Kill Anger before it Kills You (غصّے کو ختم کیجئے اس سے پہلے کے یہ آپ کو ختم کر دے)

Transcription of Faiez Seyal’s Urdu best-seller Audio Program “Kill Anger before it Kills You” from 1995

پچھلے سال ہم نے ایک ریسرچ کی جس کے مطابق 90فیصد سے زائد لوگ کسی نہ کسی طرح کے غصّے میں رہتے ہیں۔یہ غصّہ رشتے داروں پر’دوستوں پر’اپنے Colleagues کے ساتھ’کمپنی کے ساتھ’اپنے ماتحتوں پر یا Boss کے ساتھ’بچوں کے ساتھ’ بیوی یا خاوند کے ساتھ’اپنے ہمسایوں کے ساتھ یا پھر معاشرہ کی کسی کمی کے باعث’ گورنمنٹ کی پالیسیوں سے’نظامِ تعلیم یا اور کچھ نہیں تو اپنی ہی کسی کوتاہی یا ناکامی کا غصّہ۔

یہ غصّہ اتنی شدت کا ہے کہ کئی لوگوں کی زندگیاں اپنے غصّہ کی وجہ سے تباہ ہو گئی ہیں یا ہو رہی ہیں۔کئی لوگوں کی تعلیم’تجربہ’اُن کی خوبیاں’اُن کی شخصیت اُنکے کسی کام نہیں آتی صرف اُن کے غصّہ کی وجہ سے۔

ہمیں اپنے ہر طرف ایسے لوگ کثرت سے ملتے ہیں جو کہ چھوتی چھوٹی باتوں پر غصّہ سے آگ بگولا ہو جاتے ہیں اور پھر وہ کیا کرتے ہیں اُن کے اختیار میں نہیں رہتا۔

سڑکوں پر بھی آپ کو ایسے لوگ کثرت سے ملتے ہیں جو کہ اگر ٹریفک جام ہو یا اُن کا کوئی راستہ روک دے تو غصّے سے بپھر جاتے ہیں اور اگر کچھ اور نہ کر سکیں تو اپنی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے گالیاں دے کر یا دانت چبا کر غصّے کا اظہار کرتے ہیں۔

روز اخبارات بھی ایسی خبروں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں میں کتنا غصّہ ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر کوئی کسی کو گولی مار دیتا ہے یا پھر کوئی خودکشی کر لیتا ہے۔اور تو اور غصّہ کی بدولت کئی والدین اپنے بچوں تک کو مار دیتے ہیں۔

جیل میں جا کر قیدیوں سے ملیے وہاں پر بھی ایسے بدقسمت لوگ کثرت سے ملیں گے جنہوں نے اپنی آزادی صرف اس وجہ سے کھو دی کہ غصّے کا شکار ہو گئے۔

پاگل خانوں میں بھی ایسے لوگ کثرت سے ملیں گے جنہوں نے غصّے میں کوئی ایسی حرکت کر دی جس کے Guiltکی وجہ سے وہ بعد میں پاگل ہو گئے۔

یہ غصّہ ایک منٹ یا اس سے بھی کم وقت کیلئے آیا لیکن اُن کی زندگی کو ہمیشہ کیلئے بگاڑ گیا۔ان کے کردار پر دھبہ لگ گیا۔غصّے میں اچانک بندوق چلا دی یا کسی کو چاقو گھونپ دیا۔اب یہ عمل جو ہو گیا’بے عمل نہیں ہو سکتا۔غصّہ میں جس وقت خون گرم ہو جاتا ہے تب انسان کیا کیا جرم نہیں کر سکتا۔

ایک ریسرچ کے مطابق 80فیصد سے زائد جرائم صرف غصّہ کی بدولت کیے جاتے ہیں۔غصّے کے ایک جھونکے میں بہہ جانے کے باعث ہی کئی لوگ اپنا اونچا مقام کھو دیتے ہیں یا مقام حاصل کرنے کے موقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔

انسان غصّہ میں آکرایک لمحہ میں برسوں کے کام’محنت اور تجربے کو ضائع کر دیتا ہے۔اسی غصّہ کی بدولت کئی لوگوں کی ملازمت چلی جاتی ہے’ کئی اپنی بیوی جس کو حاصل کرنے کیلئے سالہا سال محنت کی ہوتی ہے اُسی کو مار دیتے ہیں یا پھر طلاق دے دیتے ہیں۔

غصّے کے غلام بنے لوگ ہمیں ہر طرف نظر آتے ہیں۔جن کا پارہ فوراً ہی اونچا ہو جاتا ہے۔مہینوں اور برسوں میں کئے کرائے کام پر وہ پل بھر میں پانی پھیر دیتے ہیں۔

ناصرف یہ کہ یہ بیماری جوانوں میں ہے’میں کئی بوڑھے لوگوں کو جانتا ہوں جن کی اولاد اور ان کی بیویاں بھی اُنھیں بڑھاپے میں چھوڑ گئی کیونکہ اُن کو اپنے غصّہ پر کنٹرول نہیں تھا۔وہ اپنی زبان کو اپنے بس میں نہیں رکھ سکے اور غصّے سے پاگل ہو گئے۔

کئی شادیاں بھی اسی وجہ سے ٹوٹ گئیں کہ کسی فریق نے کوئی ایسی بات کہہ دی جو کہ نہیں کہنی چاہئیے تھی اور بس سالہا سال کا رشتہ ٹوٹ گیا اور اب وہ اس کو بھگت رہے ہیں۔

کئی دوکاندار اپنے اسی غصّہ کی وجہ سے اپنے گاہکوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔میں ایک دوکاندار کو جانتا ہوں جس سے اگر آپ ایک چیز کی قیمت دوبارہ پوچھ لیں تو وہ غصّہ میں آکر بدتمیزی کرتا اور اسی طرح اپنے سینکڑوں گاہکوں سے آہستہ آہستہ ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

ناصرف یہ بلکہ میں ایسے کئی لوگوں کو جانتاہوں جو غصّہ میں اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکتے اور اپنے دوستوں یا رشتے داروں میں کوئی ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس سے لڑائی ہو جاتی ہے اور کچھ دنوں کے بعد جب اُن کا غصّہ کم ہوتا ہے تو وہ اپنی غلطی Realise کرتے ہیں اور پھر ان لوگوں سے معافی مانگتے ہیں۔پھر کچھ دنوں کے بعد دوبارہ غصّہ میںآکر پھر کوئی بات ایسی کر جاتے ہیں جس پر اُن کو دوبارہ شرمندی اُٹھانی پڑتی ہے اور اس طرح وہ اپنی Credibility اور عزت کھو بیٹھتے ہیں۔

نا صرف یہ بلکہ میں نے کئی بڑے بڑے بزنس مین ایسے دیکھے ہیں جن کے غصّے اور بدکلامی کی وجہ سے اُن کی بڑی بڑی کمپنیوں کے اچھے لوگ اُن کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہی نہیں۔

کئی لوگ غصّے کے جوش میں شیطان بن جاتے ہیں۔گالی گلوچ شروع کر دیتے ہیں۔چیزیں توڑنے لگتے ہیں۔غصّے کے جوش سے آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔منہ سے جھاگ نکلنے لگ پڑتی ہے اور اُن کی اس حالت سے ڈر کر لوگ’دوست بلکہ اُن کے اپنے بچے بھی اُن سے دور بھاگتے ہیں۔

جب غصّہ کی آندھی آتی ہے تو واقعی انسان آدھا پاگل ہو جاتا ہے۔جو شخص اپنے غصّے کو نہیں روک سکتا اسے سمجھدار کہا ہی نہیں جا سکتا۔غصّے کے پاگل پن میں انسان ایسے کام کر گزرتا ہے جس کیلئے اسے زندگی بھر پچھتانا پڑتا ہے۔

بہت سے لوگ اپنی گزشتہ غلطیوں پر پچھتاتے ہیںجو اُنھوں نے غصّے کے جوش میں کی تھیں۔ان غلطیوں کو یاد کرنے سے اُنہیں اپنے اوپر یا تو شرم آتی ہے اور یا پھر دُکھ ہوتا ہے۔

غصّہ’انتقامی جذبہ اور نفرت کے باعث انسانی تاریخ میں بھی کیا کیا حادثات نہیں ہوئے۔

لاکھوں لوگ اس صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔کسی نے کیا ہی صحیح کہا ہے کہ

”غصّہ بے وقوفی سے شروع ہوتا ہے اور پچھتاوے پر ختم”۔   (H.G.Bohn)

”جو بھی کام غصّے سے شروع ہو وہ شرم پر ہی ختم ہوتا ہے”۔   (Benjamin Franklin)

بدقسمتی تو یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو غصّہ کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ یہ غصّہ اُن کا کسی اور پر ہے اور اُن کو اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ہم نے غصّہ کرنے والے ستر لوگوں سے پوچھا کہ کبھی آپ نے یہ Note کیا ہے کہ جب آپ کو غصّہ آتا ہے تو آپ کی حالت کیا ہوتی ہے۔آپ حیران ہونگے کہ اُن میں سے کوئی بھی یہ نہ بتا سکا۔اب سنیے کہ غصّے کے وقت انسان کو کیا ہوتا ہے:

