے۔آخر بات اس پر ختم ہوئی کہ اس پتھر کی غار میں جانے کا کوئی اور راستہ ہے نہیں اس سے یہ ثابت ہواکہ یہ مینڈک سات آٹھمہینے پہلے جب کہ وہ اپنے موجودہ سائز سے تقریباً تین گنا چھوٹا تھا اس غار کے دھانے سے اندر گر گیا اور پچھلے سات آٹھ ماہ سے اسی غار میں پھنسا ہوا ہے۔

اب گفتگو اس بات پر ہو رہی تھی کہ آخر سات آٹھ ماہ اس مینڈک کے بچے کو کھاناپینا کہاں سے میسر ہوا۔تو جناب اس کا جواب ہے اللہ نے اس کو کھانا پینا مہیا کیا۔سورة العنکبوت کی آیت نمبر ٦٠یہی تو کہتی ہے’ذرا ملاحظہ کیجئے:

”  اور کتنے ہی جاندار ہیں جو اپنا رزق (اپنے ساتھ) اُٹھائے نہیں پھرتے۔اللہ انہیں رزق دیتا ہے اورتمہیں بھی۔  ”   (سورة العنکبوت : ٦٠)

تو جناب کیا اس کے بعد بھی شک ہے کہ رزق دینے والا وہ ہے۔ایک ماں جس کے دس بارہ بچے ہوں وہ شاید اپنے کسی بچے کو کسی وقت کھانا کھلانا بھول جائے لیکن وہ اس کائنات اور اس کائنات کی ہر چیز کا رب اپنی مخلوق میں سے کسی کو رزق دینا نہیں بولتا۔اگر وہ مینڈک کے بچے کو رزق دینا نہیں بھولا تو کیا آپ کو دینا بھول جائے گا!ہاں وہ اور بات ہے کہ اگر رزق یا زندگی ہی ختم ہو جائے۔لیکن پھر سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اگر آپ کا ر زق تنگ کرنا یا زندگی ہی ختم کرنا اور آپ کے بیوی بچوں کو مشکل میں ڈالنا اُس نے لکھ دیا ہے توکیا آپ کی بُرے وقت کیلئے بچائی ہوئی دولت اُن کے کام آسکتی ہے۔کیا آپ نے بھائی کوبھائی کا گلہ کاٹتے نہیں دیکھا یا سنا ‘اسی دولت کیلئے۔آپ کو کیا علم کہ جس دولت کو آپ اس لئے جمع کر رہے ہیں کہ بُرے وقت میں آپ کے یا آپ کے گھروالوں کا سہارا بنے گی۔ وہی دولت ہی شاید آپ کی زندگی یا آپ کے گھروالوں کی زندگی کیلئے عذاب ہی بن جائے۔جب اس دنیا سے رزق اُٹھ گیا تو اُٹھ گیا۔میں نے اپنی آنکھوں سے کئی لوگوں کو جن کے بنکوں میں لاکھوں کروڑوں روپے موجود تھے۔ایسے مرتے دیکھا ہے کہ اُن کا پیسہ اُن کے کچھ کام نہ آسکا حتیٰ کہ ایک شخص تو آخری مہینہ ہسپتال میں خوراک کی نالی لگا کر پڑا رہا  پھر بھی اُس کا جسم خوراک کو قبول ہی نہیں کر رہا تھا۔اللہ معاف کرے۔جناب میں یہ بات اس لئے کر رہا ہوں تاکہ آپ کو یہ بات واضح ہو جائے کہ جب اس دنیا سے آپ کا نان نفقہ اٹھنا لکھا ہے تو اُس وقت دنیا کی کوئی دولت کچھ نہیں کر سکتی۔اور اگر آپ کا رزق اور زندگی ابھی ہے تو کوئی آپ کا رزق اور زندگی آپ سے چھین نہیں سکتا۔ذرا سنیے سورة الملک کی آیت نمبر ٢١میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  بھلا (بتائو تو) وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے گا اگر وہ (اللہ) اپنا رزق (تم سے) روک لے۔  ”              (سورة الملک : ٢١)

تو جناب ا س بات پر دل سے یقین کیجئے۔اگر آپ کو یقین آگیا تو پھر شاید یہ جمع کرنے کی حرص خود ہی ختم ہو جائے یا کم ضرور ہو جائے گی۔

کئی روایات سے یہ بات تو ثابت ہے کہ ہمارے پیارے رسول محمد ۖکبھی بھی کل کیلئے کچھ نہیں بچایا کرتے تھے۔اس کی وجہ اُن کا وہ ایمان تھا جو شاید آج کل کے مسلمان کے پاس نہیں ہے۔تو چلئے سورة بنی اسرائیل کی آیت  ٢٩جیسے پہلے بیان کی اور سورة البقرہ کی آیت نمبر٢٤٠جس میں ارشاد ہے:

”  جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ وصیت کر جائیں کہ اُن کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اُٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے’ ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ اپنے لئے اچھائی سے کریں۔ اللہ تعالیٰ غالب اور حکیم ہے۔  ”   (سورة البقرہ : ٢٤٠)

اس آیت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے نیک نیتی سے اپنے گھر والوں کیلئے آپ بھی چھ مہینے سال کے روٹی پانی کا خرچہ بچا لیجئے بس اتنا ہی کافی ہے۔

اگر اللہ نے ان کیلئے آسانی لکھی ہے تو اُن کیلئے آسانی ہو جائے گی۔لیکن آپ دنیا والوں کا حق مار مار کر اپنے گھر والوں کیلئے آسانی کرنے کی کوشش اگر کرتے بھی رہیں گے تو شاید یہ اللہ کو منظور نہ ہو۔

کھانا’ پینا

اب بات کرتے ہیں کھانے پینے میں اعتدال اور توازن کے بارے میں۔کبھی دعوتوں میں لوگوں کو کھاتا پیتا دیکھیں تو اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ آج کی مسلمان قوم ہر طرح سے لادینیت کا شکار ہے۔نہ صرف یہ کہ لادینیت کا شکار ہے بلکہ شاید جاہل ہونے کی وجہ سے یہ بھی نہیں جانتی کہ آج کے دور کی سائنس کے ہر روز ہونے والے انکشافات 1400سال پہلے بتائے ہوئے اللہ اور اُس کے پیارے رسول محمد مصطفیۖکے بتائے ہوئے سنہری اصولوں کی تصدیق اور تائید کرتے ہیں۔

آج میڈیکل سائنس بھی اس بات پر متفق ہے کہ زیادہ کھانا زندگی نہیں بلکہ موت ہے۔

اس حقیقت کو آسانی کے ساتھ آپ بھی جانچ سکتے ہیں۔ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے تو آپ کو علم ہوگا کہ سادہ اور کم کھانے والے لوگ زیادہ صحت مند ہیں۔میں تو اکثر اوقات یہی کہتا ہوںکہ میں نے اپنے ملک میں لوگوں کو بھوک سے مرتے ہوئے تو نہیں دیکھا بلکہ کھا کھا کر مرتے روز دیکھتا ہوں۔آپ شام کو کسی بڑے شہر کی سڑکوں پر گھوم پھر کر میری بات کی تصدیق کر لیجئے۔آپ کو شام ہوتے ہی دوطرح کی جگہوں پر شدید رش نظر آئے گا۔ایک کھانے پینے کی جگہوں پر اور دوسرے کلینک اور ہسپتالوں میں۔

اس کے علاوہ آپ ذرا غور کیجئے کہ جب سے دنیا میں کھانے پینے کی نئی نئی چیزیں نظر آنا شروع ہوئی ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراوانی ہوئی ہے اُسی وقت سے بیماریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔اپنے باپ دادا کی نسل کے لوگوں سے بات کریں تو وہ بھی اس بات کی تصدیق کرینگے کہ اُن کے دور میں نہ کھانے پینے کا یہ رواج تھا نہ ہی طرح طرح کے کھانوں کے ڈھیر اور نہ ہی اتنی بیماریاں۔

