Media – Entertainment or Weapon (میڈیا۔ تفریح یا ہتھیار؟)

Transcription of Faiez Seyal’s Urdu best-seller Audio Program “Media – Entertainment or Weapon” from 1995

گو میں گزشتہ سات سالوں سے اپنے مختلف سیمینارز’ لیکچرز اور تحریروں کے ذریعے گاہے بگاہے عوام الناس و خاص کو میڈیا کے مضر نتائج کے بارے میں مطلع کرتا رہا ہوں۔ لیکن اہم ہونے کے باوجود اس موضوع کو کبھی بھی اہمیت کے اعتبار سے اتنا اہم ہی نہیں سمجھا تھا کہ اس موضوع پر مکمل وضاحت کی ضرورت پیش آتی۔

لیکن پچھلے دنوں اوپر نیچے کچھ ایسے واقعات ہو گئے کہ یہ موضوع اہمیت کے اعتبار سے دیگر تمام موضوعات جن پر میں لکھتا اور بولتا رہتا ہوں’ پر بازی لے گیا۔سارے واقعات تو بیان کرنے کی ضرورت نہیں لیکن ایک واقعہ مختصر الفاظ میں پیشِ خدمت ہے۔

یہ واقعہ مارچ ٢٠٠٢ئکا ہے جن دنوں انڈیا کی فوجیں پاکستان کی سرحدوں پر بیٹھی ہوئی تھیں اور گورنمنٹ کے کسی باشعور اعلیٰ افسر نے نازک وقت میں اہلِ پاکستان کوانڈین میڈیا کی شرَانگیزی سے بچانے کیلئے پاکستان میں کیبل ٹی وی پر انڈین ٹی وی کے تمام چینلز ممنوع قرار دے دیئے تھے۔بدقسمتی سے یہ شعور زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکا۔خیر انہی دنوں ایک ہوٹل میں شادی کی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا۔اس شادی پر جو کچھ ہوا اُس کا بیان تو شاید موضوع سے باہر ہوگا لیکن وہ واقعہ جو اس آڈیوپروگرام کی بنیاد بنا وہ یہ ہے کہ مجھے ابھی ہال میں بیٹھے 10منٹ ہوئے تھے کہ ساتھ کی کرسیوں پر بارہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے درمیان کے دس بارہ بچے آکر بیٹھ گئے۔اُن بچوں کے حلیہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستانی بچے نہیں ہیں اور شاید کسی غیر ملک سے آئے ہیں۔لیکن کچھ ہی لمحوں کے بعد جب انہوں نے بات چیت شروع کی تو یہ خوش فہمی ختم ہو گئی اور علم ہوا کہ یہ بچے ہمارے ہی ملک کے بلکہ اسی ملک کے نظامِ تعلیم کی پیداوار ہیں۔ان بچوں کی گفتگو سے یہ بھی پتہ چلا کہ ان میں سے کچھ دوست اور کچھ کزنز تھے لیکن وہ تمام آپس میں بہت ہی فرینک (frank)تھے۔

شروع کے تقریباً پینتالیس منٹ تو وہ مختلف موضوعات پر بات چیت کرتے رہے اور گاہے بگائے لڑکیاں اور لڑکے دونوں ہی ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے اور قہقہے لگاتے نظر آئے۔اُن کی گفتگو کے دوران جو قابلِ غور بلکہ اگر قابلِ فکر کہوں تو شاید ٹھیک ہوگا الفاظ سنائی دیئے وہ آپ کے گوش گزار ہیں۔

یار    ـ     جیجاجی     ـ      شروعات     ـ      چرنوں میں

اور پھر موضوع بدل کر انڈین فلموں اور ایکٹرز اور ایکٹریسز کی طرف آگیا۔بات ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ ایک بچی نے کہا یار یہ کیا بکواس ہے آج کل انڈین ٹی وی چینلز بھلا کیوںبند کروا دیئے ہیں۔لائف بہت ہی بورنگ ہو گئی ہے۔ایک لڑکے نے جواب دیا یار وہ جنگ شنگ کا خطرہ ہے نا اس لئے بند ہوئے ہیں ساتھ ہی لڑکی بولی جنہوں نے جنگ شنگ کرنی ہے وہ کریں۔ہم تو جنگ نہیں نہ کر رہے’ ہمیں کس چیز کی سزاہے۔اس کے ساتھ ہی باقی بچوں نے بھی اس موضوع پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔کچھ لمحے قہقہوں کے ساتھ بات ہوتی گئی اور آخر ایک بچی نے کہا کہ مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیا منافقت ہے کہ ایک طرف جنگ ہو رہی ہے اس لئے TV انڈین چینلز بند کرا دیئے ہیں اور دوسری طرف ہر شادی پر’ ہر گھر میں’ہر ویگن میں’ ہر ہوٹل میں انڈین گانے ہی چل رہے ہوتے ہیں۔اس پر ایک بچے نے کہا سمجھا کرونا یار سیاست اسی کو تو کہتے ہیں۔

انہوںنے TV چینلز بند تو کسی اور وجہ سے کیے ہیں اور آپ کی حکومت آپ کو یہ تو نہیں کہہ رہی کہ آپ انڈین گانے نہ سنیں یا انڈین فلمیں نہ دیکھیں۔

ایک بچہ بولا’ مجھے تو لگتا ہے کہ ہماری گورنمنٹ خود Confused   ہے کہ کیا کریں۔

ساتھ ہی ایک بچی نے لقمہ دیا یار یہ سب بکواس چھوڑو مجھے تو یہی نہیں سمجھ آتی کہ آخر پاکستان انڈیا کو علیٰحدہ کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ ایک ہی زبان’ ایک جیسے کپڑے’ ایک جیسا کلچر’ وہ ہمارے ڈرامے شوق سے دیکھتے ہیں ہم اُنکے پروگرامز’ ایک دوسرے کے  ہمسائے بھی ہیں۔کتنا مزا آتا اگر گرمیوں میں مری جانے کی بجائے شملہ یا ڈارجلنگ کے پہاڑوں پر جا سکتے۔ ساتھ ہی ایک لڑکا بولا ہاں ہاں تیرا بس چلتا تو ‘  تُو تورہ بھی ادھر ہی جاتی Bollywood میں۔ساتھ ہی ایک اور لڑکی بولی’ ہائے کیا یاد کرا دیا۔ویسے بڑا دل چاہتا ہے راہول کھنہ اور شاہ رخ خان سے ملنے کو  اور بات بڑھتی بڑھتی انڈین ایکٹروں کی مسکراہٹ’ جسامت اور cutenessپر ہوتی گئی۔

تو جناب یہ ہے ہماری نئی نسل’ اس میڈیا کی آزادی کی پیدا وار۔شاید آپ میں سے کچھ لوگ یہ کہہ کر بات اُڑانے کی کوشش کریں کہ یہ تو سوسائٹی کا ایک مخصوص طبقہ ہے اور اس کی تعداد بہت ہی کم ہے۔میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا۔صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ چاہے یہ طبقہ کم ہے’ہے تو صحیح۔ہے تو ہمارا اور اگریہ طبقہ کیبل ٹی وی کے آنے کے تین چار سالوں میں ہی پیدا ہو سکتا ہے تو آئندہ دس پندرہ سالوں میں سوچئے کہ اس طبقے میں اور کتنے لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔ذرا سوچئے کہ ان بچوں کے گروپ کی عمر ہیسولہ سے اٹھارہ سال کے درمیان تھی اور کیبل TV پاکستان کے شہروں میں آتے ہوئے ابھی تین چار سال ہوئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ان بچوں نے کیبل ٹی وی زیادہ سے زیادہتیرہ سے چودہ سال کی عمر سے دیکھنا شروع کیا ہوگا تو ان کی حالت’ بات چیت’ چال ڈھال اور خیالات میں اتنا فرق پڑ گیا۔اب یہ سوچئے کہ وہ بچے جو کیبل ٹی وی کے ساتھ ہی پل بڑھ رہے ہیں یعنی کہ انہوں نے گھروں میں چھ سات سال کی عمر سے ہی یہ پروگرام دیکھنے شروع کر دیئے ہیں وہ جب اس عمر کے ہونگے تو اُن کی سوچ ‘  اُن کی وضع قطع اور چال ڈھال کیسی ہوگی۔

جناب یہ تھا وہ واقعہ جس کی وجہ سے اس موضوع پر سیمینار اور ساتھ ہی اس موضوع پر وضاحت کرنے کی اہمیت کا احساس ہوا۔ اس طرح کے واقعات معاشرے میں ایک بڑی تعداد کیلئے تو شاید پریشانی کا باعث سرے سے ہے ہی نہیں۔حال تو ایسا ہے کہ اگر کوئی شخص اس بارے میں پریشانی کا اظہار بھی کرے تو اس کو پرانے خیالات کا شخص یا مولوی کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے اور وہ بیچارہ شاید یہی سمجھ لیتا ہے کہ شاید واقعی اُسی میں کوئی خامی ہے۔معاشرے کا ایک طبقہ جس کی تعداد شاید آٹے میں نمک کے برابر ہے وہ ایسے واقعات کو ہمارے معاشرے کا ایک شدید سانحہ گردانتا ہے۔اور اس کے خلاف کھلے چھپے آواز بھی اُٹھاتا رہتا ہے لیکن ان بیچاروں کی آواز سنی ان سنی کر دی جاتی ہے۔

ایسے واقعات کا الزام گو میڈیا’ گورنمنٹ’معاشرہ’ ماحول غرضیکہ کسی کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ الزام تراشی سے فائدہ کیا ہوگا۔میں تو اس بات پر یقین رکھنے والوں میں سے ہوں کہ بُرائی کو کبھی بھی سختی سے ختم نہیں کیا جا سکتا البتہ اس کے بارے میںاگر لوگوں میں شعور پیدا ہو جائے تو صاف ظاہر ہے کہ لوگ اپنے بارے میں بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ کسی بُرائی کے اپنی زندگی پر منفی اثرات اور نقصانات جان کر اسے خود ہی چھوڑ دینگے۔

غرضیکہ اچھائی بُرائی اور اس کے اثرات اور شدت دونوں سے آگاہی کے بغیر حکومتی سطح پر اگر کوئی اقدامات کر بھی لئے جائیں تو شاید بُرائی ختم نہ ہو سکے۔اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ فرض کریں کہ حکومت لوگوں کی سہولت کی خاطر نئی سڑکیں بنا دے یا نئی بسیں چلا دے۔لیکن اگر لوگوں میں یہ شعور ہی نہ ہو کہ یہ ایک اجتماعی امانت ہے اور ان کو اس کے استعمال کا حق تو ضرور حاصل ہے لیکن اس کے نقصان کا حق نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ کچھ ہی عرصہ میں نئی سڑکوں اور نئی بسوں کا حال بھی وہی ہو گا جو اس سے پہلے ہوتا رہا۔

آپ خود دیکھ لیجئے کہ ان کچھ مہینوں میں جبکہ حکومت کی طرف سے انڈین ٹی وی چینلز’ کیبل ٹی وی پر نشر کرنے کی ممانعت تھی یہ تو نہیں ہوا کہ لوگوں نے فلمیں دیکھنی بند کر دی ہوں۔جن کو اتنی عادت ہے کہ اس کے بغیر ان کو نیند ہی نہیں آتی وہ لوگ اس دوران ویڈیو فلمیں کرایہ پر حاصل کر کے دیکھتے رہے۔فرق صرف اتنا ہواکہ ہر محلے میں کھلی ہوئی ویڈیو کی دوکانیں جنہوں نے کیبل ٹی وی کے آنے سے پہلے لاکھوں کمائے اور کیبل ٹی وی کے بعد سے ان کا کاروبار منداپڑ گیا تھا اُن کا کاروبار اسی دوران دوبارہ سے چمک اُٹھا۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس بارے میں حکومت کچھ بھی اقدامات نہ کرئے میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ معاشرے میں شعور پیدا کیے بغیر صرف حکومتی اقدامات کا نتیجہ کوئی زیادہ  مثبت نہیں نکلے گا۔انسانی نفسیات ایسی ہے کہ اس کو جس چیز سے روکا جائے اس چیز کو کرنے یا حاصل کرنے کی خواہش مزید بڑھ جاتی ہے۔دوسری طرف اگر لوگوں میں اچھائی اور بُرائی کی تمیز پیدا ہو جائے اور وہ خود بُرائی کو رد کر دیں تو چاہے حکومت ساتھ دے یا نہ دے بُرائی خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔تبدیلی کی سائنس تو یہی کہتی ہے کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کیلئے بہترین طریقہ تو یہی ہے کہ لوگوں میں پہلے تو تبدیلی کی ضرورت کا شعور بیدار کیا جائے اور اس کے بعد حکومت اور حکمران تبدیلی کے عمل کو مکمل کرنے کیلئے  اقدامات کریں۔