1۔      مسل اکڑ جاتے ہیں۔

2۔      دانت چبانا شروع ہوجاتا ہے۔

3۔      گھورنا اور اس کی وجہ سے ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں۔

4۔      مٹھیاں دبائی جاتی ہیں۔

5۔      بازو اور جسم کے مختلف حصوں میں بہت زیادہ حرکت اوربے چینی شروع ہو جاتی ہے۔

6۔      چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔

7۔      جسم کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہے۔

8۔      جسم کانپنے لگتا ہے۔

9۔      جسم میں سرسری یا بے جانیت کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

10۔    پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔

11۔    بات کرتے ہوئے سانس رُکتا ہے۔

12۔    لفظ منہ سے پورے نہیں نکلتے۔

13۔    جسم ٹھنڈا یا گرم ہو جاتا ہے۔

یہ تو کچھ کیفیات ہیں جو انسان پر طاری ہو جاتی ہیں غصّہ کے دوران۔اب یہ دیکھئے کہ غصّے کا ہماری صحت پر کیا فرق پڑتا ہے:

غصّے کی دو اقسام ہیں ایک تو وہ جو ہم ہر وقت دیکھتے ہیں یعنی کہ غصّہ جو ہمیں دوسرے لوگوں پر آتا ہے جس کی علامات میں بیان کر چکا ہوں جیسے چیخنا چلانا’گالی گلوچ’مارکٹائی اور قتل کے واقعات ۔اس قسم کے غْصے سے دیکھئے کہ کس قسم کی بیماریاں وابستہ ہیں۔

1۔      بلڈ پریشر بڑھ جانا

2۔      سر میں درد

3۔      Urineکی Blockage

4۔      Over-eating کی بیماری

5۔      Skin Irritation

6۔      Stress levelبڑھ جانا

7۔      Cholestrol Level بڑھ جانا

8۔      دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا

9۔      شوگر لیول بھی بڑھ جانا

آپ حیران ہونگے کہ 80فیصد سے زیادہ لوگ جنھیں کسی نہ کسی طرح دل کی بیماری ہے وہ طبیعت کے غصیلے تھے۔

اس کے علاوہ 90فیصد لوگ جن کو غصّہ آتا ہے اُن میں کچھ اور مشترکہ علامات نظر آتی ہیں۔جیسے

1۔      یہ لوگ Socially تنہا ہیں۔اُن کے زیادہ دوست نہیں ہیں۔

2۔      ایسے لوگوں کے اپنے life partner اور بچوں کے ساتھ بھی تعلقاتdisturbed ہیں۔

3۔      ایسے لوگوں کو اپنی Jobپر بھی زیادہ پرابلمز آتی ہیں۔

ایک ریسرچ کے مطابق غصّہ کی حالت میں ہمارا ایک Dictator گلینڈ بہنے لگتا ہے۔جس کی وجہ سے ہمارے خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور خون کا دورہ تیز ہو جاتا ہے۔گردشِ خون کی تیزی کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو زیادہ طاقتور سمجھنے لگ جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس highبلڈپریشرکی وجہ سے لوگ پاگل بھی ہو سکتے ہیں۔اسی لئے کہا جاتاہے کہ غصّہ کی حالت میں کبھی نہ سوئیں۔

دوسری قسم کا غصّہ اندرونی ہے یعنی کہ وہ غصّہ جو ہمیں اپنے آپ پر ہو جس کی وجہ سے ہمیں depression’ unhappiness’ anxiety’ frustration’ شرم’Guilt یا پھر خودکشی کے واقعات نظر آتے ہیں۔

جن لوگوں کا غصّہ اندرونی ہے اُن میں درج ذیل پرابلمز نظر آئیں گی:

1۔  migrane

4۔  cancer

7۔  ulcer

2۔  دل کی بیماری

5۔  tension

8۔  arthritis یا جوڑوںکا درد

3۔  constipation

6۔  diarrehea

9۔  asthmaیا دمہ

اب آپ یہ دیکھئے کہ غصّہ چاہے اندرونی ہو یا بیرونی دونوں حالتوں میں کتنا مضر ہے۔

اب تک ہم نے غصّے کے بارے میں کچھ حقائق کا ذکر کیا ہے۔اب غصّے کے بارے میں کچھ غلط فہمیوں کے بارے میںکچھ بات ہو جائے۔غصیلے لوگ انہی غلط فہمیوں کا حوالہ دے کر اپنے غصّے کو برحق سمجھتے ہیں۔

1۔      غصّہ آنا ایک نارمل انسانی responseہے۔

سچائی تو یہ ہے کہ کسی بات کا برا لگنا تو نارمل ہو سکتا ہے۔لیکن اُس پر غصّہ آنا اور پھر غصّے کی حالت میں ردِ عملکرنا بالکل انسانی Response نہیں ہے۔میں آپ سے ایک سوال پوچھ کراس کی وضاحت کر دیتا ہوں :

—       انسان اور جانورمیںکیا فرق ہے؟

جی ہاں انسان اور جانور میں بنیادی فرق میں سے ایک فرق یہ ہے کہ خدا نے انسان کو Ability to make choicesکی صلاحیت دی ہے۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت یعنی کہ انسان کو شعور دیا جس سے اس کے بعد اس مثال میں آپ کو یہ بات Clear ہو جائے گی۔فرض کریں کہ آپ کو کسی نے تھپڑ مارا اگر آپ نے بھی غصّے میں اس کو تھپڑ مار دیایا آگ بگولا ہو کر اس کو گولی مار دی تو یہی Response نارمل نہیں ہے۔ ہاں یہاں تک کہ آپ کو اس کا تھپڑ مارنا بُرا لگا یہ تو بالکل ایک نارمل انسانی Response ہے لیکن آپ اس تھپڑ کو سہنے کے بعد کیا کرتے ہیں یہ آپ کے پاس Choice ہے۔کیا آپ کو یہ نہیں لگتا کہ اس کا تھپڑ سہنے کے بعد آپ کے پاس کافی choicesموجود تھیں۔آپ اس سے بات کر سکتے تھے۔آپ اس کو ignore کر سکتے تھے۔آپ اسے سمجھانے کی کوشش کر سکتے تھے۔آپ اس کو تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دے سکتے تھے یا حضرت عیسی  کی طرح اپنا دوسرا گال بھی آگے کر سکتے تھے اور یا آپ بات ہی کر سکتے تھے۔اب یہ دیکھئے کہ یہ اختیار خدا نے صرف انسان کو ہی دیا ہے جانورکو سوچنے سمجھنے کا اور ability to make choices نہیں دی۔جانور ہر کام خصلتاً کرتا ہے جبکہ انسان کو اللہ نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔

وہ اچھے اور بُرے کی تمیز کر سکتا ہے اور اُس کے بعد اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کے بارے میں اپنا Response سوچ سکتا ہے۔جب میں چھوٹا تھا ایک سوال اکثر مجھے پریشان کیا کرتا تھا کہ اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے لیکن غصّے کو حرام قرار کیوں دیا۔اس کے جواب کافی لوگ مجھے نہ دے سکے۔پچھلے سال BBC نے ایک ریسرچ کی اور اس ریسرچ کا خلاصہ آپ کیلئے پیشِ خدمت ہے۔

اس ریسرچ کے مطابق غصّے کے دوران انسان کی کیفیت exactly وہی ہوتی ہے جو کہ شراب کے دوران۔شراب پینے کے بعد بھی اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت affect ہو جاتی ہے۔مطلب کہ اگر آپ نے شراب پی ہو اور آپ گاڑی چلا رہے ہوں اور سامنے سے ایک ٹرک آتا ہوا نظر آئے تو آپ کو سمجھ نہیں آئے گی کہ کیا کیا جائے آپ کی Choices کم ہو جائیں گی۔Exactly اسی طرح جب انسان غصّے میں ہوتا ہے تو اس کی بھی Choices کم ہو جاتی ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اُس تھپڑ کی مثال کی طرح کئی مختلف طریقوں سےreactکر سکتا اس کو صرف یہی نظر آتا ہے کہ اس کا جواب یہی ہے کہ میں اس کو مار دوں۔

اب اس BBC کی ریسرچ نے مجھے اس سوال کا جواب دے دیا کہ اسلام نے غصّے کو حرام کیوں کہا تھا۔غصّے کی حالت میں انسان کی حالت جانور جیسی ہو جاتی ہے اور انسان اور جانور کا بنیادی فرق جو کہ انتخاب کرنے کا اختیار یعنی ”Ability to make choices” ہی ختم ہو جاتی ہے۔اس کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔غصّہ ایک لمحہ کی پاگل پن کی کیفیت ہے۔ ایک اور کہاوت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ‘غصّہ دھندکی مانند ہے جس کی وجہ سے راستہ صحیح نظر ہی نہیں آتا’۔