بعض دفعہ تو یہ احساس ہوتا ہے کہ بجائے اسکے کہ لوگ زندہ رہنے کیلئے کھائیں ‘انہوںنے کھانے کیلئے زندہ رہنا شروع کر دیا ہے۔کوئی محفل علمی ہو یا ادبی’ تفریحی یا تعزیراتی کھانے کے انتظام کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی۔کسی کو کسی محفل کی دعوت دی جائے تو پہلا سوال کھانے کے بارے میں ہوتا ہے۔محفل میں لوگ پہنچتے بھی کھانے کے وقت پر ہی ہیں اور کھانے کے  فوراً بعد منتشر بھی ہو جاتے ہیں وہ یہ شاید بھول ہی جاتے ہیں کہ محفل کا کھانا مقصدِ محفل نہیں تھا بلکہ مقصد کچھ اور تھا۔

ایک سروے کے مطابق دُنیا کے پچاس فیصد سے زائد لوگ  Over Weight  یعنی اپنے جسم’ عمر اور قد کی مناسبت سے زیادہ وزنی ہیں۔پبلک جگہوں پر نظر دوڑائیں تو ہر دوسرے شخص کی توند  نکلی ہوئی نظر آتی ہے اور پھر اس کو طرح طرح کی باتوں سے لوگ Justify کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کوئی یہ کہتا ہے کہ جناب میری عمر پینتالیس سال ہے اب پینتالیس سال میں تو توند نکل ہی آتی ہے۔

کوئی اپنی توند کا ذمہ دار اپنے بچوں کو ٹھہراتا ہوا کہتا ہے کہ جناب آخر میرے چار بچے ہیں یہ تو ہو ہی جاتا ہے۔

کوئی یہ کہتا ہے کہ جناب میں تو کھاتا ہی کچھ نہیں پتہ نہیں یہ  توند کیسے نکل آئی۔

کوئی صاحب یہ کہتے ہیں کہ جی بس آجکل کے دور میں اچھی خوراک ہی نہیں ملتی۔

اور پچھلے دنوں میں تو ایک صاحب نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ سورة الاعراف کی آیت نمبر ٣١کا حوالہ دے کر صاحب فرمانے لگے کہ اللہ نے حکم دیا خوب کھائو پیو تو ہم کیوں نہ کھائیں۔

اب ذرا پوری آیت کا ترجمہ سن لیجئے’ سورة الاعراف کی آیت نمبر ٣١ میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  اور کھائو پیو اور حد سے مت نکلو۔ بے شک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔  ”   (سورة الاعراف : ٣١)

ان صاحب کو اور کھائو پیو تو یادرہا یہ یاد نہ آیا کہ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ حد کا بھی ذکر کر رہے ہیں۔تو جناب یہ ہے ہمارا حال۔نعوذ بااللہ قرآن کو بھی اپنے فائدے میں استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔

اب قرآن میں کھانے پینے کے اعتدال کے بارے میں تو آپ نے آیت سن لی اب یہ بھی سنیے کہ ہمارے نبی پاک ۖ کے وصال تک آپۖ کا پیٹ مبارک بالکل فلیٹ یعنی کے جسم کے برابر تھا۔اس کے علاوہ سینکڑوں احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ۖ نے اپنی زندگی میں خود کبھی بھی ضرورت سے زیادہ نہیں کھایا اور ہمیشہ کم کھانے کی ہی تلقین کی۔جیسا کہ آپۖ نے فرمایا کہ:

”  مومن ایک آنت سے کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں سے۔  ”

اس کے علاوہ آپۖ کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ کئی کئی دن آپۖ کے گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا اور آج کل یہ حال ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیچاری عورتوں کا سارا دن ہی باورچی خانے میں کھانے پکانے میں ہی گزر جاتا ہے۔

ابن ِ ماجہ اور مسند احمد میں روایت ہے کہ آپۖ نے فرمایا:

”  انسان پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرتا۔ابن ِ آدم کیلئے چند لقمے کافی ہیں جو اسے کھڑا رکھ سکیں۔اگرزیادہ کا شوق کرتا ہے تو تہائی کھانے کیلئے تہائی پینے کیلئے اور تہائی سانس کیلئے۔  ”

اس حدیث سے بھی یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ کھانا صرف ضرورت کیلئے ہے۔یعنی کہ زندہ رہنے کیلئے کھائیں نہ کہ کھانے کیلئے زندہ رہیں۔

ایک دفعہ صحابہ اکرام نے نبی پاکۖ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص روزانہ ایک مرتبہ کھانا کھاتا ہو تو کیسا ہے’  آپۖ نے فرمایا کہ روزانہ ایک مرتبہ کھانا نبیوں کا شیوہ ہے۔پھر پوچھا گیا اور دو مرتبہ کھانا’ آپۖ نے فرمایا کہ یہ صحابہ اکرام کا شیوہ یعنی کہ نہایت ہی تقو ٰی والے لوگوں کا۔ پھر پوچھا گیا اور تین مرتبہ تو آپ ۖ نے فرمایا یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ مویشی سارا دن چڑتے رہتے ہیں۔

سوچئے کہ آج کونسا ایسا گھر ہے جہاں پر تین وقت باقاعدہ کھانے کا انتظام نہ ہوتا ہو اور جو درمیان میں یعنی کہ گیارہ بجے اور چھ سات بجے چائے کا اہتمام کیا جاتا ہے وہ اس کے بھی علاوہ ہے۔تو جناب یہ ہے کھانے پینے میں اعتدال کے بارے میں شرعی احکام۔

اب دیکھتے ہیں کہ کھانے میں توازن کیا ہے۔

ہمارے جسم کو اللہ تعالیٰ نے ایسے بنایا ہے کہ اس کو طاقت کیلئے مختلف چیزوں کی ضرورت ہے جیسے مختلف وٹامنز’ پروٹین’ کیلشیم’ کاربوہائیڈریٹ’ چکنائی’ معدنیات وغیرہ۔اب اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا ذریعہ بھی مختلف بنایا ہے یعنی کہ ہر طرح کے کھانے میں ہر چیز نہیں ہوتی۔کوئی چیز سبزیوں میں ہے توکوئی دودھ کی مصنوعات میں’ کوئی چیز گوشت میں ہے اور کوئی دالوں وغیرہ میں۔اسی طرح ہر سبزی اور ہر پھل میں بھی مختلف قسم کے اجزاء ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جسم کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ہر قسم کی چیزیں کھانی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کی یہی حکمت تھی تاکہ حضرتِ انسان کسی چیز کو رد نہ کرے۔دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقوں کیلئے اور دنیا کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگوں کیلئے آسانی پیدا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک طرح کے ضروری اجزاء کو صرف ایک طرح کی خوراک تک ہی محدود نہیں رکھا۔اس میں بھی ایک بہت بڑی حکمت ہے۔نہیں تو کچھ لوگ محدود وسائل کی وجہ سے اور کچھ ایسے علاقوں میں رہنے کی وجہ سے جہاں وہ خوراک پیدا نہ ہوتی شاید ان اجزاء سے محروم رہ جاتے۔مثال کے طور پر جسم کو پروٹین کی ضرورت ہے تو پروٹین گوشت میں بھی ہے’ دالوں میں بھی اور انڈے میں بھی ہے۔جبکہ گوشت والی پروٹین میں چربی کی شرح بھی زیادہ ہے وغیرہ’  جس کو زیادہ کھانے سے دل کی بیماریاں اور موٹاپا ہوتا ہے۔جبکہ دالوں میں پروٹین تو ہے لیکن چربی نہیں ہے تاکہ جس شخص کو جس چیز کی ضرورت نہ ہو وہ اُس کو چھوڑے بغیر بھی اہم Nutrition حاصل کر سکے۔جیسے کہ اگر کوئی شخص دل کا مریض ہے یا موٹاپا ہو اُسے پروٹین کی ضرورت تو ہے لیکن چربی کی نہیں تو وہ یہ ضرورت انڈے یا دالوں سے پوری کرسکتا ہے۔اسی طرح دودھ میں Calcium ہے جو کہ بڑھتے ہوئے بچوں اور عمر کے آخری حصے میں ہڈیوں کی توڑ پھوڑ سے محفوظ رہنے کیلئے اور دانتوں کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے۔

