Human Diversity – A Blessing or a Curse (تفاوت ِ انسانی- رحمت یا زحمت)

Transcription of Faiez Seyal’s Urdu best-seller Audio Program “Human Diversity – A Blessing or a Curse” from 1995 

پچھلے کچھ عرصے میں میرے مختلف سیمینارز کے بعد ایک سوال نظامِ قدرت کے بارے میں باربار پوچھا جاتارہا۔سوال یہ تھا کہ ایک بچہ جو غریب یا کم پڑھے لکھے گھرانے میں پیدا ہوا ہو اس میں اُس بچے کا کیا قصور ہے۔اور اُس کو اللہ نے کس جرم کی پاداش میں یہ سزا دی۔اسی وجہ سے اس موضوع پر وضاحت کی ضرورت پیش آئی۔

اس سوال کے جواب میں پہلے تو یہ بات واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ کسی چیز کی ابتدا سے اس کی انتہا کے بارے میں اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور نہ ہی لگانا چاہیے۔ہزاروں مثالیں اسی دنیا میں ایسی موجود ہیں کہ نیک لوگوں کے گھروں میں بد اولاد پیدا ہوئی ہے اور غریب لوگوں کے گھروں میں بادشاہوں’ مہاراجوں اور عظیم لوگوں نے پرورش پائی۔نہ صرف یہ بلکہ پیدائشی طور پر معذور بچوں نے بھی دنیا کی تاریخ میں اپنے نام لکھوائے۔ ایک ریسرچ کے مطابق دنیا کے ننانوے فیصد کروڑ پتی لوگ پہلی جنریشن کے کروڑ پتی ہیں یعنی کہ سیلف میڈ (self made) ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ اگر آپ بچوں کے امتحانی نتائج کو دیکھیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ زیادہ نمبر لینے والے بھی کئی بچے غریب خاندانوں سے ہی ہوتے ہیں جبکہ اکثر امیرزادوں کو علم کی یہ سعادت نصیب نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو وہ پڑھ لکھ کر بھی جاہل ہی رہتے ہیں۔

یہاں یہ بات واضح طور پر ذہن نشین کریں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر شخص پر انفرادی ذمہ داری ہے اور کسی بھی وجہ سے کوئی بھی زندگی کی انفرادی ذمہ داری سے فرار نہیں ہو سکتا۔

ذرا سوچئے کہ اگر اس دنیا میں تمام لوگ ایک جیسی صلاحیتوں کے مالک ہوتے تو یہ دنیا کیسی ہوتی اور اس دنیا کا نظام کیسے چلتا؟اگر تمام لوگ امیر ہوتے تو کام کون کرتا؟ اگر تمام لوگ علم والے یا ذہین ہوتے تو اُن کے علم یا ذہانت کو استعمال کرنے کے مواقع کون فراہم کرتا؟ اگر تمام لوگ نیک ہوتے تو اچھائی یا بُرائی کی تمیز کیسے ہوتی؟ غرض یہ کہ زندگی کا نظام تباہ و برباد ہو جاتا کیونکہ اس دنیا کے نظام کو چلانے کیلئے ایک جیسے لوگوں کی ضرورت نہیں تھی بلکہ مختلف لوگوں کی ضرورت تھی۔سورة الز ّخرف کی آیت  ٣٢میں ارشاد ہے:

”  کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں؟ہم نے ہی ان کی زندگانی دنیا کی روزی ان میں تقسیم کی ہے اور ایک کو دوسرے سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کے ماتحت کر لے جسے یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں اس سے آپ کے رب کی رحمت بہت ہی بہتر ہے۔ ”   (سورة الز ّخرف :٣٢)

لیکن جناب اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان کسی قسم کا امتیاز کیا ہے۔جیسا کہ آگے جا کر واضح ہو جائے گا۔

ذرا غور کیجئے کہ اس دنیا کا نظام چلانے کیلئے ایک قانون زیرِ عمل ہے جس کو قانونِ باہمی انحصار یاLaw of interdependence کانام دیا جاتا ہے۔اس قانون کے مطابق اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے مکمل محکومی یعنی کہ (dependancy) یامکمل آزادی یعنی کہ(Independance) کی بنیادوں پر نہیں بنایابلکہ باہمی انحصار اور تعاون کے قانون کے تحت چلنے کیلئے بنایا ہے تاکہ دنیا کانظام چلتا رہے۔اس کو سمجھنے کیلئے ایک مثال لیجئے:

جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی زندگی کے ہر پہلو کیلئے ماں باپ پر انحصار کرتا ہے۔اُسے دودھ پلانا’کپڑے بدلنا’نہلانا’کھانا کھلانا’سیکھانا’ اُس کے سوالوں کے جوابات دینا غرضیکہ ہر لمحے اس کا اپنی ماں یا باپ پر انحصار ہے۔لیکن کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ پیدائش اور تربیت کتنا مشکل اور ذمہ داری کا کام ہے۔اُس کے باوجود دنیا کا ہر شخص چاہے امیر ہو یا غریب’ کالا ہو یا گورا’ اولاد کی خواہش کیوں کرتا ہے؟

جی ہاں اس لئے کہ اگر ایک طرف بچہ اپنے ماں باپ پر کچھ چیزوں کی وجہ سے انحصار کرتا ہے تو دوسری طرف اُس کے ماں باپ کی بھی کچھ خواہشات اور نفسیاتی ضروریات ایسی ہیں جو کہ اسی بچے سے پوری ہوتی ہیں۔جیسا کہ پیار کی خواہش’نسلِ انسانی یا خاندان کی افزائشِ نسل وغیرہ وغیرہ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ انحصار یک طرفہ نہیں ہے بلکہ دو طرفہ ہے۔اولاد کو ماں باپ کی ضرورت ہے اورماں باپ کو اولاد کی ضرورت ہے۔اگر یہ دو طرفہ ضرورت نہ ہوتی تو کونسے ماں باپ بچوں کی خواہش کرتے یا اپنا مال’ اپنا سکون خراب کر کے اور اتنی تکلیفوں کے بعد اولاد کی پیدائش اور تربیت کرتے؟

دوسری طرف یہ دیکھئے کہ ماں باپ اپنی جوانی میں قربانیاں دے کر اولاد کی تربیت کرتے ہیں اس امید پر کہ ہم جب بوڑھے اور کمزور ہونگے تو یہی اولاد بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے گی۔وہی کمزور بچہ جو کہ پانی پینے کیلئے بھی ماں باپ پر dependent تھا وہی ماں باپ کی وفات کے بعد اُن کے جنازے کو کندھا دیتا ہے۔تو ایسا انحصار جو یک طرفہ نہ ہو بلکہ دو طرفہ ہو اس کو  Interdependence یعنی کہ باہمی انحصار کہا جاتا ہے۔

دوسری طرف دفتروں اور کمپنیوں کی مثال لیجئے چاہے کاروباری حضرات کے پاس جتنا مرضی پیسہ ہو اُسکے باوجود اُنکے کاروبار کا انحصار کئی چھوٹے بیوپاریوں پر ہے جو کہ اُن کو raw material میسر کرتے یں۔کیونکہ ہر کارخانہ اپنی تمام ضروریات خود ہی پورا نہیں کر سکتا۔یہ چھوٹے بیوپاری بڑی فیکٹریوں پر انحصار کرتے ہیں اور بڑی بڑی فیکٹریوں والے ان پر انحصار کرتے ہیں۔

اسی طرح اداروںکو چلانے کیلئے قابل لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے ان اداروں اور فیکٹریوں کا انحصار ان قابل لوگوں پر ہوا۔ اب دوسری طرف جو جتنا بھی قابل ہو اگر اس کو اپنی قابلیت دکھانے کیلئے ملازمت نہ ملے تو کیا فائدہ ہو گا اُس کی قابلیت کا۔اس طرح ملازمت پیشہ لوگ ملازمت کیلئے انحصار مختلف اداروں پر کرتے ہیں تو اسی طرح یہ بھی باہمی انحصار ہوا۔اس طرح گاہک اپنی ضروریات کی چیزیں خریدنے کیلئے مختلف کارخانوں پر انحصارکرتے ہیں۔دوسری طرف ان کارخانوں کی مصنوعات کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہوںاگر اُن کو خریدنے والا گاہک ہی موجود نہ ہوں تویہ کارخانے کیسے چلیں گے۔اس طرح کارخانوں کا انحصار گاہکوں پر’ملازموں پر اور بیوپاریوں پر ہے اور گاہکوں’ملازمت پیشہ لوگوں اور بیوپاریوں کا انحصار ان فیکٹریوں پر ہے جس سے یہ کاروباری نظام چل رہا ہے۔

اب اس دنیا کے نظام کی مثال لیجئے۔ترقی یافتہ ممالک جتنے بھی ترقی کر جائیں پھر بھی وہ خود انحصاری کے تحت نہیں چل سکتے۔اُن کی فیکٹریاں ہی بند ہو جائیں گی اگر کم ترقی یافتہ ممالک میں ان کی مصنوعات کے گاہک موجود نہ ہوں۔اس طرح ترقی یافتہ ممالک اپنی مصنوعات اور خدمات کی فروخت کیلئے کم ترقی یافتہ ممالک پر انحصار کرتے ہیں اور غیر ترقی یافتہ ممالک ٹیکنالوجی کیلئے ترقی یافتہ ممالک پر انحصار کرتے ہیں۔تو جناب نتیجہ یہ اخذ ہوا کہ کوئی شخص یا ادارہ یا ملک جتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو جائے۔اُس کے باوجود وہ دوسرے لوگوں’ اداروں اور ممالک پر انحصار کرتا ہے اور کئی لوگ’ادارے اور ممالک اس پرانحصار کرتے ہیں۔اس لئے کہ کسی بھی شخص’ادارہ یا ملک کو اللہ تعالیٰ نے سب کچھ نہیں دیا لیکن کچھ نہ کچھ ضرور دیا ہے۔اگر سب کچھ مل جاتا تو اس دنیا کا نظام نہ چل سکتا اور جانوروں اور انسانوں کی زندگی میں کوئی فرق ہی نہ رہتا۔