دوسری غلط فہمی کہ غصّہ ہمارے جینز میں شامل ہے اور یہ پیدائشی طور پر بچوں میں ہوتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ یہ پیدائشی عادت نہیں ہے بلکہ ہم سیکھتے ہیں۔ضروری نہیں کہ غصیلے ماں باپ کا بچہ بھی غصیلہ ہی پیدا ہو۔ہاں بچپن اور لڑکپن میں وہ اپنے ماں باپ کے غصّے سے غصّہ سیکھ ضرور سکتا ہے۔ اپنے ماحول سے’لوگوں سے اور اپنے خیالات سے اور خوش قسمتی یہ ہے کہ جیسے ہر سیکھی ہوئی چیز بھلائی جا سکتی ہے اسی طرح یہ عادت بھی بدلی جا سکتی ہے۔

3۔      تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو تو اُسے غصّہ آنا چاہیے۔ اس میں  main  لفظ زیادتی کا ہے۔

یاد رکھیئے کہ 80فیصد لوگ جنہیں غصّے کی بیماری ہے انہیں غصّہ غلط بنیاد پر آتا ہے۔اُن کے غصّہ کی وجہ اُن کی اپنی سوچ ہے کہ کسی نے اُن کے ساتھ زیادتی کی ہے۔یا وہ زمانے کو یا لوگوں کو جس طرح سے چلانا چاہتے تھے لوگ اگر وہ نہ کریں تو اُن کو غصّہ آتا ہے۔

بیس فیصد مواقع پر جہاں ان کے ساتھ واقعی زیادتی ہوئی ہو اُس حالت میں ان کا غصّہ ناجائز ہے کیونکہ کیا پتہ کہ دوسرا آدمی زیادتی کر رہا ہے یا اُس سے ہو گئی ہے۔جب تک اس بات کا پتہ نہ چل جائے اُس وقت تک کچھ نہیں کہا جا سکتا اور اس کا پتہ لگانے کیلئے دوسرے سے بات کرنی پڑتی ہے اور بات کرنے میں ٹائم لگتا ہے۔اور اُس ٹائم کے بعد غصّہ خود ہی اُتر جاتا ہے۔

چوتھی غلط فہمی یہ ہے کہ اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کو دوسروں کو بتانے اور اپنے غصّہ کو Share  کرنے سے غصّہ کم ہوجاتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ جتنی دفعہ آپ اس کو سوچیں گے اُتنی دفعہ آپ کو غصّہ آئے گا اور ہر مرتبہ آپ کو اپنے ساتھ ہوئی زیادتی یاد کر کے آپ کا غصّہ بڑھتا چلا جائے گا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ :

1۔      ہم اپنے آپ پر کنٹرول lose کرنے سے پہلے غصّے پر قابو پانا سیکھ سکتے ہیں۔اور

2۔      متواتر کوشش اور پریکٹس سے ہم آہستہ آہستہ اس مقام پر بھی جا سکتے ہیں کہ ہمیں غصّہ آئے ہی نا۔ اس آڈیوپروگرام میں یہ دونوں طریقے بتائے گئے ہیں۔

1۔      غصّہ کنٹرول کرنے کے طریقے

فرض کیجئے جیسے بچے نے کچھ خراب کر دیا’کچھ توڑ دیاآپ کی محنت سے پکائی ہوئی ہنڈیا گرا دی یا پھر آپ جو اس کو کہہ رہے ہیں وہ کر نہیں رہا۔اور اگر آپ کو اس بات پر غصّہ آرہا ہے تو غصّہ نکالنے سے پہلے اپنے آپ سے Reasoning کریں۔

1۔      کیا یہ اتنا اہم ہے؟

2۔      کیاآپ کے ساتھ یہ پہلے ہوا ہے؟

3۔      کیا آپ نے بچے کو سمجھایا ہے؟

4۔      کیا اُس نے آپ کی بات سمجھ لی ہے۔

اس طرح Reasoning کرنے سے بنیادی طور پر  آپ ٹائم لے رہے ہیں اور غصّہ کو delay  کر رہے ہیں۔

اگر غصّہ آئے تو react کرنے سے پہلے دس گن لیجئے۔اگر زیادہ غصّہ ہو تو سو گن لیجئے۔اس طرح غصّہ خود ہی اتر جائے گا۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ غصّے کا سب سے بہتر علاج اس کو delay کرنا ہے اور ہمارے اپنے مذہب میں ایک حدیث شریف میں آنحضرتۖ نے بیان فرمایا:

” غصّہ کے وقت کھڑے ہو تو بیٹھ جائو’بیٹھے ہو تو لیٹ جائو۔ ”  (حدیث شریف)

اگر ان سب سوالوں کا جواب ہاں میں ہے اس کے بعد بھی آپ کا غصّہ برقرار ہے تو اگلی Strategy پر چلے جائیے۔

2 ۔      اختلاف پیدا کرنے والی سوچ سے پرہیز کیجئے

غصّے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ

1۔      آپ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

2۔      یا یہ بچہ کتنا بدتمیز ہے۔

3۔      یہ میری بات نہیں مان رہا۔میں نے اس سے یہ کہا اور اُس نے اَن سنا کردیا یعنی کہ آپ کی ego’ hurt ہو رہی ہے۔

آپ ایسا سوچنا چھوڑ دیجئے۔اگر ایسا مشکل لگ رہا ہو تو آپ اپنی توجہ کسی اور طرف لگا دیں۔

کچھ اچھا سوچنا شروع کردیں’Magazine پڑھیں’TVدیکھیں’اخبار پڑھیں’دوست کو ٹیلیفون کرلیں یا آرام کرلیں۔

جب تک آپ بُرا سوچنا نہیں بند کرینگے غصّہ کبھی بھی ختم نہیں ہوگا۔جونہی آپ نے غلط یا بُرا سوچنا بند کر دیا’غصّہ خود ہی ختم ہو جائے گا۔

3۔      تنہائی میں غوروفکر کیجئے

اگر اب تک بیان کی گئیں دونوں Strategies سے بھی آپ کا غصّہ کسی شخص پر یا کسی بات پر کم نہیں ہو رہا اور بار بار آپ کو اپنے ساتھ کی گئی زیادتی یاد آرہی ہو تو یہ Strategy استعمال کیجئے۔

—       کسی خاموش جگہ پرآلتی پالتی مار کر بیٹھ جائیے۔

—       آنکھیں بند کر لیجئے۔

—       خیال کیجئے کہ آپ کسی ایسی جگہ پر ہیں جوآپ کو بہت ہی پسند ہو۔

جیسے پہاڑ یا سمندر کے کنارے ‘پانی کی آواز’بارش کی آواز’چڑیوں کی آواز’پتوں کی آوازاور آپ کو وہ تمام آوازیںآ رہی ہیں جو آپ کو پسند ہیں۔

—       اب اپنی توجہ اپنے سانس پر لے آئیے۔

جب بھی سانس باہر پھینکیں”سکون”Relax یا کوئی اور اچھا لفظ بولیں۔

—       اپنے سانس پر توجہ دیتے رہئیے۔

—       یہ مشق آپ دن میں دو’تین بار دس پندرہ منٹ کیلئے کرتے رہیں۔

آپ کا غصّہ یا تو غائب ہو جائے گا یا بہت ہی کم ہو جائے گا۔

4۔      غصّہ پیدا کرنے والے عوامل سے پرہیز کیجئے

غصّہ کم کرنے کی ایک اور Strategy یہ بھی ہے کہ ایسی چیزیں جن سے غصّہ آتا ہے وہ کرنا کم کر دیں یا ایسی چیزیں جن سے غصّہ کم ہوتا ہو زیادہ کرنا شروع کر دیں۔ جیسے کہ کچھ کھانے پینے کی چیزوں میں کچھ ایسے Chemicals موجود ہیں جو کہ ہمارے دماغ’nerves اور Cardio Vascular کو affect کرتے ہیںاور زیادہ غصّے کا باعث بنتے ہیں۔

1۔      جن لوگوں کو غصّہ زیادہ آتا ہے اُنھیں کافی’چائے’سگریٹ یا کولا ڈرنکس’چاکلیت’چینی’گوشت وغیرہ کا تناسب خوراک میں کم کر دینا چاہیے۔

2۔      فریشJuicesیا صرف صاف پانی کا تناسب بڑھا دینا چاہیے۔

3۔      مرغن اور مصالحے دار کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

4۔      اس کے علاوہ صبح یا شام کم از کم exercise’تیس منٹ صبح یا شام سائیکل’Swimming’ Squash’Tennis’Badmintin کھیلئے۔اگر نہ کر سکیں تو صرف brisk walk کر لیجئے۔ آپ کا غصّہ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

5۔      ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھئے(Assertiveness Theory)

غصّے کو کنٹرول کرنے کی پانچویں  Strategyکچھ ایسی ہے:

اپنے غصّے کو کنٹرول کرنے کا مطلب اپنے ساتھ ہوئی زیادتی یا ظلم کو برداشت کرنا نہیں۔لیکن اب آپ اس Situation کوHandle کیسے کرتے ہیں یہ آپ کے اپنے اختیار میں ہے۔ایک مثال سے آپ کو اس کی وضاحت ہو جائے گی۔