اب آپ خود سوچئے کہ اگر ایک شخص جس کے جسم کو ہر طرح کے Nutritionکی ضرورت ہو اور وہ صرف گوشت خور ہو جائے تو اُس کا کیا حال ہوگا۔آج کی سائنس اُس بات پر بھی اتفاق کرتی ہے کہ خوراک انسانی جسم اور رویے پر اثر انداز ہوتی ہے۔اسی وجہ سے زیادہ گوشت کھانے والے لوگوں کو غصّہ اور پسینہ دونوں بہت آتے ہیں۔صبح’ دوپہر’ شام صرف گوشت کھانے سے ایک طرف تو جسم کو تمام ضروری اجزاء مل نہیں پاتے اور دوسری طرف وہ جسم اور رویہ پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

اب ذرا اس حقیقت کو جانتے ہوئے اپنے دائیں بائیں نظر دوڑائیے تو علم ہوتا ہے کہ مسلمان تو بس گوشت کا دیوانہ ہو چکا ہے۔ناشتہ سے لے کر رات کے کھانے تک اُس کو ہر وقت گوشت چاہئے۔یہی وجہ ہے کہ ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ نہ ہی کچی سبزیوں کا رواج رہا نہ ہی پھلوں کا اور نہ ہی ہمارے روز کے کھانے میں ڈیری (Dairy)کی مصنوعات کا رواج ہے۔ایک طرف اگر گوشت پر زور ہے تو دوسری طرف روٹی چاول پر لیکن خوراک میں توازن نہیں ہے۔

اگر آپ اپنے باپ دادا کی عمر کے لوگوں سے اُن کی خوراک کے بارے میں پوچھیں تو معلوم ہوگا کہ آج سے کچھ دہائیاں پہلے تک گوشت کو دعوت کی خوراک سمجھا جاتا تھا۔گھروں میں ہفتے میں ایک بار یا دو ہفتے میں ایک بار گوشت پکا کرتا تھا۔ اورجس دن گوشت پکا ہوتا تھا تو وہ بھی سبزی یا دال کے ساتھ پکتا تھا۔اور چار لوگوں کے خاندان کیلئے ایک پائو گوشت ہی کافی ہوا کرتا تھا۔اسی لئے ہمارے دادائوں کے زمانے میں اوسطً عمر بھی زیادہ تھی اور بیماریاں بھی کم۔آج کل تو یہ حال ہے کہ ایک طرف تو گوشت روزانہ کھایا جاتا ہے اور تو اور ایک ایک آدمی کھڑا کھڑا دو دو کلو گوشت کھا جاتا ہے۔

احادیث کی کتابوں میں کم کھانے کے ساتھ ساتھ خوراک کے توازن کے بارے میں بھی بہت سی احادیث ملتی ہیں۔جس میں کھجور’ دودھ’ زیتون’ اناج اور دیگر پھلوں کے فوائد کے ساتھ بہتر توازن کے بارے میں نبی پاکۖ کے ارشادات ملتے ہیں۔

اس کے علاوہ حدیث سے یہ بھی بات ثابت ہے کہ آپۖ نے گائے کے دودھ کو شفاء اور اس کے گوشت کو بیماری بتایا۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں گوشت کھانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے خاص طور پر کم آمدنی والے لوگوں میں بڑا گوشت کھانے کا بہت زیادہ رجحان ہے۔

خوراک میں اعتدال اور توازن کے علاوہ ہمارے نبی پاکۖ نے تو ہمیں خوراک کے درجہ حرارت تک کے بارے میں تعلیمات سے نوازا ہے۔بدقسمتی سے ہم ان تعلیمات سے دور ہیں۔ مختلف صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ آپۖ نے سخت گرم اور سخت ٹھنڈی چیزوں سے بھی منع فرمایا۔آج بدقسمتی سے یہ حالت ہے کہ جونہی گرما گرم کھانا ختم کیا جاتا ہے ساتھ ہی ٹھنڈی ٹھنڈی بوتل یا پانی پیا جاتا ہے اور یوں گرم اور ٹھنڈی دونوں شدتوں سے پرہیز کے حکم کو ایک ہی بار میں بھلا دیا جاتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ رجحان تو لوگوں کی زندگی میں رچ ہی گیا ہے۔

تو جناب اپنے آپ پر ظلم کرنا چھوڑیئے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے کھانے پینے میں اعتدال اور توازن لے آئیے۔انشاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ آپ کی صحت ٹھیک ہو جائے گی۔یاد رکھیئے کہ موٹاپا صحت کی نہیں بیماری کی علامت ہے اور یہ آپ کے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق کا ثبوت نہیں بلکہ آپ کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اگر یہ کھاتے پیتے گھرانے کی اور صحت کی علامت ہوتا تو نبی پاکۖ بھی موٹاپے کے ساتھ ہی رہتے جبکہ یہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ آپۖمتوازن شخصیت اورمتوازن جسم کے مالک تھے اور آپ کا پیٹ بالکل فلیٹ تھا۔

جذبات میں اعتدال اور توازن

خوراک کی طرح آج کل کا مسلمان اپنے جذبات کے اظہار میں بھی اعتدال اور توازن مکمل طور پر کھو چکا ہے۔

اگر کوئی خوشی کی خبر ملے تو لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آتی کیا کریں۔شادی بیاہ کی ہی مثال لے لیجئے۔شادی بیاہوں کی مدت ہمارے معاشرے میں تین دنوں سے بڑھتی ہوئی ہفتوں میں پہنچ چکی ہے۔اس کے علاوہ پورا پورا سال شادی کی تیاریاں ہوتی رہتی ہیں۔کپڑوں’ کھانے پینے’ دعوتیں’ ڈھولکی اور ناچ گانے کی پارٹیاں سب کچھ شادی کے اندر ہی شامل ہو چکی ہیں۔شادیاں تو کیا حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں جیسے کہ سالگرہ بھی ایسے انتظامات کے ساتھ منائی جاتی ہیں کہ لگتا ہے ہمارے معاشرے کے بڑے بزرگ بھی بچوں کی طرح اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو کنٹرول نہیں کر سکتے اور آپے سے باہر ہی ہو جاتے ہیں۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان تمام خوشیوں کے تہواروں میں خوشیاں دینے والے کیلئے کچھ نہیں ہوتا۔اگر ہوتا بھی ہے تو وہ جیسے محاورہ ہے ‘گونگلوئوں پر سے مٹی جھاڑنے کے مترادف’۔جیسے کہ ایک صاحب نے اپنی بچی کی شادی کی رسمیں شروع ہونے سے کچھ دن پہلے گھر میں قرآن خوانی کرائی اور اس کے بعد سات دن تک اُس شادی میں ہر طرح کی غیر شرعی حرکت ہوتی رہی۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وہ لوگ جو قرآن خوانی کیلئے بلائے گے اُن کی اکثریت کو شادی میں دعوت بھی نہ دی گئی شاید انہیں خود بھی یہ احساس نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

یا درکھیئے کہ خوشیاں اللہ کی طرف سے نعمتیں ہیں اور جس طرح آپ یہ خوشیاں مناتے ہیں اُس کے بارے میں بھی آپ سے پوچھا جائے گا۔سورة التکاثر کی آیت نمبر ٨میں ارشادِ ربّانی ہے:

”  پھر اس دن تم سے ضرور باضرور نعمتوں کا سوال ہوگا۔  ”   (سورة التکاثر : ٨)