آپ خود سوچئے کہ اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی جسمانی’ دماغی’جذباتی اور روحانی ضروریات کیلئے خود کفیل ہو جائے اور کسی دوسرے شخص کی ضرورت ہی نہ رہے تو کون کسی کے ساتھ رہنا چاہے گا؟ جانوروں کی طرح ہر کوئی اپنے لئے ہی جیئے گا اور ہر کوئی اپنا ہی معلم’ ڈاکٹر’معمار’کک’حجام خود ہی ہوگا اور یوں انسان کبھی بھی ترقی نہ کر پائے گا۔جیسا کہ جانور آج بھی ویسے ہی رہتے ہیں جیسے کہ لاکھوں’کروڑوں سال پہلے رہتے تھے اوران کی زندگی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔

ذرا سوچئے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی تک بڑے ممالک اور طاقتیں چھوٹے ممالک کو غلام اور محکوم بنانے کیلئے کتنا ظلم کرتی رہی ہیں۔یہ انسانی نفسیات ہے کہ جب کوئی چیز ایک حد تک پہنچ جاتی ہے تو انسان کا reactionاس سے مکمل طور پر اُلٹ ہو جاتا ہے اس لئے انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے شروع میں کئی ممالک جو کہ محکوم یعنی کہ dependent بن چکے تھے انہوں نے اپنی آزادی کی جنگیں لڑیں اور آخرکار بیسویں صدی کے وسط تک کافی ممالک آزاد اور خودمختار ہو چکے تھے۔

لیکن اس آزادی کے بعد اُنہیں خیال آیا کہ یہ زندگی اس طرح کی آزادی اور مکمل خودمختاری سے بھی نہیں گزاری جا سکتی۔ان ممالک کو اپنی ترقی کیلئے بڑی اور ترقی یافتہ قوموں کی ضرورت پڑی۔اسی طرح ترقی یافتہ ممالک نے یہ جان لیا کہ ان کی ترقی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اگر ان کی مصنوعات اور خدمات ترقی پزیر ممالک نہ خریدیں یا انہیں خام مال ہی نہ ملے۔

یہ احساس آنے کے بعد سے دنیا بیسویں صدی کے اختتام سے دوبارہ سمٹ رہی ہے۔غیر ترقی یافتہ ملکوں نے  جن بڑے ممالک سے آزادی اور خودمختاری لی تھی آج پھر سے وہ ان ترقی یافتہ ممالک پر کئی چیزوں کیلئے انحصار کرتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ یہ انحصار یک طرفہ نہیں ہے بلکہ دوطرفہ ہے۔بڑے اور ترقی یافتہ ممالک چھوٹے اور غیر ترقی یافتہ ممالک پر انحصار کرتے ہیں اور چھوٹے اور غیر ترقی یافتہ ممالک اُن بڑے ممالک پر انحصار کر رہے ہیں یعنی کہ وہ سفر جو کہ آزادی سے شروع ہوا پھر غلامی یا محکومیت میں بدلا اور پھر آزادی میں بدلا اور آخر کار باہمی انحصار پر Settle down ہو گیا۔

افسوس کہ دنیا نے یہ سادہ سا سبق سیکھنے میں صدیاں لگا دیں اور لاکھوں لوگوں کی جانوںکی قربانی دی گئی۔کاش سورة المائدہ کی آیت نمبر  ٤٨ کی روشنی میں یہ سبق پہلے سے ہی سیکھ لیاہوتا۔

”  تم میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے ایک دستور اور راہ مقرر کر دی ہے۔اگر منظورِ مولیٰ ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنادیتا’لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے’تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو’تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے’پھر وہ تمہیں ہر وہ چیز بتا دے گاجس میں تم اختلاف کرتے ہو۔  ”   (سورة المائدہ  :  ٤٨)

چلیے دیر آیددُرست آید۔اب تو یہ لگ رہا ہے کہ آہستہ آہستہ دنیا پھر سے ویسے ہی ہو جائے گی جیسے کبھی ابتدا میں ہوا کرتی تھی اور ہر کوئی اِس دنیا کا ایک آزاد شہری تھا۔اس دنیا کا ایک ہی پاسپورٹ تھا اورایک ہی کرنسی تھی جس کو ہم سونا کہتے تھے۔

پچھلی صدی کے آخری کچھ سالوں میں کمیونزم کے خاتمے’برلن وال کے گرنے اور یورپین یونین کے بننے سے جس کا ایک ہی پاسپورٹ اور ایک ہی کرنسی ہے اور کھلی اور آزاد تجارت اور گلوبلائیزیشن کو دیکھتے ہوئے تو لگ رہا ہے کہ دنیا نے مشکل سے لیکن آخر کار یہ سبق سیکھ ہی لیا ہے کہ ہم لوگ اکیلے رہ کر مشترکہ زندگی کا مقصد جو کہ انسانی زندگی کی فلاح و بہبود ہے وہ کبھی بھی صحیح طریقے سے پورا نہ کر سکیں گے اور آہستہ آہستہ شاید یہ دنیا سمٹ کر دوبارہ ایک ہی ہو جائے۔

تو جناب یہ تو تھا وہ باہمی انحصار کا قانونِ قدرت’ اب دیکھنا یہ ہے کہ باہمی انحصار کے قانون کی بنیاد کیاہے۔اس قانون کی بنیاد diversity یعنی کہ تفاوت پر مبنی ہے۔

سورة المائدہ کی آیت ٤٨کو دوبارہ ملاحظہ فرمائیے:

”  تم میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے ایک دستور اور راہ مقرر کر دی ہے۔اگر منظورِ مولیٰ ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنادیتا’لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے’تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو’تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے’پھر وہ تمہیں ہر وہ چیز بتا دے گاجس میں تم اختلاف کرتے ہو۔  ”  (سورة المائدہ  : ٤٨)

اس آیت میں ایک چیز بڑی واضح طریقہ سے بیان کی گئی ہے اور یہ ہے۔”لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے۔ ”

جناب اس سے تو یہی ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو کچھ نہ کچھ دیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں کسی بھی طرح سے discriminate یا فرق نہیں کیا۔

جیسا کہ میںنے پہلے کہا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو ہر چیز یا صلاحیت سے تو نہیں نوازا لیکن کسی نہ کسی چیز یا صلاحیت سے ضرور نوازا ہے۔آپ خود دیکھ لیجئے کسی ملک کے پاس ٹیکنالوجیہے اور کسی کے پاس تیل کی دولت ہے’کسی کے پاس زرخیز زمین اور کھیتی ہے تو کسی اور کے پاس قیمتی پتھر اور معدنیات ہیں۔

اسی طرح کسی شخص کے پاس امیر والدین اور جائیداد ہے تو کسی کو اللہ نے خوبصورتی یا خوبصورت آواز سے نوازاہے۔کسی کے پاس علم کی دولت ہے تو کسی کو صحت کی دولت سے نوازا۔کسی میں کوئی خاص قسم کی جسمانی صلاحیت ہے تو کسی اور میں غیر معمولی طور پر دماغی قابلیت ہے۔غرضیکہ کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو یہ کہہ سکے کہ مجھے اللہ نے کچھ بھی نہیں دیا۔بدقسمتی سے یہ آسان سی بات لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی اور ساری زندگی لوگ اللہ سے گلہ کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں کہ تو نے مجھے کچھ بھی نہیں دیا۔اُن کی آنکھیںاس دنیا کے تضادات سے آگے دیکھنے کے قابل ہی نہیں۔ جو سطح پر نظر آتا ہے اسی کو سچ سمجھتے ہیں گہرائی میں جانے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

تو جناب آج اس بات کو تو اپنے دل سے نکال دیجئے کہ اللہ نے آپ پر ظلم کیا ہے اور آپ کو کوئی وسائل یا صلاحیتیں نہیں دیں جو کہ دوسروں کو دی ہیں۔پچھلی آیت سے یہ واضح ہو گیا کہ کچھ نہ کچھ ضرور دیاہوگا۔میں نے اپنی زندگی میں آج تک کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جس کے پاس کچھ نہ ہو۔حتیٰ کہ ایک بھکاری بچہ یا ایک معذور شخص جو سڑک پر نظر آتا ہے۔چاہے آپ کو یا اُس کو اپنے میں کوئی صلاحیت نظر آئے یا نہ آئے لیکن ہو گی ضرور۔

ایک دفعہ ایک سیمینار کے بعد ایک صاحب اس بات پر بحث کرنے لگے کہ میرا ایک ڈرائیور ہے جس کی تنخواہ تین ہزار روپے ہے اور وہ پڑھا لکھا بھی نہیں۔گھر میں غربت ہے اب آپ یہ بتائیے کہ اُس کے پاس کیا ہے۔میں نے جواب میں اُن صاحب کو جن کو میں پہلے سے جانتا تھا کہا کہ صاحب مجھے اس شخص کے بارے میں پوری معلومات تو نہیں لیکن ایک قصہ ضرور یاد ہے جو کہ آپ نے ہی مجھے سنایا تھا۔اگر اجازت ہو تو عرض کرو۔اُن کی اجازت کے بعد میں نے اُ ن سے کہا کہ جب آپ کے گھر میں کچھ سال پہلے ایک ڈاکہ پڑا تھا اور آپ کے بیوی بچوں کو آپ کی آنکھوں کے سامنے باندھ دیا گیا تھا اور اُن پر ظلم ہو رہا تھا’ آپ کے پاس پستول بھی موجود تھی ‘طاقت بھی تھی’ آپ نے اپنے بیوی بچوں کو بچانے کیلئے کوشش کیوں نہیں کی ۔اور جب وہ ڈاکو آپ کا سارا سامان لُوٹ کر اور آپ کی چھوٹی بیٹی کو اغوا کر کے جانے ہی والے تھے تو اسی ڈرائیور نے بغیر کسی ہتھیار کے ان کو للکارا جس کی وجہ سے وہ بوکھلا گئے۔اس کے بعد اُسی ڈرائیور نے چاقو سے ان کی گاڑی کا ٹائر پھاڑدیا اور شور مچایا۔غرضیکہ وہ ڈاکہ ناکام ہو گیا اور آپ کی بیٹی بھی اغوا سے بچ گئی۔ اب آپ یہ بتائیے کہ اب بھی آپ کو سمجھ میں نہیں آئی کہ اس ڈرائیور کے پاس ایسی کیا چیز ہے جو کہ آپ کے پاس نہیں۔اتنی دولت ہونے کے باوجود اپنی بیوی  اوربچوں کو آپ نہیں بچا سکے اور وہ بیچارا تین ہزار کی ملازمت کرنے والا اُس نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر آپ سے وفا نبھائی۔