آپ کی بیوی آپ سے پوچھے بغیر آپ کی گاڑی لے کر چلی گئی اور آپ نے ایک اہم میٹنگ کیلئے جانا تھا جس کیلئے آپ late ہو رہے ہیں۔آپ گھر کے گیٹ کے باہر کھڑے تھے کہ آپ نے اپنی بیوی اور چھوٹے بیٹے کو گاڑی میں آتے دیکھا۔اُنھوں نے گاڑی آپ کے پاس کھڑی کی۔اب اس صورتحال میں آپ تین طرح سے act کر سکتے ہیں۔

نمبر 1۔   آپ نے اس بات کو ignore کر دیا اور انہیں کچھ نہیں کہا۔یعنی کہ آپ اپنا غصّہ پی گئے اور دل ہی دل میں کڑھتے رہے۔

نمبر2۔   آپ نے اُن سے کچھ نہیں پوچھا۔جونہی وہ گاڑی سے اُترے آپ نے اپنی بیوی کو غصّے کے جوش میں بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا اور اپنی حدود کراس کر گئے۔آپ کے غصّے کی وجہ سے آپ کا بچہ بھی سہم گیا لیکن آپ کی بیوی خاموش رہی۔اب آپ اپنے آپ سے پوچھئیے کہ آپ ان دونوں situations میں سے کس طرح react کرتے ہیں۔

تیسری صورتِ حال کو  discuss کرنے سے پہلے ان دونوں situations کو analyzeکرتے ہیں۔

پہلی حالت میں آپ کو بُرا لگا اور آپ نے کچھ نہ کہا۔سارا دن آپ دل ہی دل میں کڑھتے رہے اور اپنی بیوی کے بارے میں غلط ملط سوچتے رہے کہ اُس کو آپ کا خیال نہیں ہے۔وہ آپ سے محبت نہیں کرتی۔وہ بہت ہی بدتمیز ہے۔آپ کا یہ غصّہ جو اندر ہی اندر ہے لیکن ہے ناجائز آپ کے ازدواجی تعلقات کو خراب کر رہا ہے۔بلکہ یہ آپ کی صحت کیلئے بھی مضر ہے۔اس کے علاوہ اگر آپ نے اپنا یہ غصّہ ختم نہ کیا یعنی کہ اپنا دل صاف نہ کیا تو ایک دن یہ غصّہ بہت ہی بڑھ چڑھ کر نکلے گا۔

آپ نے اخباروں میں تو پڑھا ہو گا کہ ایک ماں نے اپنے کئی بچوں کو مار کر خود بھی خودکشی کر لی’ ایک عورت نے شادی کے بیس سال کے بعدخاوند کے ظلم سے تنگ آکر خاوند اور بچوں کو مار کر خودکشی کر لی۔آپ سے سوال ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟اگر آپ ریسرچ کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگ چپ رہتے رہے ہیں اور تمام تر زیادتیوں کے باوجود کبھی اُف تک نہ کی۔اُن کا غصّہ اندر ہی اندر سور بن گیا اور ایک دن یہ غصّہ اتنا بڑھ گیا کہ انھوں نے یہ انتہائی قدم اُٹھا لیا۔

ہر شخص کی ہمت کی ایک limit ہوتی ہے۔آپ خود سوچئے:

گلاس میں پانی کی بھی ایک limit ہے۔اگر آپ گلاس میں پانی ڈالتے چلے جائیں گے تو ایک وقت آئے گا کہ جب پانی گلاس میں سے باہر نکلنا شروع ہو جائے گا۔اسی طرح انسان کی بھی حد(limit) ہے برداشت کرنے کی’جب وہ limit ‘cross ہوتی ہے تو انسان بھی اسی طرح exactly پھٹ پڑتا ہے۔

دوسرے case میں جب آپ نے بُرا بھلا کہنا اور گالی گلوچ شروع کر دی’کچھ سوچے سمجھے بغیر تو آپ کی بیوی آپ کی زیادتی اگر برداشت کر بھی گئی پھر بھی اندر ہی اندر اُس کا غصّہ رشتے کو خراب کر دے گا اور پھر ایک دن پہلی مثال کی طرح وہ بھی غصّے میں پھٹ پڑے گی۔

دوسری طرف اگر آپ کو شام کو یہ پتہ چلے کے آپ کا چھوٹا بیٹا کھیلتے کھیلتے گر گیا تھااُس کو چوٹ لگی تھی اور آپ کی بیوی آپ کا خیال کرتے ہوئے کہ آپ نے ضروری میٹنگ میں جانا ہے اور آپ کو دیر نہ ہو جائے بجائے اس کے کہ آپ کو بتاتی اور وقت ضائع کرتی آپ کو بتائے بغیر یہی گاڑی لے کر بچے کو ہسپتال لے کر چلی گئی تھی۔تو یہ جان کر آپ کو کیسا لگے گا۔یقینا اپ کو دُکھ ہو گا۔guilt ہو گا۔اور شرمندگی ہوگی۔جی ہاں!

یاد رکھیئے کہ یہ دونوں reactions غلط ہیں اور ایک ہی سکے کی دوsides ہیں۔جو خاموش ہے وہ بھی ایک دن پھٹ پڑے گا اور جو آج پھٹ رہا ہے وہ شاید کسی دن اپنے guilt یا شرمندگی کی وجہ سے خاموش ہوجائے۔دونوں حالتوں میں آپ نے React کرنے سے پہلے پوچھنے اور سننے کی زحمت گوارہ نہیں کی اور جو ہوا اُس میں سے خود ہی مطلب نکال کر React کر دیا۔

پہلے Case میں آپ نے سوچا کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔آپ کو غصّہ آیا لیکن کسی مصلحت کے تحت آپ نے اپنا غصّہ پی لیا۔

دوسرے Case میں بھی آپ نے یہی سوچا کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور آپ کو غصّہ بھی آیا اور آپ نے اُس غصّے کا اظہار کر دیا۔

یاد رکھیئے کہ دونوں cases میں آپ نے سوچا کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ضروری نہیں کہ یہ ایسا ہی ہوا ہو۔

اس نتیجہ پر پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ دوسرے شخص سے بات کر لیں۔

کہتے ہیں کسی جنگل میں ایک صوامی رہتا تھا۔لوگ کئی بار دن میں عبادت کیلئے وہاں جایا کرتے تھے۔اسی جنگل کے اندر ایک سانپ رہتا تھا۔گائوں کے لوگ جب صوامی سے ملنے جا رہے ہوتے تو وہ سانپ کسی نہ کسی کو غصّہ کی وجہ سے ڈس لیا کرتا۔آخر بات بڑھتے بڑھتے صوامی صاحب کے پاس پہنچی کہ صوامی جی جب بھی ہم آپ کی طرف آرہے ہوتے ہیں کوئی نہ کوئی حادثہ ہو جاتا ہے۔جنگل میں ایک سانپ ہے جو کہ کسی نہ کسی کو ڈس لیتا ہے تو صوامی صاحب نے کہا کہ اچھا میں سانپ سے جا کر بات کرتا ہوں۔صوامی جنگل میں گئے اور سانپ سے بات شروع کر دی اور سانپ کو کہا کہ لوگ عبادت کرنے اور اچھے کام کرنے کیلئے میرے پاس آتے ہیں۔تمہارا اُن کو کاٹنا بالکل ناجائز ہے جس کی وجہ سے اُن کی پرابلمز بڑھ رہی ہیں۔صوامی صاحب نے سانپ سے کہا کہ اُس سے وعدہ کرے کہ وہ آج کے بعد لوگوں کو کاٹے گانہیں۔سانپ نے وعدہ کر لیا۔آہستہ آہستہ لوگوں کا ڈر ختم ہو گیا لوگ بے خوف و خطر جنگل میں پھر گزرنے لگے۔اچانک ایک دن صوامی صاحب بیٹھے ہوئے تھے کہ شوروغل کی آواز آئی باہر نکل کے دیکھا کہ کچھ بچے اُسی سانپ کو گھسیٹتے ہوئے لے کر آئے ہیں۔سانپ لہو لہان تھا اور رو رہا تھا۔صوامی صاحب نے سانپ سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا تو اُس نے کہا صوامی جی’آپ سے وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدے کی وجہ سے میرے ساتھ بچوں نے یہ سلوک کیا تو صوامی صْاحب نے جواب دیا میں نے تمہیں ڈسنے سے منع کیا تھا پھنکارنے سے نہیں۔تو یہ تیسری strategy جو ہے وہ کچھ ایسے ہی ہے۔

اگر آپ نے اس واقعہ کے بعد اپنی بیوی سے

1۔      پوچھا ہوتا کہ وہ کدھر گئی تھی

2۔      اس کو کہنے کا موقع دیا ہوتا اور

نمبر3۔   صبر و تحمل کے ساتھ اُس کی بات سنی ہوتی تو غصّہ’ پریشانی’ شرمندگی’Guiltیادُکھ کی نوبت ہی نہ آتی۔وہ پہلے ہی آپ کو بتا دیتی کہ اُس نے گاڑی آپ سے پوچھے بغیر کیوں نکالی تھی۔

اگر بات کرنے کے بعد آپ کو پتہ چلے کہ کوئی ایسا ضروری کام نہیں تھا تو پھر بھی غصّہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اس حالت میں آپ اُسے بتا سکتے تھے کہ آپ کو ایک اہم میٹنگ میں جانا تھا جس کی وجہ سے دیر ہوگئی اور آپ کو یہ اچھا نہیں لگا اور اس کے علاوہ اور بہت سے طریقے ہیں ۔مثلاً