تو جناب خوشیوں کو منانے میں اعتدال کا سنہری اصول یاد رکھیئے اور یاد رکھیئے کہ اسلام میں شادی کے بارے میں سوائے نکاح اور ولیمہ کی دعوت کے اور کسی تہوار کی اجازت نہیں ہے۔ اور اسلامی تہواروں میں بھی سوائے دونوں عیدوں کے اور کسی تہوار کی گنجائش نہیں ہے۔حتیٰ کہ عید میلادالنبیۖ جس طریقے سے منائی جاتی ہے اور اس کی آڑ میں پورے علاقے میں جو غیر شرعی حرکتیں’ لوگوں کے آرام میں خلل’ سڑکوں کو بلاک کرنا’ اُونچی آواز میں ریڈیو’ٹیپ ریکارڈر لگانا اس کی بھی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا نبی پاکۖ کی زندگی میں بھی آپۖ نے اپنی سالگرہ منائی تھی جب آپ نے وہ کام نہیں کیا تو یہ مسلمانوں نے بعد میں دین میں بدعتیں کیوں نکال لیں۔اگر نبی پاکۖ کو خوش کرنا ہی چاہتے ہیں تو اُن کے احکامات پر عمل کریں تو انہیں زیادہ خوشی ہوگی۔آپ خود سوچئے کہ آپۖ کے جشنِ ولادت کی آڑ میں شریعت کے احکام کی جو پامالی کی جاتی ہے آپ کے خیال میں کیا نبی پاکۖ کو اس سے خوشی ملتی ہوگی۔

بالکل اسی طرح جس طرح آج کا مسلمان خوشیوں کو مناتے ہوئے حد سے گزر جاتا ہے۔اسی طرح آج کل کے مسلمان کو کوئی چھوٹی سی تکلیف یا غم پہنچے تو اُس سے برداشت ہی نہیں ہوتا۔کسی عزیز کی وفات میں چیخ و پکار’ اونچی اونچی آوازمیں رونا’ منہ کو پیٹنا’ بالوں کو نوچنا عام ہو چکا ہے۔نہ صرف یہ بلکہ سوگ مہینوں’ سالوں بلکہ شاید یہ ساری زندگی ہی منایا جاتا ہے۔جنازہ اور قل کے علاوہ جمعراتیں’ چہلم’ برسیوں وغیرہ کی رسمیں عام ہو چکی ہیں۔سماجی رسم و رواج اور رکھ رکھائو کی رسموں نے شریعت کے احکامات کو پامال کر رکھاہے۔اس بارے میں واضح حدیث ہونے کے باوجود شاید جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے معاشرہ ان احکامات سے پیدل نظر آتا ہے۔

ذرا دیکھئے کہ اس بارے میں اسلام کیا کہتا ہے۔

مشکوٰة کی حدیث ہے کہ آنحضرتۖ نے فرمایا:

”  کہ جس کسی کو زندگی یا جائیداد کا نقصان ہو اور وہ نہ ہی کسی کو بتائے اور نہ ہی لوگوں سے شکایت کرے اللہ کا وعدہ ہے کہ ایسے شخص کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔  ”

ایک متفق علیہ حدیث میں ارشاد ہے کہ آپ ۖ نے فرمایا:

”  جو کسی کی وفات پر زمانہ جاہلیت کی طرح چہرے کو پیٹے’ کپڑوں کو پھاڑے اور اونچی آواز سے روئے وہ ہمارے میں سے نہیں۔  ”

اسی طرح صحیح بخاری میں روایت ہے کہ:

”  بیوہ عورت کے علاوہ کسی کو بھی کسی کی وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے کی ممانعت ہے۔جبکہ بیوہ عورت کیلئے اپنے خاوند کی وفات پر سوگ اُس کی عدت تک کیلئے ہے۔  ”

صحیح بخاری میں روایت ہے کہ آپۖ نے فرمایا کہ:

”  رشتے داروں کی چیخ و پکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مرے ہوئے شخص کی سزا کو بڑھا دیتے ہیں۔  ”

اس کے علاوہ بیسیوں اور احادیث ہیں جن میں چیخ و پکار کی ممانعت ہے۔ہاں آنسو آجانا جبکہ آواز نہ نکلے احادیث سے صحیح ثابت ہوتا ہے۔

اب ذرا آج کل کے دور میں کسی شخص کی وفات پر جو کچھ ہوتا ہے اُس کو ان احادیث سے ملا کر دیکھئے کہ ہم دین سے کتنے دور ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے ایک عزیز کے جنازے پر اُس کی ایک عزیزہ کو چیخ و پکار کرتے ہوئے دیکھ کر نبی پاک ۖ کے حکم کے مطابق جب دلاسہ دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی تو ایک بزرگ نے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا کہ اس کو رونے دو’ دل ہلکا کرنے دو’ آخر مسلمان عورت کیلئے تو سب کچھ اس کا خاوند ہی ہوتا ہے۔ہم کافروں کی طرح تو نہیں کہ دو آنسو بہا کر ہی بس ہو جائیں۔

ذرا سوچئے کہ ہمارے معاشرے کے بزرگوں کا یہ حال ہو چکا ہے کہ وہ آنکھیں بند کر کے یہ بھی دیکھنے کو تیار نہیں کہ کونسی رسم اسلامی ہے اور کونسی غیر اسلامی۔

جذبات میں عدم اعتدال اور عدم توازن کی ایک اور مثال لے لیجئے جو کہ ہمارے معاشرے میں بہت دیکھنے میں آتی ہے’ کچھ دن پہلے پاکستان کے ایک TV چینل پر ایک بڑا شو دیکھنے کا اتفا ق ہوا۔جس میں تین سو  مسلمان شامل تھے۔

Hostess’Host حتیٰ کہ تمام مسلمانوں پر جب کیمرہ گزرا تو ایسا لگا کہ شاید بہت ہی کوئی Serious پروگرام ہو رہا ہے کیونکہ تمام لوگوں کے چہرے بالکل سپاٹ تھے اور کچھ لوگوں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ شاید ان کو زبردستی یہاں پکڑ کر بٹھایا گیا ہے۔ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک TV کی آواز قہقہوں کی وجہ سے اونچی ہو گئی۔جب کیمرہ مختلف لوگوں پر سے گزرا تو کچھ لوگوں کو ایسے قہقہے لگاتے دیکھا تو لگا کہ شاید ابھی لوٹ پوٹ ہو کر کرسیوں پر ہی گر پڑیں گے۔ پتہ یہ چلا کہ ایک کا میڈین نے کوئی لطیفہ  سنایا تھا۔لطیفہ ایسا تھا کہ شاید ایک عام شخص نے سو مرتبہ سنا ہوا ہو لیکن لوگوں کا لوٹنا پوٹنا’ کھلے ہوئے منہ اور چہرے دیکھ کر عجیب بناوٹ کا احساس ہوا کہ ایسی کیا بات تھی اس لطیفے میں۔ایسی شدید کیفیتوں یعنی کہ ایک طرف تو اتنا سنجیدہ  یا سپاٹ چہرہ جس کو دیکھ کر بعض دفعہ شدید غصّہ کی کیفیت کا اندازہ ہو اور دوسرے ہی لمحے ایسے قہقہے یعنی کہ جذبات میں اگر کنٹرول اور اعتدال نہ ہو تو کئی بین الاقوامی ماہر نفسیات کے مطابق ایسا رویہ ایک نارمل اور mature شخص کا ہو ہی نہیں سکتا۔ایسے لوگوں کو ماہرِ نفسیات بچوں سے تشبیح دیتے ہیں جو کہ ایک لمحے تو ایک چھوٹی سی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں یا رونا شروع کر دیتے ہیں اور دوسرے ہی لمحے اگر چاکلیٹ یا آئس کریم مل جائے تو تالیاں بجانا شروع کر دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ابھی تو ناراض تھے۔ایسے رویے کی کئی نفسیاتی وجوہات ہیں جو کہ یہاں پر بیان کرنے کی ضرورت تو نہیں بہر حال ایک بات ثابت ہے کہ یہ صحت مندانہ رویہ نہیں سمجھا جاتا۔