اُس کا حوصلہ’جراء ت’ دیانتداری’وفاداری ‘ حاضر دماغی وغیرہ تو ضرور آپ سے زائد ہے۔یہ سن کر وہ صاحب چپ ہو گئے۔

اس ساری بات کو سمجھانے کیلئے میں ایک بہت ہی آسان سی مثال بیان کرتا ہوں:

آپ یہ سمجھئے کہ آپ ایک تقریب میں جاتے ہیں اور وہاں پر ایک مٹھائی کا ڈبہ جس کا وزن ایک کلو ہے تمام مہمانوں کو تھما دیا جاتا ہے اس مٹھائی کے ڈبے میں مکس مٹھائی ہے غرضیکہ برفی’ لڈو’جلیبی’گلاب جامن’ حلوہ’ ہر طرح کی مٹھائی ہے۔ہر کسی کے ڈبے کا وزن ایک کلو ہی ہے لیکن ہر کسی کے ڈبے کے اندر مٹھائی کی اقسام فرق ہیں۔

کسی میں گلاب جامن زیادہ ہیں اور برفی کم ہے یا ہے ہی نہیں’شاید کسی اور میں لڈو زیادہ ہوں اور گلاب جامن کا صرف ایک ہی پیس ہو۔

ساتھ ہی یہ اعلان کر دیا جاتا ہے کہ اگر کسی کو اپنے مٹھائی کے ڈبے میں کچھ تبدیلی کرنا ہو تو کرالے لیکن صرف یہ بات ذہن نشین کر لے کہ آپ کچھ اپنی مرضی سے ڈلوا تو سکتے ہیں لیکن اُس کے بدلے میں حلوائی اس ڈبے میں سے کیا نکالے گا وہ اُس کی مرضی ہے کیونکہ ڈبے کا وزن ایک کلو سے زیادہ ہو نہیں سکتا۔

اگر اس وقت یہ شرط نہ لگائی جائے کہ اس ڈبہ میں اپنی مرضی سے ڈلوایا جا سکتاہے لیکن نکالنے کا اختیار حلوائی کا ہے تو ہر کسی شخص کی یہی خواہش ہو گی کہ وہ تمام اچھی مٹھائیاں اپنے ڈبے میں رکھ لے۔اس طرح  ہو گا یہ کہ کچھ لوگوں کے حصے میں بالکل ہی بیکار مٹھائی آئے گی کیونکہ پہلے پہل لوگ اچھی مٹھائی اپنے ڈبے میں رکھوالیں گے اور ناپسندیدہ مٹھائی وہاں چھوڑ دینگے۔اس طرح باقی لوگوں پر زیادتی ہوگی۔

اب آپ یہ فرض کیجئے کہ یہ زندگی کی مٹھائی کا ڈبہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے اپنے ہر بندے کو ایک کلو مکس مٹھائی دے دی ہے۔جس میں صحت’خوشی’ سکون’ محبت’ آرام’ پیار’ اولاد’ رزق’ علم’ خوبصورتی وغیرہ جیسی مٹھائیاں ہیں۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا سے یہ ڈبہ سب کو تھما دیا ہے اسی لئے تو ہو سکتا ہے کہ کسی کے ڈبے میں رزق کم ہو’ہمت وطاقت’صحت وغیرہ زیادہ ہو یا کسی میں آرام کم ہو۔

لیکن ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو یہ بھی اختیار دے دیا ہے کہ وہ اب اپنی مرضی سے اس ڈبہ میں جو چاہے ڈلوا سکتا ہے۔جیسا کہ سورة النجم کی آیات ٤٠اور  ٤١میں ارشاد ہے۔

”  اور یہ کہ بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی اور پھر اُسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔  ” (سورة النجم : ٤٠-٤١)

اور ترمذی میں روایت ہے کہ آپۖ نے فرمایا:

”  مانگو اور تمہیں ملے گااور تمہیں ملے گا۔  ”   (ترمذی)

اب جس کو زیادہ دولت چاہیے’زیادہ علم چاہیے’زیادہ صحت چاہیے یا زیادہ خوشی چاہیے وہ اللہ سے مانگ سکتا ہے۔لیکن دوسری طرف اس کے بدلے میں کیا نکلے گا اُس کا اختیار اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہیں دیا۔ یادررکھیئے کہ وزن نہیں بڑھے گا اور اس دنیا کاتوازن برقرار رکھنے کیلئے کچھ نکلے گا ضرور جیسا کہ سورة النجم کی آیات  ٢٤ اور  ٢٥  میں ارشاد ہے۔

”  کیا ہر شخص جو آرزو کرے اسے میسر ہے۔اللہ ہی کے ہاتھ ہے یہ جہاں اور وہ جہاں۔  ”  (النجم  :٢٤-٢٥)

اور سورة البقرہ کی آیت  ٢٨٦میں ارشادِ ربانی ہے۔

”  اسے ملے گا وہی جو اُس نے کمایا اور اور اس پر پڑے گاوہی جو اس نے کمایا۔  ”   (البقرہ  :٢٨٦)

دیکھئے کہ کتنی خوبصورتی سے اللہ تعالیٰ نے سب کچھ واضح کر دیا ہے۔افسوس کہ ہم اس دین کو سمجھے ہی نہیں۔

خیر! جناب اس قانون کی رو سے یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی شخص کے پاس سب کچھ ہی ہو۔دائیں بائیں نظر دوڑائیے تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہی سچ ہے۔بدقسمتی تو یہ ہے کہ لوگ صرف ظاہری شان شوکت اور دولت کو دیکھ کر یہ فیصلہ دے دیتے ہیں کہ وہ کتنا خوش قسمت شخص ہے۔

ذرا قریب جا کر جھانک کر دیکھئے تو پتہ چلے گا کہ اس امارت یا عزت کی اس شخص نے کیا قیمت چکائی ہے۔اگر لوگوں کو صرف اسی بات کا پتہ چل جائے کہ اللہ کے ہاں کوئی چیز مفت نہیں ہے تو مسائل ہی ختم ہو جائیں۔ جب  گھر میں کچھ آرہا ہوتو ذرا غور کر لیا کریں کہ کیا جا رہا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف آہی رہا ہو۔اگر علم آرہا ہے تو شاید دولت میں کمی واقع ہو رہی ہو ۔یا شاید صحت گر رہی ہو۔اگر دولت آرہی ہے تو شاید سکون اور خوشی جارہے ہوں۔

کبھی آپ نے یہ غور کیا کہ خوبصورت پھول کے ساتھ کانٹا ضرور ہوگا۔اگر کسی پھول کے ساتھ کانٹا نہیں تو وہ خوبصورت نہیں ہوگا اور اگر تھوڑا بہت خوبصورت بھی ہے تو اس میں شاید خوشبو نہ موجود ہو۔اگر رنگ بھی ہو’خوشبو بھی ہو’خوبصورتی بھی ہو تو کانٹا ضرور ہوگا۔اس طرح جانوروں’پھلوں’درختوں’ حتیٰ کہ پتھروں پر بھی نظر دوڑائیے تو یہ قانون ہر جگہ آپ کو ملے گا۔جو خوبصورت جانور ہے وہ شاید طاقت نہ رکھتا ہو۔جس کے پاس طاقت ہے اُس کے پاس چستی نہیں ہوگی۔جس کے پاس طاقت بھی ہے اور چستی بھی اُس کے پاس شاید وفایا اُنس نہ ہو۔

پھلوں کی بھی یہی داستان ہے۔جس کا ذائقہ اچھا ہے اس میں شاید طاقت کی کمی ہو گی۔جس کا ذائقہ بھی ہے اور طاقت بھی اُس میں شاید  خوشبو نہیں ہوگی۔

حتیٰ کہ پتھر بھی کتنی شکلوں کے ہیں۔کوئلہ بھی پتھر ہے اور جس سے گھر بنتے ہیں وہ بھی پتھر ہے اور زمرد بھی پتھر ہے اور ہیرا بھی پتھر ہی ہے۔

اور ہر پتھر کی خاصیت بھی فرق ہی ہے۔

گوشت کے شوقین لوگوں سے پوچھیئے کہ سب سے مزا گردن یا چانپ کے گوشت میں ہے اور سب سے زیادہ غذا بھی اسی میں ہے۔لیکن اگر مزا چاہیے تو پھر ہڈی پر بھی گزارا کرنا ہوگا۔

ران میں گوشت زیادہ ہے لیکن ساتھ ہی ذائقہ بھی کم ہے۔

غرضیکہ دنیا کی کوئی شے یا کوئی شخص اٹھا لیجئے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس شخص کے پاس دنیا کی ہر دولت موجود ہے۔

لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سنڈریلا کی خوبصورتی’ٹارزن کی طاقت’حضرت نوح  جیسی لمبی عمر’حضرت علی جیسا جوش’قارون کا خزانہ اور نیوٹن یا آئن سٹائن کا دماغ اور حضرت محمد ۖ جیسا مقام چاہتے ہیں۔

یہ نہیں ہو سکتا۔

تو جناب اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہوئے ذرا سوچ سمجھ کر مانگیئے کہیں گھاٹے کا سودا نہ کر لیجئے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو وہ شاید آپ کو دے ہی دے گا جو آپ کو چاہیے لیکن ایسا نہ ہو کہ اُس چیز کے آنے کے ساتھ جو چیزجائے وہ کہیں زیادہ قیمتی ہو آپ کیلئے اور اُس کے نکل جانے کے بعد آپ کو خیال آئے کہ یہ آپ نے کیا گھاٹے کا سودا کر لیا۔