1۔      اگر کوئی آپ کی بات کاٹ رہا ہے اور آپ کو بُرا لگ رہا ہے تو غصّہ ہونے سے پہلے آپ یہ کہہ سکتے ہیں”اسکیوزمی’مجھے میری بات ختم کرنے دیں”۔

2۔      اگر پھر بھی وہ شخص نہ مانے تو آپ کہہ سکتے ہیں۔

”آپ میری بات پھر کاٹ رہے ہیں۔اگر میری بات ختم نہیں ہوگی تو آپ کو پوری طرح سے سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ میں کیا کہہ رہی ہوں”۔

3۔      اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو آپ دوسرے کو اپنا وعدہ یاد دلا سکتے ہیں کہ

سمینہ تم نے یہ وعدہ کیا تھا کہ تم مجھے میری تمام کالز کے بارے میں بتائو گی۔

یا امجد آپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ میرے دوستوں کے سامنے میرا مذاق نہیں اڑائیں گے۔

یا حارث بیٹا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ صرف چھٹی والے دن ہی اپنے دوست کی طرف جائیں گے۔

4۔      اگر اس کے بعد بھی وہ شخص نہ مانے تو آپ کہہ سکتے ہیں:

i۔       آپ پھر میری بات بار بار کاٹ رہے ہیں اور یہ مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔

اس میں آپ دوسرے شخص کو یہ بتا رہے ہیں کہ آپ کو یہ اچھا نہیں لگ رہایعنی کہ آپ اپنی feelings اور احساسات بتا رہے ہیں۔

ii۔      جب آپ میرے دوستوں کے سامنے میری بات کرتے ہیں یا میرا مذاق اُڑاتے ہیں تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا یا

iii۔     حارث بیٹا مجھے آپ کا یہ دوستوں کی طرف ہر روز جانا اچھا نہیں لگتا۔اور مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کو اپنے بابا کی کسی بات کا کوئی خیال ہی نہیں۔

ان تینوں صورتوں میں دیکھیں کہ آپ اپنیfeelings اور احساسات کے بارے میں informations کو include کر رہے ہیں۔

95فیصد سے زیادہ مسائل تو اسی طرح حل ہو جائیںگے لیکن اگر ان چاروں طریقے سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تودوسرے شخص کو consequences کے بارے میں بتا دیں۔جیسے:

i۔       اگر آپ نے میری بات کاٹنا نہ روکا تو میں بات کرنا بند کر دوں گی یا

ii۔      اگر آپ اسی طرح میری دوستوں کے سامنے میرا مذاق اڑاتے رہے تو میں اپنی دوستوں کی پارٹی آپ کی absence میں کر لیا کروں گی۔

iii۔     حارث بیٹا اگر آپ نے اپنے بابا کی بات نہ مانی تو پھر مجھے سختی کرنی پڑے گی۔

پہلے طریقہ میں آپ نے ایک request کی کہ مجھے بات ختم کرنے دیجئے۔

دوسرے طریقے میں آپ نے Misbehaviorیعنی کہ جو بات بُری لگ رہی ہے کو بیان کیا کہ آپ میری بات کو بار بارکاٹ رہے ہیں۔

تیسرے طریقے میں آپ نے وعدہ  یاد کروایا کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ یہ نہیں کریں گے۔

چوتھی مرتبہ آپ نے اپنی  feelings  بتائیں کہ یہ بات آپ کو بُری لگ رہی ہے۔

پانچویں مرتبہ آپ اس کے نتائج بتائے کہ اگر یہ ٹھیک نہ ہوا تو کیاہو گا۔

پچانوے فیصد مسائل تو اسی طرح بات کرنے اور سننے سے حل ہو جاتے ہیں۔مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم نے پوچھنا اور سننا چھوڑ دیا ہے۔

کبھی آپ نے سوچھا ہے کہ خدا نے ہمیںدو کان اور ایک منہ دیا تھا۔ہاں جی! کیوں اس لیے کہ ہمیں بولنے سے زیادہ سننا چاہیے۔لیکن ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔

میرے پاس جتنے couples اور لوگ counselling کیلئے آتے ہیں۔اُن کے مسائل کی وجہ یہی ہے کہ وہ دوسرے کی بات سننا پسند نہیں کرتے اور اگر سنتے بھی ہیں تو توجہ سے نہیں سنتے۔یاد رکھیئے! توجہ سے سننے کا مطلب یہ ہے کہ:

1۔      آپ بات نہ کاٹیں۔صبروتحمل سے بات سنیں۔

2۔      جو بول رہا ہے اُسے پوری توجہ سے سنیں۔یعنی کانوں سے’دل سے’آنکھوں سے’اُس کے لفظوں کے علاوہ اُس کے احساسات بھی سنیں۔یاد رکھیئے کہ ہم زبان کے علاوہ جسم سے’اشاروں سے’آنکھوں سے’ہاتھوں سے بھی بولتے ہیں۔صحیح طرح سننے کیلئے ہمیں سب کو سننا اور دیکھنا پڑے گا۔

3۔      کسی بھی طرح اُس کی feelings کو devalue نہ کریں۔یاد رکھیئے اگر کوئی شخص کہہ رہا ہے کہ اُس کو بُرا لگا تو آپ کے پاس کوئی اختیار ہے نہ ہی جواز کہ آپ اُس سے کہیں کہ تمھیں بُرا کیوں لگا۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے یہ چاہا نہ ہو لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اُس کو بُرا لگ رہا ہے۔

4۔      اپنے مشورے کو اپنے پاس ہی رکھیئے جب تک کہ آپ سے مانگا نہ جائے۔

5۔      دوسرے شخص کو بات کرنے کیلئے encourageکیجئے۔

6۔      اپنی بات کر کے یا سوال پوچھ کر چپ ہو جائیے اور دوسرے کو جواب دینے کاموقع دیجئے۔

7۔      جو دوسرا کہہ رہا ہے اُس کو clarify کرنے کیلئے اُس بات کو دہرائیے تاکہ اگر آپ نے غلط سنا ہو تو وہ clear ہو جائے۔

یہ سات باتیں ہی صحیح طرح سننے میں آپ کی مدد کر سکتی ہیں۔

ایک ریسرچ سے یہ معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو Heart diseases یعنی کہ کسی طرح کی دِل کی بیماریاں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو کہ بہت ہی زیادہ Self-involved ہیں یعنی کہ میں اور میرا جیسے الفاظ بہت استعمال کرتے ہیں جیسے میرا خیال ہے’میں نے کہا’ میں یہ کروں گا اور دوسروں کو سننے سے زیادہ بولنا پسند کرتے ہیں۔

6۔      دوسروں کے ساتھ ہمدرد رہیے

اگر اوپر بیان کی گئی تمام Strategies سے بھی غصّہ کم نہ ہو تو یہ طریقہ use کیجئے۔

یہ طریقہ آپ کی لوگوں کے بارے میں Sensitivity بڑھانے میں مدد کرے گا۔

relationships کے کافی مسائل آپ کے حل ہو جائیں اگر آپ دوسرے لوگوں کے بارے میں اُتنے ہی sensitive ہو جائیں جتنے اپنے لیے ہیں۔اپنے لیے تو ہمیں چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بُری لگتی ہیں اور لوگوں کو ہم کیا کچھ کہہ جاتے ہیں اور پھر بھی یہی خیال کرتے ہیں کہ انھیں بُرا نہ لگے۔نا صرف یہ بلکہ جب ہم لوگوں کے بارے میں sensitive ہو جائیں گے تو ہمارا غصّہ خودبخود کم ہو جائے گا۔

آپ یہ طریقہ اُس وقت استعمال کر سکتے ہیں جب آپ کو کسی شخص کے Motives’منفییا intentions غلط لگ رہی ہوں۔

ایک مثال سے آپ کو یہ بات سمجھ آجائے گی۔

اگر آپ کو آپ کے آگے جانے والی گاڑی جس کو ایک بوڑھی خاتون چلا رہی ہیں’اُس پر آہستہ چلانے کی وجہ سے غصّہ آرہا ہے تو یہ سوچ کر کہ وہ آپ کا راستہ روک رہی ہے تو یہ try کیجئے :

1۔      اگر آپ کے پاس بھی ایسی ہی پرانی گاڑی ہو جو تیز نہ چل رہی ہو اور آپ کے پیچھے کوئی ہارن بجا رہا ہو تو آپ کو کیسا لگے گا۔

2۔      اگر آپ کی بوڑھی ماں ایسے ہی گاڑی چلا رہی ہو تو کیا تب بھی آپ کو ایسا ہی لگے گا۔

3۔      کچھ سالوں میں جب آپ خود بھی بوڑھے ہو جائیں گے تو پھر آپ کو کیسا لگے گا جب لوگ یہ آپ کے ساتھ کرینگے۔