بدقسمتی سے یہ اتنا آسان نہیں جتنا نظر آتا ہے۔تاریخ ِ انسانی گواہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس اختیار اور حکومت ہوتی ہے اُن کے خیالات اورعقائد معاشرے کے نچلے اور متوسط طبقے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں اور اس وجہ سے وہ کوئی مثبت تبدیلی لانا ہی نہیں چاہتے۔اس صورت میں تبدیلی کی سائنس یہی کہتی ہے کہ اگر حکومت ساتھ نہ بھی دے تو پھر بھی تبدیلی کا عمل شروع ہو سکتا ہے اور وہ صرف اور صرف لوگوں میں شعور بیدار کر کے ہو سکتا ہے۔

یہ عمل پہلے عمل کی نسبت کٹھن’  دشوار اور طویل ہے۔

تبدیلی لانے کا تیسرا طریقہ جبر یا سختی ہے۔اس طریقہ میں تبدیلی تو فوراً آجاتی ہے لیکن اس کے نتائج مستقل نہیں رہتے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا کہ اگر حکومت ٹی وی کے کچھ چینلز کی ممانعت کر دے تو صاف ظاہر ہے کہ اُن  TV Channels کی نشریات بند تو ضرور ہو جائے گی لیکن لوگ اس کو دیکھنے کا کوئی اور طریقہ ڈھونڈلیں گے اور اس طرح مستقل تبدیلی نہیں آئے گی۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت کا ساتھ ہو یا نہ ہو میں ہمیشہ لوگوں میں شعور بیدار کرنے کو اہم ترین گردانتا ہوں۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ میرے سالہا سال کے تجربہ سے یہی بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اندازاً    -75 80 فیصد لوگ بُرائی اس لئے کرتے ہیں کہ اُن کو اس کے منفی اثرات کا علم نہیں۔ یہ لوگ یہ تو سنتے رہتے ہیں کہ یہ بُرا ہے وہ بُرا ہے اور اسکے معاشرہ میں کیااثرات نمایاں ہونگے۔لیکن بدقسمتی سے ہم لوگوں کو یہ نہیں بتاتے کہ بُری چیز بُری کیوں ہے اور اس سے معاشرتی نہیں بلکہ ان لوگوں کی انفرادی زندگی پر کیا اثرات پڑیں گے۔آپ خود سوچئے کہ کتنے لوگوں کو معاشرے کا دُکھ ہے۔ہاں البتہ اپنے بارے میں ہر کوئی بہتری سوچتا ہے۔آپ لاکھ لوگوں کو بتائیں کہ سڑکوں پر کوڑا گند پھینکنے سے محلے کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔کم ہی لوگ ہونگے جو اُس کے بعد سڑکوں پر کوڑا پھینکنا چھوڑ دیں لیکن اگر ان کو اس بات کا علم ہو جائے کہ اپنا گند اور کوڑا کرکٹ سڑکوں پر پھینکنے سے اُن کی انفرادی زندگی پر اس کے کیا اثرات پڑتے ہیں تو میرے تجربے کے مطابق 80فیصد لوگ بدل جاتے ہیں۔

کیونکہ یہ بات انسانی فطرت کے عین مطابق ہے کہ جو کوئی کچھ کر رہا ہے وہ اس کو ٹھیک سمجھ کر ہی کرتا ہے اور کوئی شخص اپنے لئے بُرائی کا شعوری انتخاب نہیں کرتا۔

ہمارے دین کی تعلیم بھی یہی کہتی ہے کہ لوگوں کو سختی سے بدلنے کی کوشش نہ کی جائے ہاں البتہ اُن تک اچھائی اور بُرائی کا علم ضرور دیاجائے اور وہ لوگ جو اسی کام پر لگے ہوں وہ نتائج سے بے پرواہ اپنا کام کرتے چلے جائیں۔

میرے نزدیک ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ جہالت ہے۔لوگوں کو یہ علم ہی نہیں کہ اُن کے کسی فعل کا اُن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔اسی وجہ سے بجائے اس کے کہ لوگ شعوری طور پراس فعل کا انتخاب کریں وہ لاشعوری طور پر وہی کرتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے گردونواح میں لوگوں کو کرتے دیکھتے ہیں۔

اپنے کام کے ذریعے لاکھوں لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جن میں ہر قسم اور ہر طبقے کے لوگ تھے اور یہی بات میرے مشاہدے میں آئی کہ ٧٥سے٨٠ فیصد سے زائد لوگ کسی بھی فعل کے نقصانات یا اثرات جانے بغیر وہ فعل سرانجام دیتے رہتے ہیں۔

ا س موقع پر مجھے ایک بہت ہی خوبصورت حدیث یاد آرہی ہے۔

صحابہ اکرام نے رسول اللہۖ سے پوچھا کہ کسی معاشرے کیلئے سب سے بڑی لعنت کیا ہو سکتی ہے۔ تو آپۖ نے جواب دیا کہ ”جہالت”۔

تو جناب یہی وجہ ہے کہ میں آپ کو میڈیا کے اثرات کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔اس بارے میں یہ کہنا بھی غلط ہو گا کہ میڈیا کے نقصانات ہی نقصانات ہیں اور فوائد نہیں۔میں تو اس قانونِ قدرت پر یقین رکھتا ہوں کہ کسی بھی چیز کے اچھے یا بُرے یا مضر یا فائدہ مند ہونے کا تعین بہت حد تک اُس کا استعمال کرتا ہے۔آپ خود دیکھ لیجئے کہ ایک اچھی سے اچھی خوراک بھی اُتنی دیر تک فائدہ دیتی ہے جب تک کہ ایک اعتدال کے اندر رہ کر اُس کا صحیح استعمال کیا جائے۔

حتیٰ کہ عبادت کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اس کی زیادتی بھی جائز نہیں۔

یہی قانون ٹی وی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔اس کے فوائد بھی ہیںنقصانات بھی۔ اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی چیز اس کے استعمال سے قطع نظر صرف فائدہ مند ہی رہے گی۔

اس لئے اس موضوع کو آگے بڑھانے کیلئے سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ میڈیا ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ دیکھیں گے کہ میڈیا کا کونسا استعمال انفرادی اور اجتماعی زندگی کیلئے فائدہ مند اور کونسا نقصان دہ ہے اور اُس کے بعد ہر ایک فیصلہ تو بہر حال آپ کے اختیار میں ہے کہ سب کچھ جاننے کے بعد آپ کیا دیکھنا اور سننا پسند کرینگے اورکتنا وقت اس کام کیلئے صرف کرنا چاہیں گے۔

تو چلئے جناب سب سے پہلے Scientific طریقے سے یہ دیکھتے ہیں کہ میڈیا ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو کیسے متاثر کرتا ہے۔

سائنس اس بات پر متفق ہے کہ ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں ایک شعوری دماغ اور ایک لاشعوری دماغ۔دماغ کے دونوں حصوں کے ذمے اللہ تعالیٰ نے مختلف کام لگا دیئے ہیں۔ (اس بارے میں’ میں نے تفصیلی گفتگو اپنے ایک آڈیوپروگرام  ”مثبت سوچ کا جادو The Magic of Positive Thinkingجو کہ پیچھے آچکا ہے میں کی ہے۔)بہر حال یہاں پر صرف اتنی ہی بات کرنا ضر وری محسوس کرتا ہوں کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اُس کی ایک وجہ ہے۔ اس موضوع میں ہم صرف اُن قوانین پر ہی اکتفا کریں گے جن کو سمجھنا ہمارے افعال کی وجہ تک پہنچنے کیلئے ضروری ہے۔

فرض کیجئے کہ آپ صبح اپنے گھر سے کپڑوں کی شاپنگ کیلئے نکلتے ہیں۔ آپ کو یہ نہیں پتہ کہ آپ نے کیسے کپڑے خریدنے ہیں۔ پہلی دوکان پر آپ پہنچے’ آپ نے کافی کپڑے دیکھے لیکن آپ کو پسند نہ آئے۔آپ دوسری دوکان پر چلے گئے وہاں پر بھی کچھ کپڑے دیکھے لیکن آپ فیصلہ نہ کر سکے۔ اسی طرح کرتے کرتے آخر آپ چھٹی ساتویں دوکان پر پہنچتے ہیں’ دوکان میں گھستے ساتھ ہی آپ کی نظر ایک پتلون اور قمیض پر پڑ جاتی ہے جو کہ Showcase میں لگائی گئی ہے۔آپ کے اندر سے آواز آتی ہے کہ یہ ہے ‘ یہی ہے اور آپ وہ خرید لیتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آپ نے اتنے کپڑے چھوڑ کر یہی کپڑے خریدنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ٹھیک ہے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے یہی پسند آیا یا مجھے اس کی تلاش تھی لیکن سوال پھر بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ آخر آپ کو یہی پسند کیوں آیا اور آپ کو اسی طرح کے کپڑے کی تلاش ہی کیوں تھی۔اگر صرف اسی طرح کے ڈیزائن اور رنگ کے کپڑے ہی سب کو پسند ہوتے تو باقی دوکانوں میں آپ کو نہ ہی خریدار نظر آتے اور نہ ہی خریداری ہوتی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف قسم کے لوگوں کو مختلف ڈیزائنوں اور رنگوں کے کپڑے پسند آتے ہیں۔ٹھیک ہے ‘ چلئے میرا سوال پھر یہی ہے کہ مختلف لوگ وہ کیوں خریدتے ہیں جو وہ خریدتے ہیں۔یعنی کہ ہماری پسند ہماری پسند کیسے بنتی ہے۔

تو جناب میں پچھلے دس سال سے انسانی رویوں کی سائنس پڑھتا رہا اور اِس طرح کے کئی سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ جو علم مجھے حاصل ہوا ہے وہ  اِ س سوال کا جواب کچھ ایسے دیتا ہے۔

انسانی دماغ میں دو حصے شعوری اور لاشعوری دماغ کی مثال کمپیوٹر میں Hard Disk اور RAM یعنی کہ رینڈم ایکسیس میموری کے مترادف ہے۔اصل میں کمپیوٹر کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ کمپیوٹر انسان کی نقل ہے۔اس لئے کمپیوٹر اور انسان میں کافی چیزیں مشترک ہیں۔کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک میں کمپیوٹر کا مالک اپنی مرضی سے مختلف پروگرام اور فائلیں کاپی کر کے رکھتا ہے۔یعنی کہ آپ اپنے کمپیوٹر کی ہارڈڈسک میں کیا سٹور کرنا چاہتے ہیں اس کا اختیار آپ کے پاس ہے۔

یہی حال انسان کے شعوری دماغ کا ہے کہ آپ شعوری طور پر جوبھی کریں گے یا سنیں گے وہ آپ کے شعوری دماغ میں سٹور ہو جاتا ہے۔

کمپیوٹر میں سٹوریج کی دوسری جگہ Ram یعنی کہ Random Access Memory ہے۔ ا س کی گنجائش تو Hard Disk کے مقابلے میں کم ہے لیکن اس کاکام بہت ہی اہم ہے۔کمپیوٹر کی اصطلاع میں کمپیوٹر کو Boot کرنے کیلئے یعنی کہ چلانے کیلئے جتنے بھی احکامات کی ضرورت ہے’ اس کے بارے میں تمام معلومات اسی RAMمیں ہوتی ہیں۔یعنی کہ اگر آپ کا کمپیوٹر آن تو ہو جائے لیکن اس پر مین سکرین نہ آئے تو کہا جاتا ہے کہ کمپیوٹرBoot  نہیں ہو رہا اور اس مسئلے کی بنیادی وجہRAM میں خرابی ہوتی ہے۔

ایک دلچسپ حقیقت یاد رکھیئے کہ کمپیوٹر بوٹ ہونے اور مین سکرین آنے کے بعد ہی آپ Hard Disk میں رکھے گئے پروگرام کو استعمال کر سکتے ہیں۔Hard Disk اس وقت تک نہیں چلتی جب تک کہ مین سکرین  نہ  آجائے۔

انسانی دماغ میں لاشعور کا کام بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ کمپیوٹر میں RAM کا۔

یاد رکھیئے کہ جب انسان سو جاتاہے تو اس کا شعوری دماغ بھی سو جاتا ہے۔لیکن سوتے ہوئے بھی اس کو سانس کی ضرورت ہوتی ہے اورساتھ ہی ساتھ اس کا دل بھی چل رہا ہوتاہے۔یہ کام اس لئے ہوتا رہتا ہے کہ اس کے بارے میں معلومات انسان کے لاشعور میں ہیں’ شعور میں نہیں اور لاشعور ہمارے سونے کے بعد بھی جاگتا رہتا ہے۔ذرا غور کیجئے کہ اگر سانس لینا اور دل کو پمپ کرنا اور جسم کو خون پہنچانے کی ذمہ داری شعوری دماغ میں ہوتی تو اکثر اوقات جیسا کہ ہم کئی چیزیں کرنا بھول جاتے ہیں اسی طرح ہم جاگتے ہوئے بھی بعض دفعہ سانس لینا اور جسم کو خون پمپ کرنا بھول جاتے۔اس کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہوتا کہ پھر انسان سو ہی نہ سکتا کیونکہ جونہی آپ سوتے آپ کا شعوری دماغ بھی سو جاتا اور انسان کو نہ سانس ملتا’نہ جسم کو خون اور زندگی ختم ہو جاتی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ کام لاشعوری دماغ کو سونپا۔