اس بارے میں ہمارے دین کا وہی حکم ہے جو کہ پہلے کئی بار بیان ہو چکا ہے اور وہ ہے اعتدال اور توازن۔احادیث میں روایت ہے کہ آنحضرتۖ زندگی میں کبھی بھی قہقہے سے نہیں ہنسے اور آپۖ نے فرمایا کہ:

” قہقہے لگانے سے دل مردہ ہو جاتے ہیں۔ ”

اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام خوش ہونے سے منع کرتا ہے’ جی نہیں۔اسلام خوش ہونے سے نہیں لیکن خوشی کے اظہار میں بے اعتدالی سے منع کرتا ہے۔آج کل اکثر عالم ِ دین کو دیکھ کر تو یہ لگتا ہے کہ اسلام نے سنجیدہ رہنے کو پسند فرمایا ہے۔جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

متفق علیہ حدیث ہے کہ حضرت انس  سے روایات ہے کہ رسول اللہۖ گھل مل کر رہتے تھے اور بہت ہی خوش طبیعت تھے۔

ترمذی میں روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن حارث  فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاکۖ سے زیادہ مسکرانے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔

تو جناب دیکھ لیجئے کہ خوش طبعی اور مسکرانے پر کوئی پابندی نہیں البتہ شدت کے دونوں رویوں یعنی زیادہ سنجیدگی کہ لگے کہ شاید دنیا ہی ختم ہونے والی ہے یا منہ کھول کھول کر آوازوں اور لوٹ پوٹ کر اتنا ہنسنا کہ آدمی پاگل نظر آئے۔ان دونوں شدتوں کو اسلام نے ناپسند فرمایا ہے۔

ہمارے معاشرے کا تو آج کل یہ حال ہے کہ خوش طبیعت اور مسکرانے والے لوگوں کو پاگل سمجھا جاتا ہے۔

جذبات کے حوالے سے ایک اور بہت ہی عام رویہ غصّے اور جوش کا ہے اور ان دونوں کی کیفیت میں اکثر لوگ تمام حدیں پھلانگ جاتے ہیں۔آواز اونچی ہو جاتی ہے’ آنکھیں سرخ’ منہ میں جھاگ’نسیں تن جاتی ہیں۔اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ ایک ہی لمحے میں آسمانوں کی اونچائیوں سے زمین کی پستیوں میں گر جاتے ہیں۔

غصّہ اور جوش کی کیفیت میں بھی ہمارے دین نے وہی اعتدال اور توازن کے احکام دیئے۔قرآن اور حدیث میں غصّہ کے بارے میں واضح احکام موجود ہیں۔اس کو شیطانی فعل اور حرام قرار دیاگیا۔یہی حال اونچا بولنے کے بارے میں ہے چاہے وہ کسی پر چیخنا ہو یا نعرے بازی یا گال گلوچ۔ قرآن پاک میں اونچی آواز میں بولنے کو گدھے کی آواز سے تشبیح دی گئی اور آوازوں کو بلند کرنے سے منع فرمایا گیاہے۔نبی پاکۖ کی حیاتِ طیبہ ہمارے سامنے مثال ہے کہ آپۖ غصّہ کا اظہار خاموش رہ کر یا منہ موڑ کر کیا کرتے تھے۔یعنی کہ جاہلوں سے منہ موڑ کر کیاکرتے تھے۔جبکہ آج کل غصّہ اور جوش کے اظہار میں ہر طرح کی برائیاں جیسے گالی گلوچ’ چیخ و پکار’ ہاتھا پائی’ نعرے بازی’ مارپیٹ بھی’ ٹائروں’ جھنڈوں کو آگ لگانا’ پتھرائو اور پتہ نہیں کیا کیا کچھ شامل ہو چکاہے۔

اور اس حالت سے  foreign media   پورا پورا فائدہ اُٹھاتے ہوئے پوری دُنیا کے سامنے مسلمانوں کو ایک غصیلی’ جوشیلی’ جاہل اور لڑاکی قوم کی طرح پیش کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ آخر مسلمان اور اسلام کا دشمن کون ہے؟

اچھا تو جناب یہ ہیں جذباتی اعتدال اور توازن کی کچھ مثالیں اور اب چلتے ہیں اگلے موضوع پر۔

پچھلے بارہ سالوں میں میرے پاس کوئی کم و بیش 500  سے زائد شادی شدہ لوگ اپنے مسائل کے بارے میں مشورہ لینے کیلئے آئے۔ان میں سے اکثر گھریلو مسائل کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ خاوند یا بیوی دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں رشتہ داروں میں اعتدال اور توازن کے اصول کو یا تو سمجھے ہی نہیں تھے یا اعتدال اور توازن کر نہیں سکے تھے۔لڑکے کے ماں باپ کا مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ اُن کا بیٹا بیوی کے پیچھے ماں باپ کو بھول گیا ہے اور لڑکی کے ماں باپ کا مسئلہ یہ تھا کہ اُن کا داماد صرف ماں باپ یا اپنے رشتے داروں کے چکر میں بیوی بچوں کے ساتھ ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔دلچسپ بات  تو یہ ہے کہ دونوں طرح کے واقعات میں شدت پسندی نظر آئی۔ لڑکے کے ماں باپ کا یہ اصرار کہ بیٹا بیوی کو والدین اور اپنے بہن بھائیوں پر اہمیت نہ دے اور لڑکی کے گھر والوں کا یہ اصرار کہ ان کا داماد اپنے ماں باپ کو بھول جائے اور ان کی بیٹی کا ہی ہو کر رہ جائے۔

اس دوران مجھے ایک دلچسپ حقیقت کا انکشاف ہوا اور وہ یہ تھی کہ ہر فریق کے پاس اپنی بات کے حق میں قرآن اور حدیث کے کوئی نہ کوئی دلائل ضرور ہوتے تھے۔اگر والدین کو اپنے بیٹے سے شکوہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کی وجہ سے انہیں نظر انداز کر رہا ہے تو وہ والدین کی اہمیت کی کوئی نہ کوئی قرآنی آیت یا حدیث بیان کر کے اپنے بچے پر رعب ڈالتے رہتے تھے۔اسی طرح عورت اور عورت کے گھر والے قرآن اور حدیث میں سے کوئی نہ کوئی حوالہ نکال کر اپنی بات کو وزن دینے کی کوشش کرتے تھے اور میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے کوئی بھی لوگ ایسے نہ ہونگے جنہوں نے قرآن یا حدیث کا خود سے تفصیلی مطالعہ کیا ہوگا۔کیونکہ اگر انہوں نے خود سے دین کا تفصیلی مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں اس بات کا علم بھی ہوتا کہ دین نے اس بارے میں بھی اعتدال اور توازن کا بنیادی اصول اپنانے کیلئے ہی کہا ہے۔

شادیوں میں جھگڑوں کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے اکثر شادی شدہ لوگ اور ساتھ ہی اُن کے والدین یہ بات سمجھ ہی نہیں سکے کہ دین کسی ایک فریق کو دوسرے پر فوقیت نہیں دیتا۔دونوں رشتوں کی اپنی اپنی جگہ پر بڑی اہمیت ہے اور دین ان دونوں رشتوں کے درمیان مقابلہ بازی کا درس نہیں بلکہ اعتدال اور توازن کا درس دیتا ہے۔والدین کے حقوق فرق ہیں اور بیوی بچوں کے حقوق فرق ہیں (یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص والدین کے حقوق کی خاطر بیوی بچوں پر ظلم کرے اور اچھا انسان یا مسلمان بننے کا دعویٰ کر سکے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی نہیں ممکن کہ ایک شخص بیوی بچوں کے ساتھ تو بہت ہی اچھا ہو لیکن والدین کے حقوق نہ پورے کرے اور پھر بھی اچھا مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکے)۔سورة البقرہ آیت ٨٣’ سورة النساء آیت ٣٦ اور سورة الانعام آیت ١٥١میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  اور والدین سے حسن ِ سلوک کیا کرو۔  ”