جب آپ صورتِ حال کو دوسرے کے نقطہء نظر سے دیکھتے ہیں ‘آسان الفاظ میں جب You put yourself in others shoe تو آپ کے وہ Belief جن کی وجہ سے آپ کو غصّہ آ رہا ہے خود ہی غائب یا کم ضرور ہو جائے گا۔

آپ کا یہ conclusion کہ کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے یہ آپ کے اپنے belief کی وجہ ہے ناکہ اُسکے motivesیاعمل کی وجہ سے۔جب آپ نے اپنے آپ کو دوسرے کی جگہ رکھ کر سوچا تو آپ کی perception بدل جائے گی اور غصّہ نہیں آئے گا۔

اب تک ہم نے جو باتیں کیں وہ غصّے کو کنٹرول کرنے کےPoint of View سے تھیں۔اب یہ دیکھئے کہ غصّے کو ختم کرنے کیلئے یا ایسی بات جس سے غصّہ آنا ہی ختم ہوجائے’کیلئے ہم کیا کر سکتے ہیں۔اس سلسلے میں پہلا مشورہ تو یہ ہے کہ :

1۔      برداشت کریں

وہ لوگ جو کہ mostly ٹھیک ہوتے ہیں اور اُنھیں دوسرے لوگوں میں پرابلمز اور مسائل نظر آتے رہتے ہیں۔آپ کو چاہیے کہ برداشت’صبر اور تحمل سے کام لیں۔

یادرکھیئے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ آپ اگر خود ہر لحاظ سے ٹھیک ہیں تو آپ کو اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور دوسرے لوگوں کو جن کے پاس آپ جتنی صلاحیتیں نہیں برداشت’ صبر اور تحمل سے قبول کرنا چاہیے۔

آپ کے غصّے کی وجہ سے آپ کو نقصان زیادہ ہوگا۔تعلقات بھی خراب ہونگے۔اگر بار بار ایک بات کہنے سے بھی دوسرے شخص کا رویہ ٹھیک نہیں ہو رہا تو یاد رکھیئے کہ آپ کے غصّے کی وجہ سے نقصان آپ کو ہو رہا ہے فائدہ کسی کا بھی نہیں ہو رہا۔

لیکن اگر آپ صبر اور تحمل سے برداشت کریں تو پھر آپ دوسرے کو بدلنے میں شاید کامیاب ہو ہی جائیں۔

یاد رکھیئے اگر آپ بہتر ہیں تو آپ میں صبر اور برداشت بھی دوسروں سے زیادہ ہونا چاہیے جیسے کسی نے کیا خوب ہی کہا ہے کہ ایک بڑے آدمی کی بڑائی اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ وہ چھوٹے لوگوں کے ساتھ کیسے سلوک کرتا ہے۔

2۔      معاشرے کی خدمت کیجئے

غصّے کی ایک بنیادی وجہ perception ہے’لوگوں کے بارے میں کہ وہ مطلبی’خودغرض’ جھوٹے’بد تمیز’جاہل ہیں۔اس طریقہ کے تحت غصّہ ختم کرنے کیلئے ہمیں لوگوں کے بارے میں اپنی perception بدلنی پڑے گی۔

ہفتہ میں تین سے چار گھنٹے سوشل سروس میں گزارنا پڑیں گے۔یاد رکھیئے کہ اچھے کام کرنے میںHealing Power ہوتی ہے۔

اس سے آپ کا اکیلا پن بھی ختم ہو گا اور آپ کی یہ perception کہ لوگ مطلبی ہیں’برے ہیں’جاہل ہیں’ نااہل ہیں بھی ٹھیک ہو جائے گی اور آپ کا رویہ caring ہو جائے گا۔جب آپ لوگوں کے ساتھ کام کرینگے تو آپ کو اُن میں پیار’محبت’خلوص اور خوبصورتی نظر آئے گی۔

Community Service کے کئی طریقے ہیں:

O       بیمار لوگوں یا بوڑھے لوگوں کے ساتھ کام کیجئے

O       بچوں کی تعلیم میں حصہ ڈالیئے

O       محلے میں صفائی کے انتظام میںدلچسپی لیجئے

O       محلے کے پارک میںپودے لگوائیے

O       مسجد میں درس دے سکتے ہیں یا مسجد کیلئے کچھ Donate  کر دیجئے

O       قرآنِ پاک کی تعلیم دیجئے

O       غریب بچوں کیلئے فری ٹیوشن سنٹر چلائیے

O       غریبوں کیلئے کپڑوں یا کھانے کا انتظام کیجئے

O       چھوٹے بچوں کی جبری مشقت کے خلاف جہاد کیجئے

O       نشے کے عادی لوگوں کی مدد کیجئے

O       ظلم کی ماری خواتین کی مدد کیجئے

O       یتیم خانہ کے ساتھ کام کیجئے

اہم مقصد تو یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح Service کی جائے۔جب آپ دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو اصل میں آپ اپنی مدد کر رہے ہیں۔آج سے وعدہ کیجئے کہ آپ کم از کم تین یاچار گھنٹے ہر ہفتہ میں سوشل ورک یا کمیونٹی سروس کیلئے وقف کر ینگے۔کچھ ہی ہفتے میں آپ کو لگے گا کہ آپ کا غصّہ کم ہوگیا ہے۔

3۔      معاف کیجئے

میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو کہ سالہا سال سے لوگوں کیلئے اپنے دل میں نفرت پال رہے ہیں اور وہ نفرت کسی اور کو نہیں بلکہ اُن کو خود ختم کیے جا رہی ہے۔سمجھ نہیں آتی کہ معاف کرنا اتنا مشکل کیوں ہو گیا ہے۔ایک سچے واقعہ سے اس کی وضاحت کرتا ہوں۔

ایک عورت سخت بیمارتھیں۔ہائی بلڈ پریشر’ذیابیطس’جوڑوں کے درد کے علاوہ وزن بڑھ چکا تھا۔عمر صرف چھتیس سال۔شادی کو بارہ سال ہو چکے تھے۔پچھلے سات سالوں سے علاج بھی ہو رہا تھا لیکن بیماری گھٹنے کی بجائے دن بدن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ہر طرف سے کوشش کر کے دیکھ لی مگر آرام نہ آیا۔کسی نے اُن کو میرے کام کے بارے میں بتایا پہلی ملاقات میں ہی اُن کو دیکھ کے مجھے سمجھ آگئی کہ یہ خاتون سخت ناخوش’ڈیپریشن اور اندرونی غصّے کی مریض ہیں۔لیکن ایسے بات کرنے سے بہت ہی پُرسکون نظر آرہی تھیں۔میں نے اُن سے بات شروع کی اور پوچھنا شروع کیا کہ ان کی بیماری کب اور کیسے شروع ہوئی اور کیسے بڑھتی چلی گئی۔اور کس کس سے علاج کروایا۔ایک گھنٹے سے بھی زیادہ لمبی کہانی سنانے کے بعد جب وہ رکیں تو میں نے ایک سوال پوچھا کہ آپ مجھے بتا ئیے کہ سات سال پہلے اس بیماری کے شروع ہونے سے پہلے کوئی بڑی بات ہوئی تھی جس کا آپ کو بہت ہی دکھ یا غصّہ ہو تو انہوں نے کہا نہیں۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔میں نے اُن کو کچھ روحانی’دماغی’جسمانی اور نفسیاتی مشقیں بتا کر بھجوا دیا۔کچھ ہفتوں کے بعد اُن کا فون آیا اور بتایا کہ تھوڑا بہت فائدہ تو ہواہے لیکن زیادہ نہیں۔ میں بھی تھوڑا سا پریشان ہو گیا’میں نے پھر وہی سوال پوچھا کہ کسی بات کا غصّہ یا دکھ تو نہیں تو صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں سب کچھ ٹھیک ہے۔دوہی دن کے بعد اُن کا فون آگیا کہ آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔میں نے بلا لیا۔بتایا کہ آپ نے ایک سوال پوچھا تھا میں نے غلط بتایا یہ سوچ کر کہ اس کا کیا تعلق ہے’ مجھے اپنے سسرال پر بہت ہی غصّہ ہے۔میرے ساتھ شادی کے پہلے چھ سالوں میں انہوں نے وہ وہ ذیادتیاں کی ہیں کہ آپ سوچ ہی نہیں سکتے اور آج میں یعنی بیماری سے چار مہینے پہلے تو انہوں نے حد ہی کر دی انہوں نے مجھے ساری بات سنائی اور بددعائیں دینا شروع کر دیں اور کہا کہ میری بددعائیں اس خاندان کو لگ رہی ہیں اور اُن کی اپنی ایک بیٹی کی زندگی بھی اُسی طرح خراب ہو رہی ہے جیسے انہوں نے میری کی تھی۔میں روز کچھ اور کروں یا نہ کروں میں اُن کو بددعا ضرور دیتی ہوں۔یہ سن کر میں نے سکھ کا سانس لیا اور کہا بی بی آپ نے تو مسئلہ ہی حل کر دیا اگر یہ بات آپ نے مجھے پہلے بتائی ہوتی تو اب تک آپ ٹھیک ہو چکی ہوتیں۔میں تو خود پریشان تھا کہ آپ کو اتنا آرام کیوں نہیں آرہا جتنا کہ آنا چاہئے تھا۔اب جواب مل گیا کہ اگر آپ ٹھیک ہونا چاہتی ہیں تو آپ کو ایک کام کرنا پڑے گا۔آپ کو انہیں سچے دل سے معاف کرنا پڑے گا اور اُن کی معافی اور اپنی معافی کیلئے دعا کرنی پڑے گی۔پہلے تو نہ مانی آخر دس دن بعد بیماری کی شدت سے تنگ آکر فون کیا اور کہا کہ آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گی۔خیر میں نے اُن کو جو بتانا تھا بتا دیا۔وہ سسرال گئیں’ اُن کو گلے لگایا’معافی مانگی اور دعا مانگنی شروع کر دی۔دو ہی مہینوں میں بہتر ہو گئیں۔