شاید آپ کو یہ سائنسی حقائق تھوڑے سے بور لگے ہوں لیکن ان کو جاننا اشد ضروری ہے۔ یہ جاننے کیلئے کہ میڈیا ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر کیسے اثر انداز ہو رہا ہے کیونکہ جب تک آپ میڈیا کے اثرات کے بارے میں شعور نہیں حاصل کرینگے آپ کبھی بھی میڈیا کے استعمال کے بارے میں دانشمندانہ فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔

اب اس بارے میں دوسرا اصول بھی سن لیجئے وہ یہ ہے کہ جیسے کمپیوٹر کوئی کام بھی از خود نہیں کر سکتا اسی طرح انسان بھی کوئی کام از خود نہیں کر سکتا۔کمپیوٹر سے کوئی کام کروانے کیلئے اُسے اس بات کا حکم دینا پڑتا ہے یعنی کہ اس کو بتانا پرتا ہے۔اُس کی زبان میں کہ یہ کرنا ہے تو وہ ایک بہت ہی وفادار ملازم کی طرح اپنے آقا کا حکم بجا لاتا ہے۔اسی طرح یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ انسانی دماغ انسانی جسم کو چلاتا ہے یعنی کہ آپ اگر دوڑنا چاہتے ہوں تو جسم کو دوڑنے کا حکم دماغ سے ہی ملتاہے۔لیکن یہ بات بھی یاد رکھیئے کہ دماغ ازخود جسم کو مختلف افعال کا حکم نہیں دے دیتا ماسوائے ان چیزوں کے جو کہ لاشعوری دماغ میں موجود ہیں۔جیسا کہ سانس لینا’ خون کو پمپ کرنا وغیرہ۔یہ بات یاد رہے کہ دماغ ازخود ہمارے جسم کا آقا نہیں ہے۔بلکہ دماغ ایک نہایت ہی وفادار اور خدمت گزار ملازم ہے جو اپنے آقا کی مرضی کے خلاف خود ہی کچھ نہیں کر دیتا ۔وہ پہلے اپنے آقا سے حکم لیتا ہے اور پھر اس حکم کو بجا لانے کیلئے جسم کو حکم دیتا ہے۔

اس گفتگو سے یہ نتیجہ نکلا کہ ہم کوئی کام بھی ازخود سے نہیں کرتے بلکہ اس کو کرنے کا حکم اپنے دماغ کو یا تو ہم شعوری طور پر دیتے ہیں یا لاشعوری طور پر۔لیکن اس حکم کے بغیر ازخود کچھ نہیں ہوگا۔

اس بارے میں ایک بات قابلِ غور ہے وہ یہ کہ شعوری یا لاشعوری طور پر کوئی کام بھی دماغ حکم کے بغیر نہیں کر سکتا۔شعوری طور پر کسی فعل کو انجام دینا تو سمجھ میں آتا ہے۔جیسا کہ میں نے کسی کو کچھ کہنا ہے یا کسی کی گالی کے جواب میں کوئی کسی کو شعوری طور پر گالی دینا چاہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کئی کام ایسے بھی کر گزرتے ہیں جو کہ ہم شعوری طور پر نہیں کرنا چاہتے پھر وہ کیسے ہو جاتے ہیں۔تو اس کا جواب سمجھنے کیلئے ایک مثال پر غور کیجئے’جس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ آپ کا دماغ آپ کا ایک نہایت ہی وفا دار اور اطاعت گزار ملازم ہے اور آپ کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔اور اگر آپ سے کچھ ایسا ہو جاتا ہے جو کہ آپ شعوری طور پر اپنے دماغ کو کرنے کیلئے نہیں کہتے تو وہ کیسے ہوتا ہے۔فرض کیجئے کہ آپ کا ایک وفادار ملازم کئی مہینوں یا سالوں سے آپ کو ہر رات دس بجے دودھ کا ایک گلاس پیتا ہوا دیکھتا ہے۔یہ دودھ کا گلاس آپ شعور ی طور پر ہر رات اُس سے مانگتے ہیں۔ایک رات آپ دودھ کا گلاس نہیں مانگتے۔اب کیونکہ آپ کے ملازم نے آپ کو سالہا سال سے روزانہ رات کو دودھ کا گلاس دس بجے پیتے ہوا دیکھا ہے تو آپ کا ملازم یہ سوچ کر کہ شاید صاحب بھول نہ گئے ہوں یا پھر اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کیلئے آپ کیلئے دس بجے دودھ کا گلاس لے آتا ہے۔جی ہاں ۔ بالکل اسی طرح آپ کا دماغ بھی ہے۔اگر آپ شعوری طور پر اسے کچھ نہ کہیں لیکن اُس نے آپ کو کچھ کرتے ہوئے دیکھا ہو یا سنا ہو تو وہ تمام معلومات ایک اطاعت گذار ملازم کی طرح اپنی یاداشت میں نوٹ کر لیتا ہے اور جب آپ کو فیصلہ کرنے میں مشکل ہو یا آپ شعوری طور پر اُس کو کچھ کرنے کا حکم نہ دیں تو وہ اپنی یاداشت کے بل بوتے پر وہی یاداشت جو کہ اُس نے آپ کی عادتوں کے بارے میں بنائی ہوئی ہے اُسی کی بنیاد پر وہ آپ کے جسم کو وہ کام کرنے کا حکم دے دیتا ہے۔  بالکل اسی طرح جیسا کہ آپ کا ملازم اپنی یاداشت کے بل بوتے پر آپ کیلئے دودھ کا گلاس لے آتا ہے۔یہ سوچ کر کہ شاید آپ بھول گئے ہوں یا فیصلہ نہیں کر پا رہے۔اسی طرح آپ کے دماغ میں اگر شعوری طور پر حکم نہ بھی ہو تو بعض دفعہ آپ کی زندگی اور عادتوں کی یاداشتوں کے علم کی بنیاد پر وہ آپ کے جسم کو حکم دے کر وہ کام کروا  لیتا ہے۔اس کو ہم لاشعوری طور پر سرزد ہونے والا عمل کہیں گے۔

اب آئیے اس سوال کی طرف جس سے ہم نے یہ گفتگو شروع کی تھی اور دیکھتے ہیں کہ دوکان پر کپڑے خریدنے کا عمل کیسے سرزد ہوا۔

تمام ممکنات میں سے ایک بات تو یہ ممکن ہے کہ آپ نے زندگی میں اپنے آس پاس میں لوگوں کو جیسے کپڑے پہنے دیکھا یا فرض کیجئے کہ آپ نے رات کو ایک فلم دیکھی یا ایک شادی میں شرکت کی اور اس میں آپ کو کسی کے کپڑے اچھے معلوم ہوئے اور آپ نے شعوری طور پر یہ فیصلہ کیا کہ آپ صبح ایسے ہی کپڑے خریدیں گے۔صبح ہوئی تو آپ دوکانوں کے چکر لگانے لگ پڑے۔کیونکہ آپ کو علم تھا کہ آپ نے کیا خریدنا ہے۔ آپ کو جس دوکان میں اپنی چاہت کے کپڑے نظر نہ آئے آپ اس سے نکل کر آگے چلے گئے حتیٰ کہ آپ کے دماغ کی آنکھ کو وہی کپڑے نظر آگئے جو کہ رات کو آپ نے دیکھے تھے اور شعوری طور پر یہ کہا تھا کہ میں نے یہ کپڑے خریدنے ہیں۔جب دماغی آنکھ کو وہ کپڑے حقیقت میں دُکان میں نظر آئے جس کا عکس اُن کپڑوں کی طرح تھا جو کہ آپ کے دماغ میں موجود تھا اور رات کو آپ نے شعوری طور پر یہ کہہ کر کہ مجھے یہ کپڑے پسند ہیں اورمیں نے خریدنے ہیں اپنی یاداشت میں محفوظ کروایا تھا۔اس لمحے آپ کا دماغ آپ کے ہاتھوں کو حکم دے گا کہ وہ ان کپڑوں کو اُٹھالیں۔سو وہ کپڑے آپ خرید لیں گے۔ یہ تو ہوا آپ کا شعوری فیصلہ۔ دوسری اس فعل کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے جو کہ شاید زیادہ غور طلب اور فکر طلب ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اگرآپ نے یہ نہیں سوچا ہوا تھا کہ آپ نے کونسے کپڑے خریدنے ہیں یا یہ کہ شعوری طور پر آپ نے یہ فیصلہ نہیں کیا ہوا تھا آخر پھر آپ نے وہ کپڑے کیوں خریدے جو کہ خریدے۔تو جناب اس کی وجہ سنیے:

پہلے اس بات کا تذکرہ ہوا کہ آپ کا لاشعوری دماغ ایک راڈار کی طرح آپ کے اردگرد کی تمام معلومات اکٹھی کرتا رہتا ہے اور ضرورت پڑنے پر آپ کو یہ معلومات فراہم کرتا ہے۔جس کی ایک مثال تو یہ ہے کہ فرض کریں کہ آپ کسی تقریب پرگئے ہوئے تھے جہاں سینکڑوں لوگ موجود تھے۔کچھ لوگ تو ایسے ہونگے جن سے آپ نے بات چیت کی ہوگی۔تو جو باتیں آپ نے ان لوگوں کے ساتھ کی ہونگی وہ آپ کے شعوری دماغ میں محفوظ ہوگئی ہونگی لیکن اس کے علاوہ ایسے لوگ جن کے ساتھ آپ نے بات نہیں بھی کی لیکن جن پر آپ کی صرف ایک نظر بھی پڑی اُن لوگوں کا عکس بھی آپ کے لاشعور نے اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیا۔

اب جب بھی آپ کسی ایسے شخص کو چاہے کتنے عرصے بعد بھی ملیں تو آپ کو ایسا لگے گا کہ اس کا چہرہ جانا پہچانا ہے۔چاہے آپ اُس شخص سے زندگی میں پہلی بار ہی مل رہے ہوں۔اُس کی وجہ یہی ہے کہ جس شخص سے آپ اب مل رہے ہیں اُس شخص یا اس جیسے شخص کا عکس آپ کے لاشعور نے کہیں نہ کہیں یاداشت میں محفوظ کر رکھا ہے۔اسی لئے آپ اس شخص کو ملنے پر یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ یہ چہرہ دیکھا بھالا ہے۔

کیوں جناب ایسا ہوتا ہے نا۔جی یہ اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ لاشعور راڈار کی طرح ہر معلومات کو اکٹھا کرتا چلا جارہا ہے۔

اب یہ دیکھئے کہ آپ نے وہ کپڑے کیوں خریدے یا پسند کیے۔اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جو کپڑے آپ آج خرید رہے ہیں یا پسند کر رہے ہیں ان جیسے کپڑوں کا عکس آپ کے لاشعور میں کہیں نہ کہیں محفوظ ہے۔فرض کریں کہ رات کو آپ نے ٹی وی پر ایک فلم دیکھی جس میں ہیرو یا ہیروئن نے ایسے کپڑے پہن رکھے تھے یا یوں کہہ لیجئے کہ رات کو آپ نے کسی پارٹی میں کسی کو ایسے کپڑے پہنے دیکھا’  اگر آپ نے اس وقت اس کے کپڑوں کی تعریف کی تو وہ  تو آپ کے شعوری ذہن میں نقش ہو جائے گا اور اگر آپ نے صرف دیکھا اور کچھ نہ بھی کہا تب بھی وہ آپ کے ذہن میں نقش ضرور ہو گا لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ وہ شعور کی بجائے لاشعور میں نقش ہو گا۔ اب جب آپ دُکان پر کھڑے ہوئے کپڑے خریدنے کا فیصلہ کرنے میں دُشواری محسوس کر رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ کونسا خریدوں تو دماغ ایک وفادار اور اطاعت گزار ملازم کی طرح آپ کی مدد کرنے کیلئے فوراً وہی نقش آپ کے سامنے لے آئے گا جو کہ سب سے زیادہ قریبی ہوگا۔یعنی کہ رات کی فلم یا Party کے کپڑوں والا۔بالکل کمپیوٹر کی طرح کہ اگر اس کو کوئی فائل ڈھونڈنے کا حکم دیا جائے تو وہ نئی سے پرانی فائلوں کی طرف جاتا ہے یعنی کہ سب سے recent فائل پہلے اور پرانی بعد میں۔اس طرح ہمارا شعور اور لاشعور بھی قریبی واقعات اور معلومات پہلے سے پڑھتا ہے اور پرانے واقعات بعد میں۔اس لئے پرانی باتیں اور واقعات یاد کرنے میں ذرا مشکل ہوتی ہے۔