سورة بنی اسرائیل آیات ٢٣اور ٢٤میں ارشاد ہے:

”  تیرے پروردگار نے حکم دے دیا ہے کہ بجز اس کے اور کسی کی بندگی نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ حسن ِ سلوک رکھنا۔اور اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے تو اُف تک بھی نہ کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا۔اور ان سے شریفانہ بات کرنا۔ اور رحمت سے ان کے سامنے انکسار کے مارے جھکے رہنا اور کہتے رہنا اے میرے پروردگار تو ان دونوں پر رحمت فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا پوسا۔  ”   (سورة بنی اسرائیل : ٢٣-٢٤)

ذرا دیکھئے کہ صحیح مسلم کی حدیث میں کہ نبی پاکۖ نے فرمایا:

”  تین لوگ جن پر جنت حرام ہے اُن میں سے ایک وہ ہے جو کہ اپنے والدین کا نافرمان ہو۔  ”

اب اگر آپ صرف اس حدیث کو ہی پڑھ لیں گے تو ایسا لگے گا کہ والدین کو ہر حال میں فوقیت مل گئی ہے بیوی بچوں پر۔

مشکوٰة کی ایک اور حدیث ہے’  نبی پاکۖ نے فرمایا:

”  مومنوں میں سے بہترین وہ ہے جو کہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہو اور تم میں سے سب سے زیادہ بہتر میں ہوں کیونکہ میں اپنی بیویوں کے ساتھ تم سب سے زیادہ اچھا ہوں۔  ”

دیکھا آپ نے اسلام کا اعتدال اور توازن۔اسلام صرف یہی نہیں کہہ رہا کہ آپ اچھی اولاد بنیں بلکہ یہ بھی حکم دے رہا ہے کہ آپ ایک اچھے خاوند بھی بنیں’ اچھے باپ بھی بنیں۔مقابلے بازی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسی طرح مشکوٰة کی ہی ایک اور حدیث ہے کہ آپ ۖنے فرمایا:

”  اپنے خاندان پر خرچ کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے اور اس کے بعد اپنے رشتے داروں پر رشتے کی اہمیت کے حساب سے۔  ”

یعنی کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کے بیوی بچے تو بھوکے رہیں اور آپ اپنے شادی شدہ بہن بھائیوں پر خرچ کرتے چلے جائیں۔آپ کے بہن بھائیوں کی ذمہ داری آپ پر نہیں۔ دلچسپ حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن میں بہن بھائیوں کے بارے میں کوئی علیٰحدہ حکم موجود ہی نہیں ہے۔ان کے بارے میں احکام رشتے داروں کے احکام میں ہی شامل ہیں۔

مسئلہ تو اسی وقت کھڑا ہوتا ہے جب ہم رشتہ داروں کی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے توازن کو چھوڑ دیں۔جس طرح خرچ کے موضوع میں پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ہر ایک پر خرچ کرنے کے علیٰحدہ کھاتے ہیں۔ایک ہی نہیں۔

یہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس کل 100روپے ہیں اور آپ مشکل میں ہیں کہ ماں باپ کو دوں یا گھر والوں پرخرچ کروں۔اسلام تو اس 100روپے کے بارے میں بھی گھروالوں’ رشتے داروں’ فقیروں’ مسکینوں’ مسافروں وغیرہ سب کے بارے میں حصے کی بات کرتا ہے۔یعنی کہ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔چاہے کسی کے حصہ میں کتنا ہی کم آتا ہو۔مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج کل کے لوگوں میں شدت پسندی ہے اور وہ زندگی میں اعتدال اور توازن نہیں کر سکتے۔جب زندگی میں اعتدال اور توازن آجائے گا تو زندگی میں شامل مسائل خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔یاد رہے کہ والدین اور بیوی کے ساتھ حسن ِ سلوک کرنے کے باوجو د اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ یہ لوگ آپ کو آپ کی شرعی ذمہ داریوں سے روک سکیں۔اگر آپ کے والدین لالچ کی وجہ سے آپ کو اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ظلم کرنے کا کہیں یا آپ کی بیوی آپ کو آپ کے والدین یا رشتے داروں کی طرف سے بے پرواہ کرنے کی کوشش کرے’ دونوں صورتوں میں یہ آپ کی شرعی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی رشتے کو کسی دوسرے رشتے کے ساتھ مقابلے بازی کی سطح پر نہ لائیں اور اپنی ذمہ داریاں اپنی بساط اور ہمت کے مطابق کسی لالچ کے بغیر پوری کیے جائیں۔کسی بھی رشتے کی طرف اتنے نہ جھک جائیں کہ دوسرے پلڑے کیلئے کچھ باقی ہی نہ رہے۔ہر رشتے دار کے بارے میں آپ کی ذمہ داریاں اسلام نے واضح کر دی ہیں۔

مختلف رشتوں کے بارے میں مختلف احکامات ہیں۔ ان کو سمجھئے اور ان پر عمل کیجئے۔اور ہاں ایک اور بات یاد رکھیئے کہ مختلف رشتوں کے بارے میں تو آپ کی مختلف ذمہ داریاں ہیں لیکن ایسا نہ کیجئے گا کہ ایک ہی اہمیت کے رشتوں میں دو بھائیوں’ دو بہنوں یا دو تین خالائوں وغیرہ کے درمیان ہی امتیازی سلوک کرنا شروع کر دیں۔

رشتوں میں اعتدال کے بارے میں ایک بات جو قابلِ توجہ ہے وہ کچھ ایسے ہے کہ بے شک اسلام نے والدین اور بیوی بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا درس دیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان دونوں رشتے داروں کے بارے میں قرآنِ پاک کے احکامات یہ بھی بتاتے ہیں کہ نعوذ بااللہ یہ سوچنا کہ آپ کے والدین اور آپ کے بیوی بچے ہمیشہ آپ کوحق بات کہیں گے’ شاید یہ بھی غلط ہوگا۔اس لئے والدین اور بیوی بچوں کی غلط بات ماننا آپ پر فرض نہیں ہے۔اسلام کیونکہ ایک معتدل اور متوازن دین ہے اس لئے اُس نے زندگی کے کسی بھی پہلو کے متعلق صرف ایک طرح کے احکامات نہیں دیئے بلکہ دوسرا پہلو بھی دکھا دیا ہے۔ملاحظہ فرمائیے کہ وہی دین جس نے والدین کی اطاعت اور بیوی بچوں کے ساتھ حسن ِ سلوک کا حکم دیا وہی آپ کو ایک اور تلخ حقیقت سے بھی آشنا کر رہا ہے۔

سورة البقرہ کی آیت نمبر ١٧٠میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اتارا ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ نہیں۔ہم تو اس کی پیروی کرینگے جس پر ہم نے اپنے باپ (دادوں) کو پایا ہے۔اگرچہ ان کے باپ (دادا) نہ ذرا عقل رکھتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں۔ ”   (سورة البقرہ : ١٧٠)

اس آیت اور اس کے علاوہ بے شمار جگہوں پر اسی طرح کے احکامات موجود ہیں۔جیسا کہ سورة المائدہ ١٠٤’ سورة الاعراف آیت ٢٨’ سورة یونس آیت ٧٨’ سورة لقمٰن آیت ٢١’سورة الزحرف آیت ٢٢-٢٤’ سورة سبا آیت ٤٣’جن سے یہ بات ثابت ہے کہ ضروری نہیں کہ ہمارے والدین غلطی نہ کریں اور یہ کہ اس حالت میں کہ والدین اپنے بچوں کو غیر شرعی رویہ اپنانے کیلئے اصرار کریں’ بچوں پر ان کی اطاعت لازم نہیں۔

جیسا کہ قرآن پاک میں سورة الانبیاء کی آیات٥٢-٥٤میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں بیان ہے۔ سنیے ذرا:

”  اور (وقت یاد کرو) جب انہوں نے (یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا’یہ مورتیں جن پر تم (عقیدت سے) جمع بیٹھے ہو کیا ہیں؟ وہ بولے: ”ہم نے تواپنے باپ (دادوں) کو انہی کی عبادت کرتے پایا” (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا:”یقینا صحیح گمراہی میں مبتلا رہے تم (بھی) اور تمہارے باپ دادا( بھی)۔  ”         (سورة الانبیائ : ٥٢-٥٤)

تو جناب یہ تو ثابت ہو گیا کہ غیر شرعی احکام میں والدین تک کی اطاعت نہیں ہے۔ہاں البتہ ایک بات کا خیال رہے کہ اطاعت نہ کرنے کے حکم سے کہیں یہ مراد نہ لے لیجئے گا کہ ماں باپ کے ساتھ بدتمیزی’ بداخلاقی یا رشتہ توڑنا بھی جائز ہے جیسا کہ سورة لقمٰن کی آیات  ١٥سے ثابت ہے:

”  اور اگر وہ دونوں تجھ پر دبائو ڈالیں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک بنالے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو اُن کی اطاعت نہ کرنا’ اور دنیا میں ان کے ساتھ دستور کے مطابق رہن سہن رکھو۔۔۔  ”   (سورة لقمٰن : ١٥)

اسی طرح آپ نے بیوی بچوں کے بارے میں حسن ِ سلوک کے احکامات تو سن لیے اب یہ بھی سن لیجئے’سورة التغابن کی آیت ١٤میں ارشاد رّبانی ہے:

”  اے ایمان والو تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں’ اُن سے ہوشیار رہنا۔  ”                  (سورة التغابن : ١٤)

اس آیت میں دیکھئے کہ وہی اسلام جو کہ بیوی بچوں کے ساتھ بہتر حسن ِ سلوک کو اچھائی کا پیمانہ قرار دیتا ہے دوسری طرف یہ بھی یاد دہانی کرا رہا ہے کہ اُن میں سے کچھ عورتیں اور بچے تم سے غیر شرعی کام کرواکے تمہاری دنیا اور عاقبت خراب بھی کر سکتے ہیں۔ سو تم ان سے ہوشیار رہنا۔یعنی کہ غیر شرعی کاموں میں اُنکی اطاعت نہ کرنا یا انہیں خوش کرنے کی کوشش نہ کرنا۔

اب کچھ لوگ صرف اتنا سا سننے کے بعد قرآن کی اس آیت کو اپنی بیوی بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے کا لائسنس سمجھتے ہیں۔لیکن قرآن کی دور اندیشی دیکھئے کہ یہ جانتے ہوئے کہ ایسا ہو سکتا ہے والدین کی طرح مسلمان کو اس فتنہ سے آگاہ کرتے ہوئے ساتھ ہی اس آیت کے اگلے حصے میں کچھ اور بھی کہہ دیا۔

اسی آیت کا اگلا پیرا سنیے:

”  اور اگر تم معاف کردو گے اور درگزر کر دو اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔  ”

غور کیجئے کہ تین احکامات ساتھ دیئے جا رہے ہیں۔معاف کرنے کا’ درگزر کرنے کا اور بخش دینے کا۔اس کے باوجود کے بیوی بچے بُرائی یا غیر شرعی کام کی طرف اُکسائیں یہ حکم نہیں دیا کہ اُن کو چھوڑ دو’  اُن کو مارو’ اُن کا خرچہ بند کر دو  یا اُن کے ساتھ بُرا سلوک کرو۔

تو جناب اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ چاہے کوئی کتنا ہی بُرا ہو اسلام اُن رشتوں کو توڑنے کا حکم نہیں دیتا جو اللہ نے خود بنائے ہیں۔یہی حکم ملتا ہے کہ اگر دوسرے بُرے بھی ہوں’ تنگ بھی کریں’ غیر شرعی کام کریں’اُن کی اطاعت نہ کرو’ اُن کو حق کی تلقین کرو اور اپنے فرائض اور ذمہ داریاں پوری کرتے چلو یعنی کہ ہر حال میں حسنِ سلوک اور فرائض پورے کرنے کا حکم ہے۔

سبحان اللہ دیکھئے کہ کتنا جامع’متوازن اور معتدل دین ہے۔آج کے مسلمان نے پتہ نہیں اس کو کیا بنا دیا ہے۔

لوگ کہتے ہیں یہ مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے۔ذرا سوچئے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کوئی ناممکن بات کروائے۔

کیا ہمارے لئے قرآن پاک میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا قصہ کافی نہیں کہ کیسے اُن دونوں پیغمبروں کی بیویوں نے اللہ کے احکامات کی نافرمانی کی۔اُس کے باوجود حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام نے اللہ سے مدد مانگی اُن کے ساتھ ظلم تو نہیں کیا۔اسی طرح کیا قرآن ہمیں فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کے بارے میں یہ نہیں بتا تا کہ اُنہوں نے اپنے خاوند کے ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی اور اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگی کہ اس کو فرعون کے ظلم سے نجات دلادے اور اللہ تعالیٰ نے اُنہیں کتنا بڑا رتبہ دلایا۔

ایک طرف تو قرآن یہ ہدایات دے رہا ہو تو دوسری طرف ہمارے معاشرے میں عورتوں کا تو یہ حال ہے کہ اپنے خاوند کو خوش کرنے کیلئے ہر شرعی اور غیر شرعی کام کرنے کیلئے تیار رہتی ہیں۔جیسا کہ چند ہی دن پہلے ایک عورت نے مجھ سے پوچھا کہ بتائیے کہ میں کیا کروں میں تو پورے ہی کپڑے پہننا چاہتی ہوں لیکن میرے خاوند کو اور سسرال کو  sleeveless قمیضوں کے علاوہ اور قمیضیں پسند ہی نہیں آتیں’اب مجھے بتائیے کہ میں کیا کروں؟تو جناب آپ خود سوچئے کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے۔حضرت آسیہ کا واقعہ تو آپ نے سن ہی لیا سوچنے والی بات تویہ ہے کہ آپ کا خاوند فرعون سے زیادہ ظالم ہے؟اللہ ہی رحم کرے اس قوم کی حالت پر۔

یاد رکھیئے کہ اسلام واحد دین ہے جو کہ حقوق سے زیادہ فرائض کی بجا آوری کا حکم دیتا ہے۔اگر آپ کے والدین’ خاوند یا بیوی یا بچے یا دوسرے رشتے دار آپ کے حقوق پورے نہیں کر رہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بھی اُن کے حقوق جو کہ آپ کے فرائض یا ذمہ داریاں ہیں پوری نہ کریں۔یاد رہے کہ اُن کا حساب اُنہوں نے چکانا ہے اور آپ کا حساب آپ نے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک موضوع ایسا ہے جس پر اس کی اہمیت کی وجہ سے بات کرنی ضروری محسوس کرتا ہوں۔گھروں’ محلوں وغیرہ میں لوگوں کی لڑائی وغیرہ دیکھ کر شاید آپ نے بھی محسوس کیا ہو کہ آج کل کا مسلمان زیادتی کا بدلہ لینا اپنا حق سمجھتا ہے۔کوئی جاہل کسی کو گالی نکال دے تو وہ جھٹ سے گالی نکال کر یا ایک دو گھونسے لگا کر فوراً اپنا بدلہ پورا کرنا چاہتا ہے۔اسی طرح گھروں میں بھی اکثر یہی بات دیکھنے میں آتی ہے۔حتیٰ کہ بچوں میں بھی بڑوں کو دیکھ کر بدلہ لینے کا رجحان شدت اختیار کرتا جا رہاہے۔پچھلے دنوں ایک میاں بیوی میرے پاس آپس کے تعلقات کی بہتری کیلئے مشاورت لینے آئے۔باتیں کرتے ہوئے خاوند نے کسی بات پر اپنی بیوی کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو۔یہ سننے کی دیر تھی کہ بیوی نے یہ نہیں دیکھا کہ کہاں بیٹھے ہوئے ہیں’ اونچی آواز میں چلانا شروع کر دیا ”تم جھوٹے ہو’ تمہارا خاندان جھوٹا’ تمہاری ماں کی وجہ سے تمہیں بھی جھوٹ بولنے کی عادت پڑ گئی ہے”۔یہ سننا تھا کہ خاوند صاحب بھی جوابی بدلے میں اپنی بیوی اور اُس کے خاندان کو بولنا شروع ہوگئے۔پانچ منٹ تک تکرار چلتی رہی اور میں بیٹھا یہ سوچتا رہا کہ آخر کیا ہو گیا ہے لوگوں کو۔لوگوں کا صبر اور برداشت کا مادہ کہاں چلا گیاہے۔