سورةالشوریٰ کی آیت ٢٠میں ارشاد ہوا:

”  جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں ہی کچھ دے دیں گے’ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔”  (الشوریٰ  :٢٠)

سورةالتکاثر کی آیات  ١ تا ٤میں ارشادِ ربانی ہے:

”  اور تمہیں غفلت میں ڈال دیا کثرتِ طلبی کی دوڑ نے’یہاں تک کہ تم قبروں میں جاپڑے خبردار تم معلوم کروگے۔پھر خبردار تم معلوم کروگے۔  ”   (التکاثر  :  ١-٤)

تو جناب یہ تھا دوسرا قانونِ قدرت جو کہ پہلے قانونِ قدرت یعنی کہ باہمی انحصار کو Supportکرتا ہے۔کیونکہ اسی قانون کی وجہ سے باہمی انحصار ممکن تھا۔اگر ہر شخص کے پاس ہر کچھ ہی موجود ہوتا تو اُسے دوسرے لوگوں کی ضرورت ہی نہ رہتی۔

چلئے اب دیکھتے ہیں کہ تنوع یا تفاوت کتنی اقسام کا ہے۔ویسے تو لوگوں کے درمیان سینکڑوں طرح کے فرق پائے جاتے ہیں لیکن ہم یہاں پر صرف بڑے فرقوں کا ذکر ہی کرینگے۔

فرق نمبر:1 Gender یا جنس کا فرق

اس فرق کو سمجھنے کیلئے سورة الروم کی آیت ٢١کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:

”  اور اسی کے نشانات میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ ان کی طرف مائل ہو کر آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی۔جو لوگ غور کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے ان باتوں میں بہت سی نشانیاں ہیں۔  ”   (الروم  :٢١)

اس آیت پر غور کیجئے۔اس میں بڑا نقطہ”انکی طرف مائل ہو کر آرام حاصل کرنا اور محبت اور مہربانی پیدا کر نا ہے” ۔غور کرنے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ عورت اور آدمی کے جسمانی فرق کے علاوہ عورت اور آدمی میں کچھ اور فرق بھی ہیں یعنی جذباتی یا آسان الفاظ میں طبیعت کا فرق۔

اس کو سمجھنے کیلئے پہلے ماں اور باپ کی مثال لیتے ہیں۔اگرچہ کہ اولاد دونوں یعنی کہ ماں اور باپ کو پیاری ہوتی ہے۔لیکن کبھی آپ نے یہ غور کیا کہ چاہے باپ کو اولاد سے کتنا ہی پیار ہو’جو جذبات اور احساسات اولاد کے بارے میں ماں کے ہوتے ہیں وہ باپ کے نہیں ہو سکتے۔

یہاں تک کہ اکثر اوقات بیٹھے بیٹھے ماں بدک کر اُٹھ پڑتی ہے یا پریشان ہو جاتی ہے اور بعد میں علم ہوتا ہے کہ ہزاروں یا لاکھوں میل دور بیٹھے ہوئے اس کی اولاد کو کوئی تکلیف پہنچی تھی۔

نہ صرف یہ بلکہ اس بات پر بھی غور کیجئے کہ چھوٹے سے شیر خوار بچے کیلئے راتوں کو جاگ جاگ کر ماں کیسے پرورش کرتی ہے جب کہ ایسا اگر باپ کو ایک یا دو مرتبہ کرنا پڑے تو وہ شاید یہ بھی نہ کر سکے۔

یہ خاص محبت اور مہربانی کا جذبہ ہے جو کہ اللہ نے عورت میں رکھ دیا ہے جو کہ آدمی میں نہیں ہے۔

اسی محبت اور مہربانی کے جذبے کی وجہ سے ہی ایک عورت ایک غیر مرد کو جس کو وہ شادی سے پہلے جانتی بھی نہیں شادی کے بعد اتنی محبت کرتی ہے جو کہ عقل کو دنگ ہی کر دیتی ہے۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مرد محبت نہیں کرتا۔لیکن مرد کی محبت کی وجوہات اور شدت فرق ہوتی ہیں’ جب کہ عورت کی فرق ہوتی ہیں۔جیسا کہ آج کے ماہرِ نفسیات بھی اس بات کو مانتے ہیں۔

اسی طرح یہ اسی محبت اور مہربانی کے جذبات کی وجہ سے ہی ہے کہ دنیا کی بہترین نرسیں اور پرائمری سکول کی ٹیچرز عورتیں ہی ہیں۔مرد حضرات کچھ بھی کر لیںوہ محبت اور مہربانی کے جذبات میں عورت سے آگے نہیں نکل سکتے۔

اسی طرح عورتوں کی دوسری خصوصیات میں نفاست پسندی’ صفائی’ وفاداری’نفسانی خواہشات کا کنٹرول ‘رکھ رکھائو’ Creativity وغیرہ جیسی خوبیاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔

اب یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے پھول کے ساتھ کانٹا یا اچھائی کے ساتھ خامی ضرور لگا دی ہے۔کوئی چیز بھی مفت میں نہیں آتی۔

اسی لئے ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ دوسری طرف عورتوں میں کچھ خامیاں بھی ہیں جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ عورتیں جذباتی زیادہ ہوتی ہیں حقیقت پسند کم ہیں’جسمانی طور پر مرد کے مقابلے میں کمزور ہیں’مشکل طبیعت یعنی کہ باتوں میں آجانے والی ہیں’شخصیت میں ٹھہرائو کی کمی ہے۔

اور یہ عورتوں کی خامیاں مرد حضرات کی خوبیوں میں شامل ہیں۔

سوچئے کہ اگر عورتوں میں یہ خامیاں نہ ہوتیں تو انہیں کیا ضرورت تھی کہ وہ ایک شخص کی سبقت مان کر اس کے ساتھ زندگی گزاریں۔آزادی کِسے نہیں پسند۔لیکن سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ کوئی تو وجہ ہوگی کہ کامیاب ملازمت پیشہ خواتین جو روزگار میں خودکفیل ہیں اُس کے باوجود وہ مرد پر انحصارکرنا چاہتی ہیں۔

دوسری طرف آپ سوچیں کہ اگر کسی گھر میں عورت نہ ہو تو چاہے آدمی جتنا بھی کامیاب ہو گھر کے اندر گھستے ہی طریقہ سلیقہ اور اولاد کو دیکھ کر یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اس گھر میں عورت نہیں ہے۔اور تو اور کئی مرد حضرات کے تو کپڑے دیکھ کر ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ان کی گھریلو زندگی کیسی ہوگی۔

مرد و عورت میں اگر یہ بنیادی فرق اللہ تعالیٰ نے نہ رکھے ہوتے تو سوچئے کہ یہ دنیا کا نظام کیسے چل سکتا؟

غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مردوعورت کے پیار کی بنیادی وجہ صرف جنسی خواہشات کی تسکین ہی نہیں لیکن وہ فطری نفسیات اور طبیعت کے فرق ہیں جس کی وجہ سے زندگی کی گاڑی چلتی ہے۔

اگر اس بات کو آپ آزمانا چاہیں تو آزما لیجئے آپ کو کہیں نہ کہیں ایسی مثال مل جائے گی کہ جس گھر کی خاتون یا مرد میں تربیت کی کمی یا کسی اور وجہ سے اگر مرد یا خاتون کے فطری فرق کا فقدان ہو گا تو اُس گھر کی ز ندگی میں مسائل ہی مسائل ہونگے۔مثلاً اگر ایک لڑکی کی پرورش ماں باپ نے لڑکوں کی طرح کی ہو اور وہ ٹام بوائے بن جائے تو وہ کیسی ماں یا بیوی بنے گی؟

دوسری طرف اگر لڑکے کی پرورش لڑکیوں کی طرح نازوپیار سے کی گئی ہو تو وہ تو گھر کا مرد ہونے کے باوجود گھر کی عورت ہی رہے گا اور بیچاری بیوی کو اُس کو بھی پالنا پڑے گا۔

یہی فرق طبعی اور نفسیاتی دونوں اس رشتے کو جوڑے رکھنے کی بنیادی وجہ ہیں۔

یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھیئے کہ مرد اور خواتین کو اپنے فطری فرق کو ایک دوسرے کے خلاف طعنے بازیوں یا لڑائی کیلئے استعمال کرنے کی بجائے انہیں ایک دوسرے کے بنیادی فرق کو سمجھ کر اس کو  appreciate کرنا چاہیے کیونکہ اسی فرق کی وجہ سے ہی تو وہ ساتھ ہیں۔یادکیجئے اس آیت کا آخری حصہ ” جو لوگ غور کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔”

فرق نمبر:2 Race یعنی کہ نسلی فرق

انسانوں کے درمیان دوسرا بڑافرق نسلی فرق ہے جس کے بارے میں سورة الر ّوم کی آیت ٢٢میں ارشاد ہے۔

”  اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے دانش مندوں کیلئے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں۔  ”   (الروم: ٢٢)

اس آیت میں بھی یہی اشارہ کیا گیا ہے کہ زبانوں اور رنگوں کے فرق میں بھی دانش مندوں کیلئے بڑی ہی نشانیاں ہیں۔

اگر آپ دنیا کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں نسل یا رنگ کی بنیاد پر امتیاز کی روایت بیسویں صدی کے درمیان تک رہی۔ابھی بھی کئی معاشروں میں یہ امتیاز پایا جاتا ہے اور یہ انہی معاشروں یا لوگوں کے درمیان ہی زیادہ ہے جو کہ کم پڑھے لکھے  ہیں اور جو کہ قانونِ تفاوت سے لاعلم ہیں۔

ذرا سوچئے کہ دنیا میں کتنے نسلی فسادات اور ہنگامے ہوئے اور آہستہ آہستہ لوگوں کو آخرکارپتہ چل ہی گیا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کے رنگ کو کالا یا نسل کے فرق کو اس لئے کر دیا ہو کہ ساری زندگی اس شخص یا معاشرے کے ساتھ برُا سلوک ہوتا رہے۔