تو خیر جناب آپ وہی کپڑے خریدیں گے جن کا نقش آپ کے لاشعور میں پڑے ہوئے عکس سے مطابقت کرے گا۔جونہی ایسے کپڑوں پر آپ کی نظر پڑے گی جن سے ملتے جلتے کپڑوں کا عکس آپ کے لاشعور کی یاداشت میں محفوظ ہوگا آپ کا ہاتھ خود ہی سے ا ُن کپڑوں کی طرف چلا جائے گا۔

اس سائنسی قانون کی بیسویں صدی کے وسط میں دریافت ہوئی۔اور یہ قانون اس سوال کا جواب مہیا کرتا ہے کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں یا کہتے ہیں وہ کیوں کرتے اور کہتے ہیں۔

اب جناب ذرا اس قانون کا اپنی زندگی پر اطلاق کریں تو آپ کو احساس ہوگا کہ میڈیا کا ہماری زندگی پر کتنا اثر ہے کہ آہستہ آہستہ جو کچھ ہم دیکھتے اورسنتے رہتے ہیں ہماری عادات’ اخلاق’  پسند’ حرکات سب کچھ ویسی ہی بن جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج کل کی ماڈرن نسل کو دیکھ کر تو یہ لگتا ہی نہیں کہ یہ پاکستانی اور مسلمان ہیں۔میڈیا نے اُن کا سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔

یہاں تک کہ اُن کے کپڑے’ کھاناپینا’ بات چیت کا طریقہ’  زبان’  تہوار’  رسمیں’  ناچ گانا غرضیکہ ہر طرح سے وہ ویسے ہی بن گئے ہیں جیسے کہ ہمارے ہمسائے ملک کے لوگ ہیں اور تو اور اُن کی سوچ تک  بدل گئی ہے اور آج کی نئی نسل نے تو دو قومی نظریہ کی دھچیاں اُڑا کر رکھ دیں ہیں اور وہ اپنے آپ کو اپنے ہمسایہ ملک کے لوگوں جیسا ہی سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف اور صرف میڈیا ہے اور یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ ہمارے ہمسائے ملک کی ایک سیاسی شخصیت کا اس بارے میں کیا کہنا ہے۔

بمبئی کے ایک اخبار میں PPA کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے سابق وزیرِ اعظم کی بیوہ سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدید جنگوں کی حکمتِ عملی میں بھی تبدیلی آگئی ہے۔اب جنگیں سرحدوں پر اسلحہ سے نہیں لڑی جائیں گئی بلکہ اب نظریاتی جنگوں کا دور ہے۔پاکستان جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا برصغیر پاک و ہند کے چند مذہبی جنونیوں نے اپنے مقاصد کیلئے دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ اور آج تاریخ اور حقائق گواہ ہیں کہ ہم نے اس اسلامی ملک میں اپنی ثقافت متعارف کروا کر دو  قومی نظریے کو پاش پاش کر دیا ہے۔آج پاکستان کا بچہ بچہ ہندوستانی ثقافت کا دلدادہ ہے اور تو اور اب پاکستان ٹیلی ویژن بھی ہمارے مذہبی رقص بڑے فخر سے دکھا کر ہمارا ہر کام آسان کر رہا ہے۔اب ہمیں پاکستانیوں کو ہتھیاروں سے  نشانہ نہیں بنانا پڑے گا۔مجھے یقین ہے کہ کچھ عرصے بعد ایک دھکے سے پاکستان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔

تو جناب یہ  تھا سونیا گاندھی کا بیان۔اگر آپ کو ابھی بھی اعتبار نہ آئے اس بات پر تو ذرا غور کیجئے کہ آج سے دس پندرہ سال پہلے یہی ملک تھا’ یہی لوگ تھے لیکن جس طرح کی شادیاں اونٹوں اور ہاتھیوں پر مہندی کی رسوم’ لڑکے لڑکیوں کے ڈانس’ پیلے کپڑے’ ڈھول بجانے والے’ ناچ’ گانے’ میوزیکل گروپس’ بچوں کے کپڑے’ زبان پر ہندی فلموں کے ڈائیلاگ اور انڈین ایکٹریسز اور ایکٹروں کے پوسٹرز اور اخباروں میں ان کی خبروں کی بھرمار جو آج ہے وہ آج سے دس پندرہ سال پہلے تو نہ تھی۔

اور حتیٰ کہ پاکستان بننے کے فوراً بعد جو لوگ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے اور جنہوں نے سالہا سال اُس کلچر میں ہندوئوں کے ساتھ وقت گزارا اُن میں بھی ایک قومی تشخص تھا’ ایک شعور تھا اور اُس کلچر کے خلاف ایک نفرت کی سی فضا تھی۔یہاں تک کہ جب 70کی دہائی میں ایک گھسا پٹا امرتسر چینل آنا شروع ہوا اور جس میں ظاہری طور پر ایک فیصد بھی فحاشی’ عریانی نہیں تھی   آجکل کے انڈین چینلز کے مقابلے میں’ اُس کے باوجود بھی خاندان کے بڑے اپنے بچوں کو یہ دیکھنے سے منع کرتے تھے۔ بدقسمتی سے آہستہ آہستہ اُن کی نفرت کم ہوتے ہوتے ختم ہو گئی اور وہ خود بھی اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر شوق سے فلمیں اور گانے دیکھنے لگے۔

اس کی وجہ بھی وہی دماغی قانون ہے کہ ہمارے دماغ میں اچھائی بُرائی کا جو معیار بن چکا ہے ہم اسی کو پرکھتے ہوئے اچھائی اور بُرائی کا تعین کرتے ہیں۔لیکن یہ یاد رہے کہ شعوری یا لاشعوری طور پر اچھائی اور بُرائی کا معیار بھی تعین کرنے والے ہم خود ہی ہیں۔دماغ  بیچارہ تو وہی کرے گا جو اس کو بتایا جائے گا۔

اسی مثال کو لے لیجئے کیونکہ ہماری پچھلی نسل نے ہندوئوں کے ساتھ وقت گزارا تھا۔ انہوں نے ان کے مظالم اور گندی تہذیب اور گندی سوچوں کو دیکھا تھا اسی وجہ سے وہ ان کے شعور اور لاشعور میں نقش تھا۔جب امرتسر ٹی وی آنے لگا تو انہی  یاداشت کی وجہ سے اُن کے نزدیک یہ فعل بُرائی بنا اور وہ ظاہری اور باطنی طور پر اس کو بُرا سمجھتے اور کہتے رہے۔لیکن اسی دماغی قانون کا ایک اور حصہ بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ اگر آپ بُرائی کو بُرائی سمجھنے کے باوجود کرنا شروع کر دیں تو آہستہ آہستہ آپ کے لاشعور میں ایک نیا نقش بننا شروع ہو جاتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد جب آپ اسی فعل کے بارے میں جس کو آپ کچھ عرصہ پہلے بُرا سمجھتے تھے پوچھا جائے تو آپ کا دماغ نئی معلومات اور یاداشت کی بنیاد پر اسی بُرائی کو بُرائی نہیں رہنے دے گا۔ اور کچھ عرصہ مزید کرنے کے بعد وہی  بُرائی آپ کیلئے اچھائی بن جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ آہستہ آہستہ ڈراموں’اشتہاروں اور فلموں کے راستے ہمارے بڑوں کے لاشعور میں نئی یاداشت بننا شروع ہو گئیں اور آہستہ آہستہ وہ اس بُرائی میں خود شریک ہو گئے جس کو وہ خود بُرا سمجھا کرتے تھے۔

آج کل تو یہ حال ہے کہماں’ بیٹا’ باپ’ بہو’ بیٹی’ داماد سب اکٹھے بیٹھے ایسی ایسی فلمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں جو کہ کوئی ذی شعور آدمی اکیلے میں بھی دیکھ لے تو شرم سے پانی پانی ہو جائے۔

لیکن اُن تمام لوگوں کو اس میں بُرائی نہیں نظر آتی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اُن کے دماغ نے بُرائی کو بُرائی سمجھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔

جب TV پر آدھے کپڑے پہنے عورتیں ناچتی نظر آتی ہوں’  شراب پی جا رہی ہو تو دماغ آہستہ آہستہ اس کو قبول کر لیتا ہے۔یاد رکھیئے کہ دماغ کو اچھائی یا بُرائی کا علم نہیں ہے۔وہ جو آپ کو کرتا دیکھتا ہے’آپ کو کہتا سنتا ہے اور آپ کو سوچتے دیکھتا ہے وہ یہ معلومات اپنی یاداشت میں سٹور کر لیتا ہے اور پھر جب کسی وقت آپ کے سامنے شراب کی بوتل ہو یا گندے ڈانس ہو رہے ہوں اور آپ کو سمجھ نہ آئے کہ کیا کرنا ہے تو یہی دماغ ایک اطاعت گزار ملازم کی طرح اپنی یاداشتوں میں محفوظ معلومات کو آپ کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ اور اگر ان یاداشتوں میں یہی ہو کہ آپ یہ کچھ دیکھتے رہے ہیں اور کچھ نیا نہیں ہے تو انہی معلومات کی بنا پر آپ کو بُرائی بُرائی نہیں لگے گی۔یہ بات میں پہلے بھی کر چکا ہوں کہ آپ کوئی کام خود سے ایسا نہیں کر سکتے جس کے بارے میں آپ کے شعوری یا لاشعوری دماغ میں کوئی یاداشت نہ موجود ہو۔

یہ اتنا اہم موضوع ہے کہ میں بار بار مختلف مثالوں کے ذریعہ سے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ایک سچا واقعہ سناتا ہوں شاید اس سے آپ پر بات مزید واضح ہو جائے۔

ایک دفعہ ایک ماں اپنے پندرہ سال کے بیٹے کو لے کر میرے پاس آئی۔ماں شدید پریشان تھی کیونکہ اچانک اُس کے بیٹے نے بڑی بڑی گالیاں دینا شروع کر دیں اور ساتھ ہی سگریٹ بھی پینا شروع کر دئے۔جبکہ ماں کا کہنا تھا کہ اُس کے اپنے اور اس کے خاوند کے خاندان میں دور دور تک کسی کو نہ تو گالی دینے کی عادت ہے اور نہ ہی سگریٹ پینے کی۔جب لڑکے سے باتیں کرنے کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ صرف ایک سال پہلے تک اس میں سے کوئی بھی بُرائی اُس میں موجود نہیں تھی۔جب بچہ نویں جماعت میں پہنچا تو اس کی دوستی بڑے گھر کے کچھ لڑکوں سے ہو گئی۔فوراً ہی اُس نے یہ محسوس کیا کہ اُن  لڑکوں میں سگریٹ پینے ‘ گالیاں دینے وغیرہ کی بُری عادتیں ہیں۔لیکن کیونکہ اس کو یہ لڑکے پسند آئے اور اِس پسند کی وجہ یہ تھی کہ اُن کے پاس وافر پیسہ اور کاریں تھیں۔خیر اُس نے یہ سوچاکہ ٹھیک ہے کہ یہ لڑکے گالیاں دیتے ہیں اور سگریٹ پیتے ہیں لیکن اس وجہ سے ان سے دوستی نہیں چھوڑنی چاہیے۔ یہ کرتے رہیں جو کرنا چاہتے ہیں ضروری تو نہیں کہ میں ان کی یہ بُرائیاں اپنائوں۔

خیر مختصراً یہ کہ اُس نے ان لڑکوں کے ساتھ دوستی کر لی۔شروع شروع میں وہ لڑکے سگریٹ پیتے رہے’ گالیاں دیتے رہے اور  یہ اس کو بُرا سمجھتا رہا لیکن آہستہ آہستہ اس کو گالیوں اور سگریٹ سے نفرت کی شدت میں کمی ہوتی گئی اور آخر ایک دن اس کے منہ سے بھی پہلی گالی نکل ہی آئی اور ایک دن اس نے ان لڑکوں کے ساتھ اپنی زندگی کا پہلا سگریٹ بھی پی لیا۔

دلچسپ بات یہ ہے’ اس کے باوجود کہ اُس کے منہ سے گالی نکلی اور اُس نے سگریٹ پی لیا جس سے اُس کو سخت نفرت تھی’اُس کو حیرانگی ضرور ہوئی لیکن اس کو یہ  بُرا نہ لگا اور آہستہ آہستہ اُس کی یہ عادتیں پختہ ہوتی گئیں۔تو جناب اب یہ کیسے اور کیوں ہوا۔اس کا جواب وہی ہے جو میں پہلے دے چکا ہوں کہ اچھائی اور بُرائی بتانے والا آپ کا دماغ ہی ہے۔لیکن اس کو خود نہیں معلوم کہ اچھائی اور بُرائی کیا ہے۔اُس نے آپ کو جو کرتے’ کہتے اور سنتے دیکھا ہے وہ اسی معلومات کی روشنی میں آپ کو بُرائی اور اچھائی کا احساس دلاتا ہے۔