اکثر لوگ تو قرآن کی آیات کا حوالہ دے کر بدلہ لینے کو اپنا شرعی حق سمجھتے ہیں۔شاید ان لوگوں کی بھی حالت ایسی ہی ہے کہ سنی سنائی آدھی آیات کے حوالے دے کر اپنے آپ کو سچا بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور شاید ان صاحبان نے بھی قرآن کا ازخود مطالعہ نہیں کیا ہوگا۔ان لوگوں کو جان کے بدلے جان ‘ آنکھ کے بدلے آنکھ۔تھپڑ کے بدلے تھپڑ وغیرہ تو یاد ہے لیکن پوری حقیقت کا شاید علم نہیں۔یہ درست ہے کہ اسلام نے بدلہ لینے کی اجازت دے رکھی ہے لیکن یہ حقیقت کا ایک رخ ہے۔حقیقت کا دوسرا رخ جاننے کیلئے قرآن پاک سے ہی مدد لیتے ہیں:

سورة الشوریٰ کی آیت ٤٠میں ارشاد ِ رّبانی ہے:

”  اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کر دے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔اس میں شک نہیں کہ (فی الواقع)اللہ تعالیٰ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔  ”   (سورة الشوریٰ : ٤٠)

سورة النحل کی آیت ١٢٦میں ارشادِ رّبانی ہے:

”  اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تم کو اُس سے پہنچی۔اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کیلئے اچھا ہے۔  ”   (سورة النحل :١٢٦)

سنا آپ نے۔بدلہ کی اجازت ہونا حقیقت کا ایک رخ ہے۔جہاں جہاں بدلے کے بارے میں آیات ہیں اُس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نہ صرف معافی اور درگزر کا حکم دے رہا ہے بلکہ اس کو بہتر بھی قرار دے رہاہے۔

اس کے علاوہ معافی اور درگزر کے بارے میں ایک آیت اور سنیے:

سورة النور کی آیت ٢٢میں ارشاد ہے:

”  ان کو چاہئے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تم کو بخش دے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے۔  ”   (سورة النور : ٢٢)

مشکوٰة میں روایت ہے کہ:

”  نبی پاکۖ نے فرمایا: ‘حضرت موسی علیہ السلام نے خدا سے پوچھا۔اے میرے رب! آپ کے نزدیک آپ کے بندوں میں کون سب سے پیارا ہے۔خدا نے جواب دیا وہ جو انتقام کی قدرت رکھنے کے باوجود معاف کر دے’۔  ”

اسکے علاوہ معافی اور درگزر کے بارے میں اُس یہودی عورت کا قصہ تو سب نے سنا ہوگا جو کہ نبی پاکۖ پر جب بھی آپۖ بازار سے گزرا کرتے تھے’ اپنے گھر سے کوڑا پھینکا کرتی تھی اور آپۖ اس کے اس فعل کو نظر انداز کرتے ہوئے اور اُس کے حال پر دعائیں کرتے ہوئے گزر جایا کرتے تھے۔ایک دن جب اُس عورت نے ایسا نہ کیا تو پتہ چلا کہ وہ بیمار ہے اور آپۖ اُس کی تیمارداری کیلئے اُس کے گھر چلے گئے۔اس فعل سے وہ عورت اتنی لاجواب ہوگئی کہ روتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔تو ذرا سوچئے کہ اُس بُرائی کا کتنا اچھا بدلہ تھا جو نبی پاکۖ نے دیا۔

اب حقیقت کے دونوں پہلو دیکھنے کے بعد یہ دیکھئے کہ اگر معافی اور درگزر ہی بہتر ہے تو پھر بدلہ لینے کی اجازت کیوں ہے۔تو جناب میرے خیال میں اس کی دووجوہات ہیں۔

پہلی تو یہ کہ اسلام دین ِ فطرت ہے’ یعنی کہ فطرت کے عین مطابق ہے۔اب اگر کسی شخص کے ساتھ زیادتی ہوتو فطرت کا تقاضہ تو یہی ہے کہ وہ اس کا بدلہ لینا چاہے گا۔اگر اُس کو بدلہ لینے کی اجازت نہ ہو تو مظلوم میں بے بسی کا احساس شدت پکڑتا چلا جائے گا۔

دوسری طرف اگر ظالم کو یہ علم ہو کہ اُس کے ظلم کا بدلہ نہیں لیا جائے گایااُس کو اُس کی سزا نہیں ملے گی تو ظلم بڑھتا چلا جائے گا اور ایک طرح سے یہ ظالم کی حوصلہ افزائی ہو گی۔جبکہ اگر ظالم کے ظلم کے بعد مظلوم اُس کا بدلہ لینے کی صلاحیت اور قدرت ہونے کے باوجود اُس کو معاف کرے تو ظالم یہ جانتے ہوئے کہ بدلہ لیا جا سکتا ہے معاف ہو جانے کے بعد مظلوم کے سامنے شرمندہ اور مشکور رہے گا۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ انسان کی باقی مخلوقات پر سبقت کی بنیادی وجہ اُس کا شعور اور عقل ہے۔شعور اُسے اچھے اور بُرے کی تمیز دیتا ہے اور عقل اُس کی بُرائی کو رد کر کے اچھائی اپنانے کی صلاحیت دیتی ہے۔اب اگر بدلہ لینے کا اختیار ہی نہ ہو تو بُرائی اور اچھائی کے درمیان تمیز کرنے کا  تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ امتحان تو اُس وقت ہی ہو سکتا ہے کہ اختیار ہونے کے باوجود انسان بدلہ لینے کا گھاٹے کا سودا نہ کرے بلکہ شعوری طور پر معافی اور درگزر کو بدلے پر فوقیت دے اور خود بدلے لینے پر اپنا حساب اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دے۔دیکھئے جناب کتنا جامع اور مکمل دین ہے کہ ایک طرف تو اعتدال کی بات کر دی کہ اگر بدلہ لینا بھی چاہو تو جتنی زیادتی ہوتی ہے اُس سے زیادہ زیادتی نہ کرنا۔ساتھ ہی توازن برقرار رکھنے کیلئے یہ اختیار بھی دے دیا کہ معافی اور درگزر سے کام لو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

اُمید ہے کہ آپ کو اسلام کا نظامِ اعتدال اور توازن کافی حد تک واضح ہو گیا ہوگا۔

زندگی کے کسی بھی مسئلہ میں رہنمائی چاہئے ہو چاہے وہ بولنے کے بارے میں ہو یا خاموش رہنے کے بارے میں’ کھانے کے بارے میں ہو یا سونے کے بارے میں’ کام کرنے کے بارے میں ہو یا آرام کرنے کے بارے میں ‘ رشتے داروں کے بارے میں ہو یا دین کے بارے میں یا دنیا کے بارے میں ‘ اسی قانون کے مطابق فیصلہ کیجئے گا۔

یاد رکھیئے کہ یہ قانون پُر سکون زندگی کا ضامن ہے۔ جیسا کہ مشکوٰة میں روایت ہے کہ نبی پاکۖ نے فرمایا:

”  سادہ زندگی گزارو۔اعتدال کو اپنائو اور خوش رہو۔  ”