آج دنیا میں یہ بات شدت سے مانی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کالے لوگوں کو جس میں ایشیائی’افریقی دونوں شامل ہیں اگر رنگ سے نہیں نوازا لیکن ان میں اور خوبیاں دوسروں سے زیادہ ہیں۔

اگر آج آپ دنیا میں نظر ڈالیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں بہترین گلوکار ‘بہترین کھلاڑی اور سیکوریٹی’پولیس اور آرمڈ فورسز کے بہترین ارکان تمام کالے ہیں۔

اب سوچئے کہ دنیا کو یہ آسان سی بات جو قرآن نے ١٤٠٠ سال پہلے سمجھائی تھی سمجھنے میں کتنی دیر لگی؟

اس کے علاوہ انسانی جلد کے ماہرین نے بھی یہ انکشاف کیا ہے کہ کالی جلد ‘سفید جلد سے زیادہ مضبوط’زیادہ ہموار اور جسم کو زیادہ تحفظ فراہم کرتی ہے اور زیادہ خوبصورت بھی ہوتی ہے۔

کبھی آپ نے گورے لوگوں کو اگر میک اپ کے بغیر دیکھا ہو تو پتہ چلے گا کہ ان کی جلد بہت ہی کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے نشانات سے بھری ہوتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ زیادہ گورے لوگوں کی جلدچالیس سال کی عمر سے ہی لٹکنا شروع ہو جاتی ہے۔اسی طرح کالے لوگ قوتِ برداشت میں بھی گورے لوگوں کی نسبت بہت ہی بہتر ہیں۔اس کی مثال تو یہ ہے کہ کالے رنگ کے لوگ شدید موسم کا گورے رنگ کے لوگوں کے مقابلے میں بہت بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔

اسی طرح ایشیائی لوگوں کی خوبصورتی کی مثالیں تو آپ ٹی وی پروگراموں میں دیکھ ہی چکے ہونگے۔ایشیائی عورتوں کے بال’ جلد اور جسامت یورپی ملکوں سے بہتر ہے۔اس بات کا ثبوت ایشیائی عورتوں کے پچھلے کئی سالوں سے مقابلہ حُسن میں اول انعام لینا ہے۔

غرضیکہ رنگ اور نسل کے فرق کے مطالعہ سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز اپنے لوگوں میں بانٹ کر تقسیم کی ہے۔اور یہ نہیں ہے کہ کسی کو ہر چیز ہی مل جائے۔

 

فرق نمبر:3 عمر کا فرق

عمر کے فرق میں زیادہ کہنے کی ضرورت تو نہیں کیونکہ یہ سب کے سامنے واضح ہے کہ جوانی اور بڑھاپے کے فرق کیا ہیں۔

جوانی میں جوش ‘جذبہ ‘ہمت’ طاقت’ خطرے لینے کی صلاحیت’ سیکھنے کی صلاحیت’ ماحول کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت’ جِدت پسندی جیسی خوبیاں زیادہ ہوتی ہیں۔جب کہ ساتھ ہی ساتھ جذباتیت ‘غیر ذمہ دارانہ رویہ’کم تجربہ’پلاننگ کی کمی جیسے منفی رجحانات بھی ہوتے ہیں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے تجربہ بڑھتا ہے حقیقت پسندی’ذمہ داریوں کا احساس جیسی خوبیاں بھی بڑھتی چلی جاتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ہمت’ طاقت’ جوش’سیکھنے کی صلاحیت وغیر ہ جیسی خوبیاں کم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ سورةالنحل کی آیت ٧٠میں ارشادِ باری ہے:

”  اللہ تعالیٰ نے ہی تم سب کو پیدا کیا ہے وہی تمہیں مارے گا اور تم میں سے کچھ ہیں جو کہ اُسی کمزور عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بھی نہ جانیں۔بیشک اللہ دانا اور توانا ہے۔  ”   (النحل  :٧٠)

اس آیت میں اشارہ بوڑھی عمر کی طرف ہے جس میں پہنچ کر لوگ نومولود بچوں کی طرح ہو جاتے ہیں۔یعنی کہ کمزور’ناتواں’حساس اور دوسرے لوگوں پر انحصار کرنے والے۔تو جناب یہ تھا عمر کا فرق۔

فرق نمبر:4 امارت اور غربت کا فرق

چوتھا فرق امارت اور غربت کا ہے۔اس کے بارے میں سورة الزخرف کی آیت ٣٢میں ارشادِ رباّنی ہے :

”  کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں؟ہم نے ہی ان کی زندگانی دنیا کی روزی ان میں تقسیم کی ہے اور ایک کو دوسرے سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کے ماتحت کر لے جسے یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں اس سے آپ کے رب کی رحمت بہت ہی بہتر ہے۔  ”   (الزخرف : ٣٢)

اس آیت میں یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ رزق دیا ہے اور کسی کو کم دیا ہے۔جس کے پاس رزق کی زیادتی ہے اُس کے پاس کسی اور چیز کی کمی تو ضرور ہوگی۔

جیسا کہ میں نے اپنے بارہ سالوں کے کونسلنگ کے تجربہ میں  دیکھا ہے کہ جن لوگوں کے پاس رزق کی فراوانی ہے اُن کے پاس صحت’پیار’  محبت’کردار’ علم’  اولاد یا اولاد کے پیار جیسی نعمتوں میں سے کسی نہ کسی کی کمی ضرور ہوگی۔

میں نے آج تک کسی ایسے امیرزادے کو نہیں دیکھا جو کہ اپنی زندگی کے ہر پہلو سے مطمئن ہو۔

اگر کچھ اور نہیں تو زندگی میں سکون یا سیکوریٹی ہی نہیں ہوگی۔

رات کو نیند نہیں آئے گی’ پیسہ کمانے اور بنانے کی فکر ہی پڑی رہے گی’ دس مرلے کے گھر سے’ ایککنال کے گھر سے دو  کنال’چارکنال’آٹھ کنال اور بہتر سے بہتر کاریں لینے اور گھر سجانے میں ہی زندگی گز ر جائے گی اور لاکھوں کے بستر پر A/C والے کمرے میں سونے کیلئے بھی نیند کی گولیاں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔اور کچھ نہیں تو یہی دیکھ لیجئے کہ شاید ایک غریب شخص جو کہ اپنے خاندان کے ساتھ دو کمروں کے مکان میں رہتا ہے اُس کی اولاد میں ماں باپ کی قدروقیمت اور پیار زیادہ ہوگا۔بڑے بڑے گھروں میں رہنے والوں کو میں نے آپس میں کوسوں دور ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔

اور جس اولاد کیلئے وہ دولت حاصل کرتے رہتے ہیں وہی اولاد اُن سے دور ہو جاتی ہے’ جس سیکوریٹی کیلئے وہ دن رات پیسہ کماتے ہیں وہی پیسہ ان کی سیکوریٹی کو ختم کر دیتا ہے اور تو اور بدقسمتی سے دولت انھیں سیکوریٹی دینے کی بجائے وہ خود اس دولت کو سیکوریٹی فراہم کرنے والے بن جاتے ہیں۔جس بیماری کے خوف سے وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس علاج کیلئے پیسے ضرور ہوں اُسی پیسے کے آنے کے بعد وہی صحت گنوا بیٹھتے ہیں۔

گھر میں ملازموں کی فوج سے میاں بیوی کی پرائیویسی (Privacy)ختم ہو جاتی ہے اور کم وسائل کی وجہ سے جو ایک دوسرے کیلئے قربانیاں دینے سے پیار اور الفت کے جذبے ہوتے ہیں زیادہ وسائل کی وجہ سے وہ پیار اور الفت ہی ختم ہو جاتا ہے۔

زندگی کے مسائل میں لوگ ایسے پھنستے ہیں کہ ایک دوسرے کی خبر ہی نہیں رہتی۔

اولاد کی تربیت کی ذمہ داری ملازموں اور Nannies کے سپرد کر دی جاتی ہے تو خود سوچئے کہ ایسی اولاد کیا بنے گی؟

جناب میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ دولت بُری چیز ہے میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ہر چیز کی زیادتی بُری ہے اور یہ نہیں ہو سکتا کہ ہر شخص کو دولت کے ساتھ ساتھ باقی دنیا کی تمام نعمتیں بھی پوری مل جائیں۔میں آج تک ایک مثال بھی نہیں ڈھونڈ سکا جو میرے اس مفروضے کو غلط کر سکے۔

فرق نمبر:5 علم کا فرق

قرآن پاک میں انسانی فرق کی ایک وجہ علم بھی ہے۔اس بارے میں سورة الز ّمر کی آیت  ٩ میں ارشادِ باری ہے:

” کیا وہ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے برابر ہو سکتے ہیں۔ ”  (الز ّمر :٩)

اسی کو سمجھنے کیلئے دائیں بائیں نظر دوڑائیے اور ذرا کوشش کیجئے کہ آپ کو کوئی ایسا شخص مل جائے جس کے پاس علم کی فراوانی ہو اور ساتھ ہی ساتھ امارت کی بھی انتہا ہو۔

اور یاد رکھیئے گا کہ میں یہاں پر صرف تعلیم کی بات نہیں کر رہا بلکہ علم کی بات کر رہاہوں۔

تعلیم صرف دنیاوی زندگی تک محدود ہے جب کہ علم صحیح اور غلط کی تمیز بھی کراتا ہے۔

نبی پاک ۖ کی مثال لے لیجئے علم کی انتہا تک پہنچ جانے والے اللہ کے رسول ۖ کی مالی زندگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کیسے سادگی سے زندگی گزاری۔

حضرت ابوبکرصدیق کی مثال لے لیجئے جب تک علم نہیں تھا بہت ہی مال دار تاجر تھے۔جب علم آیا’ صحیح اور غلط کی پہچان آئی تو اپنا مال کماکما کر بانٹنا شروع کر دیا اور اپنے پاس کچھ رکھاہی نہ۔

دنیا کے بڑے سائنسدانوں کی مثال لے لیجئے کہ دنیا کو کیا کچھ دینے کے باوجود ان کی اپنی مالی حالت کیسی تھی؟