پہلی دفعہ جب اُس لڑکے نے اپنے دوستوں کو سگریٹ پیتے اور گالیاں دیتے سنا تو کیونکہ اس کے دماغ میں اِن باتوں کے خلاف خاندانی روایات اور تربیت کی وجہ سے سخت نفرت تھی اور یہی معلومات اُس کے شعور اور لاشعور میں نقش تھیں تو یاداشت کو پڑھ کر اُس کے دماغ نے انہی حرکتوں کو بُرائی بتایا۔جب اُس نے یہ کہہ کر اپنے آپ کو مطمئن کر دیا کہ کوئی بات نہیں میں تو گالیاں نہیںدیتا’ تو یہ بات بھی شعور میں نقش ہوگئی۔اس وجہ سے اس بات کے بعد جب اُس نے گالیاں سنیں اور لوگوں کو سگریٹ پیتے دیکھا تو کیونکہ اس طرح کے واقعات کا نقش اُس کے شعور یا لاشعور میں پچھلی دفعہ بن چکا تھا کہ لوگ کرتے رہیں میں تو نہیں کرتا’  اس کی بنیاد پر دوسری تیسری مرتبہ اس کی نفرت کی شدت میں کمی آگئی۔اب دماغ مسلسل اپنے مالک کو اُن لڑکوں کے ساتھ خوش گپیاں کرتے ہوئے اور وقت گزارتے دیکھتا رہا۔ہر مرتبہ دماغ میں ایک نیا نقش بنتا چلا گیا اور پچھلے نقش ماضی میں دور جاتے گئے اور نئے نقش میں ان حرکتوں کی نفرت مسلسل کم ہوتی گئی۔

آخر وہ دن آگیا کہ کسی بات پر اس کو غصّہ آیا کیونکہ اس کے لاشعور میں یہ بات نقش تھی کہ اس کے دوست غصّے میں گالیاں نکالتے تھے تو اس دن اسے غصّے کی حالت میں دماغ نے وہی فائل پڑھتے ہوئے اس کو بھی آخر کار گالیاں دینے پر تیار کر ہی لیا۔

تو جناب یہ ہے وہ قانون جو کہ ہمیں ہر وقت یاد رکھنا چاہیے کہ جلدی یا بدیر آپ ویسے ہی بن جائیں گے جس طرح کے ماحول میں آپ رہیں گے۔

رنگ کی کڑاہی میں سارے کپڑوں پر رنگ چڑھتا ہے۔کسی پر زیادہ کسی پر کم۔کسی کپڑے پر جلدی کسی کپڑے پر دیر سے لیکن چڑھے گا سب پر۔ اور اسی بات سے ہمارے پیارے رسول محمد ۖ نے ہمیں آگاہ کیا تھا۔

ابودائود اور مشکوٰة میں روایات ہے کہ آپ ۖنے فرمایا:

”  آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔بس چاہیے کہ دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کرتا ہے۔  ”

میڈیا اور ماحول کا کتنا اثر ہے ہماری ذات پر اس کو پرکھنے کیلئے ایک تجربہ کیجئے:

پانچ سے دس  منٹ کوئی رومینٹک  گانا سنیے۔آپ دیکھیں گے کہ کچھ ہی لمحے میں چاہے آپ اُداس ہوں پہلے آپ کے پائوں ہلنے شروع ہونگے پھر ہاتھ پھر سر’  پھر آپ چٹکیاں بجانا شروع کریں گے اور کچھ ہی لمحے میں آپ خوابوں کی دنیا میں چلے جائیں گے۔

اسی طرح اگر آپ دس پندرہ منٹ کوئی اچھا دینی لیکچر سنیں یا کوئی حمد و نعت سنیں تو کچھ ہی لمحے کے بعد آپ کی کیفیت بدل جائے گی۔

دیکھئے کہ اگردس پندرہ منٹ میں آپ کی کیفیت اور جذبات بدل جاتے ہیں تو وہ لوگ جو گھنٹوں تک رومانٹک اور واہیات گانے سنتے ہیں ان کی کیفیت کیا ہوگی اور جو لوگ سالہا سال سے یہ کرتے آرہے ہیںاُن کی جذباتی حالت کیسی ہو چکی ہوگی۔

یہ بات تو سننے کی حد تک تھی۔کہا جاتا ہے کہ دیکھنے کا اثر صرف سننے کے اثر سے سات آٹھ گنا تک زیادہ ہوتا ہے۔اس بات کو سمجھنے کیلئے آسان سی مثال ریڈیو اور ٹی وی کے فرق کی ہے۔صاف ظاہر ہے کہ ٹی وی کا اثر بہت زیادہ ہے صرف ریڈیو کے اثر کے مقابلے میں۔

اگر آپ بھی غوروفکر کرنے والے شخص ہیں تو شاید میری طرح آپ کو بھی یہ بات پریشان کرتی ہو کہ ہمارے معاشرے میں ایک طرف غصّہ’ نفرت’ لڑائی اور دوسری طرف محبت اور عشق کے رجحانات بڑھ گئے ہیں۔ اور یہ صرف نوجوان لڑکے لڑکیوں تک ہی محدود نہیں ‘ادھیڑ عمر لوگ بھی اس میں شامل ہیں۔لوگوں کے کپڑوں ‘رویوں’ بات چیت سب پر ٹی وی کے اثرات نظر آتے ہیں۔ہمارے معاشرہ میں لوگوں کے منفی جذبات کے اظہار کی داستانوں سے اخبارات بھرے ہوئے ہیں ۔

چھٹی کے وقت کالجوں کا چکر لگائیں تو نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو وہ حرکتیں کرتے ہوئے پائیں گے کہ شرم سے سرجھک جاتا ہے۔

شادی بیاہ کی رسموں میں بھی یہی حال ہے۔بس لگتا ہے کہ تمام معاشرہ سوائے عشق و محبت کے اور کچھ نہیں کر رہا۔کبھی سوچا کیوں؟ جناب اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہماری نسل وہی بن رہی ہے جو کچھ وہ دیکھ رہی ہے۔ٹی وی کو دیکھ لیں۔اخبارات کو دیکھ لیں۔سڑکوں پر لگے ہوئے نیون سائن کو دیکھ لیں۔کسی بھی قسم کی شے ہو۔ٹی وی ہو یا فریج’  میٹرس ہو یا دودھ کا اشتہار۔کار ہو یا موبائیل فون یا پھر سپاری کا اشتہار’ ہر اشتہار میں عورت کو جس حالت اور جس طرح کے کپڑوں میں پیش کیا جاتا ہے اس سے معاشرے کی ذہنی پستی کا اظہار ہوتا ہے۔

وہ عورت جو ماں بھی ہے’ بیٹی بھی’ بہن بھی اس کو صرف ایک نمائش اورمردوں کی تفریح کا سامان بنا دیا گیا ہے۔اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عورت نے خود اس کو بُرا سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔

اب آپ خود سوچئے کہ جو بچے اس طرح کے ماحول میں بڑے ہونگے جہاں پر اُن کے شعور اور لاشعور میں عورت صرف نمائش اور تفریح کی چیز ہو وہ کیسے ماں’ بہن’  بیٹی اور بیوی کی عزت کرینگے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کے ساتھ مظالم اور بُرے سلوک اور رویے کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دن بدن جنسی تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔اور اس پر دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ماں’ باپ’ بیٹا’ بیٹی ‘ داماد’ بہو سب بیٹھے ہوئے عورتوں کے ڈانس اور گھٹیا قسم کے ڈرامے  اکٹھے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

خود سوچئے کہ اُن کا دماغ یہ اثر قبول کیسے کرتا ہے۔اسی لئے قبول کر رہا ہے کہ ان کے شعوراور لاشعور میں عورت اور مرد کے رشتے کا صرف ایک ہی پہلو ہے اور وہ ہے جنسی تسکین۔

ایک سال کے عرصہ میں’ میں نے تقریباً بیس گھروں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔ جہاں پر چالیس  سے ساٹھ  سال کے درمیان کے مرد حضرات نے اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی سے دوسرا یا تیسرا بیاہ کر لیا۔سوچئے کہ اُن کے دماغ نے یہ کیسے قبول کیا۔

اسی لئے کیا کہ اُن کے شعور اور لاشعور میں وہی عکس ہیں جو سارا دن وہ ٹی وی’ اخبارات’ رسائل اور اشتہارات میں دیکھتے رہتے ہیں۔دو سے تین سال پہلے یورپ میں ایک ریسرچ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ انسان وہ کام نہیں کر سکتا جس کی یاداشت یا عکس اُس کے دماغ میں نہ ہو۔عورت کو وہی شخص مار سکتاہے یا جنسی تشدد کر سکتا ہے جس کے شعور یا لاشعور میں یہ واقعات موجود ہوں۔

اِس ریسرچ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یورپ اور امریکہ میں جسمانی اور جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بنیادی وجہ اِس قسم کے ٹی وی پروگرام اور فلمیں دیکھنا اور اِسی قسم کے رسائل پڑھنا تھے۔ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ جنسی جرائم میں ملوث ہوتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو کہ اِسی قسم کے ٹی وی پروگرام’  فلمیں اور جرائد کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔

دوسری طرف جسمانی تشدد ‘مارکٹائی میں ملوث ہونے والے حضرات میں جسمانی تشدد کے ٹی وی پروگرام اور فلمیں دیکھنے کا رواج تھا۔

میں نے خود اپنے Career میں کافی ریسرچ کی ہے اور یہی دیکھا کہ ہمارے  دیکھنے’  سننے اور پڑھنے کا اثر ہی ہماری شخصیت پر ہوتا ہے۔

جیسا کہ میں نے یہ نوٹ کیا کہ وہ بچے جو کہ ماں باپ’ اساتذہ اور بڑوں کی عزت نہیں کرتے اور کسی بھی بڑے کی بڑائی ماننے اور حکم لینا  پسند نہیں کرتے ان میں سے ایک بہت ہی واضح اکثریت ایسے بچوں کی تھی جو کہ Simpsons کارٹون دیکھتے رہے۔کیونکہ اس کارٹون کے ذریعے بچوںکے لاشعور میں یہی بات ڈالی جا رہی ہے۔اس کارٹون کے بنانے والے کا بھی انٹرویو پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کا حکم ماننا پسند نہیں کیا اور وہ کارٹون کے ذریعے یہی پیغام ساری دنیا میں پہنچارہاہے کہ کسی کا حکم ماننے کی ضرورت نہیں۔

نفسیات کے ماہر اس بات پر بھی اتفاق رکھتے ہیں کہ مذاق اور لوگوں کو ہنسا کر دیئے گئے پیغام میں ایک طرف تو اثر زیادہ ہے دوسری طرف لوگ اس بات کو بُرا نہیں سمجھتے۔آپ خود سوچئے کہ یہ سن کر کئی لوگ یہ کہہ رہے ہونگے کہ جی کارٹون تو صرف مزاح کی چیز ہے اور اس میں کیا بُرائی ہے۔تو جناب آج رات کو آپ ذرا غور سے   دیکھئے یہ کارٹون اورنوٹ کیجئے کہ اس میں والدین اوراساتذہ کا بچے کیسے مذاق اُڑاتے ہیں۔

اب صاف ظاہر ہے کہ یہ کارٹون دیکھ کر بڑے ہونے والے بچے یہی کریں گے۔یہ بات صرف اُسی کارٹون تک محدود نہیں۔غور کیجئے کہ ہر کارٹون میں ایک نہ ایک پیغام ضرور ہے اور اسی طرح مذاق مذاق میں پوری دنیا میں نئی نسل کی پروگرامنگ کی جارہی ہے۔نفسیات کے ماہرین نے یہ بات پچھلے کچھ سالوں میں ہی دریافت کی۔لیکن اس بات کی طرف اشارہ  ١٤٠٠ سال پہلے قرآن پاک میں موجود تھا۔

ذرا ملاحظہ کیجئے کہ سورة لقمٰنکی آیت ٦میں ارشادِ ربانی ہے:

”  اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں کہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کیلئے رسوا کرنے والے عذاب ہیں۔  ”   (سورة لقمٰن: ٦)

تو جناب دیکھ لیجئے کہ اس طرح کے لوگوں کیلئے جو کہ معاشرے کو تباہ کریں ان کیلئے کیا سزا ہے۔

اسی طرح جن والدین کو اپنے بچوں سے یہ شکایت تھی کہ وہ آپس میں لڑتے ہیں اور مارتے رہتے ہیں تو بات یہ کھلی کہ یہ سب کچھ اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے ٹی وی پر WWF ریسلنگ دیکھنا شروع کی۔اسی WWF ریسلنگ کی وجہ سے بڑھتے ہوئے جسمانی تشدد کے واقعات کی وجہ سے ہی امریکہ میں گذشتہ کچھ سال سے WWF ریسلنگ Ban کی جا چکی ہے۔

لیکن افسوس کہ ہمارا معاشرہ یورپ اور امریکہ کی اندھی تقلید کرتے ہوئے وہی بن رہا ہے جو خود انہوں نے بھی محسوس کر لیا ہے کہ اُن سے غلطی ہوئی۔