آپ کا غصّہ کسی کی مدد تو نہیں کر رہا لیکن آپ کو نقصان دے رہا ہے۔آپ کسی کے غلط فعل کو واپس تو نہیں کر سکتے لیکن اگر آپ معاف کر دیں تو غصّہ کے نقصانات سے بچ ضرور سکتے ہیں۔ہم لوگوں کو معاف اس لیے نہیں کرتے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کو کچھ دے رہے ہیں چاہے وہ معافی ہی ہو۔سچ تو یہ ہے ہم کسی کو معاف نہیں کر رہے بلکہ اپنے آپ کو غصّے کے نقصانات سے بچانے اور خدا کے رحم کیلئے اپنے آپ کو معاف کر رہے ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اگر تمھیں مجھ سے معافی چاہیے تو تم بھی دوسروں کو معاف کرو۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں کیسے معاف کرے گا اگر ہم نے خدا کا حکم بجا لاتے ہوئے دوسروں کو معاف نہیں کیا۔

اس طریقہ سے پورا فائدہ اُٹھانے کیلئے جب آپ کومکمل یقین ہو جائے کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور آپ دوسرے طریقے یا تو استعمال کر چکے ہیں اور اس کا فائدہ نہیں ہوا یا کسی اور وجہ سے استعمال نہیں کرسکتے۔تو آپ لوگوں کو معاف کیجئے اس کیلئے

نمبر ایک اگر اس شخص کا پتہ معلوم ہے تو اُس کے پاس جائیں اور اُسے سچے دل سے معاف کر دیں اور معافی مانگ لیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو یا وہ شخص قریب نہ ہو تو اس کیلئے آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں’اُس شخص کا چہرہ سامنے رکھ کر اونچی آواز میں کہیں کہ میںنے تمھیں خدا کیلئے معاف کیا تاکہ خدا مجھے معاف کرے۔دن میں تین مرتبہ یہ مشق کریں اور سچے دل سے اُس کو معاف کریں۔

یاد رکھیئے کہ آپ کسی کو ایسے معاف کریں گے تو اصل میں اپنے آپ کو معاف کر رہے ہیں۔کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے:

جو معاف کر دیا جائے وہی یاد رہ جاتا ہے۔  (Louis Dudek)

 ایک اور کہاوت ہے :

مشین کو چلانے کیلئے تیل کی ضرورت ہے ۔اسی طرح تعلقات کیلئے معافی کی ضرورت ہے۔

4۔      اپنے آپ پر ہنسئے

ایک اور عادت جس سے غصّہ کم کرنے میں بہت مدد ملتی ہے وہ ہنسنا ہے۔آپ اپنے غصّہ کی عادت کو بدلنے کیلئے ہنسنے کی عادت ڈالیے۔اپنی غلطیوں پر ہنسیے۔اپنی بیوقوفیوں پر ہنسیے۔اپنے غصّے پر ہنسیے۔اپنے آپ کو کارٹون سمجھ کر ہنسیے۔ہنسنے سے Cholestrol Level کم ہوتا ہے۔باہر کے ملکوں میں توSmileاورLaughter Therapy کی کلاسز کروائی جاتی ہے۔

یاد رکھیئے کہ غصّہ اور مزاح ایک وقت میں ایک دماغ میں نہیں رہ سکتے۔جونہی آپ بات کو مذاق میں لے لیں گے غصّہ ختم ہو جائے گا۔دوسروں کی غلطیوں پر غصّہ ہونے کی بجائے enjoy کیجئے۔

—       اگر بچہ کچھ کر رہا ہو تو اُس کی معصومیت پر ہنسیے۔

—       سڑک پر اگر ایک خاتون سے گاڑی نہیں چلائی جا رہی تو غصّہ ہونے کی بجائے اُس کو enjoy کیجئے۔

—       اگر ٹریفک جام میں ہیں تو کچھ اور تو نہیں کر سکتے’enjoyکریں۔لوگوں کو کارٹون سمجھ کر ہنسیے’لوگوں کو دیکھ کر کہانیاں بنائیں۔اپنے آپ سے باتیں کریں۔آپ کا غصّہ خود ہی ختم ہو جائے گا۔

5۔      مذہب کو اپنائیے

ہمارے مذہب نے غصّہ کو سخت ناپسند کیا ہے اور اس کو حرام قرار دیا ہے۔اگر آپ مذہبی ہوں اور قرآن پاک کو صحیح سمجھتے ہوں تو آپ کو اول تو غصّہ آنا ہی نہیں چاہیے۔اگر آپ کو غصّہ آتا ہے تو اس اسلامی نقطہ ء نظر پر غور کیجئے۔

ایک ریسرچ کے مطابق جو لوگ مذہبی نہیں ہیں اُن کو دل کی بیماریوں کے چارگنا زیادہ امکانات ہیں اُن لوگوں کے مقابلے میں جو کہ مذہبی ہیں۔اب لوگوں میںتین طرح کے مذہبی رجحانات ہیں:

1۔      وہ لوگ جو مذہب کو زندگی گزارنے کا سلیقہ سمجھتے ہیں اور اس کو ہر طرح سے اپنی زندگی پر لاگو کرتے ہیں۔اُن لوگوں کی دماغی صحت سب سے زیادہ بہتر ہے اور ان میں غصّہ اور باقی بیماریوں کی شرح بہت ہی کم ہے۔

2۔      وہ لوگ جو مذہب کو لوگوں کی مدد اور خدمت کی حد تک اپنی زندگی پر لاگو کرتے ہیں۔عبادت نہیں کرتے لیکن لوگوں کی خدمت ضرور کرتے ہیں۔ان کی صحت بھی اچھی ہے غصّہ انہیں آتا ہے لیکن ذرا کم۔

3۔      وہ لوگ جو مذہب کوزندگی سے فرار کا ذریعہ بناتے ہیں۔صرف عبادت کرتے ہیں جب کہ مذہب کی تعلیمات اُن کی زندگی پر لاگو ہوتی نظر نہیں آتیں۔ان لوگوں کی دماغی اور جسمانی حالت ان تینوں مذہبی Categories سے کم ہے اور ان میں غصّہ کی شرح بھی زیادہ ہے۔ایک کہاوت ہے کہ اُس شخص کو غصّہ نہیں آتا ہے جو کہ یہ یاد رکھے کہ خدا ہر وقت اُس کو دیکھ رہا ہے۔

یہ بات تو مذہبی لوگوں کے حوالے سے تھی۔اب آپ خود سوچئے کہ جو لوگ مذہبی نہیں ہیں اُن کی حالت کیسی ہوگی۔

سمجھ نہیں آتی کہ مسلمان قوم کو کیا ہو گیاہے۔ویسے تو سارے مسلمان ہیں۔سب کا ایمانہے خدا پر’اس کے نبی پاکۖ پر’قرآن پاک پر’روزِ قیامت پر لیکن بس یہی ہے۔اس کے بعد کچھ بھی نہیں۔اسلام کو بھی اپنے فائدہ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔جہاں سے کوئی فائدہ ملتا ہو فٹا فٹ کوئی نہ کوئی آیت یا حدیث شریف Quoteکر دیتے ہیں۔جب وہی قرآن کوئی قربانی مانگے’کچھ کرنے کو کہے تو اچھا’ٹھیک ہے’اِدھر اُدھر باتوں میں ٹائم گزار دیتے ہیں۔یہ faithتو نہ ہوا۔faith یا اعتقاد تو ہے Total Surrender اللہ تعالیٰ کے آگے پورے کا پورا سر جھکا دینا۔کوئی Buts & ifs  نہیں۔قران پاک کے ایک ایک لفظ کو اور نبی پاکۖ کی سنت اور احادیث کو دل سے ماننا اور سوال جواب کیے بغیر عمل کرنا ہی faith ہے۔Faith کا ایک حصہ تو ماننا ہے اور دوسرا عمل کرنا۔صرف ماننے سے مسلمان تو شاید بن جائیں لیکن مومن نہیں ہو سکتے۔مومن تو عمل سے ہی بن سکتا ہے۔

اتنی بڑی آبادی مسلمانوں کی 1400سال میں اگر کچھ نہیں کر سکی تو اُس کی وجہ شاید یہی ہے کہ مسلمان تو بہت ہیں لیکن مومن نہیں رہے اور احکامات کو پورا کرنے کی وجہ سے متشابہات میں پڑے ہوئے ہیں جس سے خدا تعالیٰ نے خود منع فرمایا۔جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا تھا۔ایک سچا واقعہ سناتا ہوں جس سے آپ کو شاید بات سمجھ میں آئے۔

ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک بزرگ روزانہ دریا چل کر پار کر جایا کرتے تھے۔ایک شخص روزانہ اُن کو دیکھتا تو رشک کرتا۔ایک دن بزرگ سے پوچھا کہ آپ دریا میں کیسے چلتے ہیں۔تو بزرگ نے فرمایا کہ خدا کے بھروسہ پر۔یہ سن کر صاحب کہنے لگے کہ یہ تو بہت آسان ہے کل میں بھی کروں گا۔اگلے دن سارے گائوں کو اکٹھا کر لیا اور کہا کہ میں تمہیں آج اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے دکھاتا ہوں۔

میں دریا کو چل کر پار کروں گا۔گائوں والے بڑے حیران ہوئے۔جب دریا کے کنارے پر پہنچا تو اپنے چیلے کو بلا کر کان میں کہا کہ یار مجھے پانی میں تیرنا نہیں آتا میری کمر کے ساتھ رسی باندھ دے اگر گر گیا تو کھیچ لینا۔کہیں ڈوب نہ جائوں۔تو وہی ہوا وہ ایک قدم بھی نہ چل سکا۔تو My Dear کچھ یہی حال ہمارے faith کا بھی ہے۔

ایک صاحبِ علم نے مجھے ایک بات بتائی جس نے مجھے حیران کر دیا۔اُنھوں نے کہا کہ ایک اسلامی اجتماع میں لاکھوں لوگ دور دراز سے آئے ہوئے تھے اور سارا دن اسلام کی باتیں ہوتی رہیں۔اُن میں سے ایک مسلمان بزرگ جو کہ انڈیا کے کسی گائوں سے تھے وہ بھی تھے۔آپ کو لوگوں نے کہا کہ ماشاء اللہ یہ مجمع ہر سال بڑھ رہاہے۔اسلام پھیل رہاہے۔آپ کو خوشی تو ہوئی ہو گی۔تو بزرگ نے فرمایا کہ بھائی ہمیں یہ لاکھوں لوگ نہیں چاہیئیں’ہمیں تو صحیح faith والے کچھ ہزار ہی چاہیئیں جو کہ لاکھوں پر بھاری ہوں۔تو آپ سے پوچھا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ان کا faith نہیں تو اُنھوں نے کہا کچھ سال پہلے اُنھوں نے ایسے ہی ایک مجمع میں جہاں ساری دُنیا سے لوگ اکٹھے تھے’لاکھوں کی تعداد میں ایک پمفلٹ چھپوا کر تقسیم کیا جس میں یہ لکھا تھا کہ میں خدا کو حاضر ناضر جان کر حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ:

—       خدا اور اُس کے رسولۖکے بتائے ہوئے ہر طریقے پر’ بات پر دل و جان سے اعتبار کرتا ہوں۔

—       خدا اور اُس کے رسولۖ کیلئے اپنی اولاد’ خاندان’ مال و دولت’اپنی جان اور ہر طرح سے جہاد کرنے کو تیار ہوں۔

—       خدا اور اُس کے رسولۖ کے بتائے ہوئے ہر طریقے کو اپنی ذات پر لاگو کروں گا’کسی اور کو بتانے سے پہلے۔

جو لوگ ان تینوں سوالوں کا جواب ہاں سے دیں اور اس پرSign کر دیں۔ اُن کو کہا گیا ہے کہ وہ اس پرچے کو اپنے نام’پتہ کے ساتھ ایک جگہ جمع کروادیں۔آپ حیران ہونگے کہ اُس لاکھوں کے مجمع میں سے صرف چند لوگوں نے اس حلفیہ بیان پر دستخط کیے۔یہ ہے ہمارے faith کا حال۔

میں تو اکثر لوگوں کو علاج کے دوران کہتا ہوں کہ اگر ہمارا faith ٹھیک ہو جائے تو آپ خود سوچئے کہ ڈاکٹرز’  سائیکالوجسٹ’ پیروں’ فقیروں’تعویز گنڈاکرنے والے اور اس طرح کے ہزاروں لوگوں کا کیا بنے گا۔

ایک روایت میں آیا کہ ہر بیماری کا علاج ہماریے اندر ہے۔اور بدقسمتی ہے کہ ہم باہر ڈھونڈتے ہیں۔یہ Faithکا حال ہے۔اگر ہمارا faithٹھیک ہو تو سوچئے کہ کیا ہمیں غصّہ آ سکتا ہے۔جس کو ہمارے مذہب میں حرام اور شیطانی فعل قرار دیا گیاہو۔

ذرا اسلامی نقطہ نظر سے غصّے کے بارے میں صرف کچھ احادیث ِمبارکہ اور قرآن پاک کے ارشاد حاضرِ خدمت ہیں:

حدیث شریف

1۔      غصّہ شیطان کی طرف سے ہے۔

2۔      غصّہ ایمان کو خراب کر دیتا ہے۔

3۔      جو اپنے غصّے کو روکتا ہے خدا اس کو روز قیامت کو اجر دے گا۔

4۔      وہی مضبوط اور طاقتور ہے جو کہ اپنے آپ پر قابو رکھے غصّہ کے دوران۔

5۔      غصّہ آئے تو کھڑے ہوئے ہو تو بیٹھ جائو’بیٹھے ہوئے ہو تو لیٹ جائو۔

6۔      غصّہ ایمان کو ایسے ہی خراب کرتا ہے جیسے ایک کڑوے پودے کا جوس شہد کو۔

7۔      ایک آدمی نے نبی پاکۖ سے اپنے لیے ایک اچھا سبق پوچھا تو آپۖ نے فرمایاکہ غُصےّ نہ ہونا اور آپۖ نے اس کو کئی مرتبہ دہرایا۔

8۔      نبی پاکۖسے پوچھا گیا کہ خدا کی نظر میں سب سے زیادہ عزت والا کون ہے۔آپۖ نے فرمایاکہ وہ جو اپنی طاقت کے باوجود معاف کر دے۔

9۔      کسی نے پوچھا کہ نبی پاکۖہمیں اپنے ملازم کو کتنی دفعہ معاف کرنا چاہیے۔آپۖ خاموش رہے۔آدمی نے سوال تین مرتبہ پوچھا پھر آپۖ نے فرمایا ”اپنے ملازم کو روز70مرتبہ معاف کرو”۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے:

1۔      جب اُنھیں غصّہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔  (الشوریٰ  :   ٣٧)

2۔      سو معاف کرتے رہا کرو اور درگزر سے کام لیتے رہو۔  (البقرہ  :   ١٠٩)

3۔      سو آپ معاف کر دیجیے اور ان کیلئے مغفرت کی دُعا کیجئے۔  (اٰلِ عمراٰن  :   ١٥٩)

4۔      معاف کرنے میں جلدی کرو۔  (اٰلِِ عمراٰن: ١٣٣)

5۔      جوغصّہ سے پرہیز کرتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔  (اٰلِ عمراٰن  :  ١٣٤)

دین تو زندگی گزارنے کا سلیقہ بیان کرتا ہے۔یہ دُنیا اور مذہب علیٰحدہ نہیں بلکہ دین تو آیا ہی آپ کو زندگی کا سلیقہ دینے کیلئے تھا۔

کسی بھی مذہبی کمیونٹی کا حصہ بنیں۔نہ صرف عبادت کریں بلکہ مذہب کو زندگی گزارنے کا سلیقہ سمجھ کر اپنی زندگی کے ہر حصہ پر لاگو کیجئے تو آپ کو غصّہ آئے گا ہی نہیں۔مثال کے طور پر اگر

O       آپ کو یہ معلوم ہو کہ آج آپ کی زندگی کا آخری دن ہے تو کیا آپ کو غصّہ آئے گا چھوٹی چھوٹی باتوں پر۔

O       اگر آپ کو یقین ہو کہ جو کچھ مصیبت آتی ہے آپ کی اپنی وجہ سے یاخدا کی آزمائش کی وجہ سے آتی ہے۔کوئی آپ کا کچھ نہیں کر سکتا۔جب تک خدا نہ چاہے تو کیا آپ کو غصّہ آئے گا۔ نہیں۔

آئیے آج سے ہم یہ وعدہ کریں کہ ہم غصّے کی لعنت سے اپنے آپ کو آزاد کر دیں گے۔اپنی اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی بھلائی اور خدا کے حکم کی اطاعت کیلئے یاد رکھیئے کہ یہ حرام ہے۔ایسے ہی جیسے کوئی اور چیز حرام ہو۔غصّہ آنا ہی نہیں چاہیے اگر آپ یہ نہ کر سکیں تو کنٹرول کا طریقہ سیکھیں۔

اگر ہم نے غصّے پر کنٹرول کر لیا تو سوچئے کہ ہمارا گھر’ ہمارا معاشرہ’یہ ملک اور دنیا جنت بن جائے گی۔ہر بُرائی کی ابتدا غصّےّ سے ہی ہوتی ہے۔اگر غصّہ نہ آئے تو بُرائی بھی نہیں ہوگی۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