علامہ اقبال کی مثال لے لیجئے۔اتنی تعلیم لینے کے باوجود اور دنیا میں ایسے اہم مقام پر پہنچنے کے باوجود زندگی کیسے کسمپرسی میں گزاری؟

ان تمام مثالوں میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ لوگ پیسہ نہیں کما سکتے تھے لیکن یاد رکھیئے کہ ہر چیز کی قیمت ہے اور علم کی قیمت مال ہے۔

وہی مال جس کیلئے لوگ کیا کچھ کرتے ہیں۔اصلیت کا پتہ چلنے کے بعد ہیچ لگنے لگ جاتا ہے۔

ایک مرتبہ پھر واضح کردوں کہ میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ دولت بذات خود بُری ہے لیکن اس دولت کا استعمال کیا ہے اور اس کی قیمت کیا چکائی ہے اس بات سے یہ فیصلہ ہو گا کہ دولت اچھی ہے یا بُری۔

میری اپنی زندگی اس چیز کی گواہ ہے۔١٩٩٥ئ تک جب میں اپنے پروفیشن کے عروج پر تھا اور دولت کی کمی نہیں تھی۔دنیاوی ڈگریاں ہونے کے باوجود میں لاعلم اور جاہل تھا اور زندگی میں سکون نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔

جب صحیح اور غلط کی پہچان اور زندگی کی اصلیت اور سچائیوں کا علم جاننا شروع کیا تو سکون بھی آنا شروع ہو گیا اور توں توں علم’ خوشی’سکون’اطمینان’پیار بڑھنا شروع ہوا اور دولت کی حقیقت بھی کھُل کر سامنے آتی گئی اور جو چیزیں دولت کے ساتھ نہیں خرید سکا تھا دولت کی کمی کے ساتھ ساتھ وہ مفت میں آنا شروع ہو گئیں اور آج اپنے ماضی پر اور ماضی کی بے وقوفیوں پر ہنسی آتی ہے۔لیکن ساتھ ساتھ پروردگار ِ عالم کا شکر بھی کرتا ہوں کہ اُس نے علم دیا’سچ اور جھوٹ کی پہچان دی۔

فرق نمبر:6 Positionکی وجہ سے فرق

ایک اور بنیادی فرق جو لوگوں میں پایا جاتا ہے وہ مقام یا عہدہ کا فرق ہے۔

کوئی شخص کسی اعلیٰ عہدے پر پہنچ جاتا ہے جب کہ کئی دوسرے لوگ تمام خوبیوں یا صلاحیتوں کے موجود ہوتے ہوئے یا شاید زیادہ ہونے کے باوجود بھی اونچے درجے یا Positionپر نہیں پہنچ سکتے۔

اس بارے میں سورة الانعام کی آیت ١٦٥میں ارشادِ باری ہے:

”   جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا اور ایک کا دوسرے پر رتبہ بڑھایا۔  ”  (الانعام : ١٦٥)

اس آیت سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ رتبے بڑھانے والا بھی اللہ ہی ہے۔

دائیں بائیں نظر دوڑائیے۔دفتروں میں’معاشرے میں’اداروں میںیا حکومت میں تو کئی دفعہ اس چیز کا احساس شدت سے ہوتا ہے کہ کئی بہتر اور زیادہ کوالیفائیڈ لوگوں کی بجائے بعض دفعہ ایسے لوگوں کو ترقی مل جاتی ہے جو اس قابل نہیں لگتے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو لوگ اعلیٰ رتبوں پر نہیں پہنچ سکے وہ واقعی میں اس قابل نہیں تھے یا اللہ اُن کے ساتھ نہیں تھا۔مسئلہ تو یہ ہے کہ شاید وہ خود بھی نہ چاہتے ہوں کہ ان کو یہ عہدہ ملے کیونکہ اس عہدے کے ساتھ اور کئی مسائل کھڑے ہونگے اور شاید وہ اس عہدے کا حق دیانتداری سے ادا ہی نہ کر سکیں۔دوسرے جو لوگ کوشش کرتے ہیں اور ان کو عہدہ نہیں ملتا ان کو یہ سوچنا چاہیے کہ خدا کو یہ منظور نہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس قابل نہ ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ خدا ان کو بچانا چاہتا ہو یہ جانتے ہوئے کہ یہ مقام ملنے کے بعد یہ شخص اپنی عزت یا کچھ اور جو اُس کے پاس ہو کو اس عہدہ سے زیادہ قیمتی کہیں وہ بھی نہ کھو بیٹھے۔

دوسری طرف یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اتنے لوگوں میں سے ہر ایک کو تو عہدہ مل نہیں سکتا ۔جوں جوں بلندی پر چڑھا جائے تو پہاڑ بھی تنگ ہوجاتا ہے۔ یعنی کہ بلندی پر زیادہ لوگوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔

جبکہ اعلیٰ عہدہ ملنے پر یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ زیادتی ہوئی ہے۔جس کو اعلیٰ مقام نہیں ملا اللہ تعالیٰ اُس کو کسی اور طرح سے Compensate کر دیتا ہے۔

آپ ذرا عبدالستار ایدھی کی مثال لے لیں انہیں اس ملک میں کوئی اعلیٰ عہدہ تو حاصل نہیں لیکن اُن کے ساتھ لوگ جتنا پیارکرتے ہیں’ عزت کرتے ہیں اور اُن پہ جتنا اعتبار کیا جاتاہے وہ شاید کسی ملک کے صدر یا وزیرِ اعظم کے ساتھ بھی نہ کیا جاتا ہو۔صدر یا وزیراعظم سے تو محبت تو اُن کے عہدہ کی وجہ سے ہو سکتی ہے جب کہ عبدالستار ایدھی جیسے لوگوں سے  محبت اُنکے منصب یا عہدے کی وجہ سے نہیں ہوتی۔

اسی طرح کئی اداروںاور دفاتر میں ایسے قابل لوگ موجود ہیں جو لوگوں میں حد درجہ چاہے اور عزت کئے جاتے ہیں اس کے باوجود کہ اُن کی کوئی پوزیشن نہیں ہے۔ اور جس کے پاس عہدہ ہے کئی دفعہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اس کے ساتھ ہی اُس شخص کی عزت بھی چلی جاتی ہے۔تو جناب یہ ثابت ہوتا ہے کہ عہدہ ملنا بھی بذاتِ خود کامیابی یا ناکامی کی دلیل یا بشارت نہیں ہے۔

فرق نمبر:7 شخصیتوں کا فرق

ان ظاہری قسم کے فرقوں کے علاوہ لوگوں میں ایک اور بہت بڑا فرق ہے اور وہ ہے لوگوں کی طبیعت یا Personality کا فرق۔

آپ نے اکثر غور کیا ہوگا کہ آپ کے بچے ایک ہی ماحول میں پلنے بڑھنے کے باوجود طبیعت میں فرق ہوتے ہیں۔کوئی خاموش طبع ہوگا توکوئی بہت ہی باتونی۔ایک ہی بات اگر ایک کو پسند ہوگی تو دوسرا اُسی بات سے ناراض ہو جائے گا۔ایک بہت ہی حساس ہو تو شاید دوسرا اتنا حساس نہ ہو۔ایک بہت ہی lovingہے توشاید دوسرا اُتناloving نہ ہو۔یہ فرق مزاج یا شخصیت کے فرق کی وجہ سے ہے جو کہ سائیکالوجسٹ نے تقریباً ٧٠   سے  ٨٠ سال پہلے دریافت کیا اور اس پر ریسرچ آج بھی جاری ہے اور اس کو Personality Theory کا نام دیاگیا۔

اس کے بارے میں صحیح بخاری میں ایک حدیث ملتی ہے جس میں آنحضرت ۖ نے فرمایا:

”  لوگ مختلف طبیعت کے ہوتے ہیں۔ ۔۔۔ ”

تھوڑا سا ذکرPersonality Theoryکے حوالے سے کرتا جائوں۔دنیا میں سب سے زیادہ مشہور شخصیتوں کے جانچنے کا سوالنامہ MBTIیعنی کہ مائرز برکس ٹائپ انڈیکیٹر کہلاتاہے جو کہ دوسری  جنگِ عظیم کے بعد دو سائیکالوجسٹ ماں بیٹی کی انتھک ریسرچ کا نتیجہ ہے ۔اس کے مطابق لوگوں میں فرقچار بنیادی وجوہات کی وجہ سے نمایاں ہوتا ہے۔

پہلا فرق یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی توانائی کہاں سے لیتا ہے۔اندرونی طور پر یا بیرونی طورپر۔جو لوگ اپنی توانائی اندرونی طور پر لیتے ہیں ان کو Introvert کہا جاتا ہے۔یہ لوگ وہ ہیں جو کہ لوگوں کے ساتھ رہ کر یا باتیں کرنے کے بعد تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔ان سے اگر پوچھا جائے کہ کھانا گھر پہ کھانا ہے یا ہوٹل میں تو وہ گھر کو ترجیح دیں گے’اسی طرح چھوٹی پارٹی کو بڑی پارٹی پر ترجیح دیتے ہیں۔شور شرابے سے کتراتے ہیں اور اگر تھک جائیں تو اکیلے خاموش رہ کر اپنی توانائی کو بحال کرتے ہیں۔

اس فرق کی دوسری انتہا  Extrovert ہیں ۔جیسے کے نام سے ظاہر ہے’ Exیہ لوگ اپنی طاقت بیرونی طور پر یعنی کہ لوگوں سے لیتے ہیں۔ان لوگوں کو عام طور پر باتونی بھی کہا جاتا ہے۔ان کو بولنے سے خوشی ملتی ہے۔ان کے سینکڑوں ہزاروں دوست ہوتے ہیں۔جس محفل میں جاتے ہیں لوگوں کے دل اپنی باتوں سے جیت لیتے ہیں۔ہر وقت باہر جانے کیلئے تیار رہتے ہیں اور اکیلے رہ کر اُداس بلکہ بعض دفعہ تو بیمار ہی پڑ جاتے ہیں۔

بیماری یا تھکاوٹ کے باوجود اگر انہیں دوست میسر آجائیں یا پارٹی میں جانے کا موقع مل جائے تو اُٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور لوگوں سے توانائی ملنے کی وجہ سے لوگوں میں رہنے سے’ بات چیت کرنے سے یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ وہ بیمار تھے۔