اب خود سوچئے کہ آج سے بیس تیس سال پہلے تک جنسی اور جسمانی تشدد کے واقعات کی شرح آج سے چار گنا کم تھی۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس وقت ابھی میڈیا اتنا آزادیاعام اور طاقتور نہیں تھا۔صاف ظاہر ہے کہ رومانٹک فلمیں دیکھ کر ایک بابا جی کا بھی یہی دل کرے گا کہ وہ ایک پندرہ سولہ سال کی اچھلنے کودنے والی بچی سے ذرا عشق کر لیں۔

اسی طرح آپ نے ہمارے معاشرے میں ایک نیا رجحان دیکھا ہوگا۔ ہماری نئی نسل بین الاقوامی Brands کی یعنی کہ Levis’ Nike’ Wrangler’  Gap’ Marks & Spencer’ Dockers Adidas’ McDonalds’ KFC اور اسی طرح دوسری بین الاقوامیBrands چاہے وہ کھانے کی اشیاء ہوں یا پینے کی یا گھر کے استعمال کی دیوانی ہے۔

اب ذرا سوچئے کہ کچھ سال پہلے یا پچھلی نسل تک کو کوئی بھی Brand Conscious نہیں تھا۔یہ آخر کیا ہو گیا۔اس کی وجہ بھی یہی میڈیا ہے۔ ان کمپنیوں نے میڈیا کے ذریعے اپنے برانڈز کو ایسے انداز میں پیش کیا کہ ہماری نئی نسل کے لاشعور میں یہ برانڈز نقش ہو گئے اور جب ان کمپنیوں کو اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ اب فلانے معاشرے میں یہ Brands جانے پہچانے اور پسند کیے جارہے ہیں تب ان کمپنیوں نے اس معاشرے میں اپنے دفاتر کھول دیئے۔اور جب وہ دفاتر کھلتے ہیں تو معاشرہ تو پہلے سے ہی ان کا دیوانہ ہوتا ہے اور وہاں پر ایک دیوانگی کی حد تک رش نظر آتا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ یہ کمپنیاں کسی ایسے ملک میں دفتر نہیں کھولیں گی جہاں ان کی مصنوعات کیلئے گاہک پہلے سے موجود نہ ہوں۔اور یہ کام صرف میڈیا کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے۔

یہ اشتہارات جو کہ نفسیاتی ماہرین کے زیرِ سایہ بنتے ہیں اتنے زیادہ موثر ہوتے ہیں کہ ایک عام سی چیز کو بھی ایسے انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ لوگوں کے ذہن پر اثر کر جائے۔مثال لیجئے LG کی’ جو کہ کچھ ہی سالوں میں الیکٹرانکس کی دُنیا میں ایک بڑا نام بن گیا۔کیا آپ کو پتہ ہے کہ اس کا پرانا نام Gold Star تھا جو کہ ایک عام اور ناکام برانڈ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا نام بدل دیا گیا۔LG بننے کے بعد نئی نسل کو نشانہ  بناتے ہوئے اس کو پوری دُنیا میں اسے انداز سے تشہیر کیا گیا کہ لوگ یہ بھول ہی گئے کہ یہ کونسا brand تھا۔دیکھ لیجئے کہ میڈیا کتنا طاقتور ہے اور ایک ناکام brand کو کامیاب اور کامیاب brand کو ناکام بنا سکتا ہے۔

اسی طرح مثال Nokia کی لیجئے کہ کچھ ہی سالوں میں اپنی Media Campaign کے ذریعے پوری دنیا میں Ericson’ Sony’ Motorolla’ Siemens جیسے ناموں کو پیچھے چھوڑ گیا۔Nokia نے بھی ٹارگٹ نئی نسل کو ہی بنایا کیونکہ اس نسل کی دُنیا میں آبادی زیادہ ہے اور یہی نسل جو کچے ذہن کی ہونے کی وجہ سے آسانی سے اثر قبول کر لیتی ہے۔ جبکہ بڑی نسل کو جو کہ مدتوں تک Ericson  یا  Motorolla ‘ Siemens کے  نام استعمال کرتے آئے ہوں اُن کو اپنی وفاداریاں  بدلتے ہوئے وقت لگتا ہے۔

ان اشتہارات میں واضح ٹارگٹ نئی نسل کوبنایاجاتاہے۔جیسا کہ آپ کے بچے اشتہاروں میں McDonalds کو دیکھ کر یہ شور مچا دیں گے کہ ہم نے McDonaldsہی جانا ہے۔اب آپ کو مجبوراً اُن کو وہاں پر لے جانا پڑے گا اور آہستہ آہستہ ایک دن  خود بھی آپ یہی کھانا کھاناشروع کر دینگے۔

میڈیا کا صرف ہماری سوچوں پر ہی نہیں بلکہ پوری زندگی پر اثر ہے۔ یہی McDonalds والی مثال لے لیجئے۔ایک زمانے میں ہر گھر میں کھانا رات کو خاندان اکٹھا کھاتا تھا۔یہی موقع ہوتا تھا کہ تمام خاندان اکٹھا ہوتا تھا۔ والدین’ بچے ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے۔ آپس میں پیار محبت بڑھتا تھا۔ اب Fast Food کے آنے کے بعد شہروں میں بہت کم ہی گھرانے ایسے ہونگے جہاں پرFamily Dinnerکا رواج برقرار رہ سکا ہو۔میوزک کے شور میں کھانا کھانے یا ٹی وی دیکھتے ہوئے کھانا کھانے کا رواج بڑھ چکا ہے اور کسی کے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے کا وقت ہی نہیں۔خود سوچئے کہ اس سے معاشرے میں کیا اثرات پیدا ہو رہے ہیں۔

پچھلے سال میں نے ایک بزنس کالج میں پڑھاتے ہوئے اپنے کلاس کے طلباء کو ایک پراجیکٹ دیا کہ تحقیق  کریں کہ  وہ  طلباء جو کہ “A” گریڈز لیتے ہیں اور وہ جو کہ “C” گریڈز لیتے ہیں اُن کی عادتوں میں کیا فرق ہے۔

اس ریسرچ کے مطابق “A”گریڈز اور “C”گریڈز طلباء کی عادتوں میں جو ایک بنیادی فرق نظر آیا وہ اُن کا Media کا استعمال تھا۔ اس میں یہ بات سامنے آئی وہ یہ کہ “A” گریڈز لینے والے طلباء ہفتہ وار اوسطً پانچ یا چھ گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں۔اور اُس میں بھی وہ تعلیمی چینلز یعنی کہ Animal Planet’ National Geographic’  Discovery Channel’ History Channels’Travel Channels’Tech TV ‘  Reality TV ‘  BBC’  CNN دیکھتے ہیں۔جبکہ “C”گریڈز طلباء میں ہفتہ وار اوسطاً  پچیس  سے تیس  گھنٹے ٹی وی دیکھنے کا رجحان نظر آیا۔نہ صرف یہ بلکہ ان کے پسندیدہ چینلز بھی بالکل مختلف تھے۔اور وہ یہ وقت انڈین اور انگریزی فلمیں اور میوزک چینلز دیکھتے ہوئے گزارتے تھے۔

اسی طرح”A” گریڈز والے طلباء ہفتہ وار سات سے آٹھ گھنٹے انٹرنیٹ کا استعمال کرتے تھے اور اس وقت میں بھی اُن کا مقصد علمی ریسرچ ہوتا تھا۔جبکہ”C”  گریڈ طلباء ہفتہ وار اوسطً پندرہ  گھنٹے انٹرنیٹکا استعمال کرتے ہوئے نظر آئے اور اُس وقت میں بھی وہ زیادہ تر وقت Chatting اور فحاشی اور بے راہروی پھیلانے والی ویب سائٹس کے نظارے کرنے اور مختلف گندی تصاویر ڈائون لوڈ کرنے میں صرف کرتے تھے۔

میں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ ٹی وی کا استعمال بند کر دیا جائے میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اچھے تعلیمی چینلز کے محدود استعمال سے مثبت اثرات نظر آتے ہیں۔اس لئے اوپر بیان کیے گئے تعلیمی اور معلوماتی چینلز کو ایک حد تک دیکھنا نقصان دہ نہیں ہے لیکن تفریح برائے تفریح اور اس پر گھنٹوں صرف کرنا سوائے تباہی کے اور کچھ نہیں دے گا۔

اسی طرح ایک ریسرچ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہمارے معاشرے میں تیس سال سے کم عمر کے لوگ اوسطاً ہفتہ وار چالیسگھنٹے TVدیکھتے ہیں۔جبکہ اسی Age Group کی یہی شرح امریکہ اوریورپ میں دس گھنٹے سے بھی کم ہے۔

اسی طرح یہ بھی بات پتہ چلی کہ کامیاب لوگ ہفتہ وار 10 گھنٹے سے کم TVدیکھتے ہیں اور وہ اس وقت میں بھی وہ تعلیمی اور معلوماتی چینلز ہی دیکھتے ہیں۔یہ TVکے لامحدود استعمال کی وجہ ہی تو ہے کہ خاندان ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔بچے اپنے کمروں سے نکلتے ہی نہیں۔ایک ہی خاندان میں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کا وقت نہیں ملتا۔میاں بیوی ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ مائیں اپنے بچوں کی پرورش کرنے کی ذمہ داری TV ‘  فلموں اور کارٹونوں پر ڈال کر سکون سے دوسرے TV پر فلمیں دیکھتی رہتی ہیں۔تو صاف ظاہر ہے کہ فلمی اداکار اور شو بزنس کے لوگوں کو دیکھ دیکھ کر یہ معاشرہ ویسے ہی لوگ پیدا کرے گا۔

صاف ظاہر ہے کہ رومانٹک فلمیں دیکھ کر محمد بن قاسم’  ٹیپوسلطان ‘  قائد اعظم اور علامہ اقبال جیسے لوگ تو نہیں بن سکتے’ وہی بنیں گے جن کو دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں۔دماغ ایک مشین کی طرح ہے جیسے مشین میں گھٹیا خام مال ڈال کر گھٹیا مصنوعات ہی بن سکتی ہیں۔اسی طرح دماغ کی مشین میں جس طرح کی سوچیں اور پیغام جائیں گے انسان بھی ویسا ہی بنے گا۔

یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ سارا دن گانے دیکھے جائیں اور واہیات رسالے پڑھے جائیں اور توقع یہ کی جائے کہ ہمارا بیٹا یا بیٹی عبدالستار ایدھی یا مدرٹریسا بن جائیں گے۔

سالہا سال سے ہمارے معاشرے میں Leadership Crises کی بات ہو رہی ہے لیکن ذرا تو یہ سوچئے کہ کیوں ہر دہائی میں پہلے سے کم اور کم تر معیار کے لیڈر پیدا ہو رہے ہیں اس دنیا میں اس کے باوجود کہ تعلیم کے ذرائع کئی گناہ بڑھ چکے ہیں۔

ٹھیک ہے کہ اس کی کئی وجوہات تھیں لیکن ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اسی میڈیا کے ذریعے نئی نسل کے  Role Models  ہی بدل دیئے گئے ہیں۔کسی زمانے میں بچوں کے  Role Models  ٹیپو سلطان’  شیخ عبدالقادر جیلانی’  محمد بن قاسم’  قائداعظم ‘  علامہ اقبال تھے۔اب ہماری نئی نسل کے Role Models یہ لوگ نہیں بلکہ فلمی اداکار اور اداکارائیں’گلوکار اور گلوکارائیں ‘ ڈانسرز ‘کھلاڑی اور معاشرے کے بدچلن لوگ بن چکے ہیں۔یہ میڈیا ہی تو ہے جس نے ان کے رول ماڈلزکو ہی بدل ڈالا۔

اخبارات کو دیکھ لیجئے کہ اس میں قومی ہیرو کی تصاویر اور کالمزکتنے ہوتے ہیں۔جب کہ پورا اخبار ماڈرن ایکٹرز اور گلوکارائوں کی تصویروں اور کہانیوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔

چلیئے اب پڑھنے کی بات چھڑی تو اسی پر بات آگے بڑھاتے ہیں۔سننے اور دیکھنے کا اثر تو آپ کو معلوم ہو گیا۔اسی طرح پڑھنے کا اثر بھی مثبت اور منفی دونوں کا ہو سکتا ہے۔اگر آپ باکردار’ تعلیمی’ ادبی اور نیشنل ہیروز کے بارے میں پڑھیں گے تو آپ میں ویسا بننے کا ہی شوق پیدا ہوگا اور آپ کی زندگی کی ترجیحات بھی ویسی ہی بن جائیں گی۔

ذرا سوچئیے اور دیکھئے کہ  R.L. Stine’ Harry Potter ‘ Mills & Bones’Goose Bumps اور  Harold Bobbinsکی کتابیں پڑھ پڑھ کر ہماری نئی نسل کیا بن رہی ہے۔ان کتابوں کو پڑھیئے اور اس کے بعد اپنے بچوں کے رویے کو ملائیے ان کتابوں میں بیان کی ہوئی خیالی داستانوں کی تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ اُن کی مختلف عادات اور رویوں کی وجہ کیا ہے اور یہ عادتیں اور رویے کہاں سے آرہے ہیں۔

اسی طرح دیکھ لیجئے کہ ہمارے لوگ خبروں پر’ چاہے وہ اخباروں میں ہوں یا ٹی وی پر کتنا یقین کرتے ہیں۔چاہے وہ جھوٹی ہوں یا سچی۔

یہ اسی میڈیا کی وجہ ہی تو ہے کہ جس کسی کو چاہے چور ڈاکو یا دہشت گرد بنا دیا جاتا ہے اور جس کسی کو دل کرے ہیرو بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ آج کل تو پریس میڈیا کے بارے میں یہی سننے میں آتا ہے کہ وہ ایک اہم ذمہ داری نہیں بلکہ ایک کاروبار بن چکا ہے۔

یہ بات اللہ تعالیٰ کو معلوم تھی اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مسلمانوں کو اس سے آگاہ کیا۔ سورةالحجرات کی آیت نمبر ٦میں ارشاد ہے:

”  اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اُٹھائو۔  ”   (سورةالحجرات : ٦)

اب سوچئے کہ ہم میں سے کتنے لوگ کسی خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ آج کل کے لوگوں کو قرآن پر کم اور اخباروں پر زیادہ یقین ہے۔

تو جناب اب آپ پر یہ تو واضح ہو چکا ہوگا کہ میڈیا کا ہماری زندگی غرضیکہ عادات’ اخلاقیات’ آداب اور عادتوں پر کیا اثر ہے۔ٹھیک ہے کہ اس کا الزام میڈیا یا ان بااثر لوگوں کو دیا جاسکتا ہے جو کہ اس کے ذمہ دار ہیں لیکن الزام دینا اس مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ان لوگوں کو تو اپنے اعمال کا صلہ اللہ سے ملے گا ہی جیسے کہ قران پاک میں اللہ کا وعدہ ہے۔

سورة النور کی آیت نمبر ١٩میں ارشادِ ربانی ہے :

”  یقینا جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنوں (کے معاشرے) میں بے حیائی پھیل جائے ان کیلئے سزا ئے دردناک ہے دُنیا میں(بھی) اور (آخرت) میں (بھی) اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور تم علم نہیں رکھتے۔  ”   (سورة النور : ١٩)

اس کے علاوہ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آنحضرتۖ نے فرمایا:

”  جو شخص بے حیائی کی بات کرے یا اس کی تشہیر کرے دونوں گناہوں میں برابر ہیں۔  ”

اور اس کی سزا اس سے پہلی آیت میں بیان ہو چکی ہے۔

سورة النور کی اس آیت سے دردناک عذاب کی سزا کا پتہ چلتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ یہ عذاب دنیا اور آخرت دونوں میں ہے۔اب آپ میں سے کئی حضرات یہ بحث کر سکتے ہیں کہ ایسے لوگ تو معاشرے میں بڑے خوشحال نظر آتے ہیں۔

تو جناب اس کا جواب تو یہ ہے کہ آپ کو جو نظر آتا ہے وہ صرف ظاہری خوشحالی اور خوشی ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ اسی آیت میں آپ کو یہ بتا رہا ہے کہ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور تم علم نہیں رکھتے۔آپ کو کیا علم کہ اُن کے گھروں کا اندر سے کیا حال ہے۔یادرکھیئے کہ قانونِ قدرت یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو نقصان پہنچائے بغیر کسی دوسرے کو نقصان پہنچا نہیں سکتے۔

معاشرے میں جو لوگ یہ آگ لگا رہے ہیں سب سے پہلے اُن کے اپنے کپڑے اس آگ میں جل رہے ہیں۔ جوبے حیائی وہ معاشرے میں پھیلا رہے ہیں اُن کا اپنا گھر اور خاندان اس آگ سے محفوظ نہیں ہے۔

ان کی شکلوں پر ان کی اس بے چینی اور پریشانی کا عکس موجود ہے۔بس ذرا غور سے اس کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔

جناب بات یہ ہو رہی تھی کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔اگر معاشرے کا دستور ہی بدل جائے تو ا س میں اس بیچارے کا کیا قصور جو کہ یہ سب کچھ کرنا ہی نہیں چاہتا۔اب وہ  بیچارہ کیا کرے اگر اس آگ کی حرارت اور شعلے اس کے گھر کو جلانا شروع کردیں۔ جناب صاف ظاہر ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے کسی ایسی چیز کی توقع کر ہی نہیں سکتا جو کہ اُس کے اختیار یا ہمت سے باہر ہو یا کہ اس نے اُن کو اس کی صلاحیت ہی نہ دی ہو۔

سورة المائدہ کی آیت نمبر ١٠٥میں ارشادِ ربانی ہے:

”  اے ایمان والو! اپنی فکرکروجب تم راہِ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔اللہ ہی کے پاس تم سب کو جانا ہے پھر وہ تم سب کو بتلا دے گا جو کچھ تم سب کرتے تھے۔  ”   (سورة المائدہ : ١٠٥)

اس آیت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو لوگ ان مضر اثرات سے بچنا چاہتے ہیں اگر وہ خود راہِ راست پر ہیں اور اس کیلئے اقدامات کریں یعنی کہ محنت’ جستجو کریں اور ہمت کریں تو وہ اس کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔

اس کیلئے ہمیں شعوری اور لاشعوری دونوں طرح سے بچنے کیلئے اقدامات کرنے پڑیںگے۔

پہلے دیکھئے کہ ایسے کیا اقدامات ہیں جو کہ شعوری طور پر کیے جا سکتے ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ آڈیوپروگرام اپنے سب گھر والوں کو پڑھنے کیلئے دیجئے اور اس کے بعد اپنے خاندان میں اس کے بارے میں بات چیت کیجئے۔ایک دوسرے کے سوالوں کا جواب دیجئے اور بچوں کو سمجھنانے کی کوشش کیجئے نہ کہ ان پر سختی کیجئے۔

اس کے بعد اپنے خاندان میں سب کے سامنے اس بات کا اعلان کیجئے کہ آج کے بعد سے آپ خود انڈیا کے چینلز کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔اسی طرح میوزک اور بے کار قسم کی فلموں کے چینلز کا بائیکاٹ کر دیجئے۔

اگر کوئی خاص قسم کی تاریخی یا تعلیمی فلم ہو تو اس کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

لیکن ایسا بھی آپ سارے خاندان کے ساتھ مل کرہی کیجئے۔

اگر TV کمرے کے علاوہ کسی اور جگہ آپ کے اور آپ کے بچوں کیلئے علیٰحدہ TVموجود ہوں تو ان کو بیچ ڈالیے۔گھر میں ایک TVسب کیلئے کافی ہے۔

گھر والوں کے ساتھ مل کر معلوماتی اور تعلیمی چینلز دیکھئے۔جو پروگرامز ہوتے ہیں ان کا تجزیہ کیجئے اور اس کا فیصلہ کیجئے کہ کونسے پروگرامز آپ کے خاندان کی ضرورت کے مطابق ہیں۔اُن کی لسٹ بنا لیجئے۔

گھر والوں کے ساتھ شامل ہو کر TV دیکھنے کے اوقات کا تعین کیجئے جیسا کہ ہر چیز کے اوقات ہیں۔اس بات کی قطعی اجازت نہ دیجئے کہ TV سارا دن چلتا رہے۔مثال کے طور پر فیصلہ کیجئے کہ چوبیس گھنٹوں میں سے صرف تین گھنٹے TVلگے گا جس وقت گھر کے سارے افراد اکٹھے بھی ہو سکیں اور اپنی معلومات اور علم میں اچھے پروگرامز کے ذریعہ اضافہ بھی کر سکیں۔ان اوقات کے علاوہ TV کو بند رکھیئے۔ضروری نہیں کہ تمام لوگ اس وقت TVضرور دیکھیں۔لیکن یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ان اوقات کے علاوہ  TV نہیں لگے گا۔

جو وقت ابTVکو کم کرنے کے اوقات میں سے بچ گیا ہے اس وقت کا کوئی اچھا سا مصرف نکالیے۔ یعنی کہ باپ بیٹا Joggingکرینگے’  نماز پڑھنے جائیں گے’  Tennis کھیلیں گے اور ماں’  بیٹی لان میں اکٹھی ہونگی۔ Cooking ‘  Baking کریں گی یا کسی تعلیمی یا ادبی سرگرمی میں حصہ لیںگی  تاکہ اس وقت جب کہ گھر میں TV چل رہا ہوتا تھا اب کوئی بھی فارغ نہ ہو بلکہ اور اچھی سرگرمیوں میں مصروف ہو۔

گھر میں ہر مہینے ہر شخص کیلئے ایک اچھی معلوماتی’ تعلیمی کتاب پڑھنے اور اس کے دوسروں کو سنانے کی عادت اپنائیے۔

اس طرح آدھا گھنٹہ روزانہ ایک فرد قرآن پاک کی کچھ آیات کو پڑھے اور اس کا ترجمہ اور تشریح دوسروں کو سنائے۔

اس کے علاوہ آپ اپنے گھر اور ماحول کے مطابق اور سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں۔ TV کے منفی اثرات سے بچنے کے علاوہ اس کا ایک اور فائدہ ہوگا اور وہ یہ کہ کچھ ہی ہفتوں میں آپ پر واضح ہو جائے گا کہ گھر کے تمام افرا د ایک دوسرے کے زیادہ قریب آگئے ہیں۔

ہاں ایک بات میں اس بارے میں اور کرتا چلوں کہ اکثر گھروں میں والدین اور دیگر بڑے مرد و خواتین یہ سمجھتے ہیں کہ تربیت کی ضرورت صرف اولاد کو ہے ان کو نہیں’ اولاد کو توان چیزوں سے منع کرتے ہیں لیکن ان کے کمرے میں خود فلمیں اور گانے چل رہے ہوتے ہیں۔اس بات کا خیال رہے کہ ایسا نہ ہونے پائے۔کیونکہ سورة الانعام کی آیت ١٥١میں ارشاد ہے:

”  اور بے حیائیوں کے پاس بھی نہ جائو (خواہ) وہ اعلانیہ ہوں اور(خواہ) پوشیدہ۔  ”   (سورة الانعام : ١٥١)

یہ سوچنا کہ دوسروں کو اس کا علم نہیں ہوگا ٹھیک نہیں کیونکہ چاہے دوسروں کو علم نہ ہو اللہ کو علم ہے اور اگر آپ خود یہ کرتے رہے تو یاد رکھیئے کہ جو نفرت آپ کو اس سے ہونی چاہیے’ جس کی وجہ سے گھر کے دیگر لوگوں میں تبدیلی آسکتی ہے وہ آپ کے رویہ میں نہیں آئے گی۔دوسری طرف آپ کی اولاد میں آپ کے خود یہ پروگرامز دیکھنے اور اُن کو منع کرنے کی وجہ سے رنجش بڑھے گی۔اس لئے ایسا نہ کیجئے گا۔

اس طرح آپ اپنی کار میں سے تمام گانوں کی کیسٹس کو نکال دیجئے اور ان کی جگہ مختلف دینی’ تعلیمی’ ادبی اور معلوماتی کیسٹس جو کہ آپ کے شہر میں اب وافر مقدار میں موجود ہیں رکھیے اور ان کو ہی سنیے۔

اس بارے میں ایک بات اور واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں جیسا کہ پہلے بتایا کہ ماحول کا اثر ضرور ہوتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کی ذمہ داری لگا دی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بدلے اور اس کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی بدلنے کی کوشش کرے بغیر لڑائی یا ناخوشگواری پیدا کیے ہوئے۔

سورة العصر میں ارشادِ ربانی ہے:

”  بے شک انسان خسارے میں ہے۔ماسوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک کام کیے اور حق بات کی تلقین کی اور صبر کی۔  ”

دیکھ لیجئے کہ جب آپ نے نیک کام شروع کر دیئے تو آپ اب اپنے ماحول میں’ رشتہ داروں میں’گردونواح میں’ لوگوں کو تلقین بھی شروع کر دیں۔یعنی کہ ماحول بدلنے کی کوشش شروع کر دیجئے۔یہی آڈیوپروگرامز لوگوں کو تحفے میں دیں اور آپ کی اس تبدیلی سے جو خو شگوار اثرات  آپ کی زندگی میں آئے ہیں وہ لوگوں کو بیان کیجئے۔اس طرح یہ ہو گاکہ آپ کے بچے بہتر محسوس کرینگے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ وہ اس کام میں اپنے آپ کو اکیلا محسوس نہیں کرینگے۔اور آہستہ آہستہ ان کے دماغ اور دلوں میں سے میڈیا کے منفی اثرات ختم اور بے حیائی کے خلاف نفرت بڑھنی شروع ہو جائے گی۔