اب سوچئے کہ اگر سارے لوگ باتونی ہوجائیں توسننے والے کون ہونگے اور اگر سارے لوگ خاموش طبع بن جائیں تو بولنے والے کہاں سے آئیں گے۔حتیٰ کہ ایک گھر میں اگر میاں بیوی دونوں ہی Introvert ہوں تو گھر میں اداسی ہی چھائی رہے گی اور اگر دونوں Extrovert ہو جائیں تو گھر میں کوئی رہے گا ہی نہیں اور گھر کے معاملات خراب ہو جائیں گے۔اسی طرح Introvert ریسرچ کے کاموں میں یا Accounting کے شعبہ میں بہت کامیاب ہیں جبکہ Extrovert اُس طبقہ میں کامیاب ہوتے ہیں جہاں لوگوں سے ملنے جلنے’تعلقات کے بنانے یا لوگوں سے dealings جیسے اُمور شامل ہوتے ہیں۔

غور کیجئے تو پتہ چلتا ہے کہ اس دنیا میں دونوں قسم کے لوگوں کی ہی ضرورت ہے کیونکہ دونوں طرح کے لوگوں میں کچھ نہ کچھ خوبیاں ضرور موجود ہیں۔

لوگوں کے درمیان دوسرا فرق اس وجہ سے آتا ہے کہ لوگ معلومات کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔

انسان کا دماغ ایک مشین کی مانند ہے۔کچھ بھی فیصلہ دینے سے پہلے Information  وصول کی جاتی ہے پھر اس کو Processکر کے اس پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔

Informationلینے کے بھی دو طریقے ہیں۔ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو کہ اپنی پانچ حسوں پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔یعنی کہ جب تک وہ کچھ سن نہ لیں’دیکھ نہ لیں’محسوس نہ کر لیں’سونگھ نہ لیں’ذائقہ  نہ کر لیں وہ اُس چیز پر یقین کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔اگر وہ کوئی چیز خود دیکھ لیں’سن لیں’محسوس کر لیں’سونگھ لیں اور ذائقہ کر لیں تو ان کیلئے فیصلہ کر دینے کیلئے یہی کافی ہوتا ہے۔ان لوگوں کو Sensing Type کہا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو آپ اکثر کہتا سنیں گے میں نے خود دیکھا’ میں نے خود سنا۔یہ وہی لوگ ہیں کہ چاہے کمرے میں کھڑے ہو کر ہی یہ علم ہو رہا ہو کہ باہر بڑی سردی ہے۔کھڑکی کھول کر یا باہر جا کر خود دیکھنا اور محسوس کرنا بھی چاہیں گے اس سے پہلے کہ یہ مانیں کہ واقعی سردی ہے۔

اس طرح ان کو لاکھ کہتے رہیں کہ وہاں کا کھانا بہت اچھا ہے لیکن یہ لوگ صرف اسی وقت یقین کرینگے جب کہ وہ خود کھانا کھا کے یہ تجربہ کر لیں۔یہ لوگ یہ بات بھی  ماننے سے قاصر ہیں کہ بعض دفعہ جو نظر آرہا ہے یا سنائی دے رہا ہے وہ سچ نہیں ہوتا۔جیسا کہ سورة الر ّوم کی آیت نمبر ٧ میں ارشاد ہے:

”  وہ تو (صرف) دنیاوی زندگی کے ظاہر کو(ہی) جانتے ہیں اور آخرت سے تو بالکل ہی بے خبر ہیں۔  ”   (الروم  :٧)

اس آیت سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ جو ظاہری طور پر نمایاں ہے ضروری نہیں کہ وہ ٹھیک بھی ہو۔

مثال کے طور پر آپ نے دُور اپنے خاوند کو ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھے دیکھا۔اب آپ جو مرضی غلط ملط مطلب سوچ لیجئے یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کے خاوند کے دوست کی بیٹی ہو’یا کوئی مریضہ ہو۔

ایک اور مثال لیں ان لوگوں کی جن کے گھروں میں اکثر لڑائیاں بھی ہوتی رہتی ہیں۔مجھے ایک قصہ یاد جس میں ایک میاں بیوی کی تکرار ہو رہی تھی اور خاوند نے کہا اس کو یہ کیوں نہیں یقین آتا کہ مجھے اس سے پیار ہے۔

یہ بات سن کر عورت بولی۔یہ کتنا جھوٹ بول رہا ہے۔دس سال ہو گئے شادی کو اس نے ایک مرتبہ بھی نہ مجھے منہ سے کہا کہ مجھے تم سے پیار ہے اور نہ ہی کبھی پیار سے ہاتھ پکڑا۔

جبکہ دس سال کی شادی میں بقول انہی خاتون کے ان کا خاوند بہت ہی اچھا انسان ہے اور وہ ہر وقت اپنی بیوی اور بچوں کی بھلائی کیلئے دن رات محنت کرتا رہا۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عورت Sensing  ٹائپ کی ہے کیونکہ اُس نے صاف الفاظ میں اپنے خاوند کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا اس لئے چاہے وہ بیچارہ ساری عمر اپنی محبت show کرنے کیلئے اس کیلئے کچھ بھی کرتا رہے اس کو یہی لگے گا کہ وہ اس کو پیار نہیں کرتا۔جب تک کہ وہ اپنے لفظوں سے نہیں بولے گا۔

اسی فرق کی دوسری انتہا کو  Intuitive  ٹائپ کہتے ہیں۔یہ وہ ٹائپ ہے جو کہ اپنی پانچ   حِصوں سے زیادہ اپنی چھٹی حِس یعنی کہ hunch سے معلومات اکٹھی کرتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کو آپ اکثر کہتے سنیں گے چاہے تم نے کچھ بھی سنا ہو یا دیکھا ہو لیکن مجھے پتہ ہے کہ فلاں شخص ایسا نہیں ہو سکتا۔تم نے غلط ہی سناہو گا۔

Sensing ٹائپ کے برعکس یہ لوگ تجربہ کیے بغیر ہی رائے قائم کر لیتے ہیں۔مثال کے طور پر اس طرح کے لوگوں کو میں نے اکثر یہ کہتے سنا کہ فلاں جگہ کا کھانا بہت ہی  اچھا ہے۔جب پوچھا جائے کہ کیا آپ نے کھایا تو صاف کہہ دینگے کہ کھایا تو نہیں لیکن مجھے کسی نے بتایا یا یہ کہہ دینگے کہ بس مجھے پتہ ہے کہ اس کا کھانا بہت ہی اچھا ہو گا۔

تو یہ تھا جناب دوسرا بڑا شخصیتوں کافرق۔اب سوچئے کہ اگر اس دنیا میں تمام لوگ Sensingیا تمام لوگ Intuitive Type   ہی ہو جائیں تو کیا ہوگا جب کہ سچ تو یہ ہے کہ دونوں لوگ ہی کچھ نہ کچھ ٹھیک ضرور ہیں اور دونوں کی ہی ضرورت ہے اور اگر ایک شخص میں ہی دونوں خوبیاں ہوں تو کیا ہی کہنا۔

طبعتوں یا Personalities کا تیسرا بڑا فرق اس وجہ سے ہے کہ انسان جو معلومات اکٹھی کرتا ہے اُس کو Processکہاں پر کرتا ہے۔اس کیلئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو طرح کی چیزوں  سے نوازا ہے۔یعنی کہ آپ نے جو دیکھا’سنا’محسوس کیا وہ آپ اپنے دماغ میں یا دل میں Process کر سکتے ہیں۔دماغ میں پراسس کرنے والے کوthinker اور دل میں پراسس کرنے والے کوFeeler کہتے ہیں۔اب دماغ تو وہی کہتا ہے جو کہ اس کے اندر موجود ہو اور پہلی مثال میں اگر آپ نے اپنے خاوند کو دیکھ لیا ایک لڑکی کے ساتھ تو دماغ تو یہی کہے گا کہ یہ خراب ہو گیا ہے۔

یا ایک اور مثال لے لیں۔آپ نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا اور دماغ میں اس انفارمیشن کو آپ نے Process کر لیا۔دماغ تو یہی کہے گا کہ یہ چور ہے اس کو سزا دو۔لیکن اگر یہ معلومات آپ دل میںProcess کرلیں تو دل کا فیصلہ شاید یہ ہو کہ بیچارہ بھوکا تھا’ ضرورت مند تھا۔اس کو اس بار معاف ہی کر دو۔

اب سوچئے کہ اگر دنیا کے تمام جج حضرات دل سے فیصلے کرنے لگ جائیں تو عدالتوں کا کیا بنے گا اور دوسری طرف دنیا کے تمام لوگ دماغ سے فیصلے کرنا شروع کر دیں اور دل کی آواز کو نہ سنیں تو دنیا کے لوگ تو  Robot   ہی بن جائیں گے اور رشتوں میں تو جان ہی نہیں رہے گی۔وہ معافی’احسان’درگزر’ رحم دلی اور نرمی جیسے جذبے اگر اس دنیا سے ختم ہو  جائیںتو سوچیں کہ یہ دنیا کتنی روکھی ہو جائے گی۔

جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ انسان سے اگر احساسات ہی نکل جائیں تو وہ تو صرف مشین ہی رہ جاتاہے۔

تو جناب اس بارے میں بھی یہی کہنا ہے کہ کوئی بھی انتہا ٹھیک نہیں۔مختلف جگہوں اور مواقع پر مختلف فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے کبھی دماغ سے اور کبھی دل سے۔اور کبھی ان دونوں کو استعمال کرتے ہوئے اور یہی تو انسان اور مشین کا فرق ہے کہ وہ مختلف جگہوں اور مختلف مواقع پر موقعے کی نظاقت کے حساب سے دونوں چیزوں کو استعمال کر کے فیصلہ کر سکتا ہے۔

اب انفارمیشن Process ہوگئی اور اب اس کو استعمال میں لانا ہے۔اس کا استعمال بھی دوطرح سے ہوسکتا ہے یا تو اس کا استعمال Judging کیلئے یا Perceiving کیلئے ہوگا۔

پہلے والی مثال دیکھئے کہ اگر آپ نے دماغ سے فیصلہ کر کے ایک شخص کو اُس وقت چور قرار دے دیا۔کیا آپ اب یہی سوچنا شروع کر دینگے کہ کوئی بھی چوری کر سکتا ہے۔اگر آپ ایسے ہیں تو آپ Judgingہیں۔اگر آپ یہ گنجائش رکھیں گے کہ نہیں اُس شخص نے اُس وقت تو ایسا کر لیا لیکن انسان اتنا بھی بُرا نہیں ہے اور اگر آپ کا رویہ ایسا ہے تو آپ Perceiving ہونگے۔

آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ Judging لوگ وہ ہیں جو کہ اپنے تجربات یا ماضی کی یادوں وغیرہ کی وجہ سے جب ایک مفروضہ بنا لیتے ہیں تو اُس پر ڈٹے رہتے ہیں۔جبکہ Perceiving لوگ وہ ہوتے ہیں جو کہ ہر وقت نئی سے نئی حقیقتوں کو ‘لوگوں کو اور Challanges کو دیکھتے ہوئے اپنے مفروضوں کو بدلتے رہتے ہیں اور نئی حقیقتوں کو Perceive کرتے رہتے ہیں۔

جیسا کہ فرض کریں کہ ایک شخص نے چوری کی’ Judging شخص تو یہ کہے گا کہ یہ چور ہے اور یہ جیل سے نکل کر پھر چوری کرتا ہی رہے گا جب کہ Perceiving شخص یہ کہے گا اُس نے چوری کی لیکن یہ اس چیز کی علامت نہیں کہ وہ دوبارہ بھی یہی کرے گا۔اس کو موقع دو یہ بدل جائے گا اور شاید یہ شخص غلطی کر کے وہ کچھ بن جائے جس کا کسی نے خیال ہی نہ کیا ہو۔اس کے علاوہ Judging اور Perceiving کے فرق کو سمجھنے کی ایک بڑی آسان سی مثال لے لیجئے  اگر کوئی شخص سفر پر جانے کی مکمل پلاننگ کرے کہ سفر کب شروع کرنا ہے’بریک کہاں لینی ہے۔کتنی دیر کی بریک لینی ہے۔منزل پر کتنے بجے پہنچا جائے۔کھانا کہاں پر کھایا جائے اور کتنے بجے کھایا جائے تو وہ Judgingہو گا اور اگر موصوف اچانک سفر پر نکلنے کا نہیں اور مختلف چیزوں کو یہ مختلف فیصلے موقعے کی مناسبت سے کرتے رہیں۔جیسا کہ اچھا سوچیں کہ کب کھانا ہے اور کیا کھانا ہے۔کہاں پہ رہنا ہے چلو چلیں تو سہی۔تو جناب وہ Perceiving ہونگے۔

توجناب یہ تھے وہ چار بڑے بڑے فرق جس کی وجہ سے ٹوٹل سولہ  اقسام کے لوگ وجود میں آئے ہیں۔یعنی کہ ہر فرق میں سے ایک ایک لے کر سولہ   combinations بنیں گے۔

Personality Theory یہ کہتی ہے کہ کوئی Extremeبھی ٹھیک نہیں اور یہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ہر فرق کی کسی بھی انتہا کی بجائے اپنے آپ میں دونوں اطراف کی خاصیتیں پیدا کریں۔یعنی کہ متوازن شخصیت بنیں اور یہ کام مشکل  ضرور ہے  ناممکن نہیں۔

جیسا کہ سورة البقرہ کی آیت١٤٣میں مومن کی نشانی اللہ تعالیٰ نے یہی بتائی ہے کہ یہ متوازن شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔

 ”  ہم نے اسی طرح تمہیں متوازن اُمت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جائو۔  ”   (البقرہ : ١٤٣)

تو جناب کہ اگر آپ کو یہ مشکل لگتا ہے کہ آپ ہر طرح سے متوازن ہو جائیں  تو جو لوگ آپ سے مختلف ہیں کم از کم اُن کو  Understand  تو کریں نہ کہ دوسروں کو اپنا جیسا بنانے کی کوشش کرتے رہیں۔

سوچنے کی بات ہے کہ دنیا میں جو اتنی خوبصورتی اور چاہت پائی جاتی ہے اُس کی بنیادی وجہ یہی Diversity ہے۔پھولوں کی اقسام’ جانوروں کی اقسام’ لوگوں کی بولیوں کو سنئے’بچے ‘ بوڑھے’ مرد و عورت’عالم اور کم پڑھے لکھے’دولت والے اور کم دولت والے یہ ساری خوبصورتی اسی Diversity کی وجہ سے ہے۔ذرا سوچئے کہ اگر تمام دنیا کے لوگ آپ جیسے ہی ہو جائیں تو یہ دنیا کتنی خشک سی ہو جائے گی۔

میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ امریکہ کی کامیابی کی ایک بنیادی وجہ یہی Diversity ہے نہیں تو دو سو پچاس سال کے تھوڑے سے وقت میں کوئی قوم دنیا پر اس طرح نہیں چھا سکتی۔

یادرہے کہ امریکہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کی اپنی کوئی قوم نہیں اور تمام دنیا کے باشندوں سے مل کر وہ قوم بنی ہے اور جس Diversity یا اختلاف کو دنیا کے کئی لوگ برا سمجھتے رہے اُسی تضاد اور تفاوت کی وجہ سے وہ دنیا کے ہر شعبے میں ترقی کر گئے کیونکہ انہوں نے اس تضاد یا تفاوت اور قانونِ قدرت کا پورا فائدہ اٹھایا کہ کوئی شخص بھی مکمل نہیں ہے اور ہر خوبی کے ساتھ ایک خامی بھی موجود ہے۔

 انہوں نے ہر طرح کی خوبیوں والے لوگ پوری دنیا سے اکٹھے کر کے زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کر لی۔

اور سائیکالوجی اور اناٹومی کے ماہرین کا خیال تو یہ ہے کہ اپنے سے مختلف لوگوں میں شادیاں کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں میں خوبیاں بڑھتی جاتی ہیں اور بار بار اپنے ہی جیسے لوگوں میں شادی کرنے کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ خوبیاں کم ہوتی رہتی ہیں اور برائیاں اور خامیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔

تو جناب تفاوت یا تضاد کی وجہ تو میں نے آپ کو بتا دی کہ اس کے بغیر دنیا میں توازن برقرار نہ رہ سکتا۔

تو جناب اب اس سوال کی طرف آتے ہیں جس سے اس پروگرام کی ابتدا کی تھی۔

جو لوگ  یہ سوال کرتے ہیں کہ مجھے غریب گھر میں کیوں پیدا کیا؟  تو جناب کسی کو  تو پیدا کرنا ہی تھا۔آپ کو کر دیا لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ امیر نہیں ہوسکتے اور ایک امیر گھر میں پیدا ہونے والے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ وہ ساری عمر امیر ہی رہے گا۔اسی طرح ایک عالم کے گھر میں پیدا ہونے والا عالم ہی نہیں بنے گا اور ایک جاہل کے گھر میں رہنے والا بھی عالم بن سکتا ہے۔

لیکن یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو بھی جو کچھ دیا ہے اُس کا مقصد صرف آزمائش ہے۔

جیسا کہ سورة الانعام کی آیت ١٦٥ میں ارشاد ہے:

”  اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا اور ایک کا دوسرے پر رتبہ بڑھایا تاکہ تم کو آزمائے ان چیزوں میں جو تم کو دی ہیں۔بالیقین آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے۔اور بالیقین وہ واقعی بڑی مغفرت کرنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔  ”   (الانعام   :١٦٥)

اور سورة النحل کی آیت٧١میں ارشاد ہے:

”  اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر روزی میں زیادتی دے رکھی ہے’پس جنہیں زیادتی دی گئی ہے وہ اپنی روزی اپنے ماتحت کو نہیں دیتے کہ وہ اور یہ اس میں برابر ہو جائیں’ تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہو رہے ہیں؟  ”   (النحل  :  ٧١)

تو جناب یاد رکھیئے کہ آزمائش انہی چیزوں میں ہے جو کہ کسی شخص کو ملی ہوں۔جو آپ کے پاس ہے ہی نہیں اللہ اُس کے بارے میں آپ سے پوچھ گچھ بھی نہیں کرے گا لیکن اگر اُس نے آپ کو خوبصورتی’ علم’ مال’ دولت یا اولاد جیسی نعمتوں سے نوازا ہے تو وہ اس کا پورا پورا حساب بھی لے گا۔

آخر میں ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں جو کہ کچھ یوں ہے: اگرچہ اللہ تعالیٰ آپ کو وہ ضرور دے گا جس کیلئے آپ کوشش کرینگے۔جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ شکر خورے کو شکر ضرور دیتا ہے”۔لیکن اللہ کے واسطے کہیں گھاٹے کا سودا نہ کر لیجئے گا کیونکہ یاد رکھیئے کہ جب کچھ آئے گا تو ضرور کچھ نہ کچھ جائے گا بھی۔

اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی یاد رکھیئے گا کہ ہر نیکی یا نیک عمل کا اجر یہیں نہ لینے کی کوشش کیجئے کہیں ایسا نہ ہو کہ آخرت میں بنک اکائونٹ ہی خالی ہی رہ جائے۔اس دنیا میں اچھی جگہ پر اور بڑا گھر بنانے کی بڑی کوشش کی جاتی ہے کبھی یہ بھی سوچا جائے کہ آخرت میں گھر کہاں ملے گا اور کتنا بڑا ملے گا۔کہیں یہاں کے محلوں میں رہ کر آخرت میں جھونپڑیوں میں نہ رہنا  پڑجائے؟تو جناب دُعا مانگنے سے پہلے خوب سوچ لیا کریں اور سورة الشوریٰ کی آیت نمبر ٢٠کو یاد رکھیئے گا۔

”  جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں  ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں ہی کچھ دے دیں گے’ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔”  (الشوریٰ  :  ٢٠)