اس کے علاوہ آپ اعلانیہ طور پر دن میں کئی بار ڈھکے کھلے طریقہ سے اس طرح کے پروگراموں کو بُرا کہنا شروع کر دیجئے۔اس سے بھی یہی فائدہ ہو گا کہ آپ کے دماغ سے آہستہ آہستہ منفی اثرات ختم ہونا شروع ہو جائیں گے اور وہ تمام بُرائیاں جو کہ آپ کے دل و دماغ نے قبول کرنا شروع کر دی تھیں آہستہ آہستہ آپ کے دماغ میں دوبارہ بُرائی بن جائیںگی۔

اس کے علاوہ آپ ان منفی اثرات کا اثر ضائع کرنے کیلئے ان لوگوں سے میل جو ل بڑھا دیجئے جو کہ ان چیزوں کو بُرا سمجھتے ہیں۔اس طرح باکردار لوگوں سے ملیے۔ آپ کے شہریا محلہ میں جو دینی اور تعلیمی سرگرمیاں ہوتی ہیں ان میں زیادہ سے زیادہ شریک ہوں اور حتیٰ کہ انہی لوگوں کو اپنا دوست بنائیے۔چاہے آپ کو شروع میں کسی وجہ سے یہ لوگ پسند نہ ہوں۔ یاد رکھیئے کہ آہستہ آہستہ آپ کا دماغ ان کو قبول کرلے گا اور اُن لوگوں کی خامیاں کم اور اچھائیاں زیادہ نظر آنی شروع ہو جائیں گی۔

اس بارے میں مشکوٰة شریف کی ایک حدیث یاد رکھیئے’ نبی پاکۖ نے فرمایا کہ

”  جو جن لوگوںکی نقل کرتا ہے ویسا ہی ہو جاتا ہے۔  ”

تو اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے ان لوگوں کی نقل شروع کردیں جو کہ ان بُرائیوں کو بُرائی سمجھتے ہیں اور اپنے گھر میں ویسا ہی رویہ اپنائیے جیسا کہ آپ کو ان لوگوں میں نظر آئے جیسا کہ آپ بننا چاہتے ہیں۔

اسی طرح ان لوگوں یا ماحول سے دور رہنے کی کوشش کیجئے جو کہ اُن کے برعکس ہو جو کہ آپ اپنے گھر میں بنانا چاہتے ہیں۔

تو جناب یہ باتیں تو ہو گئیں اُن شعوری اقدامات کی جو کہ آپ میڈیا کے منفی اثرات کو زائل کرنے کیلئے کر سکتے ہیں۔اگر آپ نے یہ کر لیا تو کچھ ہی ماہ میں آپ کو مثبت اثرات مل جائیںگے۔

سات سال پہلے جب میں نے اپنے گھر میں انڈین ٹی وی چینلز اور میوزک چینلز بند کر دیئے’  آپ سوچ نہیں سکتے کہ ایک ہی سال میں اس سے ہمارے گھرانے کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی۔

ہمارے بچوں کے کپڑے’ کھانا’ بات چیت ‘ زبان غرضیکہ ہر چیز ہی بدل گئی۔یہاں تک کہ ہمارے گھر میں ہم سب اب مہندیوں’ ڈانس پارٹیز’ میوزیکل کنسرٹس پر جانا پسند ہی نہیں کرتے۔اب وہی بچے اگر کہیں کسی کو یہ چینلز دیکھتے ہوئے دیکھ لیں تو اُن کو ان پر ترس آتا ہے اور اپنے اوپر ہنسی کہ یہ گھٹیا پروگرام وہ دیکھا کرتے تھے۔اب تو یہ حال ہے کہ انہیں انڈین چینلز’گانوں سے نفرت ہے۔ہمارے پورے گھرانے میں کوئی انڈین گانے سنتا یا ٹی وی پروگرامز دیکھتا نظر نہیں آتا۔تو جناب یہ خوشگوار اثرات آپ کے خاندان میں بھی آسکتے ہیں بس تھوڑی سی ہمت اور محنت کی ضرورت ہے۔

اچھا جناب یہ بات تو تھی شعوری اقدامات کے بارے میں’  اب ایک سوال یہ آتا ہے کہ ماحول کے اثر کو جو کہ ہمارے لاشعور کو متاثر کرتا ہے اس کو کیسے زائل کیا جائے یا اس کے اثر سے کیسے بچا جائے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی گزارش کی کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے پر زیادتی نہیں کرتا۔ٹھیک ہے ماحول کا اثر ہوتا ہے اور ہمارا لاشعور راڈار کی طرح ہر چیز ریکارڈ کرتا چلا جاتا ہے۔لیکن کمپیوٹر کی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ہم شعوری طور پر اپنے لاشعور میں جاکرریکارڈ ہو جانے والی فضول معلومات کو ضائع کردیں۔اگر ہم نے یہ شعوری کوشش نہ کی تو لاشعور میں جمع ہونے والی یہ معلومات ہمارے رویہ کو متاثر کریںگی۔

جہاں تیس سے پینتیس سال پہلے یہ سائنسی دریافت ہوئی کہ لوگوں کو علم نہ ہوئے بغیر میڈیا کے مختلف پروگراموں کے ذریعے لوگوں کی ذہنیت ‘سوچ اور رویوں کو کیسے بدلا جا سکتا ہے اور اسی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے میڈیا ایک تفریح سے ہتھیار کی شکل اختیار کر گیا۔دلچسپ حقیقت تو یہ ہے کہ اسی وقت دماغی سائنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ شعوری طور پر لاشعور میں جمع ہونے والی فضول معلومات جو کہ آپ اپنے لاشعور میں جمع نہیں کرنا چاہتے آپ اُنہیں ضائع کر سکتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ اس بارے میں ہمارے دین نے ہمیں تقریباً ١٤٠٠سال پہلے آگاہ کر دیا تھاجس کو شاید لوگ سمجھ نہ سکے۔

سورة القصص کی آیت ٥٥میں مومن کی نشانی بیان کرتے ہوئے ارشادِ ربانی ہے کہ :

”  جب بے ہودہ بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے  ” تم پر سلام ہو”  ہم جاہلوں سے (اُلجھنا) نہیں چاہتے۔  ”   (سورة القصص : ٥٥)

تو جناب لاشعوری طور پر جو کچھ آپ سن لیتے ہیں یا دیکھ لیتے ہیں اُس کے مضر نقصانات سے بچنے کیلئے آج کی دماغی سائنس نے جو دریافت کیا ہے وہ اس آیت میں ہمیں ١٤٠٠سال پہلے بتا دیا گیا تھا۔وہ کیا ہے ذرا ملاحظہ فرمائیے:

جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اگر آپ نے کچھ ایسا دیکھ لیا’سن لیا یا پڑھ لیا جو کہ اچھا نہیں تھا۔دماغ کو یہ علم نہیں کہ وہ اچھا ہے یا بُرا ہے اُس نے تو یاداشت میں لکھ لینا ہے۔اب یہ کام آپ کا ہے کہ اس کے فوراً بعد اپنے دماغ کو یہ بتا دیں کہ یہ بُرائی ہے اور آپ اس کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔اگر آپ نے ایسا نہ کیا اور نہ کہا تو آپ کا دماغ تو ایک وفاشعار خدمت گزار کی طرح اپنا کام کرتے ہوئے یہ یاداشت میں لکھ لے گا اور آہستہ آہستہ وہ بُرائی بُرائی نہیں رہے گی اور ایک دن وہ فعل آپ بھی کرنا شروع کر دینگے۔

یاد کیجئے وہ دودھ اور ملازم والی مثال جس میں آپ کے ملازم نے آپ کو روزانہ رات کو دودھ مانگتے اور پیتے دیکھا اور جس دن آپ نے دودھ نہ مانگا وہ وفا شعاری نبھانے کیلئے آپ کیلئے دودھ لے آیا۔

یاد کیجئے کہ ملازم نے ابھی تو صرف اپنی وفاداری یا ذمہ داری نبھائی ہے دودھ لانے کی حد تک۔ابھی آپ نے دودھ پیا نہیں۔اب آپ یہ دودھ پینا چاہتے ہیں یا واپس کرنا چاہیں گے یہ آپ پر منحصر ہے۔

ذرا سوچئے کہ اگر آپ نے اٹل فیصلہ کر لیا ہے کہ آج سے آپ نے دودھ نہیں پینا تو ملازم آپ کو زبردستی دودھ پلا نہیں سکتا۔یہ بات یادرکھیئے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا اور اچھائی بُرائی کا شعور دیا اور اپنے لئے چننے کا اختیار اورصلاحیت بھی دی۔اب اگر آپ نے دودھ نہیں پینا تو آپ کیا کریں گے آپ دو اقدام کریں گے۔

ایک تو آپ کہیں گے کہ میں نے دودھ نہیں پینا۔

اور آپ کسی قیمت پر بھی دودھ نہیں پئیں گے۔

اور دوسرا یہ کہ آپ اپنے ملازم کو سمجھا دینگے کہ آپ نے آج سے دودھ نہ پینے کا فیصلہ کیوں کیا ہے تاکہ وہ آپ کو روزانہ مجبور نہ کرے۔

ٹھیک ہے نا جناب یہی کریں گے نا۔

اب جناب اس آیت کی طرف آجائیں۔

”  جب بے ہودہ بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے  ” تم پر سلام ہو”  ہم جاہلوں سے (اُلجھنا) نہیں چاہتے۔  ”

اس میں بھی یہی بتایا جا رہا ہے۔

نمبر ایک کہ جب بیہودہ  بات کان میں پڑتی ہے یا دیکھ لی جاتی یا پڑھ لی جاتی ہے تو اس سے کنارہ کر لینا چاہیے۔یعنی کہ وہ کام فوراً چھوڑ دینا چائیے’  مزے لینے کیلئے اس کو مکمل نہ ہونے دیا جائے  یہ سوچ کر کہ چلیں آج تو یہ فلم مکمل کر لوں۔دودھ والی مثال میں یہ دودھ نہ پی لینے کے مترادف ہو گا۔دوسری بات اس آیت میں یہ ہے کہ صرف کنارہ نہیں کرتے بلکہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے۔

یعنی کہ آواز سے اپنے دماغ کو یہ کہہ دیجئے کہ یہ بُرائی ہے اور آپ کو ناپسند ہے۔یعنی اگر کوئی چیز ایسی نظر سے گزر جائے یا پڑھ لیں یا سنائی دے تو فوراً اُس کو چھوڑنے یا اس جگہ سے نکلنے کے ساتھ ہی اپنی نفرت کا اظہار لفظوں کے ذریعے بھی کر دیا جائے۔مثال کے طور پر استغفار یہ کیا  بیہودہ  بات ہے۔لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔

اس سے آپ کے شعور کو یہ حکم مل جائے گا کہ وہ آپکے لاشعور میں ہونے والی بات کے ساتھ ہی یہ بھی لکھ دے کہ یہ بُرائی ہے اور آپ کو سخت ناپسند ہے۔دودھ والی مثال میں ملازم کو یہ کہنا کہ آج سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں نے دودھ نہیں پینا۔کسی جگہ کوئی آپ کو شراب کی دعوت دے تو یہ کہنا کہ جناب میں تو اس لعنت سے دور رہنا چاہتا ہوں آپ اس کو اپنے تک محدود رکھیئے۔

اس آیت میں تیسرا حصہ یہ ہے کہ تم پر سلام ہو ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے یعنی کہ یہ کہنا کہ اللہ اس کو نیک ہدایت دے۔اس کو اس بُرائی سے بچائے وغیرہ  اس شخص کو اگر موقع ملے تو اس سے باز کرنا اور خود بھی باز رہنا اس انداز میں کہ بات لڑائی تک یا تکرار تک نہ پہنچے۔

تو جناب یہ ہے وہ طریقہ جس سے آپ شعوری طور پر میڈیا کے لاشعوری نقصانات سے بھی بچ سکتے ہیں۔

اُمید ہے کہ آپ پر اب یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہو گی کہ معاشرہ ایسا کیوں بن چکا ہے جیسا کہ نظر آتا ہے۔اگر آپ واقعی ایک باشعور شہری ہیں تو ‘آئیے آج ہم سب مل کر وعدہ کریں کہ آج سے اپنے گھر’ اپنے گردونواح اور اپنے ملک سے میڈیا کے منفی اثرات کے بارے میں لوگوں کا شعور اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ اور اپنی نئی نسل کو ان مضر اثرات سے بچانے کا جہاد شروع کریں گے۔اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے جیسا کہ پہلے سونیا گاندھی کے بیان سے واضح ہوا۔یاد رکھیئے کہ پاکستان ٢٧رمضان المبارک ١٤سے ١٥ اگست ١٩٤٧ئکی درمیانی رات جمعرات کے دن بنا اور دُنیا کا واحد ملک ہے جو کہ اسلام کے نام پر ایک نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔اس کی حفاظت تو انشاء اللہ اللہ تعالیٰ ضرور کرے گا۔لیکن ساتھ ہی ساتھ ہماری انفرادی ذمہ داری جو ہے کہ ہم اللہ سے کیے گئے وعدوں کو نبھائیں’ اس کو نظر انداز مت کیجئے گا۔